Voice of Asia News

پاکستان کی’’ اقتصادی سلامتی‘‘ فری میسن کے قبضے میں:محمد قیصر چوہان

’’دجال کے شیطانی نظام ‘‘کو پوری دنیامیں نافذ کرنے میں مصروف تنظیم ’’فری میسن ‘‘نے عالمی سود خور ادارے آئی ایم ایف کے ذریعے اسلامی جمہوریہ پاکستان کے معاشی نظام کوپوری طرح اپنی گرفت میں لے لیا ہے۔عمران خان کی حکومت نے آئی ایم ایف کے ساتھ کیے جانے والے معاہدے کے تحت آئی ایم ایف کی شرائط پوری کرنے کے لیے اسٹیٹ بینک کی خود مختاری کے بارے میں قانون اور ضمنی مالیاتی ’’منی بجٹ‘‘ بل2021ء قومی اسمبلی سے کثرت رائے سے منظور کرالیاہے۔ دوران اجلاس اپوزیشن کی ترامیم مسترد کردی گئیں۔ قومی اسمبلی کا اجلاس اسپیکر اسد قیصر کی زیر صدارت ہوا جس میں وزیراعظم عمران خان ،قائد حزب اختلاف شہباز شریف اور بلاول زرداری نے بھی شرکت کی۔ اپوزیشن کی جانب سے سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی، محسن داوڈ اور نوید قمر نے ترامیم پیش کیں، اسپیکر نے ترامیم کے حق میں ووٹ دینے والوں کو کھڑے ہونے کی ہدایت کی، ترمیم کے حق میں 150 جبکہ مخالفت میں 168 ووٹ پڑے۔آئی ایم ایف کی دوسری شرط پاکستان کے اسٹیٹ بینک کو خودمختاری اور آزادی دینا ہے، جس میں گورنر اسٹیٹ بینک کو مکمل اختیارات دینا اور حکومت کا اسٹیٹ بینک سے قرض لینے کا رجحان ختم کرنا ہے۔ وزارتِ خزانہ اب اسٹیٹ بینک کی مانیٹری پالیسیوں کے ذریعے حکومتی معاشی بے ضابطگیاں بھی کنٹرول نہیں کرسکے گی۔ اسٹیٹ بینک حکومت اور وزارتِ خزانہ سے کسی مشاورت کے بغیر پالیسی یا ڈسکاؤنٹ ریٹ، ڈالر ایکس چینج ریٹ، نوٹوں کی پرنٹنگ اور دیگر اہداف خود طے کرسکتا ہے۔ اسٹیٹ بینک کی خودمختاری کے ذریعے اسٹیٹ بینک کو آئی ایم ایف کی تحویل میں دے دیا گیا ہے۔2018 کے الیکشن سے قبل عمران خان نے کہا تھا کہ آئی ایم ایف کے پاس جانے سے بہتر ہو گا کہ میں خود کشی کر لوں ، وزیر اعظم بن کر عمران خان جس طرح دجالی نظام کے اہم ترین ہتھیار آئی ایم ایف کی تابعدداری کر رہے ہیں ماضی میں اس کی کوئی مثال نہیں ملتی۔عمران خان نے تو خود کشی نہیں کی لیکن اب غربت ، بے روزگاری اور تاریخ ساز مہنگائی کے سبب غریب لوگ ضرور خود کشیاں کریں گے۔آئی ایم ایف نے اپنے قرضے کی شرائط کے مطابق 700ارب روپے کی ٹیکس چھوٹ ختم کرنے کا سخت مطالبہ کیا تھا، جبکہ حکومت 356 ارب روپے کی ٹیکس چھوٹ ختم کرنے پر رضامند ہوئی۔ پاکستان کو آئی ایم ایف کے چنگل سے نجات دلانے کے بلند وبانگ دعوے کرنے والے عمران خان کی حکومت نے 5 سال میں 6 ارب ڈالر قرض کے حصول کے لیے اسلامی جمہوریہ پاکستان کو ’’دجال کے شیطانی نظام ‘‘کو پوری دنیامیں نافذ کرنے والی تنظیم ’’فری میسن ‘‘کے اہم ترین ہتھیارعالمی سود خور ادارے آئی ایم ایف کے پاس گروی رکھ دیا ہے۔فری میسن نے سلطنت عثمانیہ کا معاشی نظام اپنے کنٹرول میں لے کر اس کا نام ونشان مٹا دیا، اسی طرح مصر کو بھی زوال پذیر کیا گیا۔ اب یہی کھیل ’’ایٹمی پاکستان ‘‘ کے ساتھ کھیلنے کے لیے بساط بچا دی گئی ہے۔ ’’دجال کے شیطانی نظام ‘‘کوپوری دُنیا میں نافذ کرنے کی راہ میں واحد رکاوٹ ’’ایٹمی پاکستان ‘‘ ہے۔جہاں کے لوگ جذبہ ایمانی اور شوق شہادت کے جذبے سے سرشار ہیں۔جہاد ہی وہ واحد ہتھیار ہے جس سے عالمی دہشت گرد ممالک امریکہ، اسرائیل اور بھارت خوفزدہ ہیں۔لہٰذا اسلام دشمن طاقتیں مسلمانوں کے اندر سے جذبہ جہاد کو ختم کرنے کی سازشوں میں مصروف عمل ہے۔
قومی اسمبلی سے منی بجٹ 2021 کی منظوری کے بعد ادویات، سلائی مشین، درآمدی مصالحہ جات، گاڑیاں، موبائل فون اور بچوں کے دودھ ،پیکٹ دہی، پنیر، مکھن، کریم، دیسی گھی، مٹھائی سمیت دیگر 150 اشیاء کی قیمتیں بڑھ جائیں گی۔چھوٹی دکانوں پر فروخت ہونے والی ڈبل روٹی، بن، سوویاں، نان، چپاتی، شیر مال پر تو ٹیکس لاگو نہیں ہوگا مگر ٹیئرون میں شامل بیکریوں، ریسٹورنٹس، فوڈ چینز اور مٹھائی کی دکانوں پر ان اشیاء کی فروخت پر ٹیکس نافذ ہوگا جبکہ 500 روپے سے زائد مالیت کے فارمولہ دودھ پر 17 فیصد گورنمنٹ سیلز ٹیکس (جی ایس ٹی) عاید کیا جائے گا۔اس کے علاوہ درآمدی نیوز پرنٹ، اخبارات، جرائد، کاسمیٹکس، کتابیں، امپورٹڈ زندہ جانور اور مرغی پر مزید ٹیکس نافذ کیا جائے گا جبکہ کپاس کے بیج، پولٹری سے متعلق مشینری، اسٹیشنری، سونا، چاندی کی قیمت میں بھی اضافہ ہوجائے گا۔مِنی بجٹ میں تقریباً 150 اشیا پر سیلز ٹیکس بڑھانے کی منظوری دی گئی ہے، جن میں موبائل فونز پر ٹیکس 10 سے بڑھا کر 15 فیصد کردیا گیا جس سے 7 ارب روپے اضافی ٹیکس حاصل کیے جائیں گے، 1800 سی سی کی مقامی اور ہائبرڈ گاڑیوں پر 8.5 فیصد سیلز ٹیکس لاگو ہوگا، 1801 سے 2500 سی سی کی ہائبرڈ گاڑیوں پر 12.75 فیصد ٹیکس عاید ہوگا جبکہ درآمدی الیکٹرک گاڑیوں پر 12.5 فیصد ٹیکس عاید ہوگا۔ فنانس ترمیمی بل کی منظوری کے بعد درآمدی گاڑیوں پر ٹیکس 5 فیصد سے بڑھ کر 12.5 فیصد عاید ہوگا۔ تمام درآمدی گاڑیوں پر فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی بدستور قائم رہے گی جبکہ مقامی طور پر تیار کردہ 1300 سی سی کی گاڑی پر ڈھائی فیصد ڈیوٹی عاید ہوگی اس سے پہلے 1300 سی سی کی مقامی گاڑی پر 5 فیصد ڈیوٹی لگانے کی تجویز تھی۔پاکستان میں تیار ہونے والی 301 سے 2000 سی سی کی گاڑیوں پر 10 کے بجائے 5 فیصد، 2001 سی سی سے اوپر کی مقامی گاڑی پر10 فیصد ڈیوٹی عاید ہوگی جبکہ 1800 سی سی کی مقامی اور ہائبرڈ گاڑیوں پر 8.5 فیصد اور 1801 سے 2500 سی سی کی ہائبرڈ گاڑیوں پر 12.75 فیصد اور درآمدی الیکٹرک گاڑیوں پر 12.5 فیصد ٹیکس عاید ہوگا۔زرعی شعبے میں استعمال ہونے والے مختلف نوعیت کے پلانٹس و مشینری سمیت ، ویجیٹیبل گھی، اسٹیشنری اور پیک فوڈ آئٹمز، انڈے، پولٹری، گوشت، جانوروں کی خوراک کی تیاری میں استعمال ہونے خام مال، گاڑیاں، ٹریکٹرسمیت ایک سوپچاس کے لگ بھگ اشیاء کی قیمتیں بڑھنے کے امکانات ہیں کیونکہ بجٹ میں ان اشیاء پر ٹیکس چھوٹ ختم کرنے کی منظوری دے دی گئی ہے۔غیر ملکی ڈراموں کی درآمد پر بھی ایڈوانس ٹیکس، کیٹررز، ہوٹلز اور بڑے ریسٹورنٹس پر ٹیکس 7.5 فیصد سے بڑھا کر 17 فیصد، سیب کے علاوہ درآمدی پھلوں، سبزیوں پر 10 فیصد سیلز ٹیکس ، پیکنگ میں فروخت ہونے وا لے درآمدی مصالحہ جات پر 17 فیصد، فلور ملز پر 10 فیصد سیلز ٹیکس نافذ کرنے کی تجویز منظور کی گئی ہے جس سے آٹا بھی مہنگا ہوسکتا ہے۔ملٹی میڈیا ٹیکس کو بھی 10 فیصد سے بڑھا کر 17 فیصد کرنے، بیٹری پر ٹیکس 12 فیصد سے بڑھا کر 17 فیصد کرنے کی تجویز منظور کی گئی ہے، اس کے علاوہ ڈیوٹی فری شاپس پر بھی 17 فیصد سیلز ٹیکس عاید کرنے کی تجویزمنظور کی گئی ہے۔ ڈاک کے ذریعے پیکٹ ارسال کرنے پر 17 فیصد سیلز ٹیکس کی منظوری دی گئی ہے۔ بل میں گورنر اسٹیٹ بینک کی مدت ملازمت میں 2سال کی توسیع کرکے اسے 5سال تک بڑھا دیا گیا ہے۔

دجال کے شیطانی نظام کو پوری دنیا میں پروان چڑھانے میں مشغول تنظیم ’’فری میسن‘‘ اقوم متحدہ، امریکہ ، ورلڈ بینک اور آئی ایم ایف کے ذریعے پوری دنیا کے معاشی و سیاسی نظام پر غلبہ پانے میں مصروف ہے۔فری میسن نے ایٹمی پاکستان کی ’’معاشی آزادی‘‘ کوبھی اب اپنے کنٹرول میں کرلیا ہے۔وفاقی کابینہ نے 28 دسمبر کووزیراعظم عمران خان کی زیرصدارت اجلاس میں اسٹیٹ بینک کی خودمختاری کے بل کی منظوری دی تھی۔ اسٹیٹ بینک کی خودمختاری کے حوالے سے بل میں اسٹیٹ بینک ایکٹ 1956 میں ترامیم کی گئی ہیں، یہ ترامیم آئی ایم ایف اور موجودہ گورنراسٹیٹ بینک کی خواہش پر کی گئی ہیں۔اسٹیٹ بینک کی خودمختاری کے بل پر آزاد ماہرین اقتصادیات اور اپوزیشن جماعتوں سمیت بہت سے حلقوں کی طرف سے تحفظات کا اظہارکیا جارہاہے، ان تحفظات کو حکومت نے کسی خاطر میں نہ لاتے ہوئے اسٹیٹ بینک کی خودمختاری کے حوالے سے بل کی منظوری دے دی ہے۔اسٹیٹ بینک کے متنازع قانون کا حکم آئی ایم ایف نے دیا ہے ۔پاکستان کی اقتصادی پالیسی سازی پر’’ دجال کے شیطانی نظام ‘‘ کو پوری دنیا میں نافذ کرنے میں مصروف عمل تنظیم فری میسن نے آئی ایم ایف کے ذریعے مکمل طور پر قبضہ کرلیا ہے، سیاسی قیادت اور پارلیمان کا کام یہ رہ گیا ہے کہ وہ عالمی اداروں کے احکامات پر منظوری کا ٹھپا لگائے۔ اسی سلسلے میں اسٹیٹ بینک ایکٹ 1956ء میں ترمیم کا مسودہ تیار کیا گیا ہے جو پہلے مرحلے میں کابینہ نے منظور کرلیا ہے، لیکن اسے پارلیمان سے منظور کرانے کی ہدایت کی گئی ہے۔ یہ مسودہ کافی عرصے سے ذرائع ابلاغ میں زیر بحث ہے اور تمام آزاد ذہن ماہرین معاشیات نے اس مسودے کو پاکستان کی سلامتی، آزادی اور قومی خودمختاری کے خاتمے سے تعبیر کیا ہے اسے ’’اقتصادی سرنڈر‘‘ قرار دیا ہے۔ اس قانون کے تحت حکومت کا کنٹرول اسٹیٹ بینک اور اس کے سربراہ سے ختم ہوجائے گا۔ اس قانون کا ایک اہم مقصد یہ بھی ہے کہ ماضی میں حکومتیں آئی ایم ایف اور عالمی بینک کے دباؤ اور اقتصادی بحران سے نمٹنے کے لیے زائد کرنسی چھاپ کر داخلی قرضہ لے لیتی تھیں جس سے ہنگامی ضروریات پوری کرلی جاتی تھیں اور حکومت کو ریلیف مل جاتا تھا۔ اس فیصلے کے بعد زری اور مالیاتی پالیسی پر بھی حکومت کا کنٹرول ختم ہوجائے گا، حکومت کے پاس یہ اختیار بھی نہیں رہے گا کہ وہ گورنر اسٹیٹ بینک کو مقرر یا معزول کرسکے۔اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی بنیاد قائد اعظم محمد علی جناح کی خصوصی ہدایت پر زاہد حسین نے رکھی تھی اوروہ پہلے گورنر مقرر ہوئے تھے۔قائدعظم نے اسٹیٹ بینک کے قیام کو نومولود ریاست کی مالیاتی خودمختاری کے لیے اہم قرار دیا تھا۔اپنے قیام کے بعد اسٹیٹ بینک کا ملکی معیشت میں کلیدی کردار رہا ہے اور تمام تر ملکی خزانے چاہے وہ سونے کی صورت میں ہوں یا پھر زرِمبادلہ ذخائر، کرنسی نوٹ ہوں یا سکے یا پھرپرائز بانڈ ہوں، یہ سب کے سب اسٹیٹ بینک کی ملکیت میں رہتے ہیں۔ پاکستان کی معاشی اور اقتصادی زبوں حالی کی ایک وجہ یہ ہے کہ زیادہ تر گورنر اسٹیٹ بینک اور وزیرِ خزانہ کی اسامی پر ایسے افراد کو براجمان کیا گیا ہے جو عالمی مالیاتی اداروں کی سفارش پر بیرونی ممالک سے آئے اور جیسے ہی انہیں عہدے سے ہٹایاگیا وہ پلک جھپکتے ملک سے باہر چلے گئے۔
اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے حوالے سے جو بھی قانونی مسودہ پارلیمنٹ کے لیے تیار کیا جائے یا پھر وہ اسٹیٹ بینک کے قواعد میں تبدیلی کے حوالے سے ہو، اس مسودے کو اسٹیٹ بینک پہلے عوام اور اسٹیک ہولڈرز کی رائے کے لیے ناصرف اپنی ویب سائٹ پر سامنے لاتا ہے بلکہ اس کا اعلامیہ بھی جاری کرتا ہے۔مگر 9 مارچ2021 کو کابینہ میں پیش کیے جانے والے قانونی مسودے کو ابھی تک عوام کے سامنے پیش نہیں کیا گیا ہے۔لیکن وفاقی کابینہ نے 28 دسمبر 2021 کو جس قانون کی منظوری دی ہے اسٹیٹ بینک کے نئے قانونی مسودے کی شق 46 بی 7 میں مرکزی بینک کو یہ اختیار دیا گیا ہے کہ وہ کسی بھی مقامی یا غیر ملکی ریگولیٹری ادارے سے معلومات کے تبادلے کے معاہدے کرسکتا ہے۔ اس میں کسی بھی قسم کی مالیاتی اور غیر مالیاتی معلومات چاہے وہ عوامی سطح پر دستیاب ہوں یا خفیہ رکھی گئی ہوں، انہیں افشاں کیا جاسکے گا۔اس حوالے سے قانونی مسودے میں یہ بات درج نہیں ہے کہ ملکی سلامتی، دفاع اور ایسی معلومات جس کو حکومت نے خفیہ قرار دیا ہو، اس کو جاری نہیں کیا جاسکے گا۔ یہ بات ذہن میں رکھنی چاہیے کہ ملکی دفاع کے حوالے سے بیرونِ ملک ہونے والی تمام ترادائیگیاں اسٹیٹ بینک کے ذریعے ہی کی جاتی ہیں۔ اسٹیٹ بینک سے متعلق قانونی مسودے میں یہ بات بھی شامل کی گئی ہے کہ قومی احتساب بیورو (نیب) اور وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کے اہلکار اسٹیٹ بینک کے گورنر اور اعلی افسران کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کرسکتے ہیں۔
اسٹیٹ بینک سے متعلق نئے قانونی مسودے میں صرف یہ درج ہے کہ گورنر اسٹیٹ بینک سالانہ رپورٹ پارلیمنٹ کو پیش کریں گے ۔نئے قانونی مسودے میں گورنر اسٹیٹ بینک کے اختیارات کو بہت ہی لامحدود کردیا گیا ہے۔ گورنر اسٹیٹ بینک کی مدت ملازمت کو 3 سال سے بڑھا کر 5 سال کردیا گیا ہے جبکہ گورنر اسٹیٹ بینک کی تنخواہ اور مراعات کو وفاقی حکومت کے بجائے بورڈ آف ڈائریکٹر مقرر کرے گا جس کا سربراہ بھی گورنر اسٹیٹ بینک کو ہی بنایا گیا ہے۔عمومی طور پر مختلف شعبہ جات اور اداروں کے سربراہان کی مدت ملازمت 3 سال ہوتی ہے۔ اس میں مسلح افواج کے سربراہان بھی شامل ہیں۔ اگر ضرورت ہو تو اس مدت میں مزید توسیع کی جاسکتی ہے اور یہی سہولت اسٹیٹ بینک کے گورنر کے لیے رکھی گئی تھی کہ اگر چاہیں تو 3 سال بعد مزید ایک مدت کے لیے توسیع ہوسکتی ہے۔ گورنر اسٹیٹ بینک کی اسامی پر کوئی سرکاری ملازم نہیں بھرتی کیا جاسکتا۔ اس مدت کو 5 سال کرنا کسی طور بھی درست نظر نہیں آتا ہے۔نئے قانون میں اسٹیٹ بینک کے امور اور ذمہ داریوں کی ترجیہی فہرست بھی مسودے کا حصہ ہے۔ اس میں افراط زر یا مہنگائی کو قابو کرنا، مانیٹری پالیسی مرتب کرنا، شرح تبادلہ کا تعین کرنا اور معاشی شرح نمو کو پروان چڑھانا شامل ہے۔اسٹیٹ بینک کی اوّلین ذمہ داری افراطِ زر کو قابو کرنے کی ہے۔ گزشتہ 15 سال میں اسٹیٹ بینک کے سیکڑوں مانیٹری پالیسی بیان کو پڑھنے کا اتفاق ہوا ہے۔ ہر مانیٹری پالیسی میں یہ بات کہی جاتی ہے کہ معیشت میں طلب کا دباؤ موجود ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ معیشت میں اشیا، مصنوعات اور اجناس کی رسد یا فراہمی طلب سے کم ہے۔ ایسی صورتحال میں اگر گندم کی فصل خراب ہوجائے یا گنے کی قلت ہو یا پھر عالمی منڈی میں پیٹرولیم مصنوعات مہنگی ہوجائیں تو پھر کیسے اسٹیٹ بینک مہنگائی کو کنٹرول کر پائے گا؟قانون میں یہ بات طے نہیں کی گئی کہ اس حوالے سے اہداف کون طے کرے گا۔ کیا یہ اہداف حکومت یا وزارتِ خزانہ طے کرے گی یا پھر اس کا تعین اسٹیٹ بینک کو کرنے کا اختیار ہوگا۔ یعنی اہداف بھی اسٹیٹ بینک خود طے کرے گا اور پھر اس پر عمل بھی خود ہی کرے گا۔
اس وقت اسٹیٹ بینک مختلف ری فنانس اسکیموں کے ذریعے برآمد کنند گان، مقامی صنعت کاروں، کاشت کاروں، خواتین، معذور افراد اور متبادل توانائی کے لیے رعایتی قرضے فراہم کررہا ہے۔ کورونا میں ہسپتالوں کی ضرورت میں اضافے پر اسٹیٹ بینک نے خصوصی اسکیم دی جس سے ہسپتالوں نے وینٹی لیٹر اور دیگر آلات خریدے اور لوگوں کی جان بچ سکی تاہم اس قسم کے قرضوں کے خاتمے سے معیشت پر مزید منفی اثرات مرتب ہوں گے۔پاکستان میں زیادہ تر گورنر اسٹیٹ بینک اور وزیرِ خزانہ کی اسامی پر ایسے افراد کو براجمان کیا گیا ہے جو پاکستان آئے تو جھنڈے والی گاڑی پر اور جیسے ہی ان سے جھنڈے والی گاڑی واپس لی گئی وہ پاکستان سے باہر چلے گئے۔ موجودہ گورنر اسٹیٹ بینک رضا باقر بھی انہی میں شامل ہیں جبکہ ان کے ڈپٹی گورنر مرتضیٰ سید بھی آئی ایم ایف سے لائے گئے ہیں۔ اس کے علاوہ ڈاکٹر شمشاد اختر، یٰسین انور اور محمود اشرف وتھرا بھی اسی فہرست کا حصہ ہیں۔ جبکہ نگران وزیرِاعظم معین قریشی اور پہلے وزیرِ خزانہ اور پھر وزیرِاعظم بننے والے شوکت عزیز تو سب کو یاد ہی ہوں گے۔اگر ایسے افراد جن کا پاکستان میں کوئی اسٹیک نہ ہو، ان کے اہلِ خانہ ملک میں نہ ہوں اور وہ صرف مخصوص عرصے کے لیے ایک اسائنمنٹ کو پورا کرنے پاکستان آئے ہوں تو انہیں بغیر کسی احتساب کے ملکی خزانوں کا مالک بنا دینا کسی طور پر بھی درست معلوم نہیں ہوتا ہے۔ اسٹیٹ بینک کو خودمختارضرور ہونا چاہیے مگر اس کو آزاد نہیں ہونا چاہیے۔وزیر اعظم عمران خان کی حکومت اقتصادیات اور معاشی میدان میں پہلے ہی مرحلے میں ناکام ہوگئی تھی نے آئی ایم ایف کے در پر اس قدر رسوا کن انداز میں سجدہ ریزی کی کہ جس کا تصور ہی نہیں کیا جا سکتا۔ اسٹیٹ بینک کے نئے قانون کے بعد پاکستان کی’’اقتصادی سلامتی‘‘شدید خطرے سے دوچار ہے۔قومیں صرف اپنی ’’سیاسی آزادی‘‘سے نہیں، اپنی ’’معاشی آزادی‘‘ سے بھی پہچانی جاتی ہیں۔اسٹیٹ بینک پر حکومتی کنٹرول ختم کرکے آئی ایم ایف کے نمائندوں کے ہاتھ میں دے کر پاکستانی کرنسی پر حکومتی کنٹرول ختم کردیا گیا ہے۔ اسٹیٹ بینک پر آئی ایم ایف کے براہ راست کنٹرول کی وجہ سے روپے کی ڈالر کے مقابلے میں ناقدری انتہائی نچلی سطح پر پہنچ چکی ہے جس کے سبب پاکستان میں مہنگائی تاریخ کی بلند ترین سطح پر ہے۔دجال کی پیروکار تنظیم ’’فری میسن‘‘ نے عالمی مالیاتی اداروں کے ذریعے ایٹمی پاکستان کی بدحالی اور غربت میں اضافے کا جو پلان ترتیب دیا ہے ،پاکستان کے حکمران اس پر من وعن عمل کر رہے ہیں۔
منی بجٹ کے پس منظر میں اگر یہ سوال کیا جائے کہ 2022ء معاشی طور پر ملک کے لیے کیسا ہوگا؟ تو اس کا سادہ سا جواب ہے کہ منی بجٹ مہنگائی، روپے کی قدر میں کمی، قرضوں، کرنٹ اکاؤنٹ، تجارتی خسارے، افراطِ زر، غربت اور بے روزگاری میں اضافہ لائے گا۔ آئی ایم ایف نے پاکستان کے لیے جب بھی قرض منظور کیا، ہر بار کڑی شرائط عائد کیں۔ اقلیتوں اور خواتین کی فلاح جیسی شرائط بھی رکھی گئیں، اور اب پاکستان پر ایک نئی شرط عائد کی گئی ہے کہ مذہبی آزادی، اور انتہاپسندی کے خلاف اقدام کے علاوہ میڈیا کو آزادی دیے جانے کی بھی بات ہورہی ہے۔ یہی شرط ایف اے ٹی ایف کی جانب سے بھی آرہی ہے۔ یہ سب کچھ اس لیے ہورہا ہے کہ پاکستان میں کوئی بھی حکومت آئین میں دی جانے والی ضمانتوں پر عمل کرنے میں ناکام رہی ہے۔ عالمی مالیاتی ادارہ آئی ایم ایف ہمیشہ سے امریکی آلہ کار رہا ہے، لہٰذا وہ اب بھی وہی کرے گا جو امریکی خواہش ہوگی ،دراصل امریکی خواہش وہی ہے جو فری میسن کی ہے۔آئی ایم ایف کی کڑی شرائط تسلیم کرنے کا مطلب ہے کہ ایک دن ایسا بھی آئے گا جب یہی ادارے مطالبہ کریں گے کہ معیشت بہتر بنانا چاہتے ہو تو ایٹمی پروگرام رول بیک کردو۔ بہتر یہی ہے کہ حکومتیں ملک میں صنعتی و زرعی ترقی اور افرادی قوت کے بہترین استعمال کی جانب توجہ دیں، آبادی کو بوجھ نہ سمجھا جائے بلکہ افرادی قوت کو ملکی ترقی کے لیے استعمال کیا جائے۔ ضروری ہے کہ پارلیمنٹ میں موجود تمام سیاسی پارلیمانی جماعتیں معاشی ترقی کے لیے کسی جامع میثاق پر متفق ہوجائیں تاکہ آئی ایم ایف سے مستقل چھٹکارا حاصل کرلیا جائے۔عالمی معاشی نظام میں چونکہ آئی ایم ایف کی ایک حیثیت ہے، لہٰذا اسے راضی رکھنا ضروری سمجھا جاتا ہے کہ اس کی مہر لگنے سے ورلڈ بینک، ایشیائی ترقیاتی بینک اور دیگر ممالک بھی مدد اور تعاون کے لیے آگے بڑھتے ہیں۔ہماری حکومت تو آئی ایم ایف کے ساتھ ساتھ اسٹیٹ بینک کی بھی مقروض ہے۔عمران خان کی حکومت نے اس دعوے کے ساتھ آئی ایم ایف کے ساتھ قرض لینے کا فیصلہ کیا تھا کہ ہم زرمبادلہ کے ذخائر میں کمی کو ختم کرکے اپنی معیشت کو مستحکم بنائیں گے اور اس کے بعد آئی ایم ایف کے قرض سے نجات حاصل کرلیں گے۔ ابتدا میں دوست ممالک چین اور سعودی عرب سے مدد حاصل کرنے کے باوجود حکومت معاشی استحکام حاصل نہیں کرسکی۔ پاکستان کو آئی ایم ایف کے قرضوں کی زنجیر میں قید کیے جانے کی ذمے داری موجودہ اور سابقہ تمام حکومتوں پر عائد ہوتی ہے۔ حزب اختلاف کی وہ جماعتیں جو اب حزب اختلاف میں ہیں اور موجودہ حکومت پر تنقید کررہی ہیں اس تباہی کی وہ بھی ذمے دار ہیں، اب جبکہ انہیں اس بات کا احساس ہوگیا ہے کہ آئی ایم ایف کے قرضوں کی وجہ سے ملکی معیشت تباہ ہوچکی ہے۔ اس لیے انہیں اس کا ازالہ کرنے کے لیے پارلیمان میں حکومت کے اقدامات کو ناکام بنانے کے لیے مؤثر حکمت عملی اختیار کرنی چاہیے، لیکن تمام بنیادی اور اہم ترین مسائل اور امور پر حزب اختلاف شور مچانے کے سواکوئی سنجیدہ قدم اٹھانے سے گریز کیاہے، یہی عالم وزیراعظم عمران خان اور ان کی جماعت کا ہے۔معاشی تباہی اور آئی ایم ایف کی غلامی کا ذمے دار سابق حکومتوں کی کرپشن اور بدعنوانی کو قرار دیتے ہیں۔ وزیراعظم عمران خان اب بھی اس بات کا دعویٰ کررہے ہیں کہ وہ برآمدات بڑھا کر زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافہ کریں گے اور آئی ایم ایف کے قرضوں سے جان چھڑائیں گے، لیکن ان کی معاشی ٹیم نے ایسے معاہدے کئے ہیں جو ایسٹ انڈیا کمپنی سے بھی زیادہ تباہ کن ہیں۔
وزیراعظم عمران خان کا تو یہ دعویٰ ہے کہ جیسے اب بھی وہ آئی ایم ایف کے شکنجے سے نکلنے کی کوشش کر رہے ہیں انہوں نے اسلام آباد ایوان صنعت و تجارت کے ایک اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اگر ہم نے برآمدات نہ بڑھائیں تو ہم آئی ایم ایف کی گرفت میں پھنسے رہیں گے۔ یہ بات تو درست ہے کہ برآمدات کے ذریعے زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافہ کیے بغیر قرض کی ادائی ممکن نہیں ہے، لیکن جب صنعت و تجارت اور زرعی اجناس کی پیداواری لاگت میں اضافہ ہوجائے گا تو برآمدات کیسے بڑھائی جائیں گی، اشیائے تعیش کی درآمد پر پابندی کے اقدام کے بغیر زرمبادلہ کے ذخائر کو کیسے مستحکم رکھا جاسکتا ہے۔ اصل مسئلہ یہ ہے کہ مقتدر اشرافیہ آئی ایم ایف اور امریکہ سے آزادی چاہتی ہی نہیں ہے، اس لیے قرض کی معیشت سے چھٹکارا خالی خولی نعرے بازی سے آگے کبھی نہیں بڑھ سکا۔ رضا باقر جیسے سیکڑوں ہزاروں پاکستانینژاد ماہرین کی فوج تیار ہوچکی ہے جو پاکستان کو سیاسی اور اقتصادی طور پر آزاد ہونے کی ہر تحریک کو ناکام بنانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ اس پس منظر میں ایک ایسی عوامی تحریک کی ضرورت ہے جو امریکہ اور آئی ایم ایف کی غلامی کی مزاحمت کرے۔ 1988ء میں سرد جنگ کے خاتمے کے بعد آئی ایم ایف اور عالمی سرمایہ دارانہ نظام کی سختی اور تباہ کاری میں اضافہ ہوا ہے۔ عالمی ذرائع ابلاغ میں ایسی رپورٹیں شائع ہوچکی ہیں جس میں انکشاف کیا گیا ہے کہ عالمی مالیاتی ادارے ایسے ’’دہشت گرد‘‘ ملازم رکھتے ہیں جو تیسری دنیا کی معیشتوں کو تباہ کرتے ہیں، اس مقصد کے لیے وہ غریب ممالک کے حکمرانوں کو رشوت دیتے ہیں یہی وجہ ہے کہ جو ملک جتنا زیادہ غریب ہوتا ہے اس کی حکمراں اشرافیہ اتنی ہی دولت مند ہوتی ہے۔ صرف پاکستان میں دولت اور غربت میں فرق کا موازنہ کیا جائے تو اس کا جواز سمجھ میں نہیں آتا۔ ایک ایک کروڑ کی گاڑیوں میں سفر کرنے والا طبقہ ایسے حالات کا ذمے دار ہے کہ عام آدمی کو15سے 20 ہزار کی اجرت بھی آسانی سے نہیں مل پاتی۔ اشیائے ضرورت کی قیمتوں اور عام آدمی کی آمدنی میں کوئی تناسب ہی قائم نہیں رہ سکا ہے۔ اس صورت کے تباہ کن اثرات رونما ہوں گے۔ پاکستان کی تمام سیاسی جماعتیں اور ان کی قیادت بے نقاب ہوچکی ہیں، ان سیاسیجماعتوں کی قیادت دولت کی ہوس میں مبتلا اور عالمی مالیاتی اداروں کے آگے سجدہ ریز ہے۔ امریکہ اور آئی ایم ایف کی غلامی سے آزادی کی تحریک کے بغیر حالات تبدیل نہیں ہوسکتے۔

qaiserchohan81@gmail.com

image_pdfimage_print
شیئرکریں