Voice of Asia News

شہباز تیری ضرورت ہے:سیف اعوان

سابق وزیراعظم میاں نوازشریف کے چھوٹے بھائی شہبازشریف کا نام سنتے ہی آج کل لوگوں کے ذہن میں فورا پنجاب میں ڈینگی مچھرکا دور یاد آجاتا ہے ۔اس کے علاوہ شہبازشریف جن کاموں کی وجہ سے پاکستان سمیت دنیا بھر میں اپنی ایک الگ پہچان رکھتے ہیں ان میں سڑکیں ،انڈپاسز،میٹرو بسیں،اورنج لائن ٹرین،ہسپتال،تعلیمی ادارے،بجلی کے منصوبے ،خواتین کو موٹرسائیکلوں کی تقسیم ،جنوبی پنجاب کی بچیوں کو ماہانہ تعلیمی وظیفے جیسے کامیاب منصوبے شامل ہیں۔ویسے تو شہبازشریف ادب کے بھی دلدادہ ہیں۔لیکن انہوں نے اپنی پہچان بطور کامیاب ایڈمنسٹریٹر ہی بنائی ہے۔شہباز شریف علی الصبح اکیلے ہی موٹرسائیکل پر ہیلمنٹ پہن کے سوارہوکر لاہور شہر میں نکل جایا کرتے تھے ۔دو مرتبہ تو میری خود ان سے ملاقات بھی ہوئی ۔یہ 12جنوری 2010کی بات ہے میں ہربنس پل پر نہر کے فٹ پاتھ پر واک کرتے ہوئے گزررہا تھا تو اچانک میں نے خاکی سوٹ میں ملبوس شہبازشریف کو دیکھا وہ موٹرسائیکل پر سوار ہوکر علی الصبح وہاں پہنچ گئے تھے انہوں نے لاہور رنگ روڈ پر جاری کام کا جائزہ لیا ۔اس وقت میری پہلی مرتبہ شہبازشریف سے ملاقات ہوئی۔دوسری مرتبہ ملاقات مزنگ چوک میں ہوئی اس وقت بھی شہبازشریف خود ہی میٹروبس منصوبے جاری تعمیراتی کام کا جائزہ لینے پہنچ گئے ۔دونوں مرتبہ شہبازشریف بغیر سیکیورٹی اور پرٹوکول انتظامیہ کو بتائے وہاں پہنچے۔شہبازشریف کے پہنچنے کے بعد ہی دیگر انتظامیہ کو معلوم ہوا ۔مجھے یہ بھی یاد ہے 2011ء میں جب پنجاب میں ڈینگی آیا تو شہباز شریف نے سکولوں کالجوں اور یونیورسٹیوں تک بھی آگاہی مہم چلائی ۔ شہبازشریف ڈینگی سے متعلق آگاہی مہم چلانے کیلئے خود سڑکوں پر ڈینگی واک کر رہے ہیں لاروا ڈھونڈ رہے ہیں۔ پھر اسے تلف کر رہے ہیں۔ سچی بات یہ ہے کہ اب اندازہ ہوتا ہے کہ وہ شو بازی نہیں تھی ۔ دشمنوں نے دونوں بھائیوں کو ڈینگی برادر کہنا شروع کر دیا لیکن شہبازشریف نے تنقید کی پرواہ کیے بغیر ڈینگی کے خاتمے کیلئے سخت جان محنت کی۔شہبازشریف کے ڈینگی کے متعلق انتظامات کی اس وقت کے وزیر اعظم میاں نوازشریف بھی تعریفیں کرتے رہے ۔ان دنوں شہبازشریف رات کو اکثر دیر سے ہوتے اور صبح فجر کی نماز کے فورا بعد ڈینگی سے متعلق میٹنگ کرتے ۔میٹنگز کے شروع کے دنوں میں مجھے خود مسلم لیگ (ن) کے اکثریت وزراء اور اراکین اسمبلی بتاتے کہ وہ روزصبح 6بجے اٹھ کر تنگ آجاتے ہیں لیکن میں نے دیکھا کہ وہی لیگی وزراء اور ایم پی ایز خوشدلی سے میٹنگز میں بھی جاتے اور ڈینگی سے متعلق آگاہی مہم بھی چلاتے نظر آتے رہے۔