Voice of Asia News

بھارت اقلیتوں کے لیے جہنم بن گیا‘‘ :حافظ محمد صالح

 

بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) وزیراعظم نریندر مودی کی سرپرستی میں بھارت کو صرف ہندوؤں کا ملک بنانے کے لیے سرگرم ہے۔ انتہا پسند ہندو گروپوں نے اقلیتوں بالخصوص 23 کروڑ مسلمانوں کا صفایا کرنے کا جو مذموم منصوبہ بنا رکھا ہے اس پر عملدرآمد کی رفتار تیز کردی گئی ہے،مسلمانوں کے علاوہ عیسائی بھی انتہا پسند ہندوؤں کے نشانے پر ہیں،بھارت کی موجودہ صورتحال میں یہ کہنا حق بجانب ہو گا کہ بھارت اقلیتوں کے لیے جہنم بن چکا ہے۔ انتہا پسند ہندوؤں کی تنظیموں نے جن میں بدنام زمانہ ہندو مہا سبھا بھی شامل ہے، 17دسمبر کو ہندوؤں کے متبرک مقام ہردوار میں ہندو توا کانفرنس منعقد کی تھی جس میں ہندوؤں کو اکسایا گیا کہ وہ مذہبی اقلیتوں بالخصوص مسلمانوں کو قتل کردیں۔ کانفرنس میں ہندو توا اور ہندو مہاسبھا کے لیڈروں نے مسلمانوں کے خلاف زہر اگلا اور ہندوؤں کو ان کی نسل کشی پر اکسایا۔اس کانفرنس میں کی جانے والی نفرت آمیز تقریروں پر نریندرمودی کی مسلسل خاموشی اس امر کی غماز ہے کہ بی جے پی بھی ملک کے کروڑوں مسلمانوں کے قتل عام کی حمایت کرتی ہے۔ ہندو توا گروپ تمام مذہبی اقلیتوں کو بلا تحفیص نشانہ بنارہے ہیں اور حکمران جماعت کی آشیر باد کی وجہ سے ایسی کارروائیوں پر انہیں کسی طرح کی سزا سے بھی استثنا حاصل ہے۔یہ بات قابلِ غور ہے کہ ہردوار کی ہندو توا کانفرنس میں مسلمانوں اور ان کے مذہبی مقامات پر حملوں کی باضابطہ کال دی گئی۔ ہندو مہا سبھا کے جنرل سیکرٹری نے ہندوؤں سے کہا کہ وہ اسلحہ جمع کریں کیونکہ ہتھیاروں کے بغیر کچھ بھی ممکن نہیں۔ ’’اگر چاہتے ہو کہ ان (مسلمانوں) کی آبادی ملیا میٹ کردو تو پھر ان کا قتل عام شروع کرو۔ قتل کرنے اور جیل جانے کے لیے تیار رہو۔ اگر تم میں سے ایک سو لوگ تیار ہوں اور 20لاکھ مسلمانوں کو بھی قتل کردیں تو یہ ہماری جیت ہوگی۔ پھر بے شک جیل چلے جاؤ‘‘۔
حکمران بی جے پی کا انتہا پسندانہ نظریہ، مسلمانوں سمیت تمام مذہبی اقلیتوں کے خلاف اشتعال انگیزی کا بڑا سبب ہے۔ بھارت میں مسلمانوں کے خلاف توہین وتضحیک اور مارپیٹ کی ایسی فضا پیدا کی جارہی ہے جس کا مقصد بالاآخر ان کی نسل کشی کے لیے میدان ہموار کرنا ہے۔ آئے روز بھارت میں مختلف حیلے بہانوں سے مسلمانوں پر زندگی عذاب بنانے کے واقعات سامنے آرہے ہیں۔ خاص طور پر مقبوضہ کشمیر میں ہندوؤں کو آباد کرکے مسلمانوں کو اقلیت بنانے کا پروگرام اس سلسلے کی کڑی ہے۔ اس کے ساتھ ہی غیرقانونی سرگرمیوں کے کالے قانون کے تحت بیرون ملک مقیم کشمیریوں کے خلاف مقدمات درج کئے جارہے ہیں۔ یہ انسانی حقوق کے دعویدار امریکہ اور دوسری بڑی طاقتوں سمیت بین الاقوامی برادری کا کڑا امتحان ہے کہ وہ بھارت میں مسلمانوں کی نسل کشی روکنے کے لیے فوری اقدامات کرے۔ یہ عجیب بات ہے کہ ایک طرف دنیا میں اسلامو فوبیا کا خوف پھیلا کر مسلمانوں کے لیے نت نئی مشکلات پیدا کی جارہی ہیں تو دوسری طرف بھارت میں مسلمانوں کے قتل عام کے منصوبوں کا کوئی نوٹس نہیں لیا جارہا۔ مودی حکومت کا یہ ایجنڈا پورے خطے میں امن کے لیے حقیقی خطرہ ہے جس کے سدباب کے لیے عالمی برادری کو فوری طور پراپنا کردار ادا کرنا چاہئے۔اقوام متحدہ کو اس معاملے پر جنرل اسمبلی کا خصوصی اجلاس بلانا چاہیے۔ مسلمانوں کی حفاظت کی ذمہ دار بھارتی حکومت ہے۔ عالمی برادری نے اس سنگین صورتحال کا فوری نوٹس نہ لیا تو نہ صرف اس ریجن بلکہ پوری دنیا کا امن خطرے میں پڑ سکتا ہے۔
ہندو انتہاء پسندوں کی نمائندہ حکمران بی جے پی کے وزیراعظم نریندر مودی سمیت تمام لیڈران کی جانب سے بھارت میں موجود مسلمانوں پر جو ظلم وبربریت جاری ہے وہ اس امر کا ثبوت ہے کہ بھارت کے ہندو لیڈران اپنے اکھنڈ بھارت کے ایجنڈہ کے مطابق بھارت کا سیکولر ریاست کا لیبل نوچ کر پھینک چکے ہیں۔ اور اسے ایک ایسے ہندو معاشرے کی جانب دھکیل رہے ہیں جس میں سوائے ہندوؤں کے ،کسی اور مذہب کے پیروکاروں کے زندہ رہنے کا امکان ہی ختم ہو جائے۔ ہندو انتہاء پسندوں کا یہ طرز عمل اس اٹل حقیقت کو آج بھی آشکارا کررہا ہے کہ دوقومی نظریے کی بنیاد پر تقسیم ہند اور تشکیل پاکستان کا راستہ خود انہی ہندو انتہاء پسندوں نے ہموار کیا تھا جنہوں نے غیرمنقسم ہندوستان میں مسلمانوں کا عرصہ حیات تنگ کرکے ،ان کی مذہبی آزادیاں سلب کرکے ،انہیں اقتصادی پسماندگی سے دوچار کرکے اور ’’گاؤماتا‘‘ کی خاطر مسلمانوں کا قتل عام کرکے انہیں اپنے لئے الگ وطن کا تقاضا کرنے پر خود مجبور کیا تھا ۔
بتوں اور گؤماتا کے پجاریوں کی سرزمین بھارت کے معروف شہر گجرات کے ریلوے اسٹیشن پر کچھ دیر کیلئے ٹھہرنے والی گاڑیوں کی بوگیوں کے سامنے ’’چائے گرم، چائے گرم‘‘ کی بلند آواز میں پھیری لگانے والا بابائے قوم مہاتما گاندھی کی قاتل راشٹریا سوام سیوک سنگھ میں شامل ہو کر اس کی ذیلی تنظیم بھارتیہ جنتا پارٹی کا کارکن اور بعدازاں اس کا رہنما بن کر جب گجرات کا وزیراعلیٰ بنا تو اس نے 2002 میں گجرات کے بے گناہ مسلمانوں کے خون سے ہولی کھیل کر متعصب ہندو اکثریت کی حمایت حاصل کی پھر اسی حمایت کے سہارے اور غریبوں کا خون چوسنے والے سور خور ساہو کاروں کی حرام کی کمائی سے 2013 میں بھارت کے الیکشن میں حصہ لیا۔ تو ان انتخابات میں سیکولرازم کے لبادھے سے جب ہندو ازم برآمد ہوا تو گجراتی مسلمانوں کا قاتل نریندر مودی بھارتی وزیراعظم بن گیا اس کے بعد سے دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کی سفاکی اور تنگ نظری پوری دنیا کے سامنے بے نقاب ہونا شروع ہو گئی ہے۔ بھارت میں جنونی ہندوؤں کی انتہا پسندی اپنے عروج کو پہنچ چکی ہے۔ نر یندر مودی کے دورہ اقتدار میں پڑوسی ملک میں ایسے کئی واقعات رونما ہوچکے ہیں جنہوں نے بھارتی جمہوریت کے گھناؤنے چہرے کو دنیا کے سامنے بے نقاب کر دیا ہے اور گؤ ماتا کے پجاری انتہا پسندوں نے سیکولرازم کے دعوؤں کی بھی قلعی کھول دی ہے۔بھارت کی موجودہ صورتحال کا تقاضہ ہے کہ اقوام متحدہ بھارت میں موجود اقلیتوں کو مکمل تحفظ فراہم کرے اور طھارت کو دہشت گرد ملک قراد دے۔

image_pdfimage_print
شیئرکریں