Voice of Asia News

معاشرے میں بڑھتا ہواڈپریشن:سید اقبال احمد ہاشمی

پاکستانی معاشرہ اخلاقی اقدار کا قبرستان بن چکا ہے۔بے حسی بڑھ رہی ہے، لوٹ کھسوٹ، بدعنوانی ، لاقانونیت عام ہے اور سفاکانہ قتل اور خواتین کی عصمت دری کے واقعات بڑھ رہے ہیں۔ یہ ایک ناقابل تردید حقیقت ہے کہ اخلاقی بگاڑ آج ہماری زندگی کے ہر شعبے میں داخل ہو چکا ہے۔ معاملہ عبادات کا ہو یا معاملات کا، حقوق و فرائض ہوں یا تعلیم و تربیت، امانت، دیانت، صدق، عدل ،ایفاے عہد، فرض شناسی اور ان جیسی دیگر اعلیٰ اقدار کا ہم میں فقدان ہے۔کرپشن اور بدعنوانی ناسور کی طرح معاشرے میں پھیلی ہوئی ہے۔ ظلم و ناانصافی کا دور دورہ ہے ،لوگ قومی درد اور اجتماعی خیر و شر کی فکر سے خالی اوراپنی ذات اور مفادات کے اسیر ہوچکے ہیں۔ بڑھتی ہوئی مہنگائی اور بے روزگاری سے پاکستان میں ہر تیسرا شخص ڈپریشن یا مایوسی اور افسردگی کا شکار ہے۔ ڈپریشن کا مطلب ذہنی عدم توازن کا شکار ہونا ہے۔ یہ بہت تشویش ناک بات ہے۔ ڈپریشن دراصل اس بات کی علامت ہے کہ فرد داخلی طور پر شدید بحران کا شکار ہے۔ اس کا شعور، لاشعور سے ہم آہنگ نہ ہونے کی وجہ سے شدید اذیت میں مبتلا ہے۔ قومی وسائل کے بڑے حصے کا لوٹ مار، رشوت اور غبن وغیرہ کے ذریعے دوچار فی صد افراد کے قبضہ میں چلے جانا اور عام لوگوں کو قومی وسائل میں شریک کرنے کا انتظام نہ ہونا۔خوش حال اور مال دار طبقوں میں ہونے والے ڈپریشن میں مال کی بڑھتی ہوئی ہوس کا ہونا۔ یہ مال چونکہ اکثر یا تو ناجائز طریقوں سے حاصل ہوتا ہے، یا عوام کو مہنگائی کی بلا میں مبتلا کرنے کی صورت میں، اس لیے مال کی یہ ہوس آگ کی صورت میں خوش حال افراد کے دلوں کو جلانے کا باعث بنتی ہے۔ جس کے نتیجے میں مال دار افراد ڈپریشن کا شکار ہوجاتے ہیں۔ڈپریشن خواص میں ہو یا عوام میں، اس کا بنیادی سبب انسانی شعور اور عمل کا آپس میں ہم آہنگ نہ ہونا ہے۔ شعور بھٹکتا پھرتا ہے تو اسے زندگی بے معنی نظر آتی ہے۔ ایسی زندگی جس کا کوئی پاکیزہ مقصد نہ ہو، جو دل اور روح کا ساتھ دینے کے لیے تیار نہ ہو، جو محبت کے حقیقی تقاضے سے عدم مطابقت رکھتی ہو، اس طرح کی زندگی بوجھ بن جاتی ہے اور مایوسی کا ذریعہ بھی۔یہ ایسی قابلِ رحم حالت ہے، جس پر درد مند افراد خون کے آنسو بہائے بغیر نہیں رہ سکتے۔ پاکستانی قوم کے اگر کروڑوں افراد اس بیماری، یعنی ڈپریشن کا شکار ہوں تو اجتماعی زندگی مفلوج ہوکر رہ جائے گی۔ ڈپریشن کی اس بڑھتی ہوئی بیماری کا ذریعہ مادیت پرستی، ہیجان خیز جنسی مناظر اور انسانی ہمدردی کے احساس میں فساد کا نتیجہ ہے۔ احساس میں جب پاکیزگی کے بجائے فساد برپا ہوجاتا ہے، احساس میں جب روحانیت کے بجائے مادیت کے اجزا غالب آجاتے ہیں، احساس جب محبوبِ حقیقی سے محبت کی ہم آہنگی کے بجائے مادی مقاصد سے رشتہ جوڑ لیتا ہے، تو فرد اور افراد کی داخلی زندگی شدید ہیجان خیزی، شدید اضطراب اور بے قراری کے انگاروں پر لوٹنے لگتی ہے۔ اس سے انسانی ذہن شل ہوجاتا ہے۔ وہ پاکیزہ اور صحیح مقصد ِزندگی نہ پاکر مایوسی کا شکار ہوجاتا ہے۔ یہی مایوسی اس کے ذہنی توازن میں خلل پیدا کردیتی ہے اور ڈپریشن کا ذریعہ بن جاتی ہے۔ ڈپریشن کے مریض کے سامنے آپ دولت کے ڈھیر پیش کردیں، مادی حسن کا وافر ذخیرہ سامنے کر دیں، ذہنی دباؤ کے شدید حملے کی وجہ سے ان چیزوں کی موجودگی سے اس کا ذہنی سکون بحال نہیں ہوسکتا۔ یعنی ڈپریشن دل اور روح کے اس بحران کا نتیجہ ہوتا ہے کہ اسے محبوبِ حقیقی کی معرفت اور اﷲ کی محبت سے محروم رکھا گیا ہے۔ اس عمل میں فرد کا اپنا ذاتی قصور ہو یا معاشرے کا، سردست اس سے بحث نہیں، لیکن بڑھتے ہوئے ڈپریشن کا ایک بنیادی سبب یہ ہے۔ڈپریشن کے بڑھتے ہوئے بحران سے بچاؤ کی صورت یہ ہے کہ ہم اس سلسلے میں مغربی ماہرین نفسیات کی تحقیق سے بلند ہوکر، اپنے تاریخی، تہذیبی پس منظر میں اس کا علاج تلاش کریں۔
جب اﷲ کے نیک بندوں کے حالات کا مطالعہ کرتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ ان کی زندگی خود اختیار کردہ فقر سے عبارت تھی۔ فقر کی اس حالت میں رہ کر ، انھوں نے ہزاروں لاکھوں افراد میں زندگی کوخود اعتمادی سے سرشار کر دیا تھا اور انھیں خودشناسی اور اﷲ شناسی سے اس طرح آشنا کر دیا تھا کہ ڈپریشن ان کے قریب بھی نہیں پھٹکتا تھا۔بدقسمتی کی بات یہ ہے کہ ہمارے سارے سوچنے والے مؤر طبقات کے ذہنوں پر ہرمعاملے میں مغرب کی نقالی اور جاہلانہ تقلید کی روش غالب ہے۔ وہ زندگی کے سارے معاملات میں مادہ پرست اہلِ مغرب کو ماہر، رہبر اور اپنا استاد سمجھ کر ان کے اختیار کردہ نسخوں پر عمل پیرا ہیں۔ اس صورت میں صحیح سمت میں سوچ کا عمل ہی دشوار ہے۔یاد رکھیں کہ اگر ہم نے مادیت پرستی کی غیرفطری روش کو جاری رکھا اور نوجوان نسل کی فطرت سے ہم آہنگ پاکیزہ نصب العین سے مطابقت کی صورت پیدا نہ کی تو ہماری آنے والی نسلیں طرح طرح کی سنگین بیماریوں کا شکار ہوتی رہیں گی۔ ہم دیکھ رہے ہیں کہ نوعمر افراد اس قدر فکری انتشار کا شکار ہیں کہ ایک طرف الحاد اور دہریت کے اسیرہیں، تو دوسری طرف جانوروں کی سی جنسی آزادی اور روش پر مٹے چلے جارہے ہیں، اور تیسری جانب امراضِ دل، شوگر اور بلڈپریشر کے بھی دائمی مریض بن رہے ہیں۔ ہمیں اپنی نسلوں پر رحم کھاتے ہوئے، اپنی پاکیزہ تہذیب سے ہم آہنگی اختیار کرنا ہوگی۔ اس کے بغیر بچاؤ کی ساری صورتیں مسدود ہیں۔جب اپنی پاکیزہ تہذیب سے ہم آہنگی کی صورت پیدا ہوگی تو اس سے معاشی ناہمواری، امیرکے امیر تر اور غریب کے غریب تر ہونے کی فضا میں کمی پیدا ہوگی۔ اس لیے کہ پاکیزہ اسلامی تہذیب ہمیں اُن ہدایات پر عمل پیرا ہونے پر مجبور کرے گی۔ جن میں فرمایا گیا ہے کہ تم میں سے کوئی شخص کامل مومن نہیں ہوسکتا، جب تک اپنے لیے جو کچھ چاہتا ہے، وہی کچھ اپنے دوسرے بھائی کے لیے نہ چاہے۔اپنی پاکیزہ تہذیب پر عمل کرنے اور فطرت میں موجود محبت کے طاقت ور پاکیزہ نصب العینی تقاضے کی تسکین سے ایک تو ذہن، دل، روح اور نفسیات کے درمیان توازن اور مطابقت پیدا ہوگی، جس سے بے پناہ سکون حاصل ہوگا اور ڈپریشن قریب بھی نہیں پھٹکے گا۔ دوسرا یہ کہ اس سے ایسا معاشرہ جنم لے گا، جس کے افراد محبوب حقیقی سے محبت کے جذبات کے ارتقا کی خاطر معاشرے کے مفلوک الحال افراد کو اپنی دولت میں شریک کریں گے، یعنی زکوٰۃکے علاوہ صدقات وخیرات کی صورت میں اپنی وافر دولت غریبوں کی غربت ختم کرنے کے لیے رضاکارانہ طور پر صرف کریں گے۔ اس کام کو وہ اﷲ کی رضا اور اﷲ سے محبت کی دولت پانے کا ذریعہ سمجھیں گے۔

image_pdfimage_print
شیئرکریں