Voice of Asia News

یہ گاڑی کہاں تک ؟ کیسے چلے گی۔۔۔ محمد نوازطاہر

کرونا کی عالمی وبا سے سب سے کم شرح اموات والے صوبے بلوچستان کے سفر کا ارادہ کیا تو دماغ میں کئی تصویریں ، بہت سے مناظر، لکیریں ہمہ جہت تھیں کوئی مسکراتی تصویر اور کوئی محرومی کاسراپا ، تمام جہتوں کوملاتا تو پاکستان کا نقشہ ابھر آتا جس پر شہروں اورعلاقوں کے بجائے استحصال ، پسماندگی اور خوشحالی کے نشانات دھبوں کی طرح دکھائی دیتے۔
پاکستانی سٹیفن جونسنز شیخ رشید کی ایم ایل ون منصوبے میں خاص پنڈی وال انداز میں ایک آنکھ ہلکی سے بند کرکے خفیف سی مسکراہٹ ،کئی سوالوں کے زیرالتوا جواب بھی ساتھ ساتھ تھے ، شیخ رشید اب اسی کی دہائی والے نداز سے تھوڑا ہٹ چکے ہیں ، کبھی ان کا نشانہ بے نظیر بھٹو ہوا کرتی تھیں پھر ایسا ہوا کہ انہیں ماں بہن ، بیٹی کی عزت کا خیال آیااور انہوں ے اپنا رویہ کچھ بدل لیا ، اب وہ جس جماعت کے حریف ہیں اس جماعت کی خواتین انہیں بہت عزیز ہیں ، ہونا بھی چاہئیں ،وہ ہمیشہ بیگم کلثوم نواز کی تکریم اور مریم پر الفاظ کا دستِ شفقت ہی رکھتے ہیں لیکن بد ترین مخالفت کے باوجود بے نظیر بھٹو کا اتنا احترام ضرور کرنے لگے ہیں کہ ان کی سیاسی جدوجہد کو تسلیم کرتے ہیں اورمریم نواز کو بے نظیر بناکر پیش کرنے والوں کے خیالات کی تائید نہیں کرتے ، سارا فوکس ایم ایل ون پر ہے اور قوم کی رہنمائی کے لئے پیش گوئیوں کے فرائض انجام دے رہے ہیں ، انہیں ریلوے کی برانچ لائنیں بھول گئی ہیں۔ جب بھی بلوچستان کے سبی ہرنائی سکشن کی بات کرتے ہیں تو وہ جواب ادھورا دیتے ہیں ، میں نے یہ طے کیا کہ اب کے بار سبی ہرنائی سیکشن دیکھنے کے بعد شیخ رشید سے بات کریں گے کہ بھئی سٹیفنز جونسز بننا آسان نہیں ہے، اس سیکشن پر ریل کی’’ پاں پاں’’ تبھی ہوگی جب شیخ رشید کے پیارے اس کی سیکیورٹی کی حامی بھریں گے ، شائد معاوضے کامعاملہ زیرِ التوا ہے۔ ایک وجہ صوبائی اور مقامی حکومتیں بھی ہیں جنہوں نے اپنے اپنے علاقے میں بذریعہ کمشنر ، ڈپٹی کمشنر سیکیورٹی کی ذمہ داری لینی ہے ، یہ الگ بات کی بلوچستان میں بھی اسی جماعت کی حکومت ہے جس حکومت کے شیخ رشید وفاقی وزیر ہیں۔ شیخ رشید ریل کے مسافر ہیں اور اسے چلتا دیکھنا چاہتے ہیں اور ان کی خواہش ہے کہ لوگ انہیں خواجہ سعد رفیق کی طرح یاد رکھیں حالانکہ ان کے حصے میں خواجہ سعد رفیق سے زیادہ بڑے منصوبے آئے ہیں، معلوم نہیں ریل کی بیوروکریسی الگ خیالات کیوں رکھتی ہے اور شیخ رشید کی خواہش و کوشش کی تکمیل میں ہر پٹڑی پرریل گاڑیاں کیوں نہیں دوڑاتی ۔
ملے جلے خیالات کے ساتھ گھر سے نکلا تو حیرت ہوئی کہ جعفر ایکسپریس سوئی کی گھڑیوں کے ساتھ مقررہ وقت پر پلیٹ فارم
نمبر چار پر نمودار ہوئی اور بروقت روانہ بھی ہوئی ، اس سے بھی عجیب بات یہ کہ کوئٹہ پہنچنے تک صرف سوا گھنٹہ لیٹ تھی جس کی وجہ سیکیورٹی ایشوز ہیں کیونکہ جہاں پانچ منٹ رکنا تھا وہاں اٹھارہ منٹ رکی اور جہاں نہیں بھی رکنا تھا وہاں بھی پندرہ بیس منٹ رکی رہی۔وجہ وہی سیکیورٹی ، اور ریل کاعملہ بے بس کہ اضافی ٹائم ریل کے کھاتے میں کیوں پڑا ؟