Voice of Asia News

کووڈ 19وائرس ہوا میں کئی گھنٹوں تک قابل عمل اور متعدی رہ سکتا ہے، تازہ تحقیق

واشنگٹن (وائس آف ایشیا) انتہائی متعدی نول کورونا کووڈ 19وائرس چھینکنے اور کھانسنے سے پیدا ہونے والی ہوائی بوندوں کے اندر کئی گھنٹوں اور سطحوں پر کئی روز تک قابل عمل اور متعدی رہ سکتا ہے۔یو ایس نیشنل انسٹی ٹیوٹ ا?ف ہیلتھ کے ادارہ برائے متعدی امراض اور الرجی(این آئی اے آئی ڈی)کے سائنسدانوں کی ایک نئی تحقیق کے مطابق کورونا کووڈ 19وائرس ہوا میں بوندوں (مائیکرو سکوپک ڈراپلیٹس) میں کئی گھنٹوں اور سطحوں پر کئی روز تک متحرک اور متعدی رہ سکتا ہے۔سائنسدانوں نے ایک خصوصی آلہ استعمال کیا جس نے کھانسی یا چھینکنے میں پیدا ہونے والے خوردبینی بوندوں کی نقل تیار کی گئی اور ہوا میں انہیں چھوڑا گیا۔نیو انگلینڈ جرنل آف میڈیسن میں شائع ہونے والی اس تحقیق کے مطابق وائرس، ائر ڈراپلیٹس جو کہ کھانسے اور چھینکنے سے بنتے ہیں میں کم از کم تین گھنٹے ہوا میں ہی متعدی اور متحرک شکل میں رہ سکتا ہے تاہم سائنسدانوں کے مطابق وائرس کے آدھے ذرات کو اگر وہ ایروسول بوندوں میں ہوں تو ان کے اپنے افعال کو کھونے (ڈی فنکشن ہونی) میں تقریبا 66 منٹ لگتے ہیں۔روکی ماؤنٹین لیبارٹریز میں نیلجے وین ڈورملین کی سربراہی میں ہونے والی تحقیق کے مطابق ،اس کا مطلب یہ ہے کہ مزید ایک گھنٹہ اور چھ منٹ کے بعد ، وائرس کے تین چوتھائی ذرات لازمی طور پر غیر فعال ہوجائیں گے لیکن 25 فیصد پھر بھی قابل عمل رہیں گے۔ن تیسرے گھنٹے کے اختتام پر قابل عمل وائرس کی مقدار کم ہوکر 12.5 فیصد رہ جائے گی۔ سٹینلیس سٹیل پر ، وائرس کے آدھے ذرات کو غیر فعال ہونے میں 5 گھنٹے 38 منٹ لگتے ہیں۔پلاسٹک پر ،ان کی نصف حیات 6 گھنٹے 49 منٹ کی ہے ، محققین کے مطابق گتے یا کارڈ بورڈ پر اس کی نصف زندگی ساڑھے تین گھنٹے ہوتی ہے، لیکن محققین کا کہنا تھا کہ ان نتائج میں بہت زیادہ تغیر موجود ہے "لہذا ہم احتیاط کا مشورہ دیتے ہیں”۔ تحقیق کے دوران وائرس کے زندہ رہنے کا سب سے کم وقت تانبے پر تھا ، جہاں ا?دھے وائرس 46 منٹ میں ہی غیر فعال ہو گئے تھے۔

image_pdfimage_print
شیئرکریں
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •