Voice of Asia News

اچھے اخلاق سے معاشرے میں بہتری ممکن ہے :حافظ محمد صالح

 
ایک صالح معاشرے کی پہچان، اس میں بسنے والے افراد کا وہ رویہ اور طرزِعمل ہوتا ہے، جس میں اعتدال و توازن ، انسانی ہمدردی ، انسانی حقوق کا احترام اور بالخصوص جان ، مال اور عزّت و عصمت کا تحفظ پایا جائے۔ اخلاقی بنیادوں پر قائم ہونے والے ایک صالح معاشرے کا ترقی پذیر ہونا ایک عقلی تقاضا ہے۔ کیونکہ جس معیشت ،معاشرت ،اور قانون و ثقافت کی بنیاد حقوق و فرائض کی ادائیگی پر ہوگی، وہ پس ماندہ ، مفلس اور اخلاقی بیماریوں دھوکا ، جھوٹ ، فریب ، چوری، بے حیائی اور فحاشی کا مرکز نہیں ہو سکتا۔اس میں معروف ، بر، خیر ، فلاح، حیا ، نیکی، ایفائے عہد، معاشی،اخلاقی اور قانونی پیمانوں کا احترام لازمی ہے۔یہی وجہ ہے کہ مسلمانوں کے سیاسی زوال کے باوجود صدیوں تک مسلم معاشرہ اپنی اخلاقی برتری ، ذمہ دارانہ طرزِ عمل ، حیا اور ایمان داری کے لیے مثال بنا رہا۔گویا مسلمان کی پہچان سچائی اور امانت سے منسلک تھی۔لیکن یہ کتنی بدقسمتی کی بات ہے کہ سیاسی و جغرافیائی آزادی کے حصول کے ساتھ ہی ہم نے اپنے روایتی رویوں اور طرزِ عمل سے بھی،جو ہماری پہچان تھے،آزادی حاصل کر لی۔پاکستان کے ہر حصے میں بچوں کے ساتھ زیادتی ، خواتین کی بے حرمتی ، خودکشی اور نشہ آور اشیا کے کاروبار اور بڑھتے ہوئے استعمال کے ساتھ شیطانی مافیاؤں کا وجود پکار پکار کر ہمارے قومی ضمیر سے مطالبہ کر رہا ہے کہ اس غیر ذمے دارانہ بلکہ مجرمانہ غفلت کا انفرادی و اجتماعی احتساب کرتے ہوئے ان اسباب کودُورکیا جائے، جو ان شرمناک واقعات کے پیچھے کار فرما ہیں ۔
معاشرے کاایک دستور ہوتا ہے جس کے مطابق لوگ اپنی زندگیاں بسر کرتے ہیں۔ اپنے روز مرہ کے معاملات کو انہی اصولوں کے تحت انجام دیتے ہیں۔ اور اگر معاشرے میں قانون کی بالادستی قائم نہ رہے تو معاشرے میں عدل نا پیدہو جاتا ہے۔ جرائم کا پھیلاؤعام ہوجاتاہے، عوام بدحالی اور نا انصافی کاشکار ہوجاتی ہے، جس کی وجہ سے لوگوں میں احساس اور ذمہ داری کا خیال نہیں رہتا معاشرہ ذلت و رسوائی کی علامت بن جاتا ہے۔ بڑھتے ہوئے جرائم پر قابو نہیں پایا جاسکتا۔آج بڑھتے ہوئے جرائم کے نوجوان نسل پر جس قدر اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔ اس کی بڑی وجہ شرح خواندگی کا بہت کم اور ہماری عملی تربیت کا اسلامی طرز زندگی کے اصولوں کے عین مطابق نہ ہونا ہے۔ اسلام میں ملت کی بقاء کیلئے معاشرے کو بڑی اہمیت حاصل ہے اور اس کیلئے اسلام نیقوانین بھی وضع کئے ہیں۔ جن پر عمل پیرا ہوکر ہم مسلمان اپنی زندگیوں کو محفوظ بنا سکتے ہیں۔ مگر افسوس کہ ہم نے اسلام سے دوری اختیار کی ،جس کے نتائج ہمارے سامنے ہیں کہ جھوٹ، قتل و غارت، فریب اور چوری، رشوت خوری، سود اور شراب نوشی اور دوسروں کی حق تلفی جیسی برائیاں جنم لے چکی ہیں۔ اور افسوس صد افسوس کہ حکومت ان جرائم کی روک تھام کے لیے کوئی ٹھوس اقدامات عمل میں نہیں لا رہی۔بڑھتی ہوئی قتل و غارت گری نے معاشرے میں خوف و ہراس پھیلا رکھا ہے۔ چھوٹی چھوٹی باتوں کو انا کا مسئلہ بناکر رد عمل ظاہر کیا جاتا ہے جو ہنگامی صورتحال کو جنم دے رہی ہیں۔ آج اسلامی تعلیمات سے دوری نے ہمارے ذہنوں کو اس قدر مفلوج کردیا ہے ،کہ حلال حرام، سچ اور جھوٹ، کی تمیز نہیں رہی اور اخلاقی گراوٹ کا شکار ہو کر دیگر جرائم میں ملوث ہو چکے ہیں،یہی وجہ ہے کہ معاشرہ تباہی کی نظر ہو چکا ہے۔ کرپشن اور لوٹ مارنے معاشرے کی دھجیاں اڑا دی ہیں۔ ہر فرد زندگی کے آسائشوں کو ڈھونڈنے کیلئے کرپشن میں ملوث ہو رہا ہے۔ اسی طرح نشے جیسی بد ترین برائی بھی معاشرے کو اپنی لپیٹ میں لے رہی ہے۔بہت سے لوگ ذہنی سکون حاصل کرنے کے لیے نشہ کی لعنت میں مبتلا ہیں۔ جوکہ غیر اخلاقی جرم ہے اور معاشرے میں بگاڑ کا سبب بھی، دین اسلام سے دوری نے صحیح اور غلط میں پہچان ختم کردی ہے۔ معاشرے میں تعلیم کا فقدان اور بہترین آگاہی نہ ہونے کی وجہ سے بہت سے واقعات جنم لے رہے ہیں۔
جس معاشرے میں جھوٹ اور بددیانتی عام ہوجائے وہاں کبھی امن و سکون نہیں ہوسکتا، اس معاشرہ کا صفحہ ہستی سے مٹ جانا یقینی ہوتا ہے خواہ وہ مسلم ہوں یا غیر مسلم ۔اخلاق کسی بھی قوم کی زندگی کیلئے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے، خواہ وہ کسی بھی مذہب سے تعلق رکھتی ہو۔اخلاق دنیا کے تمام مذاہب کا مشترکہ باب ہے جس پر کسی کا اختلاف نہیں۔ انسان کو جانوروں سے ممتاز کرنے والی اصل شئے اخلاق ہے۔اچھے اور عمدہ اوصاف و ہ کردار ہیں جس کی قوت اور درستی پر قوموں کے وجود، استحکام اور بقا کا انحصار ہوتا ہے۔ معاشرہ کے بناؤاور بگاڑ سے قوم براہ راست متاثر ہوتی ہے۔ معاشرہ اصلاح پذیر ہو تو اس سے ایک قوی، صحت مند اور با صلاحیت قوم وجود میں آتی ہے اور اگر معاشرہ بگاڑ کا شکار ہو تو اس کا فساد قوم کو گھن کی طرح کھا جاتا ہے۔جس معاشرہ میں اخلاق ناپید ہو وہ کبھی مہذب نہیں بن سکتا، اس میں کبھی اجتماعی رواداری، مساوات،اخوت و باہمی بھائی چارہ پروان نہیں چڑھ سکتا۔ جس معاشرے میں جھوٹ اور بددیانتی عام ہوجائے وہاں کبھی امن و سکون نہیں ہوسکتا۔ جس ماحول یا معاشرہ میں اخلاقیات کوئی قیمت نہ رکھتی ہوں اور جہاں شرم و حیاء کی بجائے اخلاقی باختگی اور حیا سوزی کو منتہائے مقصود سمجھا جاتا ہو اْس قوم اور معاشرہ کا صفحہ ہستی سے مٹ جانا یقینی ہوتا ہے خواہ وہ مسلم ہوں یا غیر مسلم۔ دنیا میں عروج و ترقی حاصل کرنے والی قوم ہمیشہ اچھے اخلاق کی مالک ہوتی ہے جبکہ برے اخلاق کی حامل قوم زوال پذیرہوجاتی ہے۔اخلاقیات ہی انسان کو جانوروں سے الگ کرتی ہیں۔اگر اخلاق نہیں تو انسان اور جانور میں کوئی فرق نہیں۔ اخلاق کے بغیر انسانوں کی جماعت انسان نہیں بلکہ حیوانوں کا ریوڑ کہلائیگی۔ انسان کی عقلی قوت جب تک اسکے اخلاقی رویہ کے ما تحت کام کرتی ہے ، تمام معاملات ٹھیک چلتے ہیں اور جب اس کے سفلی جذبے اس پر غلبہ پالیں تویہ نہ صرف اخلاقی وجود سے ملنے والی روحانی توانائی سے اسے محروم کردیتے ہیں ، بلکہ اس کی عقلی استعداد کو بھی آخر کار کند کر دیتے ہیں، جس کے نتیجے میں معاشرہ درندگی کا روپ دھار لیتا ہے اور معاشرہ انسانوں کا نہیں انسان نما درندوں کا منظر پیش کرنے لگتا ہے۔ یہ سب اخلاقی بے حسی کا نتیجہ ہے۔ انسان کی اخلاقی حس اسے اپنے حقوق اور فرائض سے آگاہ کرتی ہے۔ اجتماعی زندگی کا اصل حسن احسان، ایثار،حسن معاملات، اخوت، رواداری اور قربانی سے جنم لیتا ہے۔ جب تک اخلاقی حس لوگوں میں باقی رہتی ہے وہ اپنے فرائض کو ذمہ داری اور خوش دلی سے ادا کرتے ہیں اور جب یہ حس مردہ اور وحشی ہو جاتی ہے تو پورے معاشرے کو مردہ اور وحشی کر دیتی ہے تو وہ لوگوں کے حقوق کو خونی درندے کی طرح کھانے لگتا ہے توایسے معاشرے میں ظلم و فساد عام ہوجاتا ہے۔انسان میں حیوانی حس کا وجود صرف لینا جانتا ہے دینا نہیں۔چاہے اس کا لینا دوسروں کی موت کی قیمت پرہی کیوں نہ ہو۔ اور بدقسمتی سے یہی صورت حال آج ہمارے معاشرہ میں جنم لے چکی ہے۔
اسلام میں ایمان اور اخلاق 2 الگ الگ چیزیں نہیں ہیں۔ ایک مسلمان کی پہچان ہی اخلاق سے ہے۔ اگر اخلاق نہیں تو مسلمان نہیں۔یہ ہو نہیں سکتاکہ ایک مسلمان ایمان کا تو دعویٰ کرے مگر اخلاقیات سے عاری ہو۔ہمارے پیارے نبی کریم کائنات میں اخلاقیات کاسب سے اعلیٰ نمونہ ہیں جس پر اﷲ کریم جل شانہ کی کتاب ِ لاریب مہرتصدیق ثبت کر رہی ہے۔
ہمارے آقا و مولا کی پوری زند گی پیکر ِ اخلاق تھی کیونکہ آپ نے قرآنی اخلاقی تعلیمات سے اپنے آپ کو مزین کر لیا تھا۔ آپ کا اخلاق قرآن کے احکام و ارشادات کا آ ئینہ تھا، قرآن کا کوئی خلق ایسا نہیں ہے جس کو آپ نے اپنی عملی زندگی میں نہ سمو لیا ہو۔ یہ ہمارے لیے اخلاق کی تربیت کا سب سے اعلیٰ نمونہ ہے اگر ہمارا معاشرہ اس پر عمل کرے تو معاشرہ سے تمام اخلاقی خرابیاں خود بخود ختم ہو سکتی ہیں اور معاشرہ امن، اخوت، بھائی چارہ کا گہوارہ بن سکتا ہے۔ اگر کوئی تمہیں گالی دیتا ہے توتم اس کے جواب میں اسے دعا دو تو ایک دن اسے خود بخود شرم آئے گی کہ میں تو اسے گالی دیتا ہوں اور وہ مجھے جواب میں دعا دیتا ہے تو مجھے شرم آنی چاہئے کیوں نہ میں بھی اسے دعا دوں اور اس کی تعریف کروں کہ وہ ایک اچھا انسان ہے جو میری گالی کے جواب میں دعا دیتا ہے، گالی کا جواب گالی سے نہیں دیتا۔ اگر کوئی تمہیں برا کہتا ہے اور تم اسے اچھا کہتے ہو تو ایک دن وہ تمہیں اچھا کہنے لگ جائے گا۔اگر کوئی تم سے زیادتی کرتا ہے اور تم اسے معاف کر دیتے ہو تو اس کے دل میں تمہاری قدر اور خلوص بڑھے گا۔ اگر کوئی تمہارے حقوق تلف کرتا ہے تو تم اس کے حقوق کے محافظ بن جاؤ تو یقینا ایک دن ضرور اسے بھی شرم آئے ہی جائے گی اور اس طرح معاشرہ خود بخود سدھرتا چلا جائے گا۔
بد قسمتی سے آج کے ہمارے اس خزاں رسیدہ معاشرہ میں اخلاقیات ، تہذیب و تمدن اور تربیت و تادیب کے آثار ہی نہیں پائے جاتے جس کی وجہ نبی کریم کے اخلاق حسنہ سے دوری ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہم قوموں میں رسواء اور زوال پذیر ہو رہے ہیں اور بگاڑ کا گھن ہمیں دیمک کی طرح کھا رہا ہے۔ وہ دین جس کی حقیقی پہچان اخلاقیات کا عظیم باب تھا اور جس کی تکمیل کے لئے رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم مبعوث کیے گئے تھے وہ دین جس نے معاملات کو اصل دین قرار دیا تھا، آج اسی دین کے ماننے والے اخلاقیات اور معاملات میں اس پستی تک گر چکے ہیں کہ عدالتوں میں مقدمات کی بھرمار ہے، جیل خانہ جات میں جگہ تنگ پڑرہی ہے، گلی گلی، محلہ محلہ ، جگہ جگہ لڑائی جھگڑا، گالی گلوچ، ظلم و زیادتی، فساد، کینہ ، حسد، حق تلفی اور مفاد پرستی عام ہے۔ منشیا ت کے بازار، ہوس کے اڈے ، شراب خانے ، جوا ، چوری، ڈاکہ زنی، قتل وغارت گری،زنا کاری، رشوت خوری، سود و حرام خوری، دھوکہ دہی، بددیانتی، جھوٹ،خوشامد، دوغلے پن، حرص، طمع، لالچ، ملاوٹ، ناپ تول میں کمی آخر وہ کون سا اخلاقی مرض اور بیماری ہے جو ہم میں نہیں۔ خود غرضی اور بد عنوانی و کرپشن کا ایسا کونسا طریقہ ہے جو ہم نے ایجاد نہیں کیا؟ دھوکہ دہی اور مفاد پرستی کی ایسی کونسی قسم ہے جو ہمارے یہاں زوروں پر نہیں؟ تشدد، تعصب، عصبیت اور انسان دشمنی کے ایسے کونسے مظاہر ہیں جو ہمارے اسلامی معاشرہ میں دیکھنے کو نہیں ملتے؟ ۔ آج دنیا اسے بدخلقی، ناانصافی، ظلم و زیادتی کا دین تصور کرتی ہے صرف ہمارے اوصاف کی وجہ سے۔ صحیح و اکمل دین کی دنیا میں ذلت و رسوائی کا سبب ہم ہیں، ہمارے سیاہ اوصاف ہیں، ہمارے غلیظ اخلاق ہیں، ہمارے گندے اطوارہیں کیونکہ ہم خود اس کا حقیقی چہرہ مسخ کر کے اور اس کا حلیہ بگاڑ کر دنیا کو دکھا رہے ہیں جس کے سبب دنیا اسلام پر طنز اور نکتہ چینیاں کرتی ہے۔ آج ہم جس قدر معاشرتی برائیوں میں گھر کر انسانیت کی درجہ بندی سے گر گئے ہیں۔ ہمیں اپنی سوچ کو بدلنے کی اور عملاً اسلامی قوانین پر عمل پیرا ہو کر اسلام کے بتائے ہوئے راستے پر چلنے کی ضرورت ہے۔
h.m.sualeh12@gmail.com

image_pdfimage_print
شیئرکریں