راستے بھر گو کہ لہلہاتی فصلیں بھی دیکھیں اور بارشوں سے مٹی بھی سبز دیکھی جس پر ہری ہری ٹہنیاں لہرارہی تھیں،د ور دور تک درخت بھی نئی صبح کی نوید تھے ، اس کے باوجود ایسا لگا کہ نوے سال پہلے والے برِ صغیر کے کسی علاقے میں آگیاہوں ، وہی ایشوز ، وہی معاملات ، وہی محرومیاں ،، نفرت اور غصے میں کمی نہ آنے کا عنصر نمایا دکھائی دیا ، ایسے ہی کوئٹہ پریس کلب کے ساتھ مسنگ پرسنز کے پورٹریٹس میں بھی اضافہ دیکھا ساتھ ہی شہدا صحافیوں کے پورٹریٹ میرا خیر مقدم کررہے تھے اور زیرلب مسکرارہے تھے ،مسکرانا تو میں اپنے آپ کو دھوکہ دینے کیلئے کہ رہا ہوں ، بنیای طور پر چڑا رہے تھے اور باور کروا رہے تھے کہ منافقت ، صحافت اور صحافتی تجارت میں تمیز کرکے جیو ، صحافت آزاد صحافت اور اظہارِ رائے کے مجاہد بنو ورنہ جا? کسی گندے نالے میں جاکر خود کشی کر لو ، میں ڈھٹائی کے ساتھ وہاں سے گذ رگیا۔ارشاد مستوئی شہیدکی آخری گفتگو کی بازگشت کا جواب دے رہا تھا جس کا مرکز بلوچستان میں تعلیم تھا۔ اب تعلیم کسی نہ کسی حد تک میسرہے لیکن ڈگریاں پیٹ نہیں بھرتیں بلکہ ان ڈگریوں کی پیدائش کے عمل نے تو بہت سے پیٹ نے خالی کیے ہوتے ہیں ، جس سے بھی با ت کرو یوں لگتا ہے جیسے تھر کے لوگ پانی مانگ رہے ہوں، لاہور کے عام لوگوں کی آبادی کے مکیں راجن پور جیے علاقوں کے باسیوں کی طرح صاف پانی اور بجلی کے منتظر ہوں ، کسان ٹیل پر پانی کو ترس رہا ہو، محنت کش اجرت ملنے کے انتظار میں ہو، کئی معصوم اور بھولے چہرے تو اس انتظار میں ہیں کہ ایسٹرن ناردرن کمپنی جسے ان دنوں سی پیک کے نام سے تمام دکھوں ، مسائل کا نجات دہندہ قراردر جارہا ہے ، اس کے منصوبوں میں ان کی ڈگریاں کام آئیں گی ، انہیں روزگار ملے گا؟ لیکن ابھی تو معاملہ الٹ ہے دکھائی دے رہا ہے کہ سی پیک میں شنید ہے کہ صرف چینی باشندوں کو روزگار ملے گا ، مکمل حکومت اور بااختیار اقتدار مقامی لوگ محکوم،۔۔۔ ان دنوں سب سے بڑا مسئلہ بلوچستان کے سمندر سے آبی وسائل کا استعمال ہے ، آبی حیات کا ہے جن کے بارے میں کہاجاتا ہے کہ چین وہ حاصل کررہا ، کتنی مقدارمیں کہاں جاتا ہے ؟ اس کا کسی کے پاس نہ ریکاڈ ہے اور نہ ہی کوئی پوچھ گچھ ، اگر کسی کے پاس ریکاڈ ہے بھی تو اس تک رسائی نہیں یا ظاہر نہیں کیا جارہا ہوسکتا ہے کہ اس کاابھی وقت نہ آیا لیکن اس سے بلوچستان میں بسنے والے ، اس مٹی کے اصل مالک بہت مضطرب ہیں ، یہ اضطراب بڑھتا جارہا ہے اور اس کے اظہار پر شک کی نگاہ ڈالی جارہی ہے یہی شک کل کو غداری بھی قرارپاسکتا ہے ، سوال کرنا اگر غداری ہے تو آزاد ریاست میں خاص طور پر مدینہ کی ریاست کے خواب دیکھنے والوں کے دور میں مجوزہ ریاستِ مدینہ کے باسیوں پر جو سخت گیر وقف اور رویہ ہوگا کیا وہ اس ریاست کے باسیوں کے لئے مناسب ہوگا ؟ ہم نے اب تک مدینے کی ریاست کی جو داستانیں سنی ہیں وہ تو پوری دنیا کے لئے زندہ جاوداں مثالیں ہی نہیں بلکہ اندازِ حکمرانی بھی ہیں، شہریوں کے حقوق کی ضامن ہیں ، بات کرتے ہوئے وگ ڈر رہے ہیں ، چلیں ریاستِ مدینہ میں جرات کرکے دیکھتے ہیں اور سوال دہراتے ہیں ، پھر دیکھتے ہیں کہ شمارمحبِ وطنوں میں رہتا ہے یا غداروں اور ملک دشمنوں کی فہرست میں ایک نام کا اضافہ ہوتا ہے ، اس سے پہلے بلوچستان کے بسنے والوں کو یہ اطمینان رکھنا ہوگاکہ صرف بلوچستان یا پنجاب ، کے پی کے ، سندھ ہی پاکستان نہیں ، سبھی مل کر پاکستان ہیں اور پاکستانی ہیں سوال کہیں سے بھی اٹھایا جاسکتا ہے کیونکہ یہ پاکستان ہمارا سب کا ہے ، اس میں وہی اصلی پاکستانی ہے جو اس کے لئے جتنا فکر مند اور بہتری ، ترقی ، خوشحالی کے کیلئے کمر بستہ ہے۔

reporter2reporter@gmail.com

image_pdfimage_print
شیئرکریں
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے