Voice of Asia News

طرز زندگی:تحریر شمع باسط

ہم لوگوں نے زندگی کے رہن سہن کو اس قدر مشکل بنا لیا ہے اور بناوٹ کو ضرورت سے کہیں زیادہ اہم کر لیا ہے کہ بس بات بات پر زہنی مسائل کا شکارہو جاتے ہیں ڈپریشن میں چلے جاتے ہیں ہماری کوشش ہوتی کہ بس اب کوئی سکون آور گولیاں ہوں ہم کھا لیں تا کہ سب جھنجٹوں سے جان چھڑا سکیں اور بے شمار لوگ ان دواوں کا ستعمال کرتے ہیں آپ یقین کیجئے کہ ان دواوں کا ستعمال دن بہ دن بڑھ رہاہے اور ہماراموڈ مزاج تو چشم زدن یوں خراب ہوتا ہے جیسے موڈ ہم نے چائینہ کالگوایا ہو برداشت بالکل ناپیدہوگئی ہے ہمارا یہ رویہ ہمیں دیکھنا پڑے گا کہ کیوں ہے کیوں ہم کسی بڑے کی پند سننے کو تیار نہیں ہیں اور کسی کی کامیابی وکامرانی سے بھی لوگ حسد کا شکارہو جاتے کیا اﷲ کی تقسیم پہ بھی ہمارا اعتقاد نہیں رہا ہمیں بڑے دل سے اس بات کو قبول کرنا چاہیے کہ رب کی دین ہے وہ جسے چاہے نوازے مگر لوگ بلا وجہ حسد کی آگ میں جلنے لگتے. دوسرے کی قابلیت اور طاقت سے پریشانی میں آجاتے ہیں اور جن لوگوں کے پاس اﷲ کا دیا سب کچھ وافرہے انکو بھی چاہیے کہ کسی حساب کتاب سے معاشرے میں چلیں بے جا اسراف سے اور دولت کے دکھاوے سے دوسروں کا جینا مشکل اور حرام نہ کر دیں.جیسا کہ اب پاکستان میں ڈینگی سیزن کے بعد شادیوں کا سیزن ہے تو یہ قوم جو مہنگائی کا رونا روے جا رہی ہے اس قوم کی تقریب شادی میں جب آپ شریک ہوں تو آپکو با طریق احسن احساس ہو جاے گا کہ اس قوم کو آلو خریدتے ہوے تو مہنگائی بہت ذیادہ لگنے لگتی ہے جبکہ لاکھوں روپے کے بے جا اسراف سے جب شادیوں کی تقریبات پہ اندھا پیسہ خرچ کرتے ہیں تب مہنگائی نہیں ھوتی جب غربا کی بیٹیوں کو کھلے منہ آپ لوگ یہ احساس دلواتے ہیں کہ امیر کیا ھوتا اور غریب کیا.. مڈل کلاس طبقہ بیچارہ تو امرا کے چونچلوں میں پھس گیا ھے اس احساس کمتری نے لوگوں کو ذہنی مریض بنا دیا ھے. آج کل شریف خاندان کی شادی چرچا میں ھے جسکو دکھا دکھا کر سوشل میڈیا پر ہر انسان کو احساس کمتری کا شکار کیا جا رھا ھے ویسے تو سبکو اس بات کا پتہ ہی ہے کہ چوری کا کپڑا ھو تو گز بھی ڈانگ کا ھوتا…شریف خاندان کی شادیاں تو ایسے ہی سرانجام پانی سمجھ تو گئے ھونگے..مگر ہمیں تو اس بات کا ووٹ کاسٹ کرتے ھوے قوی امکان تھا کہ اب قانون برابر ھوگا اور ہر طرف یکساں رائج بھی مگر سنا ھے کہ بتیس ڈشیز پکی ہیں.لیٹ نائٹ فنگشن جاری رھے اور کسی نے نہیں پوچھا پکڑا. اب ہم بس یہ دعا کرتے ہیں کہ اب تو چوتھا سال شروع خان صاحب کی حکومت کو اب تک اﷲ کرے کہ انکو یقین آجائے کہ وہ حکومت میں ہیں اور وزیر اعظم بھی. تاکہ کوئی ایک آدھ وعدہ تو پورا کریں جو وزیر اعظم بننے سے قبل کیے تھے.اور خدارا جہیز پہ پابندی لگائی جائے یہ کینسر اس غریب اور متوسط طبقے کو پاگل کر دے گا جہیز غریب کی بیٹی کی خوشی کھا گیا ھے متوسط طبقوں سے بیٹی بیاہنے کہ خوف سے مسکراہٹیں چھن گئی ہیں.جو لڑکی کم جہیز لے کے جاتی ھے اسکا گھر نہیں بستا سسرال والے اسکی جان تک لینے سے گریز نہیں کرتے جہیز جیسی شے پر حکومت کی طرف سے سخت پابندی ھونی چاھییاور خلاف ورزی پر بھاری جرمانے.تاکہ لوگوں کو اس بات کا احساس دلوایا جا سکے کہ لڑکیاں خود بھی قیمتی ھوتی ھیں صرف قیمتی چیزیں سامان اور سونا چاندی ساتھ لانے پر ہی انہیں عزت نہ دیں بطور انسان اور گھر کے فرد کی حثیت سے بھی انکی قدر کرنا سیکھیں ایک بیٹی کی اہمیت کا اندازہ صرف اسکے والدین ہی کو ہوتا ہے کہ وہ کتنی قابل ھے سسرال میں تو بس وہ شائد کام والی کی حثیت سے ہی جاتی ھے اس رویے کو بدلنا ھے اپنی بہو کو بھی ویسی ہی اہمیت دیں جیسی بیٹی کو ھے اور پتہ نہیں ایسا کیوں ھے کہ ہمارے معاشرے میں جس گھر میں لڑکی جہیز نہیں لاتی بعض اوقات ان کو کوئی مسئلہ نہیں ھوتا بلکہ محلے دار اور معاشرے والے منہ جوڑجوڑ کہانیاں گھڑنے لگتے ہیں اور اس طرح بھی گھرٹوٹنے لگتے ہیں اور والدین بیاہنے کہ بعد پھر بیٹی کو بسانے میں لگ جاتے ہیں اور کیا ہی بہتر ھو کہ ہم دوسروں کو دیکھنے کی بجائے انکی خامیوں پر نظر رکھنے کی بجائے اپنی اصلاح پہ توجہ دیں.اور جو لوگ شادیوں پر بے جا اسراف کرتے ہیں انکو دیکھ کر پریشان یا غمگین ھونے کی بجائے جو آپ کے پاس ھے اسکے مطابق خوش رہنا سیکھیں.آپ یقین کیجیے ھو سکتا ہے کہ جو آپ کے پاس ھے ان کے پاس نہ ھو. کیونکہ دنیا دکھوں کا گھر ھے کسی کے ظاہری آرام وآسائش سے اس بات کا اندازہ مت لگائیں کہ وہ پر سکون بھی ھیاور خوش بھی ویسے بھی پنجابی کی کہاوت ھے کہ (تسیں کسے اگے بک رووگے تے اگلا بندہ چھج رووے گا). .آپ اپنا احاطہ کریں آپکو کیا چیز خوشی دیتی ھے اسکے مطابق اپنے مزاج کو آرام دہ رکھیں.بیشک لوگ دکھاوا کرنے کو بہت اہمیت دیتے ہیں.جب تعلیم اور تربیت کی کمی ھوگی اور کوئی ہنر کوئی خوبی نہیں ھوگی اور صرف جیب میں پیسہ ھی پیسہ ھوگا تو پھر انسان اسی کا دکھاوا کرے گا مطلب کہ جس کے پاس جو چیز ھوگی وہ اسکا ہی دکھاوا کرے گا لہذا اپنی خوشیوں کو دل سے خوش ھو کہ منائیں ناکہ دوسروں کے رحم و کرم پہ چھوڑ دیں.دور کیا جانا ھے آج کل کسی شادی میں دیکھ لیں.. شادی کی تقریب بھی دلہا دلہن کے لیے بناوٹ کے سوا کچھ نہیں رھی سب لوگ دلہا دلہن کو اسوقت سلامی دینا پسند کرتے ہیں جب کیمرہ مین مووی بنا رھا ھو.. شادی کی تقریب میں دلہا دلہن کو مووی میکر اور کیمرہ مین کے رحم وکرم پہ چھوڑ دیا جاتا ھے وہ کہتا ھے کہ اب سانس لیں تصویر بنانی ھے دلہا اور دلہن سانس لیتے ہیں پھر وہ حکم دیتا فلم بنانی سانس روک لیں..اوہ یار حد ھوگئی کیا ھے یہ سب…کیا ہمارا کلچر یہ ھے ان سب فضولیات سے نکلیں جو آپکا اپنا دل چاھتا وہ کریں.آپ یقین مانیں کہ جو خواتین عام حالات میں گھر گھر جا کر لوگوں کی بہو بیٹیوں کو اسلام کے درس دیتی ہیں پردے کی اہمیت اور نہ محرموں سے مکمل طور پر حجاب کے بارے آگاہی دیتی ہیں اور سمجھانے والے کو کسی نہ کسی طرح یہ باور کرواتی ہیں کہ وہ تقریبا کافر ہی ہیں وہ خود کیمرے کے آگے آگے رہتی ہیں دوہرے معیار سے خدارا باہر نکلیں اور اپنے اور دوسروں کے لیے مخلص رہیں ان بناوٹی اور دیکھا دیکھی کی چمک دمک میں مت پڑیں اپنی زندگی کو سادہ بنائیں تاکہ آپکی وجہ سے کوئی دوسرا احساس کمتری میں مبتلا نہ ھوجائیآپ کے اس احسن اقدام سے نہ صرف آپ کے لیے آسانیاں پیدا ھونگی بلکہ دوسروں کے لیے بھی آپ مشعل راہ کا کام کریں گے اور بناوٹ جیسے مرض سے ہمیں جس قدر ھو سکے بچنا چاھیئیتاکہ ہم اپنی اصل کو پہچان سکیں حقیقی خوشی باعث سکون قلب ھوتی ہے جھوٹی بیکار اور دکھاوے کی مسرت سواے پریشانی کے کچھ نہیں دیتی ہیں لہذا خود کو پہچانیں اور بطور انسان اپنے حصے کی حقیقی دلی اور دماغی خوشیاں سمیٹیں

image_pdfimage_print
شیئرکریں