Voice of Asia News

پاکستان کی ترقی کا رازبلوچستان کی پائیدار ترقی و خوشحالی میں پوشیدہ ہے ,محمد قیصرچوہان

بلوچستان رقبے کے لحاظ سے پاکستان کا سب سے بڑا صوبہ ہے، اس کا رقبہ 347190 مربع کلو میٹر ہے جو پاکستان کے کل رقبے کا43.6فیصد حصہ بنتا ہے جبکہ اس کی آبادی 1998ء کی مردم شماری کے مطابق 65لا کھ 65ہزار885نفوس پر مشتمل تھی ۔ جو2020 میں ایک محتاط اندازے کے مطابق90لاکھ سے ایک کروڑ کے درمیان میں ہے۔ قدرتی وسائل سے مالا مال بلوچستان محل وقوع میں اہم ترین صوبہ ہے ۔ یو،این عالمی ادارے کے سروے کے مطابق بلوچستان دنیا کا سب سے پسماندہ اور غریب ترین علاقہ ہے۔ اس کے شمال میں افغانستان، صوبہ خیبر پختون خوا، جنوب میں بحیرہ عرب، مشرق میں سندھ اور پنجاب جبکہ مغرب میں ایران واقع ہے اس کی 832کلو میٹر سرحد ایران اور 1120کلو میٹر طویل سرحد افغانستان کے ساتھ ملی ہوئی ہے جبکہ 760کلو میٹر طویل ساحلی پٹی بھی بلوچستان میں ہے۔ بلوچستان پاکستان کا سب سے بڑا، سب سے پسماندہ، سب سے زیادہ نظر انداز کیا جانے والا، سب سے زیادہ قدرتی وسائل والا اور اسٹریٹجک اعتبار سے سب سے اہم ترین صوبہ ہے جبکہ سب سے زیادہ احساس محرومی بھی اسی کے حصے میں آیا ہے۔ قیامِ پاکستان سے اب تک برسر اقتدار آنے والی ہر حکومت دعویٰ کرتی رہی کہ اسے بلوچستان کے عوام کے احساسِ محرومی کا پوری طرح ادراک ہے اور وہ اسے ختم کرنے کیلئے تمام تر وسائل اور کوششیں بروئے کار لائے گی مگر عملی طور پر یہ دعوے زبانی جمع خرچ سے آگے نہ بڑھے جس کے نتیجے میں وہاں احساس محرومی ختم ہونے کے بجائے مزید بڑھا اور اس نے علیحدگی پسندی کی جڑوں کو مضبوط کیا۔ آج بیرونی دشمن قوتیں اس صورتحال کو اپنے اپنے مذموم مقاصد کیلئے استعمال کر رہی ہیں۔
پاکستان اور بلوچستان کی ترقی باہم لازم وملزوم ہے بلوچستان کی ترقی پاکستان سے جڑی ہوئی ہے کیونکہ بلوچستان کی ترقی سے پورا پاکستان ترقی کرے گا۔ دنیا کی معروف اور منفر د پورٹ گوادر اور ریکوڈک سونے کی کان سمیت لاتعداد قدرتی معدنیات کے ذخائر سرزمین بلوچستان میں پائے جاتے ہیں۔ ڈیموں اور شاہراہوں کی تعمیر، مغربی روٹ سی پیک،چین پاکستان اقتصادی راہداری، ژوب تا کچلاک روڈپر کام اور دیگر اہم منصوبے شامل ہیں۔ماضی میں بلوچستان میں ترقیاتی فنڈز شخصیات کی خواہشات کے مطابق خرچ کئے گئے۔عوامی مفادات اور ضرورتوں کو مدنظر رکھتے ہوئے کوئی بھی ترقیاتی کام نہیں کیا گیا۔ جس کی وجہ سے بلوچستان کے عوام نہ صرف بنیادی سہولیات سے محروم ہیں بلکہ ہزاروں کی تعداد میں نوجوان بے روزگار ہیں اور صورتحال یہ ہے کہ عوام سیاسی جماعتوں سے مایوس ہو گئے ہیں۔ویسے اگر دیکھا جائے تو پورے ملک کی سیاسی جماعتوں نے عوام کو مایوس کیا ہے۔ اپنے من پسند لوگوں کو ترقی اور روزگار ودیگر سہولیات مہیا کرکے باقی عوام کو سوائے مایوسی کے کچھ نہیں دیا۔ ہسپتالوں، دفاتر، تعلیمی انسٹی ٹیوٹ ودیگر جگہوں میں سوائے ہم خیال اوراپنے ورکروں کی سیاسی طور پرمد د کی اور عوام کا کوئی پرسان حال نہیں، ان کی کرپشن کے قصے بھی نمایاں ہیں۔ پانامہ لیکس اس کی ایک واضح مثال ہے۔ اس ساری صورتحال کا جائزہ لیا جائے تو پھر یہ کیسے کہا جا سکتا ہے کہ وطن عزیز میں معاشی وسماجی تبدیلی آئے گی۔تاہم بلوچستان میں تو ماضی میں ہونے والی ناانصافیوں اور کرپشن مافیا کے حوالے سے موجودہ وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال خان بھی کہتے ہیں کہ نظام کی تبدیلی آسان نہیں۔مگر یہ حقیقت بھی ہے کہ اچھی طرز حکمرانی کے ذریعے ہی نظام میں تبدیلی لائی جا سکتی ہے۔ مصنوعی اور دکھاوے کی سیاست نے وطن عزیز کو تباہ کر کے رکھ دیا ہے۔ اس میں دورائے نہیں کہ بلوچستان کی پسماندگی نمایاں طور پرعیاں ہے۔عوامی فنڈز کو ترقی کے بجائے جائیدادیں بنانے پر خرچ کیا گیا۔ ٹھیکے اور ملازمتیں پیسوں پر فروخت کی گئیں۔
بلوچستان پاکستان کے ان علاقوں میں سے ہے جسے سابق حکومتوں نے نظر انداز کیا۔ ملک کے مجموعی رقبے کا لگ بھگ نصف بلوچستان پر مشتمل ہے۔ اس وسیع و عریض صوبے کی پسماندگی کی متعدد وجوہات ہیں۔ سب سے بڑی اور پہلی وجہ یہاں سرداری نظام کی جڑیں مضبوط ہونا ہے۔ یہاں کے عوام کو معاشی اور سیاسی آزادیاں ملنے میں یہی سرداری نظام رکاوٹ ہے۔ لوگ سردار کی مرضی کے بغیر رشتہ کر سکتے ہیں نہ نقل مکانی۔ بچوں کو سکول بھیجنا ہو یا خواتین کی بہبود کا کوئی منصوبہ ہو سردار کی مرضی کے بنا اکثر علاقوں میں کچھ نہیں ہو سکتا۔ اس پر مستزاد یہ کہ وفاق کی طرف سے بلوچستان کی تعمیر و ترقی کیلئے جو فنڈز فراہم کئے جاتے رہے ہیں وہ سرداری نظام کے سرخیلوں کی لوٹ کھسوٹ کی نذر ہوتے رہے۔ مرکز نے جب کبھی ان سرداروں سے باز پرس کی کوشش کی تو گیس اور معدنیات کی رائیلٹی کے تنازعات کھڑے کر دیے گئے۔ حیران کن طور پر کچھ سردار ملک دشمن طاقتوں کے ہاتھوں میں کھیل رہے ہیں۔ ایسی رپورٹ ایک تسلسل کے ساتھ منظر عام پر آچکی ہیں جن میں بلوچستان کی سکیورٹی صورت حال خراب کرنے میں خطے کی بعض طاقتوں کا کردار ثابت ہوتا ہے۔ یہ طاقتیں اپنے حامی سرداروں کے ذریعے صوبے میں حالات خراب کرتی ہیں۔ بلوچستان کی اسی حساس صورت حال کے باعث اس صوبے کو صرف سویلین نظام سے چلانا ممکن نہیں۔ پاک فوج نے بلوچستان میں بدامنی کے شکار علاقوں میں سڑکیں تعمیر کیں۔ ہسپتال بنائے اور بچوں کی تعلیمی ضروریات کو مدنظر رکھ کر سکول تعمیر کئے۔ سپورٹس فیسٹیول سمیت سیلاب میں مدد ودیگر قدرتی آفتوں میں پاک فوج نے اپناکردار ادا کیا ہے۔ ملٹری کالج سوئی جیسا ادارہ بلوچستان میں قائم کرکے صوبے کے نوجوانوں کو پاک فوج میں آفیسررینک میں شمولیت کا موقع فراہم کیاگیا۔ مذکورہ کالج سے فارغ ہوکر بلوچستان کے اکثر نوجوان پاک فوج میں بطور افسر شامل ہو رہے ہیں۔چمالنگ کے تحت غریب پسماندہ علاقوں کے طالب علموں کو اسکالرشپ کے ذریعے مفت تعلیم دلانے کے مواقع پیدا کئے ۔اسی طرح فری میڈیکل کیمپس کا انعقاد بھی کیا گیا۔سی پیک پاکستان کی تعمیر اور اقتصادی ترقی کیلئے اہم منصوبہ ہے پاک فوج اس اقتصادی راہداری کی حفاظت کا فریضہ انجام دے رہی ہے۔ دوسری طرف خوشحال بلوچستان پروگرام کے منصوبے بھی فوجی جوانوں کی جدوجہد سے مکمل کئے جا رہے ہیں۔ سیاسی جماعتوں کیلئے ضروری ہے کہ وہ سرداری نظام کے شکنجوں سے بلوچستان کی عوام کو آزاد کرانے کیلئے اپنا کردار ادا کریں۔ اس طرح افواج پاکستان کی ذمہ داریوں میں بھی خاطر خواہ کمی لائی جا سکے گی۔ داخلی معاملات میں الجھنے سے سرحدی معاملات میں مسائل آسکتے ہیں۔ماضی میں حکومتوں نے بلوچستان کی محرومیوں کا ازالہ کرنے کی کوششیں ضرور کیں مگر یہ کوششیں پارٹی سسٹم مضبوط بنانے ،عام آدمی کی زندگی آسان بنانے اور قبائلی جکڑ بندیوں کو ڈھیلا کرنے کیلئے کارآمد ثابت نہ ہو سکیں۔ جب کبھی جمہوریت بحال ہوئی بلوچستان کے بعض سرداروں نے اپنی حمائت کے بدلے بڑی بڑی مراعات کا مطالبہ کر دیا۔ ان حکومتوں کی نااہلی یہ رہی کہ انہوں نے سرداری جبر کو فنڈز فراہم کر کے قبول کر لیا اور عام شہری ریاست سے شاکی ہوتے گئے۔ ان محروموں کو یہ باور کرانا بہت آسان تھا کہ وفاق ان کا حق غصب کر رہا ہے اور ان کے معدنیاتی خزانے ملک کے دوسرے علاقوں کی ترقی پر لٹائے جا رہے ہیں۔ سابق حکومتیں کبھی اس معاملے پر سنجیدہ نہیں ہوئیں جس کا نقصان ہمارے سیاسی نظام کی کمزوری کی صورت میں سامنے آتا ہے۔
بلوچستان کی محرومی کی ایک اہم وجہ نامناسب اور ناکافی ترقیاتی سرمایہ کاری ہے۔وزیراعظم عمران خان نے بلوچستان کو اہمیت دینے کیلئے وفاقی محکموں میں بلوچستان کے کوٹے چھ فیصد پر عمل درآمد کرنے کیلئے اقدامات اٹھائے ہیں، اس حوالے سے باقاعدہ وفاقی حکومت کی جانب سے نوٹیفکیشن بھی جاری کر دیا گیا ہے۔ ساتویں این ایف سی ایوارڈ میں حصہ دگنا ہوا۔تاہم وفاق اور صوبے کے درمیان روابط کو مزید مستحکم کرنے کی ضرورت ہے۔ دوسری جانب بلوچستان کے مسائل کی ایک بڑی وجہ یہ بھی رہی ہے کہ ماضی میں وفاقی حکومتوں نے صوبے کے امور پر کوئی خاص توجہ نہیں دی ہے جو وسائل فراہم کئے گئے وہ صرف آبادی کے تناسب سے دیئے گئے،ماہرین معاشیات کہتے ہیں کہ معاشی وسماجی ترقی ومعاشی استحکام کیلئے وفاق بھرپور معاونت فراہم کرے اور ماضی کی طرح محض یقین دہانیوں اور اعلانات سے صوبے کے عوام کو بہلانے کا وقت گزر چکا ہے۔ ماضی میں وفاقی حکومتوں نے رقبے کے لحاظ سے سب سے بڑے صوبے بلوچستان کے ساتھ ناانصافیاں روا رکھیں۔تاہم وفاقی منصوبوں میں بلوچستان کو زیادہ اہمیت دی جائے تواس کی کسی حد تک احساس محرومی میں کمی لائی جا سکتی ہے۔ کیونکہ بلوچستان کا بجٹ پہلے سے ہی خسارے میں جاتا ہے اور اس ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کیلئے اگر این ایف سی ایوارڈ کے حوالے سے وفاقی حکومت کردار ادا کرے تو بلوچستان حکومت مشکل وقت میں عوام کو ریلیف فراہم کرنے کیلئے بہترین طریقہ سے منصوبہ بندی کرسکتی ہے دوسری جانب وزیراعظم عمران خان نے وزیراعلیٰ بلو چستان جام کمال خان کو اس بات کا یقین دلایا ہے کہ تجویز کردہ نئے منصوبے وفاقی پی ایس ڈی پی کا حصہ ہوں گے۔ بلوچستان کی شکایات دور کی جارہی ہیں اور نظر انداز کئے گئے منصوبے آئندہ مالی سال کے بجٹ میں شامل کئے جا رہے ہیں۔وزیراعظم عمران خان بلوچستان میں خصوصی دلچسپی لیتے ہوئے وہاں تعلیم، صحت اور ترقیاتی کاموں پر بھرپور توجہ دینے کیلئے اقدامات اٹھارہے ہیں کیونکہ ماضی میں بلوچستان میں اتنے ترقیاتی کام نہیں ہوئے جتنا بلوچستان کو ضرورت تھی۔ تاہم اب صوبے میں ترقیاتی کاموں کا آغاز کر دیاگیا ہے،کوئٹہ شہر میں بھی ترقیاتی کام خاص کر مختلف علاقوں میں سڑکیں اور پکی نالیاں بنائی جارہی ہے۔ قبل ازیں اتنی تیز رفتاری سے کوئٹہ شہر میں سڑکوں کا کام نہیں ہوا جتنا کہ موجودہ حکومت میں ترقیاتی کاموں پر توجہ دی جارہی ہے،جیسا کہ کوسٹل ہائی وے سے ملحقہ ہنگلاج مندر لنک روڈ کی تعمیر کا پہلا فیز کامیابی سے مکمل ہو گیا ہے۔قبل ازیں گوادر ساحلی شاہراہ سے ملحقہ تاریخی ہنگلاج مندر کے 13 کلومیٹر لنک کی تعمیر کیلئے 120 ملین کی لاگت سے پراجیکٹ کی منظوری دی گئی۔واضح رہے کہ گوادر ساحلی شاہراہ پر تفریحی مقام کنڈ ملیر سے ملحقہ تاریخی ہنگلاج مندر میں سال بھر یاتری اور سیاحوں کی آمد کا سلسلہ جاری رہتا ہے،پاکستان میں رہنے والے اقلیتی برادری کو مکمل مذہبی آزادی اور بنیادی حقوق میسر ہیں۔ رقبے کے لحاظ سے بلوچستان پاکستان کے سب سے بڑا صوبے بلوچستان کا موازنہ دیگر صوبوں کی تعلیم سے کیا جائے تو بلوچستان کی شرح خواندگی بہت کم ہے، اس کی وجہ غربت بتائی جاتی ہے۔حالیہ کورونا کی وباکے آنے کے بعد ملک بھر کی طرح بلوچستان میں تعلیمی ادارے بند ہیں، جس کے باعث اس صورتحال سے بلوچستان کے طالب علم بھی متاثر ہوئے ہیں۔ بلوچستان میں جہاں تک سول اداروں کا تعلیمی حوالے سے بھرپور تعاون رہا ہے، وہاں کیڈٹ کالجز اور بلوچستان میں ایک ملٹری کالج سوئی کا کردار بھی تعلیمی میدان میں نمایاں ہے بلوچستان کے علاوہ ملک کے دیگر علاقوں میں بھی بلوچستان کے طلبائزیر تعلیم ہیں۔ اسلام آباد، لاہور، کراچی میں بلوچستان کے طلباؤطالبات بڑی اکثریت میں تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔تعلیم نہ صرف ہر قسم کی ترقی کی بنیاد ہے بلکہ ایک قومی احساس ذمہ داری کا نام بھی ہے۔ دونوں صورتوں میں اساتذہ کرام کے کلیدی کردار کو نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔ قوموں کا روشن مستقبل براہ راست تعلیم اور تعلیمی اداروں سے وابستہ ہوتا ہے۔توجہ اور شعوری کاوشوں سے بلوچستان کے اعلیٰ تعلیمی اداروں میں صحت مند تعلیمی ماحول کو فروغ ملا۔ اس ضمن میں یونیورسٹیوں کے اساتذہ کرام اور سٹوڈنٹس کو تمام ضروری سہولیات فراہم کرنا اور ان کی مشکلات کو ترجیحی بنیادوں پر حل کرنا چاہیے۔ معاشرے کے تمام روشن فکر حضرات اس حوالے سے آگے آئیں اور سماج میں بردباری، اختلاف رائے کا احترام اور جمہوری رویوں کے فروغ کیلئے اپنا بھرپور کردار اداکریں۔
وزیر اعلیٰ بلوچستان جام کمال خان کی قیادت میں صوبے بھر میں
ترقیاتی منصوبوں کا جال بچھانے کا سلسلہ جاری ہے، جو خطے میں گیم چینجر ثابت ہوسکتے ہیں۔ 1050 کلومیٹر طویل ساحلی پٹی پر چھ سپورٹس کمپلیکس سمیت کئی منصوبے زیر تکمیل ہیں۔ماسٹر پلاننگ آف بلوچستان کوسٹ لائن کا تخمینہ 150 ملین ہے، ماحولیات کے شعبے میں بھاری سرمایہ کاری کی جارہی ہے ان پراجیکٹس میں ایک، ایک ہزار ملین کی لاگت سے 7 ٹورسٹ ریزورٹس، کوسٹل ہائی وے پر دس ریسٹ ایریاز کی تعمیر اور سیاحت اور ماہی گیری کے لیے آٹھ فلوٹنگ جیٹی کی تعمیر شامل ہے۔دو سو پچاس ملین کی لاگت سے پانچ بیج پارکس، دو سو ملین سے آٹھ فشنگ سائٹس کی تعمیر، پانچ سو ملین کا بلوچستان گرین بوٹ پراجیکٹ اور ویسل مانیٹرنگ سسٹم بھی ان منصوبوں کا حصہ ہے ۔گوادر میں سن سیٹ پارک، کنڈ ملیر میں 22 بستروں کا ٹورسٹ ریسٹ ہاؤس اور جنگلات اُگانے کے میدان میں بھی تیزی سے کام جاری ہے۔بلوچستان حکومت کے یہ میگا پراجیکٹس صوبہ کو ترقی میں کلیدی حیثیت کے حامل ہیں اور پاکستان دشمن قوتوں کے پروپیگنڈے کو سختی سے رد کرتے ہیں۔تجزیہ کاروں کے مطابق ان منصوبوں کی تکمیل کے بعد بلوچستان کا ساحلی پٹی کا شمار خطے کی اہم ترین معاشی گزر گاہ میں ہوگا۔
گزشتہ دنوں وزیرِ اعظم عمران خان کی زیر صدارت صوبہ بلوچستان میں جاری اور مستقبل کے ترقیاتی منصوبوں پر پیشرفت کے حوالے سے اقدامات کا جائزہ اجلاس ہومنعقد ہوا تھا جس میں وفاقی وزیر برائے دفاعی پیداوار زبیدہ جلال، وفاقی وزیر برائے اطلاعات سینیٹر شبلی فراز، وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی اسد عمر، ڈپٹی اسپیکر قومی اسمبلی قاسم خان سوری، وزیر اعلی بلوچستان جام کمال خان، صوبائی وزرا ، چیئرمین این ڈی ایم اے لیفٹیننٹ جنرل محمد افضل، چیف سیکرٹری بلوچستان اور سینئر افسران نے شرکت کی تھی۔اس اجلاس میں بلوچستان میں جاری اور مستقبل کے ترقیاتی منصوبوں کے حوالے سے شرکا کو آگاہ کیا گیا کہ وزیراعظم عمران خان کے بلوچستان کی ترقی کے ویژن کی روشنی میں ترقیاتی منصوبوں کے حوالے سے 24 نئے قوانین جبکہ 11 قوانین میں تبدیلی لائی جا رہی ہے۔ 2019 میں 2550 کلومیٹر طویل سڑکوں کی تکمیل کی گئی۔ توانائی کے نئے منصوبے، انڈسٹریل اسٹیٹس کا قیام، نئے کالجز اور سپورٹس کمپلیکس کی تعمیر، کینسر ہسپتال کا قیام، زراعت کے مختلف منصوبوں کیلئے فنڈز کی فراہمی، گوادر سمارٹ سٹی، 5 ساحلی پارکس کی تکمیل اور پٹ فیڈر کینال پر18 ڈیموں کی تعمیر کے حوالے سے اقدامات پر اجلاس کو آگاہ کیا گیا۔ اس کے علاوہ عوام کا معیار زندگی بہتر بنانے، سیاحت کے حوالے سے ماسٹر پلاننگ، پینے کے پانی کی فراہمی اور کوئٹہ شہر میں انفراسٹرکچر کی ترقی کے حوالے سے بھی شرکا کو آگاہ کا گیا۔کوئٹہ چمن روڈ کو دو رویہ کرنے کے منصوبے، کچی کینال فیز 2 اور فیز 3 کے مجوزہ منصوبوں کے حوالے سے بھی اجلاس کو بریف کیا گیا۔ وزیراعظم نے ڈیموں میں پانی کی تسلی بخش صورتحال پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ صوبے میں نئے ڈیموں کی تعمیر سے زرعی شعبے میں ترقی کے بے پناہ امکانات روشن ہو سکتے ہیں۔ وزیراعظم عمران خان نے کچی کینال کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا تھاکہ پانی کے مسئلے کی وجہ سے کچی کینال صوبے کی ترقی کے لئے انتہائی اہمیت کی حامل ہے۔وزیراعظم نے بلوچستان میں ترقیاتی منصوبوں کی ترجیحات مرتب کرنے اور ان منصوبوں کو ترجیح دینے کی ہدایت کی جن سے ویلتھ کری ایشن ہو، روزگار کے مواقع پیدا ہوں اور پسماندہ علاقے ترقی کر سکیں۔ وزیراعظم نے اس ضمن میں وفاقی حکومت کی جانب سے بھرپور معاونت کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کی پی ایس ڈی پی میں جتنے فنڈز بلوچستان کیلئے مختص کئے گئے ہیں اور کسی صوبے کیلئے مختص نہیں کئے گئے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان تحریک انصاف کی حکومت پسے ہوئے طبقات کی فلاح اور پسماندہ علاقوں کی ترقی و خوشحالی کے ایجنڈے کی تکمیل کی طرف گامزن ہے۔
گزشتہ دنوں وزیر اعظم عمران خان نے بلوچستان میں نیا بلدیاتی نظام لانے کی بات کی تھی۔ اس بلدیاتی نظام کی شکل و صورت خیبر پختونخواہ میں موجود نظام سے مماثل ہو سکتی ہے۔ جس میں زیادہ تر ترقیاتی منصوبوں کی ذمہ داری اور اختیار بلدیاتی اداروں کے پاس رہتا ہے۔ اختیارات نچلی سطح پر منتقل ہو جائیں تو شہری اپنے ترقیاتی مسائل کیلئے برسہا برس انتظار کرنے کی زحمت سے بچ جاتے ہیں۔ ان کے بلدیاتی نمائندے ان کی رسائی میں ہوتے ہیں۔یہاں اس امر پر بھی ضرور بات کی جانی چاہیے کہ بلوچستان میں زرعی و صنعتی شعبے کو فعال بنایا جائے۔ اب تک بلوچستان کو معدنیاتی وسائل کے حوالے سے اہمیت دی جاتی رہی ہے مگر اس قدر وسیع علاقہ کئی لحاظ سے اپنی ضروریات پوری کرنے میں خودکفیل ثابت ہو سکتا ہے۔ صوبائی حکومت کو چاہیے کہ وہ پھلوں‘ سبزیوں اور اناج کے ساتھ ساتھ جنگلات اور آبپاشی کے منصوبوں پر فوری توجہ دے۔ دستکاریوں اور چھوٹی صنعتوں کے فروغ کے سلسلے میں سمیڈا جیسے اداروں سے تعاون حاصل کیا جا سکتا ہے۔ اس طرح بلوچستان کے عوام معاشی آزادی حاصل کر سکیں گے جو ان کی سیاسی آزادی کی ضمانت دے گی اور سرداری نظام کے جوڑ ڈھیلے ہو سکیں گے۔ سی پیک کی وجہ سے پاکستان کی نئی سفارتی اہمیت سامنے آئی ہے اس لیے اس منصوبے کو کسی ایک پہلو سے نہیں دیکھا جا سکتا۔ سی پیک پاکستان اور چین کے مابین آئندہ تعلقات کی ابتدائی شکل ہے۔ اگر ان منصوبوں میں ایک دوسرے کے شراکت دار کچھ امور پر متفق نہیں تو ان اختلافی چیزوں پر دوبارہ سے بات کرنا غلط نہیں ہو گا۔ مستقبل کے تعلقات کو بچانے کیلئے ان منصوبوں میں غیر شفافیت کا عنصر نکالنا ہو گا۔

qaiserchohan81@gmail.com

image_pdfimage_print
شیئرکریں
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے