Voice of Asia News

نوازشریف سینسر ،سیف اعوان

موجودہ حکومتی جماعت تحریک انصاف کے اکثریت لوگوں کی تعداد احساس کمتری کا شکار ہے۔اس جماعت میں ایسے لوگوں کی بھی اکثریت ہے جو کسی اور مخالف سیاسی جماعت کے بندے کا لال منہ دیکھ کر اپنا منہ تھپڑ مار مار کر لال کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ایسا ہرگز نہیں ہے کہ تحریک انصاف میں سمجھدار اور جمہوریت پسند لوگ نہیں ہیں ۔وفاق اور پنجاب میں کچھ باشعور سمجھدار وزراء بھی موجود ہیں جو ہمیشہ تہذیب کے دائرہ کار میں رہ کر تنقید بھی کرتے ہیں اور اپنا نقطہ نظر بھی عوام کے سامنے رکھتے ہیں۔لیکن کچھ پیرا شوٹر قسم کے لوگ اصل تحریک انصاف کو سیاسی جماعت کی بجائے تھیٹر میں تبدیل کررہے ہیں۔ان میں وزیراعظم عمران خان کے معاون خصوصی سیاسی امور شہبازگل ،شہزاد اکبر اور پنجاب کے وزیر اطلاعات پنجاب فیاض چوہان سر فہرست ہیں۔شہباز گل کا ماضی تو میں بیاں نہیں کر سکتا کیونکہ اسلام آباد میں ایک صحافی نے ان کے ماضی کے متعلق سوال پوچھا تو موصوف نے جوابا کہا’’کیا آپ نے رشتہ دینا ہے‘‘؟۔شہبازگل جب پنجاب کے وزیراعلیٰ عثمان بزدار کے ترجمان تھے اس وقت انہوں نے پنجاب کے منتخب حکومتی رہنماؤں کے متعلق ایک بیان دیا کہ ’’جس کو عثمان بزدار کا چہرہ پسند نہیں ہے وہ تحریک انصاف چھوڑ دے‘‘لیکن شوموئی قسمت شہباز گل کو خود پنجاب چھوڑنا پڑگیا۔شہزاد اکبر خود تو معاون خصوصی ہ یں احتساب کے لیکن ان کا اپنا وفاقی وزیر میاں محمد سومرو کی زمین پر قبضہ کرنے پہنچ جاتا ہے اس قبضے کی واردات میں گاڑیاں بھی شہزاد اکبر کی استعمال ہوتی ہے جو ریاست کی ملکیت ہیں۔دوسری جانب فیاض چوہان جو پہلے نرگس اور میگھا کا حاجن بنانے جیسے بیانات دے چکے ہیں ۔ان کا اپنے بیٹے کے نمبر بڑھانے کا کارنامہ بھی بھی کسی سے پوشیدہ نہیں ہے۔اپوزیشن جماعتوں کی آؒ پارٹیز کانفرنس سے ایک روز قبل شہبازگل نے بیان دیا کہ نوازشریف کا خطاب کوئی ٹی وی چینل نہیں دیکھائے گا اگر کسی ٹی وی چینل نے نوازشریف کا اے پی سی سے خطاب دیکھایا تو اس ٹی وی چینل کیخلاف قانونی چارہ جوئی کی جائے گی اور پیمراء بھی اپنے اختیارات استعمال کرے گا۔یہ بیان اس وزیراعظم کا معاون خصوصی دے رہا ہے جو کہتا ہے کہ پاکستان کا میڈیا برطانیہ سے بھی زیادہ آزاد ہے۔پاکستان میں موجودہ دور میں جتنا میڈیا آزاد ہے اس کے متعلق مجھے بتانے کی ضرورت نہیں کیونکہ ہر باشعور آدمی باخوبی اس سے آگاہ ہے کہ کس طرح ریاست میڈیا کو کنٹرول کررہی ہے اور اپنی من پسند خبریں نشر کرواتی ہے۔اس کاعملی مظاہرہ تو پوری قوم نے گزشتہ دنوں معاون خصوصی عاصم سلیم باجوہ کی جائیدادوں کے متعلق ایک شائع ہونے والی خبر کو روکنے اور صرف تردید چلانے کی صورت میں دیکھ لیا تھا۔نوازشریف گزشتہ تین سالوں سے اقتدار سے الگ ہے لیکن نوازشریف نے آج تک عمران خان اور پارلیمنٹ کے متعلق غیر جمہوری اور غیر سنجیدہ الفاظ کا استعمال نہیں کیا لیکن اس کے باوجود حکومت نوازشریف کو میڈیا پر سینسر کررہی ہے کیااس کو جمہوریت کہا جا سکتا ہے؟
یکم نومبر 2013 سے 12 اگست 2014 تک پاکستانی ٹی وی چینلوں پر سینکڑوں خصوصی انٹرویو ہوئے اور ان دنوں پاکستان تحریک انصاف، پاکستانی عوامی تحریک اور عوامی مسلم لیگ شیخ رشیدکے ہی چھائے ہوئے نظر آئے۔12 اگست کے بعد تو جب ان رہنماؤں کا لاہور سے شروع ہونے والا مارچ اسلام آباد پہنچا ملک کے تقریباً تمام چینلوں کی توجہ مسلسل انہی رہنماؤں کی تقروں پر تھی۔ عمران خان اور ڈاکٹر طاہرالقادری نے دن میں ایک سے زیادہ بار اپنے حامیوں سے خطاب کیے جو سبھی چینلوں پر براہ راست نشر ہوئے ۔لانگ مارچ سے پہلے دس ماہ کی مدت میں پاکستان عوامی لیگ کے سربراہ شیخ رشید احمد کے مختلف نِجی ٹی وی چینلوں پر تقریباً 170 انٹرویو ہوئے۔ دوسرے نمبر پر عمران خان ہیں جنھیں تقریباً 75 بار انٹرویو کے لیے بلایا گیا اور پھر طاہر القادری کا نمبر آتا ہے جن کے تقریباً 60 انٹرویو کیے گئے۔ ان تین رہنماؤں کے کل انٹرویوز کی تعداد 300 سے بھی زیادہ بنتی ہے۔اس میں عمران خان،طاہر القادری ،چوہدری برادران اور شیخ رشید کی پریس کانفرنسز شامل نہیں ہیں ۔المختصر ایک سال تک پاکستانیوں نے ٹی وی پر زیادہ تر وقت حکومت کے خلاف، جمہوریت کے خلاف ’موجودہ سیاسی نظام‘ کے خلاف باتیں سنیں، دلائل سنے۔ یہاں ایک سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا یہ محض اتفاق تھا کہ تقریباً تمام ٹی وی چینل ان تینوں رہنماؤں کو اتنا وقت دینے پر متفق نظر آئے یا اس کے پیچھے کوئی سوچ کارفرما تھی؟آج ماسوائے طاہر القادری کے تینوں جماعتیں اقتدار میں ہیں اور نوازشریف کے دو سالوں میں پہلے خطاب کو میڈیا پر نشر ہونے سے روک رہی ہے۔عمران خان کو مشورے دینے والے لوگ ہی اس کے سب سے بڑے دشمن ہیں ۔پابندیاں ،نظر بندیاں ،جیلیں اور زبان بندی کبھی کسی کا نقطہ نظر عوام تک پہنچنے کا راستہ نہیں روک سکیں۔تاریخ گواہ ہے جس چیز کو جتنا زیادہ روکنے کی کوشش کی گئی ہے وہ اتنی ہی زیادہ تیزی سے عوام کے دلوں تک پہنچی ہے ۔آواز دبانے والے معاشرے کبھی جمہوریت پسند اور آزاد معاشرے تصور نہیں کیے جاتے ۔میڈیا قدغن،آزادی اظہا رائے پر پابندیاں اور لوگوں کی زبانیں بند کرانے سے حکومت کی کارکردگی بہتر ہو سکتی اورنہ عوام کے مسائل حل ہو سکتے ہیں بلکہ عملی اقتدامات سے ہی مسائل ہوتے ہیں ۔
(بلاگر ایک صحافی ہیں ،سیاسی اور سماجی ایشوز پر بلاگ بھی لکھتے ہیں)
saifawan60@gmail.com

image_pdfimage_print
شیئرکریں
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے