Voice of Asia News

محمد مرسی العیاط:سیف اعوان

فرعونوں کی سرزمین مصر کی تاریخ سات ہزار سالہ پرانی ہے۔مصر کی تاریخ میں کبھی کوئی جمہوریت حکومت نہیں آئی تھی۔مصر میں فرعونیت کا دورختم ہوئے دو ہزار سال ہوچکے ہیں لیکن مصر میں فرعونیت آج بھی کوٹ کوٹ کی بھری ہوئی ہے۔1952میں مصر کے بادشاہ شاہ فاروق کی حکومت کا تختہ الٹے جانے کے بعد بھی مصر میں جمہوریت نہیں آئی تھی۔مصر میں مسلسل الیکشن ہوتے رہے لیکن ملک کا صدر ہر مرتبہ فوج سے ہی لیا جاتا تھا۔تمام اختیارات فوجی صدر کے پاس ہوتے تھے جبکہ پارلیمنٹ کی حیثیت صر ف نمائشی تھی۔مصر میں جو بھی فوجی افسر صدر بنا وہ اپنی موت تک صدر رہتا تھا۔جیسے جمال عبدالناصر اور انور سادات کے دور حکومت سے لے کر 2011تک مصر میں یہی صورتحال رہی پھر ایک انقلاب نے نئی تاریخ رقم کردی۔مصر کے صدر حسنی مبارک1980کی دہائی سے اقتدار میں تھے لگتاتھا وہ بھی اپنی موت تک مصر کے صدر ہی رہے گے لیکن جنوری 2011میں ان کیخلاف مظاہرے شروع ہو گئے۔مصر میں لاکھوں لوگ سڑکوں پر نکل آئے عوام نے مصر کے تحریر اسکوائر پر دھرنہ بھی دے دیا۔عوام کو کچلنے کیلئے فوجی ٹینک بھی آئے لیکن کوئی فائدہ نہ ہو سکا۔آخر کار 11فروری 2011کو حسنی مبارک نے استعفیٰ دے دیا۔جب مصر کے نائب صدر عمر سلمان نے صدر کے استعفے کا اعلان کیا تو لوگ خوشی سے ناچنے لگے۔تحریر اسکوائر میں لوگوں نے جشن منایا۔لیکن کسی کوبھی یہ معلوم نہیں تھا کہ حسنی مبارک کی جگہ جیل سے بھاگنے والا ایک قید مصر کا صدر بننے والا ہے۔مصر میں ایک تنظیم اخوان المسلمون 1928سے قائم ہے۔یہ تنظیم پرامن طریقے سے ملک میں اسلامی قانون کے نفاذ کرنے کی جدوجہد کررہی ہے آپ اس کو مصر کی جماعت اسلامی بھی کہہ سکتے ہیں۔اس تنظیم کے کارکنوں نے جنوری 2011کے مصری انقلاب میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا تھا۔انقلاب کے دور ان اس تنظیم کے بھی سینکڑروں کارکنوں کوگرفتار کرلیا گیا ۔مظاہروں کے دوران پولیس اور فوج کی توجہ مظاہرین کو کنٹرول کرنے پر تھی اسی دوران طاقتور گروہوں نے اپنے ساتھیوں کو چھڑانے کیلئے مصر کی مختلف جیلوں پر حملے شروع کردیے۔ان گینگز نے قاہرہ کی چار جیلوں کو توڑدیا جن سے سینکڑروں قیدی فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے۔فرار ہونے والوں میں اخوان المسلمون کے سات بڑے لیڈر شامل تھے ان میں اخوان المسلمون کا سب سے بڑا لیڈر محمد مرسی العیاط بھی شامل تھا۔محمد مرسی العیاط ایک کسان کا بیٹا تھا لیکن اپنی محنت سے انجینئر بنا پھر اس نے حکومت خرچے سے میٹریل سائنس میں پی ایچ ڈی کی ڈگری بھی حاصل کی۔اب وہ ڈاکٹر کہلواتا تھا ۔مصر واپسی پر وہ اخوان المسلمون کا سرگرم رکن بن گیا۔انہی دنوں اخوان المسلمون کے الیکشن لڑنے پر پابندی تھی۔اس لیے مرسی نے 2000میں آزاد حیثیت میں الیکشن لڑا اور جیت بھی گیا ۔وہ 2005تک مصری پارلیمنٹ کا رکن رہا ۔2005کے بعد مرسی مصری تاریخ کا اہم ترین کردار بننے جارہا تھا ۔مصر میں حسنی مبارک کی حکومت کے خاتمے کے بعد صدارتی الیکشن کا اعلان کیا گیا اسی دوران اخوان المسلمون نے الیکشن لڑنے کا فیصلہ کیا لیکن ان دنوں مصر میں اخوان المسلمون پر پابندی تھی اس لیے اس تنظیم نے’’فریڈم اینڈ جسٹس پارٹی‘‘ کے نام سے پارٹی رجسٹرڈ کروالی۔اخوان المسلمون نے مرسی کو بھی اس پارٹی میں بھیج دیا لیکن صدارتی امیدوار کیلئے مرسی کا نام نہیں دیا اس کی جگہ صدارتی امیدوار محمد خیرت الشاطر کو نامزد کردیا گیا ۔مصر میں صدارتی امیدوار بننا اتنا آسان نہیں تھا ۔مصری فوج کی سپریم کونسل کسی بھی امیدوار کو نااہل قراردے سکتی تھی ۔سپریم کونسل نے الشاطر کو نااہل قراردے دیا لیکن پارٹی نے پہلے ہی کوریننگ امیدوار محمد مرسی کو نامزد کردیا تھا چنانچہ اب مرسی صدر کے امیدوار بھی بن گئے۔فوجی سپریم کونسل نے بھی مرسی کی نامزدگی پر کوئی اعتراض نہ کیا ۔یوں جون 2012میں مصر میں صدارتی انتخاب ہوئے۔مصر ی فوج نے مرسی کے مقابلے میں اپنا امیدوار ’’محمد شفیق‘‘ کھڑا کردیا۔احمد شفیق ایئرفورس کا سابق کمانڈر تھا۔یہ ایک فوجی افسر کو جمہوری طریقے سے صدر بنانے کی کوشش تھی لیکن یہ کوشش بری طرح ناکام رہی۔بلآخر مرسی نے الیکشن جیت لیا لیکن فوج نے مرسی کو اقتدار منتقل نہ کیا نہ الیکشن کے نتائج کا اعلان کیا جس پر مصری عوام پھر سڑکوں پر آگئی مصر کا تحریر اسکوائر ایک بار پھر عوام کے سمندر سے بھر گیا عوام نے مطالبہ کیا صدارتی الیکشن کا فی الفور اعلان کیا جائے۔ایک ہفتے تک ایسے لگ رہا تھا کہ فوج ایک بار پھر اقتدار پر قبضہ کرلے گی۔لیکن اخوان المسلمون کے دھرنے کے چھٹے دن الیکشن کمیشن نے صدارتی الیکشن کے نتائج کا اعلان کردیا۔محمد مرسی العیاط 51فیصد ووٹ لے کر کامیاب ہوئے جبکہ احمد شفیق نے 48فیصد ووٹ لیے۔نتائج کا اعلان ہوتے ہوئے مصر کا تحریر اسکوائر مرسی زندہ باد اور فوج مردہ باد کے نعروں سے گونج اٹھا۔یہ مصری تاریخ کا بہت بڑا انقلاب تھا کیونکہ مصر کی تاریخ میں پہلی مرتبہ ایک عام آدمی منتخب ہوکر جمہوری طریقے سے ملک کا صدر بناتھا۔فوج نے مرسی کو اقتدار تو منتقل کردیا لیکن فوج نے دل سے محمد مرسی کو صدر تسلیم نہیں کیا ۔اس لیے محمد مرسی نے بھی فوج کی سیاسی معاملات میں مداخلت روکنے کی کوششں مزید تیز کردیں۔مصر میں فوجی سرراہ ہی وزیر دفاع ہوتا ہے اس لیے محمد مرسی نے مسلح افواج کے کمانڈر انچیف محمد حسین تنتالوی کو دونوں عہدوں سے ہٹادیا۔تنتالوی کو ہٹانے کے بعد مرسی اپنی پسند کا کمانڈر انچیف لائے جن کا نام عبدالفتح السیسی تھا جو آج کل مصر کے موجودہ صدر ہیں۔مرسی حکومت کے بقول فوجی کمان تبدیل کرنے کی اہم وجہ فوجی بغاوت کو کچلنے کی کوشش تھی۔محمد مرسی کی حکومت نے 22نومبر 2012کو ایک نیا حکمنامہ جاری کیا جس کے مطابق کوئی عدالت پارلیمنٹ کے قانون کو چیلنج نہیں کرسکتی اور نیا آئین بنانے تک عدالت پارلیمنٹ کو تحلیل نہیں کرسکتی۔اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے اس حکمنامے پر شدید ردعمل سامنے آیا۔اپوزیشن جماعتوں کے بقول مرسی تمام اختیارات اپنے پاس رکھ کر ڈکٹیٹر بننے کی کوشش کررہا ہے۔پورے مصر میں پرتشدد مظاہرے شروع ہوگئے ۔اگلے مہینے ہی مرسی نے یہ حکمنامہ واپس لے لیا لیکن ملک میں پرتشدد مظاہرہ رک نہ سکے۔اپوزیشن یہ سوچ رہی تھی کہ کہی نئے آئین میں اسلام پسندوں یعنی اخوان المسلمون کو زیادہ اختیارات نہ مل جائیں۔مظاہرین نے اخوان المسلمون کے کئی دفاتر جلادیے دسمبر 2012میں صدارتی محل کے باہر مرسی کے حامیوں اور مخالفین میں جھڑپیں ہوئی۔جون 2012میں مرسی کی حکومت آئی جبکہ نومبر دسمبر تک مرسی کی حکومت گرانے کی کوششں تیز ہو چکی تھی۔صرف چھ ماہ بعد فوج دوبارہ اقتدار پر قبضہ کرنے کیلئے متحرک ہو گئی۔اس دوران مارچ 2013میں مصری صدر محمد مرسی نے پاکستان کا دورہ کیا ۔محمد مرسی کو نیشنل سائنس اینڈ ٹیکنالوجی یونیورسٹی کی جانب سے اعزازی ڈگری بھی جاری کی گئی۔یاد رہے مرسی نے جنوبی ایشیاء کے ممالک میں سے سب سے پہلا دورہ پاکستان کا ہی کیا تھا۔جاری
saifawan60@gmail.com

image_pdfimage_print
شیئرکریں
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے