Voice of Asia News

 مقبوضہ اور آزاد کشمیر کو خود مختار ملک بنانے کی امریکی مہم ‘‘:محمد قیصر چوہان

امریکہ اور اسرائیل کا نیا پلان ،مقبوضہ جموں و کشمیر میں دبئی اور اسرائیل کی شراکت سے تعمیرو ترقی کے پلان کی آڑ میں چین پر نظر رکھنا ہدف
بھارت دُنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کہلاتا ہے تاہم جس قدر انسانی حقوق کی پامالی اور لسانی، نسلی و مذہبی تعصبات بھارت میں پائے جاتے ہیں شاید ہی کسی ملک میں اس کی نظیر ملتی ہو۔ بھارت اپنے ملک میں موجود اقلیتوں پر جو ظلم کر رہا ہے اوراس نے مقبوضہ جموں و کشمیر پر جس طرح زبر دستی قبضہ کر رکھا ہے اور کشمیریوں کے خون سے ہولی کھیل رہا ہے وہ پوری دُنیا کے سامنے ہے لیکن عالمی برادری سمیت انسانی حقوق کی تنظیمیں بھی کشمیریوں کے قتل عام پر خاموش ہیں، عالمی دہشت گردامریکہ اور اسرائیل کی سرپرستی اور پشت پناہی کی بدولت بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) حکومت کے وزیر اعظم نریندرمودی نے اپنے انتخابی منشور کے مطابق 5 اگست 2019 کومقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی آئینی حیثیت سے متعلق آرٹیکل 370 اور 35 اے کو ختم کرکے مقبوضہ جموں وکشمیر کو اپنا اٹوٹ انگ بنا لیا ہے۔ دستورِ ہند کی دفعات اس بات کی علامت تھیں کہ جموں و کشمیر متنازع علاقہ ہے،جموں و کشمیر کے مستقبل کا فیصلہ اقوام متحدہ کی قرارداد کے مطابق کشمیری باشندے اپنے حق خودارادیت کو استعمال کرتے ہوئے پاکستان یا بھارت کے ساتھ الحاق کا فیصلہ کریں گے۔مقبوضہ کشمیر پر بھارت کا جارحانہ تسلط تقسیم برصغیر کے ’’اصولوں‘‘ کے ساتھ ساتھ سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق بھی غیر آئینی اور غیرقانونی ہے۔
نریندرمودی کی بھارتی حکومت نے گزشتہ برس دبئی، مقبوضہ جموں و کشمیر میں انفرا اسٹرکچر کی تعمیرات کے معاہدے پر دستخط کئے تھے۔متحدہ عرب امارات (یو اے ای) کی 7 ریاستوں میں سے ایک دبئی کا مقبوضہ کشمیر جیسے حساس خطے میں کسی بھی غیر ملکی حکومت کے ساتھ سرمایہ کاری کا یہ پہلا معاہدہ ہے جہاں مقبوضہ جموں و کشمیر پر بھارت براہِ راست حکمرانی کر رہا ہے۔نئی دہلی حکومت امریکی پلان کے مطابق دبئی اور اسرائیل کے ساتھ مل کرمقبوضہ جموں و کشمیرمیں انفرا اسٹرکچر کی تعمیر کرے گی، جس میں صنعتی پارکس، آئی ٹی ٹاور، کثیرالمقاصد ٹاورز، لاجسٹک سینٹرز، میڈیکل کالج اور اسپیشلائزڈ ہسپتال شامل ہیں۔یہ ایک نئی گریٹ گیم کا حصہ ہے ،اب اس نئی گریٹ گیم کے مطابق ہی مقبوضہ جموں و کشمیر اور آزاد کشمیر کو خود مختار ملک بنانے کی مہم شروع کی جائے گی۔ مقبوضہ جموں و کشمیر میں دبئی اور اسرائیل کی شراکت سے تعمیرو ترقی کے پلان کی آڑ میں چین پر نظر رکھنابھی امریکہ اور اسرائیل کا ہدف ہے۔
زمین پرجنت کی نظیر وادی کشمیر ہے جواﷲ تعالی کی تخلیق کردہ خوبصورت شاہکاروں میں سے ایک شاہکارہے۔جہاں حسین و خوبصورت ،آبشاروں کی جھرمٹ میں،پھل پھول،پودے، چرند پرند ، پہاڑوں ،دریاؤں کی روانی اورخوبصورتی کو دیکھ کر بالکل ایسا گماں ہوتا ہے جیسے دنیا میں جنت کا ٹکڑا اتر آیا ہو۔ وادی کشمیر میں درختوں کی ہریالی، پہاڑوں کی بلندی، لہروں کی روانی،بہتے آبشاروں کی نغمہ ریزی، میووں اور نعمتوں کی فراوانی، مثل حوروں، غلماں کی خوبصورتی محسوس کی جا سکتی ہے۔ سچ! یہ جنت نہیں ہے تو پھر اور کیا ہے؟یہاں تک سوچنے پر تو دل مطمئن رہتا ہے لیکن جیسے ہی حقیقت ذہن میں آتی ہے تو دل کانپ اٹھتا ہے۔ یہ جنت نظیر وادی اہل کشمیر کے لیے جہنم بنا دی گئی ہے۔ جہاں مسلمانوں کی حمیت، ماؤں کی آغوش، بیٹوں کی جوانی، بزرگوں کا بڑھاپا اور بیٹیوں کی عصمت تار تار کی جا رہی ہے۔ چند لمحوں کے لیے ہم خود کو وہاں کھڑا پائیں جہاں ماؤں کے سامنے ان کے بیٹوں کا بے دردی سے قتل کیا جا رہا ہے، ان کے جگر گوشوں کے لاشے ہر گلی کوچے میں نظر آرہے ہیں، جہاں معصوم بچوں کی معصومیت کو بڑی بے رحمی سے کچلا جا رہا ہے۔ آنکھیں بند کرکے ذرا تصور تو کیجئے کہ ہم ان ماؤں، بہنوں اور بیٹیوں میں شامل ہیں جن کے سروں سے ان کی چادریں چھینی جارہی ہیں، جن کی عزت جن کی عصمت کافر درندے سرعام نوچ نوچ کر کھا رہے ہیں۔ صرف یہ سوچ کر ہی دل دہل اٹھتا ہے، آنکھیں خون کے آنسو روتی ہیں، خوف سے رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں اور یہ سب کچھ حقیقی طور پر آپ کے اور میرے کشمیری بہن بھائی 74 سال سے جھیل رہے ہیں۔ جنت نظیر وادی کشمیر میں اب پھولوں اور پھلوں کے اس لہلہاتے چمن میں ظلم و بربریت کے کانٹے اگا دیئے گئے ہیں، جہاں دریا کی لہروں کی ترنم کی جگہ خون کے آبشار بہہ رہے ہیں۔
مقبوضہ جموں وکشمیر دراصل تقسیم ہند کا ایسا حل طلب مسئلہ ہے جو بھارتی حکومت کی ہٹ دھرمی و ظلم و ناانصافی کے باعث تاحال حل نہیں کیا جا سکا۔ کشمیری عوام کی تحریک آزادی اسی روز شروع ہو گئی تھی جب انگریزوں نے گلاب سنگھ کے ساتھ بدنام زمانہ ’’معاہدہ امرتسر‘‘ کے تحت16 مارچ 1846ء کو کشمیر کا’’ 75لاکھ روپے‘‘ نانک شاہی کے عوض ’’سودا‘‘ کیا۔ 13 جولائی 1931ء کو سری نگر جیل کے احاطے میں کشمیریوں پر وحشیانہ فائرنگ کے نتیجے میں 22 مسلمان شہید اور 47 شدید زخمی ہو گئے۔ اس واقع پر لاہور میں آل انڈیا مسلم لیگ نے مسئلہ کشمیر کو اجاگر کرنے کیلئے ’’کشمیر کمیٹی‘‘ قائم کی اور شاعر مشرق علامہ اقبال کو اس کمیٹی کا سربراہ مقرر کیا۔ نومبر 1931ء میں ’’تحریک الاحرار‘‘ نے غیر مسلح جدوجہد اور سول نافرمانی کے ذریعے جموں کشمیر کو آزاد کرانے کا مطالبہ کیا۔ ’’گلینسی کمیشن‘‘ قائم کیا گیا۔ 1934ء میں پہلی مرتبہ ہندوستان میں کشمیریوں کے ساتھ اظہار یکجہتی اور ’’ڈوگرہ راج‘‘ کے مظالم کے خلاف ملک گیر ہڑتال کی گئی۔1946ء میں قائداعظم نے مسلم کانفرنس کی دعوت پر سرینگر کا دورہ کیا جہاں قائد کی دور اندیش نگاہوں نے سیاسی‘ دفاعی‘ اقتصادی اور جغرافیائی حقائق کو سامنے رکھتے ہوئے کشمیر کو پاکستان کی’’شہ رگ‘‘ قرار دیا۔مسلم کانفرنس نے بھی کشمیری مسلمانوں کی نمائندگی کرتے ہوئے 19 جولائی 1947ء کو سردار ابراہیم خان کے گھر سری نگر میں باقاعدہ طورپر ’’قرار داد الحاق پاکستان‘‘ منظور کی۔ لیکن جب کشمیریوں کے فیصلے کو نظر انداز کیا گیا تو مولانا فضل الہیٰ وزیر آباد کی قیادت میں 23 اگست 1947 کو نیلابٹ کے مقام سے مسلح جدوجہد کا باقاعدہ آغاز کیا۔ 15 ماہ کے مسلسل جہاد کے بعد موجودہ آزاد کشمیر آزاد ہوا۔ پنڈت جواہر لعل نہرو اقوام متحدہ پہنچ گئے اور بین الاقوامی برادری سے وعدہ کیا کہ وہ ریاست میں رائے شماری کے ذریعے ریاست کے مستقبل کا فیصلہ مقامی عوام کی خواہشات کے مطابق کریں گے۔ 1989ء میں جب کشمیری حریت پسندوں نے ہندوستان کی ہٹ دھرمی اور اقوام متحدہ کی ’’بے حسی ‘‘سے مجبور ہوکر مسلح جدوجہد کا فیصلہ کیا تو کسی کے’’ وہم وگمان‘‘ میں بھی نہیں تھا کہ آنے والے برسوں میں کشمیری عوام اس طرح ان کے ساتھ کھڑے ہوں گے کہ ہندوستان نواز سیاسی قوتوں کو اپنا وجود برقرار رکھنا بھی مشکل ہوجائے گا۔ بھارت کو یہ اندازہ تک نہیں تھا کہ کشمیری عوام کی جدوجہد کے نتیجے میں کشمیر کے انتظامی ‘ سیاسی اور سماجی ڈھانچے کی’’ بلند و بالا عمارت‘‘ اسی پر آگرے گی۔دہلی کی تہاڑ جیل میں ’’شہید کشمیر‘‘ مقبول بٹ نے اپنے خون سے جس انقلاب کی بنیاد رکھی۔ اسے کشمیر اور پاکستان حریت پسندوں نے اپنے خون سے آج تک جاری رکھا ہوا ہے۔کشمیری مسلمان اپنی تحریک مزاحمت میں ہر لحاظ سے ’’حق بجانب‘‘ ہیں جبکہ بھارت کی حیثیت ایک ’’جارح سامراجی قوت‘‘ کی ہے مقبوضہ کشمیر میں بھارتی قابض فوجوں کے ہاتھوں ’’ظلم و استبداد‘‘ کا شکار کشمیری مسلمان کی مدد کرنا پاکستانی مسلمانوں پر ’’واجب ‘‘ہے۔ کشمیر کی بھارت سے آزادی پاکستان کی’’ اقتصادی‘‘ اور ’’زرعی ترقی‘‘ کے لئے بھی ضروری ہے۔ اس لئے کہ اگر کشمیر پر بھارتی تسلط قائم رہا تو وہ کشمیر سے نکلنے والے دریاؤں پر ڈیم بنا کر پاکستان کو’’ بنجر اور صحرا‘‘ بنا دے گا۔ یہ بات جاننا ضروری ہے کہ اس وقت مقبوضہ کشمیر میں آزادی اور حق خود ارادیت کی جو تحریک جاری ہے وہ ریاست جموں و کشمیر کی آزادی اور حق خودارادیت کی تحریک ہونے کے ساتھ ساتھ پاکستان کی ’’تکمیل اور بقا‘‘ کی تحریک بھی ہے اور ہمارے مقبوضہ کشمیر کے بھائی کشمیر کی آزادی اور پاکستان کی بقا کی اس تحریک کے دوران ایک لاکھ سے زیادہ شہدا کے مقدس لہو کا ’’نذرانہ‘‘ پیش کر چکے ہیں جن میں مر د ، عورتیں، بچے اور بوڑھے سبھی شامل ہیں۔ اس کے علاوہ اس عرصے کے دوران لاکھوں کی تعداد میں کشمیری مسلمان مرد ، عورتیں ، بچے اور بوڑھے’’ زخمی اور اپاہج ‘‘ہو چکے ہیں چنانچہ آج مقبوضہ کشمیر میں کوئی گھر ایسا نہیں ہے جس کا کوئی نہ کوئی فرد شہید یا زخمی نہ ہوا ہو۔ آج مقبوضہ کشمیر میں بستیوں کی بستیاں ویرانوں میں تبدیل ہو چکی ہیں۔ مقبوضہ کشمیر کا کوئی شہر یا گاؤں ایسا نہیں ہو گا جہاں شہدا کے قبریں نہ ہوں یوں وہ کشمیر جو جنت ارضی کہلاتا تھا، بھارت کی سرکاری دہشت گردی کی وجہ سے موت کی ’’وادی‘‘ میں تبدیل ہو چکا ہے۔
عمومی طورپر بھارت میں صرف کشمیریوں کی جدوجہد آزا دی کو ہی تحریک کے طور پردیکھا جاتا ہے تاہم ایسا نہیں ہے۔ بھارت میں مقبوضہ کشمیر کے علاوہ پنجاب، تامل، ناڈو، بہار، چھتیں گڑھ، اڑیسہ، ہما چل پردیش، مہارا شٹر سمیت شمال مشرق میں آسام، ناگا لینڈ، منی پورا اور ترقی پورہ سمیت بھارت میں 67 علیحدگی کی تحریکیں چل رہی ہیں۔ جن میں 17 بڑی اور 50 چھوٹی ہیں۔ صرف آسام میں 34 علیحدگی پسند تنظیمیں کام کر رہی ہیں۔ 162 اضلاع پر علیحدگی پسندوں کا مکمل کنٹرول ہے، علیحدگی کی تحریکیں بھارتی حکومت اور ریاست کیلئے بہت بڑا چیلنج ہے۔ ان تحریکوں نے بھارت کے دیگر حصوں آندھرا پردیش اور مغربی بنگال پر بھی اثرات مرتب کئے ہیں۔بھارتی فورسز نے علیحدگی پسندوں کی آواز کو دبانے کیلئے ایک عرصے سے کالے قوانین کی آڑ لے رکھی ہے۔نریندر مودی بھارت کے وزیراعظم ہی پاکستان اور مسلمان دشمن جذبات ابھار کر بنے ۔ مگربد قسمتی سے وزیراعظم بننے کے بعد بھی مودی نے اپنا انتہا پسندانہ رویہ تبدیل نہ کیا اور منصب سنبھالنے کے بعد انہوں نے بھارتی عوام کے جذبات کو ہوا دینے کیلئے جو گاؤ رکھشا کا نعرہ لگایا تھا اُس سے بھارت میں مسلمانوں بالخصوص کشمیریوں اوراقلیتوں میں احساس تحفظ بڑھا تھا۔اس کے بعد کشمیر میں تحریک آزادی نے نئی کروٹ لی تو بھارتی فورسز نے کشمیری نوجوانوں پر مظالم کے پہاڑ توڑنے شروع کئے اور بھار تی فوج کے ہا تھوں کشمیروں کا قتل عا م کا جو سلسلہ شروع کیا وہ آج بھی جاری ہے۔
مقبوضہ کشمیر میں غاصب بھارتی افواج کا نہتے کشمیری عوام پر وحشت و بربریت کا تسلسل برقرار ہے۔ بھارت کی مودی سرکار کشمیری نوجوانوں کی سوشل میڈیا پر فعالیت اور ان کی جانب سے اقوام عالم میں بھارتی فوجوں کے مظالم بے نقاب کرنے سے عاجز آکر انہیں بزور کچل رہی ہے۔ مقبوضہ وادی میں جدید اور مہلک ہتھیاروں کے ذریعے کشمیریوں پر مظالم کا تسلسل تو گزشتہ کئی سال سے برقرار ہے جس کے دوران سینکڑوں کشمیری عوام شہید اور اسرائیلی ساختہ پیلٹ گنوں کی فائرنگ سے ہزاروں نوجوان مستقل اندھے اور اپاہج ہوچکے ہیں۔ بھارتی فورسز نے مودی سرکار کے ایجنڈے کے عین مطابق وہاں کیمیائی ہتھیاروں کا استعمال بھی شروع کر رکھا ہے جن کے استعمال کی باقاعدہ جنگ میں بھی اجازت نہیں ہوتی مگر مودی سرکار اپنی جنونیت میں اندھی ہو کر اور کشمیر کو مستقل طور پر ہڑپ کرنے کی نیت سے کشمیریوں کا عرصہ حیات تنگ کرنے پر تلی بیٹھی ہے تاکہ وہ بھارتی تسلط سے آزادی کی تحریک چلاسکیں نہ سوشل میڈیا پر بھارتی مظالم بے نقاب کرتے رہنے کی پوزیشن میں آسکیں۔ بھارت کو مسئلہ کشمیر کے حل کیلئے نہ اقوام متحدہ کی قراردادوں کی پاسداری ہے نہ ہی اس نے دوطرفہ مذاکرات کیلئے شملہ معاہدے کو کبھی پرکاہ کی حیثیت دی ہے۔ اس کا ایجنڈا کشمیر پر اپنی اٹوٹ انگ والی ہٹ دھرمی کو جیسے تیسے عملی قالب میں ڈھالنے کا ہے جس کیلئے اسے مسلمہ بین الاقوامی انسانی حقوق کی بھی پاسداری نہیں اور اسکی فوجیں وحشت و بربریت کی انتہاء کرتے ہوئے کشمیری عوام کو صفحہ ہستی سے مٹانے کی ناکام کوششوں میں مصروف ہیں جبکہ کشمیریوں کی جدوجہد کا ساتھ دینے اور علاقائی اور عالمی فورموں پر ان کے کاز کیلئے آواز اٹھانے پر بھارت پاکستان کی سا لمیت کے بھی درپے ہے جس پر بھارت کی سول اور فوجی قیادتوں کی جانب سے آئے روز سرجیکل سٹرائیکس اور باقاعدہ جنگ مسلط کرنے کی گیدڑ بھبکیاں لگائی جارہی ہیں۔جبکہ کشمیریوں پر ظلم و جبر کے ایسے ہتھکنڈوں کا مقصد حق خودارادیت کیلئے توانا ہونیوالی کشمیریوں کی آواز ہمیشہ کیلئے دبانا اور ان پر بھارتی فوجوں کے مظالم اقوام عالم کی نگاہوں سے اوجھل رکھنا ہے تاہم دنیا بھر میں پھیلے متحرک کشمیریوں نے اب تک بھارت کی ایسی کوئی کوشش کامیاب نہیں ہونے دی چنانچہ آج مسئلہ کشمیر علاقائی اور عالمی امن و سلامتی کے حوالے سے پوری دنیا کی توجہ کا مرکز بن چکا ہے۔
1947سے آج تک پاکستان اور بھارت کے تعلقات ہمیشہ نرم گرم رہے ہیں۔ ان میں اکثر نرمی ہماری جانب سے اور گرمی بھارت کی طرف سے دیکھنے میں آئی ہے۔ پاکستان کی نرمی اس کے قومی نظریہ کی عکاسی کرتی ہے جس ملک کی بنیاد ہی امن و سلامتی پر ہو اور جس کا نظریہ انسانوں سے تو کیا، چرند، پرند اور شجر و حجر کے ساتھ بھی حسن سلوک کی تعلیم دیتا ہو، اس کی جانب سے اشتعال صرف مجبوری اور ہنگامی حالت ہی میں ممکن ہے۔ یہی وجہ ہے کہ قیام پاکستان سے اب تک یہاں ہندوؤں سمیت تمام غیر مسلم اقلیتوں کے ساتھ بہترین سلوک کا اعتراف خود انہوں نے اور دنیا بھر نے کیا ہے۔ دوسری طرف یہ بات ریکارڈ پر ہے کہ کشیدگی، فائرنگ اور گولا باری کا آغاز ہمیشہ بھارت ہی کی جانب سے ہوا ہے۔ بھارت کی پاکستان سے نفرت کے دو بڑے اسباب ہیں۔ پہلا مذہبی اور دوسرا سیاسی۔ بھارت کے انتہا پسند ہندوؤں نے قیام پاکستان کو روزاول سے تسلیم نہیں کیا۔ وہ اسے اپنی گؤماتا کے دو ٹکڑوں سے تعبیر کرتے ہیں۔ سیاسی وجہ یہ ہے کہ بھارتی ارباب کے خیال میں پاکستان کے قیام سے وہ اہم زرعی و معدنی وسائل اور آبادی کے ایک بڑے حصے سے محروم ہو گئے ہیں۔ بھارت کی اسی کہج فہمی اورخام خیالی کے باعث دونوں ملکوں میں تین بڑی جنگیں ہو چکی ہیں۔ 74برسوں میں ہر بھارتی حکومت دفاعی بجٹ میں سالانہ اضافہ کرتی رہی ہے بھارت کا شمار امریکا، روس، فرانس اور اسرائیل سے اسلحہ خریداری میں دنیا کے دوسرے بڑے ملک کے طور پر ہوتا ہے۔ بھارت کی حکومت کا منشور ہی اکھنڈ بھارت کا قیام ہے۔ بھارتی گجرات کے مسلمانوں کے قاتل نریندر مودی کے برسر اقتدار آنے کے بعد بھارت کا رہا سہا سیکولر چہرہ بھی باقی نہیں رہا، بلکہ یہ ہندو قومیت کا روپ دھار چکا ہے۔بھارت خطے میں اسلحہ کی دوڑ کی وباء کو پھیلانے کا موجد اور بانی ہے۔ بھارت مقبوضہ کشمیر پر اپنا تسلط قائم رکھنے کے لیے کشمیریوں پر ظلم کے پہاڑ توڑ رہا ہے، جبکہ دوسری جانب کشمیری عوام کی قربانیوں سے معمور یہ جدوجہد سات دہائیوں سے جاری ہے اور بھارتی جبر کا کوئی ہتھکنڈہ ان کے پائے استقلال میں آج تک ہلکی سی بھی لغزش پیدا نہیں کر سکا ہے۔
مقام حیرت ہے کہ ایک ایسا ملک جس کی آبادی کا ایک قابل ذکر حصہ غربت کی لکیر سے نیچے کسمپرسی کے عالم میں زندگی بسر کر رہا ہے، اس کے حکمران مہنگے ترین ہتھیاروں اور میزائلوں کی تیاری پر غریب عوام کے خون پسینے کی کمائی سے حاصل کئے گئے
بجٹ کا ایک بڑا حصہ انتہائی بے دردی کے ساتھ خرچ کر رہے ہیں۔ 75کروڑ سے زائد بھارتی شہری دو وقت کی آبرو مندانہ روٹی بھی بروقت حاصل کرنے میں ناکام رہتے ہیں۔ یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کروڑوں عوام کو روٹی دینا زیادہ ضروری ہے یا ایٹمی ہتھیار سازی؟ بھا رتی عوام کو روٹی چاہیے، میزائل اور جوہری بم نہیں۔ بھارت کی اس تمام کاوش کا بنیادی مقصد ہمسایہ ممالک کو خائف اور دہشت زدہ کرنا ہے۔ یہ ایک بڑی سچائی ہے کہ بھارتی حکام یہ ہدف حاصل کرنے میں بھی بری طرح ناکام رہے ہیں۔ بھارت کا ’’خصوصی ہدف‘‘ روز اول سے پاکستان رہا ہے۔ اکثر بھارتی حکومتیں اور ارباب حکومت شروع ہی سے پاکستان کو اپنا ازلی دشمن گردانتے رہے ہیں۔ بھارت کے دفائی بجٹ میں آئے روز اضافے، میزائل تجربے، جوہری ہتھیار سازی اور و رکنگ باؤنڈری پر گولہ باری محض اس لئے کی جاتی ہے کہ بھارت کے متعصب،بنیاد پرست اور رام راج کے خواہش مند انتہا پسند عناصر کو یہ یقین دلایا دیا جائے کہ بھارت جب چاہے اپنے ’’ازلی دشمن‘‘ کو دہشت زدہ کر سکتا ہے۔ حالانکہ یہ محض خام خیالی ہے۔ بھارتی حکمرانوں اور بھارت میں موجود غالب حیثیت رکھنے والے انتہا پسند عناصر کی کوششوں اور خواہشوں کے باوجود پاکستان کا دفاعی استحکام ناقابل تسخیر ہے۔ یہ امر عام پاکستانیوں کیلئے یقینا اطمینان کا باعث ہے کہ افواج پاکستان نے آزمائش کے ہر مرحلے اور امتحان کے ہر میدان میں پاکستان کی جغرافیا ئی و نظریاتی سرحدوں کے دفاع اور تحفظ کیلئے کسی بھی قسم کی قربانی دینے سے کبھی دریغ نہیں کیا۔ بھارت نے جنوب مشرقی ایشیا میں اسلحے کی بالادستی کے وکٹری سٹینڈ پر کھڑے ہونے کیلئے خطرناک اور مہلک ترین اسلحے کی اندھا دھند دوڑ شروع کر رکھی ہے، پاکستان کیلئے بھی ناگزیر ہے کہ وہ اپنی جغرافیائی و نظریاتی سرحدوں اور سٹریٹجک تنصیبات کے دفاع اور تحفظ کیلئے اپنی ایٹمی صلاحیت میں اضافہ کرتا ہے۔ پوری قوم کو افواج پاکستان کی دفاعی صلاحیتوں پر مکمل اعتماد ہے اور وہ یہ سمجھتی ہے کہ جب تک افواج پاکستان کا ایک بھی افسر اور جوان زندہ ہے، بھارت اپنے دفاعی بجٹ میں جتنا مرضی اضافہ کر لے تو اسے پاکستان کے خلاف کسی بھی مہم جو یا نہ جارحیت کے نتیجہ میں ہر محاذ پر منہ کی کھانا پڑے گی۔بھارت دنیا کا وہ واحد ملک ہے جس کے کلکتہ، ممبئی، نئی دہلی، مدارس، بنگلور جیسے بڑے شہروں میں بھی کروڑوں شہری فٹ پاتھوں، جھونپٹر پٹیوں، ٹرنک سیور پائپ لائنوں، گرین بیلٹوں، پارکوں، انڈر پاسوں، کھلے بنجر میدانوں اور حفظان صحت اور بنیادی سہولیات سے محروم غیر انسانی ماحول میں جنم لیتے، پلتے، پروان چڑھتے، جواں ہوتے، شادیاں کرتے، نئی نسل کو جنم دیتے، بیمار پڑتے اور کسمپرسی کے عالم میں ایڑیاں رگڑ رگڑ کر مر جاتے یہیں سے ان کی ارتھیاں اٹھتیں، جوہڑوں کنارے بنائے گئے شمشان گھاٹوں میں ان کا ’’انتم سنسکار‘‘ ہوتا اور ان کی ’’استیاں‘‘ گنگا جل کی نذر کرنے کے بجائے گندے نالوں میں بہا دی جاتی ہیں۔ ان حالات میں بھارتی حکومت کوجنگی جنون کے بجائے اپنے ملک کی غریب عوام کو غربت سے نکالنے کے جنون میں مبتلاء ہونا چاہیے ۔ جن کے کاندھوں پر سوار ہو کر حکمران اقتدار کے ایوانوں تک پہنچتے ہیں۔
qaiserchohan81@gmail.com

image_pdfimage_print
شیئرکریں