Voice of Asia News

  اُومی کرون ‘‘ نے تباہی مچا دیرپورٹ: سید اقبال احمد ہاشمی

چین کے شہر ووہان سے سمبر 2019میں منظر عام پرآنے والی وبا کورونا وائرس اب تک کئی شکلیں تبدیل کر چکی ہے۔ اِس کے مختلف ویرینٹ دنیا بھر میں تباہی مچا چکے ہیں، اب تک لاکھوں جانیں اِس وبا کی نذر ہو چکی ہیں، دنیا کی بیشتر مستحکم معیشتیں اس وبا پر قابو پاتے بری طرح لڑکھڑا چکی ہیں۔ اب جبکہ گزشتہ برس کے دوران دنیا کی بیشتر آبادی کو اس وبا سے بچاؤ کی ویکسین لگائی جا چکی تھی اور زندگی معمول پر آنے ہی لگی تھی کہ جنوبی افریقہ سے کورونا وائرس کا نیا ویرینٹ، اومی کرون منظر عام پر آیا جس نے کچھ ہی روز میں کروڑوں افراد کو متاثر کیاہے۔دنیا کے ترقی یافتہ ممالک جو طبی سائنس میں مہارت اور تحقیق میں اپنا ثانی نہیں رکھتے ، وہ بھی اومی کرون وباء سے بری طرح متاثر ہو رہے ہیں۔امریکا جیسا ترقی یافتہ ملک اس وائرس کا سب سے زیادہ شکار ہوا ہے اور تاحال اس مسئلے سے نمٹ رہا ہے۔میڈیا کی فراہم کردہ اطلاعات کے مطابق دنیا بھر میں او می کرون ویئرینٹ کے مصدقہ کیسز کی تعداد 35کروڑ سے تجاوزکر گئی ہے اور امریکا مصدقہ کیسز کے ساتھ شدید ترین متاثرہ ممالک کی فہرست میں سب سے اوپر ہے۔ بھارت دوسرے، برازیل تیسرے ، برطانیہ چوتھے، فرانس پانچویں، روس چھٹے ، ترکی ساتویں، اٹلی آٹھویں جب کہ اسپین شدید ترین مصدقہ کیسز کے ساتھ نوویں نمبر پر ہے ۔چین میں بھی اومی کرون کا کیس سامنے آگیا۔جبکہ پاکستان میں بھی اومی کرون کا پھیلاوؤبڑھ رہا ہے۔ پاکستان بالخصوص کراچی،اسلام آباد اور لاہور میں کورونا وائرس کی نئی قسم اومی کرون کورونا وائرس کے کیسز کی شرح میں بھی تیزی سے اضافہ ہورہاہے۔ کورونا وائرس کا نیا ویرینٹ، اومی کرون پھیلنے کے بعد حکومت نے کورونا ویکسین کی بوسٹر ڈوز لگانے کا آغاز کردیا گیا ہے۔
پاکستان میں نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر میں اہم اجلاس ہوا ہے۔ اس اجلاس میں کورونا وائرس کے ٹرینڈز کا جائزہ لیا گیا اور اس کے پھیلاؤ میں اضافے کی صورت میں مجوزہ پابندیوں اور اقدامات پر تبادلہ خیال کیاگیا۔ این سی او سی کی جانب سے تمام صوبوں کو ایس او پیز پر عمل درآمد کے لیے سخت اقدامات کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ سول ایوی ایشن اتھارٹی نے کورونا کی نئی لہر کے پیش نظر نئی ٹریول ایڈوائزری جاری کردی ہے۔ اس کے تحت ملک بھر کی تمام اندرون ملک پروازوں پر کھانا اور سنیکس دینے پر پابندی لگا دی گئی ہے۔ تمام متعلقہ ایئرلائنز اور اداروں کو نوٹیفیکیشن پر عملدرآمد یقینی بنانے کی ہدایت کردی گئی ہے۔ اعدادوشمار کے مطابق ملک میں کورونا وائرس کے مثبت کیسز کی شرح دس فیصد سے زائدچکی ہے اور اس میں مزید اضافے کا امکان ہے جبکہ ملک میں مجموعی کیسز کی تعداد 13 لاکھ سے تجاوز کرگئی ہے۔ جبکہ وائرس سے اموات کی مجموعی تعداد 29 ہزار سے بڑھ چکی ہے جو رکنے کا نام نہیں لے رہی اور اس میں ابھی مزید اضافے کا خدشہ خارج از امکان نہیں۔ دوسری جانب حکومت سندھ نے کورونا وائرس کے ویرینٹ اومیکرون کے بڑھتے ہوئے کیسز کے پیش نظر ایس او پیز پر عمل درآمد میں سختی برتنے کا فیصلہ کیا کیونکہ ایسی اطلاعات مسلسل موصول ہو رہی ہیں کہ شہریوں کی ایک بڑی تعداد اب نہ تو ماسک پہننے کی پابندی اور نہ دیگر ایس او پیز پر عمل کر رہی ہے۔ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ تعلیمی اداروں میں ماسک پہننا لازمی ہوگا۔ عوامی مقامات پر ماسک پہننا لازمی قرار دیا گیا ہے۔ جو سرکاری افسر ماسک نہیں پہنے گا اس پر جرمانہ عائد کیا جائے گا۔ اجلاس میں ماسک نہ پہننے والے افسران کے خلاف جرمانے کے طور پر ایک دن کی تنخواہ کی کٹوتی کرنے کی تجویز دی گئی جب کہ تمام شادی ہالز، مارکیٹوں، عوامی مقامات پر ماسک پہننا لازمی قرار دیا گیا۔سندھ حکومت نے شادی کی تقریبات میں کھانا ڈبوں میں دینے کی ہدایت کی ہے۔ مارکیٹوں میں صرف ان افراد کو داخل ہونے کی اجازت دی جائے گی جو ویکسین لگوا چکے ہیں، مارکیٹ انتظامیہ پر لازم ہوگا کہ وہ خریداروں کے ویکسی نیشن کارڈ کا ریکارڈ چیک کریں۔اجلاس میں ریسٹورنٹس کی نگرانی کا بھی فیصلہ کیا گیا ہے اور جو ریسٹورنٹس کورونا ایس او پیز پر عمل نہیں کریں گے ان کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔خیبر پختونخوا میں بھی کورونا سے متاثرین کی تعداد میں اضافہ دیکھنے میں آرہا ہے اور وہاں بھی حکومت اپنی بساط کے مطابق اقدامات کررہی ہے جبکہ بلوچستان کی صورتحال بھی مختلف نہیں ہے۔اومی کرون جس تیزی سے پھیل رہا ہے اور صوبائی اور مرکزی حکومتوں کی طرف سے جو اشارے مل رہے ہیں، اسے دیکھ کر یہی لگتا ہے کہ اگر وائرس کا پھیلاؤ نہ رکا اور عوام نے احتیاطی تدابیر اختیار کرنے پر توجہ نہ دی تو مختلف نوعیت کی پابندیاں عاید ہوسکتی ہیں جو ملک کی پہلے سے ہی دگرگوں کاروباری سرگرمیوں کو ایک بار پھر بحران کا شکار کردیں گی۔ ملک کا مزدور اور درمیانہ طبقہ پہلے ہی مہنگائی کی زد میں آکر تنگدستی کا شکار ہے ، ایسے میں نئی پابندیاں اس طبقے کو فاقوں تک پہنچا سکتی ہیں۔
کورونا وائرس آنے کے باوجود وفاقی حکومت اور صوبائی حکومتوں نے اپنے صحت سسٹم یا صحت انفرا اسٹرکچر میں کوئی توسیع نہیں کی گئی، صحت کی جملہ سہولتیں عوام کو نہیں مل سکیں، کورونا کی جزوی واپسی اور او می کرون کے پھیلاؤ نے عوام کو واقعی ایک بار پھر الجھن میں ڈال دیا ہے، ملکی معاشی صورتحال ابتری کا شکار ہے، کوئی بنیادی بریک تھرو صحت سسٹم میں نظر آنے کے امکانات نہ ہونے کے برابر ہیں، عوام کی اقتصادی اور معاشی صورتحال اعصاب شکنی کی انتہائی سطح سے بھی نیچے آچکی ہے۔طبی ذرائع کے مطابق کینسر نے بھی سر اٹھایا ہے دیگر امراض میں اضافہ کی شرح بھی تشویش ناک ہے، عوام کی جسمانی خستگی ان کی بیروزگاری، غربت، ماہانہ آمدنی میں جمود اور مہنگائی نے سوالیہ نشان بنا دی ہے، ایک غیر مصدقہ سرکاری اطلاع کے مطابق عوام کی صحت زندگی کے عمومی تقاضے بھی پورے کرنے کے قابل نہیں،بھوک کے مسائل نے اندرون سندھ، بلوچستان اور کراچی کے شہری علاقوں میں بھی اندوہ ناک اثرات ظاہر کر دیے ہیں، محنت کش طبقات کو اب حکومت کے اقدامات، معاشی نتیجہ خیزی پر اعتبار نہیں۔ماہرین نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ کورونا اور امی کرون کی پانچویں لہر عوام کے لیے چیلنج بنی تو حکومتی اقدامات میں عوامی ولولہ انگیزی کا امکان مایوس کن رہے گا کیونکہ صحت سسٹم کو صحت کارڈز سے مشروط کرکے حکومت پوری دنیا کو یہ پیغام دے چکی ہے کہ دنیا کے ترقی یافتہ ممالک بھی وہ اقدامات نہیں کر سکے جو حکومت نے پچھلے چار سالوں میں انجام دیے ہیں، صحت کے شعبے میں اس درجہ خود اعتمادی کی یہ نادر مثال ہے۔جبکہ صحت سسٹم کو ابھی قرون وسطیٰ سے اوپر لے جانے کے لیے تھر کے صحرا میں خواتین اور غریب تھری بچوں کی ہلاکتیں رکنے کا نام نہیں لے رہیں، امی کرون اور کورونا کے سدباب کے حوالے سے جو اقدامات سامنے آئے ہیں، عوام صرف یہ پوچھنا چاہتے ہیں کہ پاکستان کے بائیس کروڑ عوام کی جان نظام صحت کی فالٹ لائنوں کے خدشات اور مسائل سے کب نجات پائے گی، حکومت کی سیاسی مجبوریاں ناقابل بیان ہیں، حکومت نے بظاہر اعلانات کے سہارے پورے ملکی نظام حکومت کو یرغمال بنایا ہے ، پاکستان کے حکمرانوں کو صحت کے سسٹم کو جدید ترین بنیادوں پر استوار کرنے کی فکر کرنی چاہیے مگر انھیں انقلاب کی خاموش آمد اور نچلے طبقات کی معاشی صورتحال کو دانشورانہ مباحث اور میڈیا ٹاکس کے ذریے بلند کرنے سے دلچسپی ہے۔کورونا وائرس کی نئی قسم اومی کرون سے متعلق صحت کے بنیادی مسائل سے نمٹنے میں علمی اور مالی مسائل کا حل بھی عوام کے لیے مشکل بنا ہوا ہے۔ صحت کے مسائل متنوع ہیں اور غربت تنوع کی معنویت کو نہیں جانتی، اسے حکومت سے ریلیف اور ملٹی پل وسائل درکار ہیں جو ایک فالٹ فری نظام باآسانی پہنچا سکے۔ ارباب اختیار عوام کے معاشی مسائل کو سمجھیں، انھیں مسائل کے پیچیدہ حل سے آگاہ کیجیے۔ حکمران صحت سسٹم کو جدید طرزپر بناکر غریب عوام کے لیے آسان بنائیں۔

image_pdfimage_print
شیئرکریں