Voice of Asia News

آئی ایم ایف سے نجات قومی سلامتی پالیسی بے کار ہے:حافظ محمد صالح

 

اپنے ملک کی سلامتی کو یقینی بنانا کسی بھی حکومت کا اہم ترین فریضہ ہے ۔کوئی بھی ملک اپنی قومی سلامتی کا ہدف اسی صورت میں حاصل کر سکتا ہے جب اس میں رہنے والے لوگ مطمئن زندگی بسر کررہے ہوں، ہر علاقے کے باشندے ہر طرح کی حق تلفی اور ظلم و استحصال سے محفوظ ہوں، ریاست ان کے تمام بنیادی انسانی حقوق کی ضامن اور محافظ ہو،سب کو فوری اور ارزاں انصاف میسر ہو، قومی سطح پر مکمل اتحاد و اتفاق ہو، دفاع کے ساتھ ملک معیشت میں بھی خود کفیل ہو۔ پاکستان میں ان حوالوں سے ایک متفقہ قومی حکمت عملی وضع کیے جانے کی ضرورت مدت سے محسوس کی جارہی تھی اور یہ امر خوش آئند ہے کہ تحریک انصاف حکومت نے اس سمت میں عملی پیش رفت کرتے ہوئے ایک پانچ سالہ قومی سلامتی پالیسی تشکیل دی ہے۔ قومی سلامتی پالیسی کو تمام وفاقی اداروں صوبوں اور آزاد کشمیر و گلگت بلتستان کی حکومتوں، ماہرین، دانشوروں، تجزیہ کاروں سمیت دیگر اہم شخصیات کی مشاورت سے حتمی شکل دی گئی ہے۔ ملک کی پہلی قومی سلامتی پالیسی 26-2022 وفاقی کابینہ کی جانب سے توثیق کے بعد نافذ العمل ہوگئی ہے۔ ملک میں اپنی نوعیت کی یہ پہلی سیکورٹی دستاویز ہے جو شہریوں کی سلامتی، معاشی تحفظ اور عسکری سیکورٹی کو آپس میں مربوط کرے گی۔ اس کے مقاصد میں روایتی اور غیر روایتی سیکورٹی چیلنجز، بشمول خوراک، پانی، عسکری تحفظ، دہشت گردی، آبادی میں اضافے اور بیرونی دنیا، بالخصوص بڑی طاقتوں سے تعلقات جیسے اہم معاملات نمٹانا شامل ہیں۔
گزشتہ دنوں وزیر اعظم عمران خان کی زیر صدارت قومی سلامتی کمیٹی کا اجلاس ہوا جس میں خارجہ ، دفاع ، اطلاعات ، داخلہ ، خزانہ، انسانی حقوق کے وفاقی وزرا، چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی، تینوں مسلح افواج کے سربراہان، مشیر قومی سلامتی اور سینئر سول و عسکری حکام نے شرکت کی تھی۔ اجلاس کے بعد اعلامیہ جاری کیا گیا جس میں بتایا گیا ہے کہ قومی سلامتی پالیسی ملک کے کمزور طبقات کا تحفظ اور وقار یقینی بنائے گی۔ اس کا محور معاشی تحفظ ہوگا، یہی شہریوں کے تحفظ کا ضامن بنے گا۔ 14 جنوری بروزجمعہ کو وزیر اعظم آفس میں نیشنل سیکیورٹی پالیسی کے پبلک ورژن کے اجرا کے موقع پر منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم عمران خان نے اس حقیقت کو تسلیم کیا ہے کہ عالمی مالیاتی فنڈ کے پاس قرض مانگنے جانے کے نتیجے میں کسی نہ کسی پہلو سے ملکی سلامتی پر سمجھوتہ کرنا پڑتا ہے۔ اپنے خطاب میں ان کا کہنا تھا ’ ’ہم مجبوری میں آئی ایم ایف کے پاس جاتے ہیں اور قرض لینے کے لیے اس کی کڑی شرائط ماننی پڑتی ہیں اور جب شرائط مانتے ہیں تو کہیں نہ کہیں قومی سلامتی متاثر ہوتی ہے جو لازمی نہیں کہ سیکورٹی فورسز سے متعلق ہو، بلکہ اس کا مطلب یہ کہ آپ کو اپنے عوام پر بوجھ ڈالنا پڑتا ہے جبکہ سب سے بڑی سیکیورٹی یہ ہوتی ہے کہ عوام آپ کے ساتھ کھڑے ہوں۔‘‘یہ باتیں وزیر اعظم اس وقت کہہ رہے ہیں کہ جب دو دن قبل قومی اسمبلی نے منی بجٹ اور اسٹیٹ بینک کی خودمختاری کا بل منظور کرلیا ہے یوں وہ شرط پوری ہوگئی جو معیشت کو سہارا دینے کے لیے کئی دوست ممالک اور بین الاقوامی اداروں سے قرضے اور پیکیجز کے لیے مطلوب تھی یہ طے شدہ بات ہے کہ آئی ایم ایف جس ملک کو قرضہ دیتا ہے اس پر بہت سی شرائط بھی عائد کرتا ہے اور ان شرائط کے ذریعے وہ اس کی ملک کی آزادی اور خود مختاری پر اثر انداز ہونے کے علاوہ معاشی حوالے سے زیادہ تر فیصلے اپنے ہاتھ میں لے لیتا ہے۔ پاکستان کے ساتھ بھی اس نے ایسا ہی کیا اور ماضی میں قرضہ دیتے ہوئے کئی ایسی شرائط منوائیں جن سے حکمران اشرافیہ کو تو کوئی فرق نہیں پڑا لیکن ان شرائط کی وجہ سے مہنگائی میں ہونے والے اضافے نے عوام کو بے حال کردیا۔ اب آئی ایم ایف نے پاکستان کو چھے ارب ڈالرز کا جو قرضہ دینا ہے اس کے لیے اس نے نئی شرائط بھی رکھی ہیں اور حکومت نے ان شرائط کو مان بھی لیا ہے ۔
آئی ایم ایف کے حوالے سے وزیر اعظم کایہ تجزیہ واضح طور پر مبنی بر حقیقت ہے۔ مالیاتی ادارے کی کڑی شرائط عوام کے لیے لازماً مشکلات کا سبب بنتی ہیں اور یوں حکومت اور عوام میں فاصلے بڑھتے ہیں لیکن نئی قومی سلامتی پالیسی جس قدر ہمہ پہلو اور وسیع البنیاد ہے، اس کی بنا پر جا سکتا ہے کہ اگر اسے صحیح معنوں میں عملی جامہ پہنایا جا سکا تو قومی یگانگت کی منزل سرکی جا سکے گی۔ پالیسی کا محور عام شہری کا تحفظ اور معاشی سیکورٹی ہے۔ اس کے بنیادی نکات میں قومی مفاہمت کے قیام، ملک کے معاشی مستقبل کے تحفظ، دفاع اور سرحدی سالمیت، داخلی سیکورٹی اور بدلتی دنیا میں ملک کی خارجہ پالیسی اور شہریوں کے تحفظ ، غریب اور امیر کے درمیان بڑھتے فرق سے معاشی عدم استحکام کے باعث درپیش خطرات، موسمیاتی تبدیلیوں اور پانی کی قلت جیسے مسائل کے ممکنہ حل کے متعلق سفارشات شامل ہیں۔ تاہم موجودہ حکومت کی مرتب کردہ قومی ہم آہنگی کی ضرورت واضح کرنے والی اس دستاویز کے برخلاف گزشتہ ساڑھے تین برسوں میں حکومتی پالیسیوں کے نتیجے میں ملک میں جس قدر سیاسی منافرت بڑھی ہے، ماضی میں اس کی کوئی مثال نہیں ملتی۔ احتساب کے عمل کو شفاف اور غیرجانبدارانہ رکھنے میں مکمل ناکامی اور اسے عملاً صرف سیاسی مخالفین تک محدود رکھنے کے باعث نہ صرف یہ عمل یکسر غیر معتبر ہو گیا بلکہ اس طرح ان کروڑوں پاکستانیوں کے جذبات کو حکمراں جماعت کے خلاف آخری حد تک برانگیختہ کردیا گیا جو حکومت کی مخالف جماعتوں کے حامی ہیں اور جن کی مجموعی تعداد حکومت کے حامیوں سے زیادہ ہے۔ اسی کے نتیجے میں اس پوری مدت میں پارلیمان تقریباً معطل رہی اورقانون سازی صدارتی فرامین کے ذریعے ہوتی رہی۔
تحریک انصاف کی حکومت کا موقف یہ ہے کہ ماضی کے حکمرانوں نے پیسے لوٹے، عوام کو بد حال رکھا، معیشت پر کچھ توجہ نہیں دی، یہ موقف آج بھی برقرار ہے۔ یہ موقف آج کے پیرائے میں کتنا درست ہے اور کتنا درست نہیں ہے،اس کا فیصلہ تو تحقیقاتی اداروں اور عدلیہ نے کرنا ہے کیونکہ سابق حکمرانوں کے مقدمات تاحال عدالتوں میں زیر سماعت ہیں اور حتمی فیصلوں کے منتظر ہیں۔آج کا سوال یہ ہے اگر پچھلے حکمرانوں نے کرپشن کی اور ناقص پالیسیاں اختیار کیں جس کی وجہ ملک کی معیشت برباد ہوگئی، لیکن موجودہ حکومت اپنے تقریباً چار سالہ اقتدار میں کون سا معاشی اور اقتصادی بریک تھرو لائی، بیروزگاری کے خاتمے یا ملکی صنعتی پھیلاؤ میں کتنے سنگ میل عبور کیے، صحت کا پورا انفرا اسٹرکچر کس حال میں ہے، سرکاری تعلیمی نیٹ ورک کتنا بہتر اور فعال کیا گیا، نکاسی آب کا سسٹم کس شکستگی کی حالت میں ہے کہ گزشتہ بارشوں میں شہر کراچی کے معروف علاقے بارش کے پانی میں ہفتوں ڈوبے رہے، تعلیمی نظام میں کوئی انقلابی اصلاحات نہیں ہوئیں۔چند ایک کا ذکر وزیر اعظم نے اپنے بیانیہ میں ضرور کیا ہے، دہشت گردی اور جرائم کے سدباب کے لیے عوام کو کوئی اطمینان بخش جواب نہیں ملا، جرائم کا جہنم سلگ رہا ہے، متعدد ایسے سانحات کا حوالہ ابھی دیا جاسکتا ہے کوئی شعبہ ایسا نہیں ہے جسے پچھلی حکومتوں کے مقابلہ میں تقابل کے طور پر سامنے پیش کا جائے، اس لیے ماضی کی حکومتوں پر الزام درست بھی ہو تب بھی مخالفین اور ناقدین کے پاس شکایات کے لیے کافی گنجائش ہے، اپوزیشن کی بات کی جائے تو اسے سیاسی مفادات کی فکر ہے، انھوں نے عوام کو ساتھ لے کر چلنے کی کوئی کوشش نہیں کی۔اس نے عوامی مسائل پر بات تو کی لیکن حکومت کا راستہ روکنے کی کوئی عملی کوشش نہیں کی ہے، اس وقت غریب اور مڈل کلاس سے تعلق رکھنے والے عوام کا سب سے اہم مسائل کم آمدنی، حکومت کے بڑھتے ہوئے ٹیکسز، بے روزگاری ، جرائم میں اضافہ اور اشیاء ضروریہ کی مہنگائی ہے، حکومت اس حوالے سے ماضی کی حکومتوں سے بہتر کارکردگی پیش کرلے تو مناسب ہوگا۔بلاشبہ حکومت چاہتی تو چار سالہ مدت میں بہت بنیادی نہ سہی کم از کم غربت اور بیروزگاری کے خاتمے میں نمایاں پیش رفت کرسکتی تھی، لیکن ایسا لگا کہ کسی نے حکومت کے ہاتھ پیر باندھ لیے ہیں، کوئی پیش قدمی نہیں ہوئی، نظام حکومت فعال نظر نہیں آتا، ترقیاتی منصوبے ہنگامی انداز میں مکمل ہوتے ہیں جن پر دوسروں کی تختیوں کے الزام لگتے ہیں، اس وقت ملک کو ایک مستحکم اقتصادی اور سماجی نظام درکار ہے۔عام آدمی کو روزگار چاہیے، ریگولر آمدنی میں اضافہ چاہیے، جرائم کا خاتمہ چاہیے، صحت کے خطرات بے شمار ہیں۔
حکومت افغانستان کے انسانی المیے اور بحران کی دہائی دے کر ترقی یافتہ اور مہذب ملکوں کی حکومت کو ڈرانے کا کام لے رہی ہے لیکن اسے اپنے ملک میں آئے روز جنم لینے والے سانحات کی کوئی فکر نہیں ہے۔ ملک کو فکری اور سیاسی نظام میں استحکام بھی چاہیے اور معاشی نظام میں بھی ایک جست لگانے کی دیر ہے، انقلابی تبدیلی سے زیادہ ضرورت سسٹم کو رواں اور مستحکم رکھنے کی ہے، غربت کا حوالہ بہت دیا گیا، مگر غریب کو سر بلندی نصیب نہیں ہوئی، نظام میں مثبت تبدیلی لانے کے بجائے مزید استحصالی بنایا جارہا ہے۔حقیقت میں ملکی سیاسی بحث کسی ایک مرکزی نکتے پر نہیں ہوتی، وزیر اعظم اجمالاً ملکی مسائل کے تناظر کو دیگر معاملات سے مشروط کر دیتے ہیں، وہ ملکی سلامتی پالیسی کو آئی ایم ایف سے جوڑتے ہوئے تعلیمی پالیسی کا معاملہ زیر بحث لاتے ہیں، جبکہ ان کے انداز نظر پر ملک کے دیگر ماہرین تعلیم اور دانشوروں کی رائے ان سے مختلف ہوتی ہے اور یکساں نصابی پالیسی بھی ابھی تک متنازعہ بنی ہوئی ہے، بلکہ تعلیمی نصاب کے حوالے سے جو بھی کام سامنے آیا ہے، وہ رجعت پسندی کو مزید مضبوط کرتا ہے، یوں یکساں نظام کی بات یا کوشش بھی دراصل ملک کے نونہالوں کو ذہنی اپاہج بنانا ہے۔
ہمارے حکمران عوام پر بے شمارٹیکس لگاتے ہیں لیکن اپنے غیرترقیاتی، مراعاتی اور استحقاقی اخراجات پر کٹوتی نہیں کرتے، ترقیاتی منصوبے ختم کرتے ہیں لیکن اپنی مراعات میں سے کوئی رقم نہیں دیتے، سارا نزلہ غریب اور مڈل کلاس عوام پر گرایا جاتا ہے۔منی بجٹ پارلیمان سے منظور ہو چکا ہے جس سے وفاقی حکومت کو 343 ارب روپے کی اضافی آمدنی حاصل ہوگی جو مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) کا 0.6 فیصد بنتی ہے۔ منی بجٹ کے ذریعے حکومت نے ایم آئی ایف کے حکم پر جنرل سیلز ٹیکس (جی ایس ٹی) کی چھوٹ ختم کردی ہے جس کا لازمی نتیجہ یہ نکلا ہے کہ تمام اشیاء کی قیمتوں میں اضافہ ہو گیا ہے۔
تحریک انصاف کی حکومت نے آئی ایم ایف سے ایک ارب ڈالر لینے کے لیے 22کروڑ عوام کو قربانی کا بکرا بنا دیا گیا، بے رحم حکومت غریب کش منصوبوں پر گامزن ہے،بیرونی قرضے عوام کے لیے نہیں حکمرانوں کی عیاشیوں کے لیے لیے جاتے ہیں۔ پاکستان کو استعمار کی غلامی میں دھکیل دیا گیا۔ ملکی معیشت مکمل طور پر تباہ ہوگئی، تجارتی خسارے میں پچھلے 6 ماہ میں 25ارب ڈالر اضافہ ہوا۔ بجلی اور گیس کا ٹیرف بڑھانے کی تیاریاں ہو رہی ہیں۔ حکومت نے ملکی تاریخ میں سب سے زیادہ قرضے لیے۔ ملک کے وسائل پر چند خاندانوں کا قبضہ ، سود سمیت قرضوں کی قسطوں کی ادائیگیوں کے لیے غریبوں کا خون چوسا جاتا ہے۔سودی معیشت کو خیرآباد کہنا ہوگا، ارب پتی حکمرانوں کے بچے اور جائداد باہر مگر ملک کے کروڑوں باسی دو قت کی روٹی کے لیے پریشان ہیں۔پی ٹی آئی نالائقوں کا ٹولہ ثابت ہوئی، دعوے کرنے والے آج عوام کو منہ دکھانے کے قابل نہیں۔ سابق حکمران جماعتیں بھی ملک کی تباہی کی برابر کی ذمے دار ہیں۔ وڈیروں ، کرپٹ سرمایہ داروں نے ملک کو جاگیر سمجھا ہوا ہے۔ یہ لوگ ملک کے بینکوں سے اربوں کے قرضے لیتے ہیں اور بعد میں ایک کوڑی واپس نہیں کرتے۔ کرپٹ سرمایہ دارانہ نظام اور اسلامی پاکستان ساتھ ساتھ نہیں چل سکتے۔
وزیر اعظم عمران خان کا کہنا صائب ہے کہ ریاست اس وقت محفوظ ہوتی ہے جب عوام اس کے پیچھے کھڑے ہوں، جب تک تمام طبقات اور علاقے برابر ترقی نہیں کریں گے قوم غیر محفوظ رہے گی، اس لیے جب اجتماعی ترقی ہوگی تب ملک محفوظ ہوتا ہے۔ وزیر اعظم نے تعلیم، غذائی تحفظ، قومی معیشت، ماحولیاتی تبدیلی، قانون کی حکمرانی، مساوی ترقی، آبی تحفظ سمیت مختلف کلیدی شعبہ جات کی اہمیت اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کو قانون کی حکمرانی کا چیلنج بھی درپیش ہے۔ قانون کی حکمرانی کے بغیر کوئی ملک ترقی نہیں کر سکتا۔ جب قانون کی بالادستی نہ ہو تو معاشرے میں غربت ہوتی ہے۔بلاشبہ وقت آگیا ہے کہ حکمراں معاشی اور مالیاتی پالیسیوں میں مطابقت، اصولی فیصلوں کی ضرورت اور عوام کے اقتصادی مسائل کے حل کے لیے جرأتمندانہ اقدامات کریں، یہ وقت فضول بیان بازی، الزام تراشی محاذ آرائی، بحث مباحثہ اور تصادم کا نہیں دور اندیشی پر مبنی فیصلوں کا ہے،لہٰذا حکومت اگر قومی سلامتی پالیسی کے اہداف واقعتا حاصل کرنا چاہتی ہے تو اسے اپنی روش بدلنی ہوگی۔ احتساب کے عمل کو شفاف اور بلاامتیاز بنانا ہوگا، عوام کو ریلیف مہیا کرنے اور معیشت کو بلندیوں پر لے جانے کے لیے قومی مفاد پر مبنی فیصلے کرنا ہوں گے۔
h.m.sualeh12@gmail.com

image_pdfimage_print
شیئرکریں