Voice of Asia News

پی ایف یو جے کا نوحہ محمد نوازطاہر

 
پاکستان کے صحافیوں کی نمائندہ تنظیم جب بھی گلوبل پِنڈ میں زیرِ بحث آئی صورتحال تشویشناک اور افسوسناک ہی سامنے آئی ہے۔ پڑھے لکھے ، داشور اور رہبر کہلانے والے طبقے کی نمائندہ تنظیم جن حالات سے گذری ،گذر رہی ہے اور ’’جوانیاں ماننے ‘ کی پختہ عمر میں بچوں سی ضد اور انا کے باعث قبرستان کی طرف بڑھ رہی ہے، یہ بدقسمی نہیں تو اور کیا ہے ؟ یہ اس تنظیم کو تباہ کرنے کی میڈیا مالکان کے خوابوں کی ہمارے اپنے کے ہاتھوں تعبیر نہیں تو اسے اور کیا کہا جائے گا ؟ مجھے زیادہ پرانی تاریخ کی بات نہیں کرنی جس کی تصدیق کے لئے کسی پر انحصار کرنا پڑے لیکن ایک جونیئر سے کارکن کی حیثیت سے پچھلے چھتیس سال تو میری آنکھوں کے سامنے ہیں اور میں خود ان برسوں میں ہونے والی سرگرمیاں کا عینی شاہد ہوں ۔ مجھے آج بھی نوائے وقت کے مدیراعلیٰ مجید نظامی( مرحوم ) کی وہ’ تیوڑی نہیں بولتی جو وہ گردن کو خم دیتے ہوئے دکھاتے تھے اور کہا کرتے تھے یونین کیاا ہوتی ہے ، ہم نہیں مانتے ، وج ایوارڈ وغیرہ بھول جاؤ ، شیخ رشید جب اطلاعات کے وزیر بنے تو وہ مجھے یہی باور کرواتے رہے کہ پی ایف یو جے پر مالکان قبضہ کرچکے ہیں اور حکومت کبھی بھی مالکان کی خواہش کے برعکس کوئی ایکشن لینے کا ’ پنگا‘ نہیں لے گی ،وہ مجھے دیکھتے ہی کہا کرتے تھے آؤ مسٹر ویج ایوارڈ باقی باتیں چھوڑو، ویج ایوارڈ کا تذمرہ بھی رہنے دو بس غمہلکا کرو، ان کییہ الفاظ کلیجہ چیر جاتے تھے اور میں جواباً ایک ہی جملہ ادا کیا کرتا تھا کہ آپ کے منہ میں نظامی زبان ہے کبھی مقامی زبان بھی استعمال کریں ، وہ بُرا نہیں مناتے تھے اورکہا کرتے تھے کہ تمنوجوان ہو خون کی گرمی کو ذرا فریج کاراستہ دکھاؤ اور روٹی ٹُکر کماؤ، بعد میں الفاظ بدل کر محمدعلی درانی بھی یہی سمجھانے کی کوشش کرتے رہے اور اس وقتتوویسے ہی انتہا ہوگئی تھی جب قمرالزمان کائرہ کو لاہور میں ریڈیو اسٹیشن پر روک بات کی تو وہ بھی بولے بھائی صاحب ، آپ کس ویج ایوارڈ اور حقوق کی بات کرتے ہیں آپ کی قیادت تو تحریری طورپر لکھ کر دے چکی ہے کہ ویج ایوارڈ مل چکا ہے تو ہم ویج ایوارڈ نہ دینے والوں کے اشتہار کس طرح بند کریں ؟ آپ کے اپنے لوگ بِکے ہوئے ہیں ، شیری رحمان اور جاوید جبار کی وزارتِ اطلاعات اور اعجاز الحق و مختاراعوان کی وازارتِ محنت کے دور میں البتہ کچھ سرگرمیاں ہوئیں، ان میں خورشید شاہ کیوزارتِ محنت کا بھی کچھ کردار ہے ،ان ایام میں اتفاق سے وہ لگ تبظیم کی قیادت نہیں کررہے تھے جن پر انگلی اٹھائی جائے۔
بدقسمتی یہ بھی ہے کہ تنظیم کی تباہی میں اس تنظیم کے بانی دو یونٹ لاہور اورکراچی آلہ کار بنے جبکہ سازرش کراچی میں تیار ، عملی شکل اسلام آباد میں دی گئی ، تنظیم کی تباہی میں تاخیر اس لئے بھی توقع کے برعکس ہوئے کہ اے پی این ایس کے انتخابی دھڑے پوری طرح متحد نہیں تھے اور جب متحد ہوئے تو پھر کارکن چلتی ٹرین کی ہوا سے اڑنے والے تنکوں کی طرح بکھرتے گئے ۔ضیا ء آمریت میں یونین کی تقسیم کے بعد جب جمہوریت بحال ہوئی تو تقسیم شدہ یونین کو متحد کرنے کی کشش بھی کی گئی ، یہ بات چیت سے آگے نہ بڑھ سکی اور پھر ایک اور آمر کے دور میں اسے توڑنے کی کوششیں شروع کی گئیں جو آمر کے جانے کے بعد پایہ تکمیل تک کراچی میں پہنچیں ، اس سے پہلے سنہ دو ہزار پانچ میں ( جبکہ میں سینئر نائب صدر تھا) بلوچستان نے احتجاجاً بائیکاٹ کردیا ، اس کا جواز سو فیصد درست اور بائیکاٹ ختم کرانے کی کوشش بھی سینٹ پرسینٹ دیانتدارانہ تھی لیکن جنہیں زمہ داری سونپی گئی تھی وہ ایک قدم آگے نہ بڑھا سکے یوں یہ تنظیم خیبر میل ایکسپریس بن گئی جو پشاور سے چلتی اور راولپنڈی و لاہور میں سٹاپ کرتی کراچی پہنچ جاتی ، اس کے روٹ میں یہی تین صوبے تھے ، بلوچستان نہیں تھا حالانکہ اسے جعفر ایکسپرایس بننا چاہئے تھا جو چاروں صوبوں سے گذر کر منزل پر پہنچتی ہے ۔ لیکن بلوچستان کو ناراض رکھا گیا بعد میں ناراضگی ختم نہ کرنے والوں ہی کے اقدامات کراچی میں یونین کی تقسیم کا باعث بنے ۔ پھر سے تنظیم کو متحد کرنے کیکوشش ہوئی تو اسے سبوتاژ کردیا گیا ۔ اس سے مالکا نے بھر پور فائدہ اٹھایا ار یونین پھر یونین سے این جی او بنتی گئی ،کارکنوں کے حقوق پیچھے ہوتے گئے اور مالکان کے حقوق کا تحفظ ترجیح بنتا گیا،ایپنک کے چیئرمین کے انتقال کے بعد تنظیم کے سیکرٹری جنرل کی معاونت سے بوگس ایپنک بنوائی گئی ، ملکی سطح پر آئین اور قانون و بنیای حقوق کی آواز بلند کی گئیتو تنظیم کے اندر اس کی نفی کی گئی اور اب وہی ہوا جس کا اندیشہ تھا ، کراچی یونین آف جرنلسٹس ( کے یو جے) میں اائنی امور پر اختلاف رائے کی بنا پر ایک گروپ نے بائیکاٹ کردیا ہے اور آئندہ دنوں میں یہی صورتحال پی یو جے میں بھی پیش ٓتی دکھائی دیتی ہے ، فیصل آباد میں بھی ووٹر لسٹ پر تنازع ختم نہیں ہوا ۔ دیگر یونٹوں ( ماسوائے بلوچستان یونین آف جرنلسٹس ( بی یوجے) کی ووٹرز لسٹیں بھی توجہ طلب ہیں مجموعی طور پرتنظیم کے مجموعی طور پرتنظیمی امور مکمل طور پر نظر انداز کیے گئے ہیں اور خدا نخواستہ یہ یونین مزید ٹوٹتی اور بکھرتی ہوئی دکھائی دے رہی ہے۔ المیہ یہ ہے کہ یونین کی قیادت ار مستقبل میں قیادت سنبھالنے کا خواب دیکھنے والے سبھی اس ٹوٹ پھوٹ کو اپنے لئے تر نوالہ محسوس کررہے ہیں اور ان کے اندر شادیانے بج رہے ہیں جبکہ یونین مخالف میڈیا مالکان بھنگڑے ڈال رہے ہیں ۔ معلوم نہیں کہ اپنے اندر آئین اور قانون و بنیادی حقوق کی نفی کرنے والے دانشوروں اور رہبروں کو عوام کب تک مزید برداشت کریں گے اور کب انہیں گریبان سے پکڑ لیں گے لیکن یہ نوشتہ دیوار ضرور ہے ۔ دیوار پر یہ تحریر لکھنے والے یہ بات ذہن میں ضروررکھ لیں کہ اس کھودے ہوئے گڑھے میں وہ بھی ایک روز ضرر گرنے والے ہیں اور وہ دن زیادہ دوربھی نہیں ۔۔۔۔۔۔
reporter2reporter@gmail.com

image_pdfimage_print
شیئرکریں