انہوں ڈینگی کی مسلسل میٹنگ کی وجہ سے شہبازشریف کی صحت بھی متاثر ہو گئی لیکن انہوں نے اپنی صحت کی پروہ کیے بغیر ڈینگی کے خاتمے کیلئے اپنی جدوجہد جاری رکھی جس میں وہ کامیاب بھی ہوئے۔یاد رہے جب انہی دنوں کے پی کے میں ڈینگی آیا تو عمران خان نے کے پی کے کا ایک بھی دورہ نہیں کیا اور نتھی گلی کی پہاڑیوں پر ڈیرے جمالیے تھے۔جس کا ان کو سیاسی مخالفین طعنہ بھی دیتے رہے۔
پنجاب میں ڈینگی جب اپنے عروج کو پہنچ گیا تو شہبازشریف حکومت نے فورا سر ی لنکا سے رابطہ کیا ۔اس وقت سری لنکا کی حکومت نے پنجاب حکومت کی ہر ممکنہ حد تک مدد کی جسکے پنجاب کے عوام آج بھی ان کے مشکور ہیں۔پھر میں نے وہ وقت بھی دیکھا جب شہبازشریف اور ان کی ٹیم نے پنجاب سے ڈینگی کا مکمل خاتمہ کردیا ۔پنجاب میں جب ڈینگی مکمل ختم ہو گیا تواس وقت کی حکومت پنجاب نے لاہور کے پی سی ہوٹل میں ڈینگی کانفرنس کا انعقاد کیا جس میں شہبازشریف سمیت سری لنکا کے اعلیٰ سطح وفد نے بھی خصوصی شرکت کی۔سری لنکا کا وفد پنجاب میں اتنی جلد ڈینگی کے خاتمے پر حیران ہو گیا ۔سری لنکا کے وفد نے ڈینگی کے خاتمے پر شہبازشریف اور ان کی ٹیم کو مبارکبادیں دی اور بعد میں ان کے تجربات سے مستفید بھی ہوتے رہے۔لیکن اگر ہم آج کے دور کی بات کریں توسندھ میں سب سے پہلے کرونا وائرس کے مریض اچانک بڑی تعداد میں سامنے آگئے۔سندھ میں اتنی بڑی تعداد میں اچانک کرونا کے مریض سامنے آنے کے بعد بلاول بھٹو سمیت پوری سندھ حکومت متحرک ہو گئی۔سندھ کے وزیر اعلیٰ مراد علی شاہ جوشہبازشریف کے دور میں کبھی خبروں کی ذینت نہیں بن سکے تھے آج وہی مراد علی شاہ پوری پاکستانی قوم کے سامنے ایک متحرک اور عوام کادرد رکھنے والے وزیراعلیٰ بن کر سامنے آئے ہیں۔سندھ حکومت نے کرونا سے متعلق انتہائی ذمہ داری کا مظاہرہ کرتے ہوئے مشکل ترین اور سخت فیصلے کیے جن کے اثرات آج پوری قوم کو نظر آرہے ہیں۔دوسری جانب پنجاب میں وزیراعلیٰ عثمان بزدار سمیت پوری پنجاب حکومت نے سندھ میں کرونا کے تیزی سے سامنے آنے والے مریضوں کی تعداد کو بھی سنجیدہ نہ لیا ۔سندھ میں جتنے بھی کیس سامنے آئے یہ وہ تمام لوگ تھے جو ایرن کے ذریعے پاکستان میں آئے ۔وفاقی حکومت نے ان زائرین کو چودہ دن تفتان بارڈ پر بھی ٹھہرایا ۔تفتان پر وفاقی حکومت نے جو انتظامات کیے ان پر اپوزیشن نے تو تنقید لیکن اس کے ساتھ وہاں ٹھہرے زائرین نے وفاقی حکومت کے غیر تسلی بخش انتظامات کا پردہ چاک کردیا۔اسی طرح کے انتظامات پنجاب حکومت نے ڈیرہ غازی خان میں کیے۔پنجاب حکومت نے ڈیرہ غازی میں ایک سرکاری بلڈنگ کے سامنے باڑ لگاکر اس کو قرنطینہ سینٹر کا نام دے دیا۔ ڈیرہ غازی اور تفتان قرنطینہ میں تحریک انصاف کی حکومت کے غیر ذمہ دارانہ انتظامات کی ویڈیوز وہاں پر موجود زائرین نے سوشل میڈیا پر وائرل کی ۔ان انتظامات کو دیکھ کر دل خون کے آنسو روتا ہے۔وزیر اعظم عمران خان نے اس معاملے کا کوئی نوٹس لیا اور نہ دونوں جگہوں پر پہنچ کر انتظامات کا جائزہ لیا ۔بلآخر میڈیا اور سوشل میڈیا پر شور مچانے کے بعد وزیراعظم عمران خان اور وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار نے ڈیرہ غازی میں قائم قرنطینہ سینٹر کا دورہ کیا لیکن اس موقع پر بھی قرنطینہ سینٹر پر حکومت اقدامات کی ویڈیو سرکاری سطح پر میڈیا کے ساتھ شیئر نہ کی گئی۔
پاکستان میں کرونا وائرس کے تیزی سے پھیلاؤ کے پیش نظر وفاق،پنجاب اور بلوچستان حکومت کے انتظامات آج بھی تسلی بخش نہیں ہیں ۔پنجاب اور بلوچستان حکومتیں آج بھی کرونا کے معاملے پر ذمہ داری کا مظاہرہ نہیں کررہی ۔دونوں صوبائی حکومتیں اگر کسی چیز میں سنجیدہ ہیں تو وہ ہیں کرونا وائرس کیلئے فنڈز لینے میں۔جبکہ وزیراعظم عمران خان نے گزشتہ دنوں امریکی نشریاتی ادارے کو ایک انٹرویو میں وضع کردیا تھا پاکستان میں اگر کرونا وائرس پھیلا تو ہمارے پاس وسائل موجود نہیں ہیں اور عالمی مالیاتی ادارے فورا پاکستان کے قرضے معاف کردیں ۔عمران خان کے اس بیان نے قوم کو مایوس کیا ہے۔پاکستان میں اس وقت کرونا وائرس سے لڑنے کی صلاحیت اگر کسی شخص میں موجود ہے تو وہ ہے شہبازشریف ۔اگر آج شہبازشریف کو چارج دے دیا جائے تو حالات اس کے برعکس ہوں ۔پاکستان کی معاشی صورتحال اور کرونا وائرس کی وجہ سے شہریوں کے زندگیا ں داؤ پر لگی ہیں ۔سلیکٹرز نے ایک تجربہ پہلے بھی کرلیا لیکن وہ تجربہ معیشت اور قوم کیلئے انتہائی نقصان کا باعث بنا ہے۔ایسا تجربہ پاکستان کی تاریخ میں پہلی مرتبہ کیا گیا جو بری طرح ناکام ہوا ہے۔دوسری جانب شہبازشریف کی شکل میں ایک ایسا ایڈمنسٹریٹر پاکستان کے پاس موجود ہیں جو معیشت کو مستحکم کرنے اور قوم کو کرونا وائرس سے بچانے کی بھرپور صلاحیت بھی رکھتا ہے ۔شہبازشریف کی خوبیوں اور صلاحیتوں کے متعلق سلیکٹرز باخوبی آگاہ ہیں ۔شہبازشریف سے بہتر آپشن اس وقت کوئی بھی موجود نہیں ہے۔اب تیر سلیکٹرز کی کمان میں ہے ۔اب ان کو فیصلہ کرنا ہے کہ کیا وہ پاکستان کی معیشت اور قوم کو مزید بحرانی کیفیت سے بچانا چاہتے ہیں یا ایسے ہی ملک کا نظام چلتے دیکھانا چاہتے اور مزید کسی معجزے کے انتظار میں ہیں۔
saifawan60@gmail.com

image_pdfimage_print
شیئرکریں
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •