Voice of Asia News

پاکستان دہشت گردوں کے نشانے: محمد قیصر چوہان

پاکستان ایک بار پھر دہشت گردوں کے نشانے پر آگیاہے ۔ گزشتہ کچھ دنوں سے دہشت گردی کی وارداتوں میں تسلسل آ گیا ہے، چند دن پہلے اسلام آباد میں دہشت گردی کے واقع میں ایک پولیس اہلکار ہلاک ہواتھا۔اسلام آباد، پشاور اور کوئٹہ کے بعد لاہور کے معروف اور مصروف تاریخی بازار انار کلی میں دھماکے سے تین افراد جاں بحق اور 29 زخمی ہو گئے ۔ دھماکہ کی آواز سے پورا علاقہ لرز گیا اور وہاں آگ کے شعلے بلند ہونے لگے، ڈیڑھ فٹ گہرا گڑھا پڑ گیا،دہشت گردی کی اس اندوہناک واردات میں ایک عمارت منہدم ہو گئی جب کہ بہت سی عمارتوں کے شیشے ٹوٹ گئے، متعدد اسٹال اور آٹھ موٹر سائیکل بھی تباہ ہو گئے۔فرانزک ذرائع کے مطابق دھماکہ ٹائم ڈیوائس سے کیا گیا جس میں ڈیڑھ کلو بارودی مواد استعمال ہوا۔ بعض مشکوک افراد کی گرفتاری بھی عمل میں آئی ہے۔ سی ٹی ڈی بم ڈسپوزل سکواڈ اور دیگر تحقیقاتی ایجنسیوں کے اہل کاروں نے موقع سے بعض شواہد اکٹھے کئے ہیں ایک فوٹیج میں دیکھا جا سکتا ہے کہ ایک شخص موٹر سائیکل کے نیچے دھماکہ خیز مواد رکھ رہا ہے۔انارکلی لاہور کے دھماکہ کی ذمہ داری ٹی ٹی پی نے نہیں بلکہ بلوچ نیشنل آرمی نے قبول کی ہے ،بلوچ نیشنل آرمی کی پشت پناہی بھارت کر رہا ہے۔پاکستان میں دہشت گردی کی نئی لہر کے پیچھے بھارتی خفیہ ایجنسی ’’ را‘‘ کا ہاتھ ہے۔ ملک میں گزشتہ دنوں کے دوران جو سات حملے ہوئے اوران کی ذمہ داری تحریک طالبان پاکستان قبول کر چکی ہے وزیر داخلہ شیخ رشید احمد کے مطابق پولیس اور دوسرے ادارے اسلام آباد واقعہ کے ملزمان تک پہنچ گئے ہیں، ان کے دونوں دہشت گرد مارے گئے ہیں اور کالعدم ٹی ٹی پی نے اسے تسلیم کیا ہے جسے یہ غلط فہمی ہے کہ افغان طالبان ان کی پشت پر ہیں تاہم وہ اپنے ملک اور خطے میں امن پر یقین رکھتے ہیں اور ان کی بہت اچھی کوشش ہے کہ ٹی ٹی پی اور حکومت پاکستان کے درمیان معاملات طے پا جائیں۔
کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے ساتھ حکومت کا جنگ بندی کا ایک ماہ کی مدت کی بنیاد پر معاہدہ ہوا تھا اسے طالبان نے خود ہی توڑا اور ملک گیر سطح پر پھر سے دہشت گردی شروع کر دی اس ضمن میں حکومت نے پانچ بڑے شہروں میں ریڈ الرٹ جاری کیاہے جو صورتحال کا ناگزیرتقاضا ہے۔ حالیہ لہر جس نے پورے ملک کے عوام کو تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔2021 میں2020سے زیادہ دہشت گردی کے واقعات ہوئے بلکہ 2022کی شروعات ہی گزشتہ برس کے انہی دنوں کے مقابلے میں زیادہ شدت کے ساتھ ہوئی ہے جس طرح لاہور انار کلی بازار میں ہونے والے دھماکے کی ذمہ داری ایک نئی منظر عام پر آنے والی تنظیم نے قبول کی ہے بلوچستان میں بھارتی خفیہ اداروں کے اشاروں پر پہلے ہی بعض تنظیمیں سرگرم ہیں اس سارے تناظر میں تمام دہشت گرد تنظیموں کا آپس میں مربوط ہونا کسی طرح بھی خارج ازامکان قرار نہیں دیا جا سکتا تاہم قومی عسکری ادارے ساری صورتحال پر گہری نظر رکھتے ہیں اور حکومتی رٹ قائم رکھنے کیلئے آپریشن ضرب عضب اور ردالفساد کی کامیابی کے بعدتیسرااور فیصلہ کن آپریشن بھی کیا جاسکتا ہے۔ اس ضمن میں متعلقہ سول اداروں کو اپنی مکمل تکنیکی مہارت کے ساتھ ہمہ وقت چوکس رہنا ہو گا۔اس ضمن میں عوامی مقامات، خصوصاً ٹرانسپورٹ اڈوں، تعلیمی اداروں، کورٹ کچہریوں، ہسپتالوں وغیرہ میں سکیورٹی انتظامات پر نظر ثانی کرنا بھی ضروری ہوگا۔
انار کلی بازار میں ہونے والے بم دھماکے کے بعد وزیر اعلیٰ پنجاب نے حسب روایت اعلان کیا ہے کہ دہشت گردی کے ذمے دار قانون کی گرفت سے بچ نہیں پائیں گے اور انہیں ہر صورت کیفر کردار کو پہنچایا جائے گا ان کے یہ دعوے کس حد تک درست ثابت ہوتے ہیں یہ تو آنے والا وقت ہی بتائے گا تاہم وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید احمد نے انار کلی دھماکے کی کارروائی پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ کالعدم ٹی ٹی پی سے جنگ بندی ختم کی جا چکی ہے اور وہ پاکستان کے مختلف شہروں میں اس قسم کے واقعات کر سکتے ہیں لیکن ہم ان کی کارروائیوں کا موثر سد باب کریں گے اور انہیں انجام کو پہنچائیں گے وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید احمد نے مزید کہا کہ نے مزید کہا کہ دہشت گردی کا خطرہ تھا اس لیے پانچ شہروں میں ریڈ الرٹ دیا گیا تھا اب لاہور، کراچی، پشاور، کوئٹہ اور اسلام آباد کی سیکیورٹی بڑھادی گئی ہے۔ وزیر داخلہ شیخ رشید احمد نے لاہور اور دیگر شہروں میں ہونے والی دہشت گردی کی وارداتوں کا تعلق کالعدم ٹی ٹی پی سے جوڑا ہے عین ممکن ہے ان کا خدشہ درست ہو تاہم ہمیں اس امر کو فراموش نہیں کرنا چاہیے کہ ٹی ٹی پی کے علاوہ بھی بہت سی قوتیں ایسی ہیں جنہیں پاکستان میں امن و امان کی بہتر صورت حال ایک آنکھ نہیں بھاتی اور ان کی ہمیشہ یہی کوشش ہوتی ہے کہ پاکستان میں تخریب کاری اور دہشت گردی کی کارروائیوں کے ذریعے یہاں کے عوام کو خوفزدہ اورقانون نافذ کرنے والے اداروں کو الجھائے رکھا جائے اور جس طرح بھی ممکن ہو پاکستان میں افراتفری۔ مایوسی اور بے یقینی کی فضا کو پروان چڑھایا جائے اس لیے اس امر کی شدید ضرورت ہے کہ لاہور اور دیگر شہروں میں دہشت گردی کی تازہ لہر کی تحقیق و تفتیش کے دوران ایسے عناصر کے عزائم کو بھی پیش نظر رکھا جائے خاص طور پر ان حالات میں اس کی ضرورت مزید بڑھ جاتی ہے ۔
یہاں یہ بات بھی فراموش نہیں کی جانا چاہئے کہ افغانستان سے امریکہ کی ذلت آمیز شکست اور پسپائی کے باعث بھارت جیسے پاکستان کے ازلی دشمن کے مفادات کو جو شدید نقصان پہنچا ہے اور اس کے عزائم جس بری طرح مجروح ہوئے ہیں اس کے سبب اس کے سینے پر سانپ لوٹ رہے ہیں چنانچہ وہ ایک زخمی سانپ کی طرح پاکستان کے خلاف کسی بھی حد تک جانے سے گریز نہیں کرے گا اور یہ محض مفروضہ یا بدگمانی نہیں بلکہ بھارت کا گزشتہ پون صدی کا کردار اس ضمن میں ٹھوس دلیل کی حیثیت رکھتا ہے کہ اس نے پاکستان کو نقصان پہنچانے کا کوئی موقع کبھی ہاتھ سے جانے نہیں دیا اور کلبھوشن یادیو کی گرفتاری کے بعد تو بھارت سے متعلق نرم گوشہ اور اس سے کسی نیکی کی توقع رکھنے کی قطعاً کوئی گنجائش باقی نہیں رہی۔ جہاں تک ٹی ٹی پی کا تعلق ہے تو یہ بات سمجھ سے بالاتر ہے کہ اگر امریکہ بیس برس تک افغانستان میں ہر طرح کا جدید ترین اسلحہ آزمانے اور گھٹیا سے گھٹیا حربہ اختیار کرنے کے باوجود آخر کار طالبان سے مذاکرات کے ذریعے افغانستان سے اپنی فوجوں کے بحفاظت انخلا کے معاہدہ میں کوئی شرم و عار محسوس نہیں کرتا تو ہمیں آخر اپنے ہی بعض ناراض یا راہ گم کردہ عناصر سے مذاکرات کر کے انہیں ملک کے آئین کے تابع پر امن زندگی بسر کرنے کا موقع دینے، وطن عزیز میں امن کی فضا بہتر بنانے اور عوام کو محفوظ ماحول میں زندگی گزارنے کے قابل بنانے میں کیا امر مانع ہے؟ قبل ازیں ہم بلوچستان کے علیحدگی پسندوں اور دہشت گردی و تخریب کاری کی سنگین کارروائیوں میں ملوث مختلف تنظیموں سے وابستہ عناصر کے لیے معافی اور ہتھیار ڈال کر معمول کی زندگی گزارنے کا موقع دے چکے ہیں تو آخر ٹی ٹی پی کے ساتھ اس کے برعکس طرز عمل کا جواز کیا ہے؟ خاص طور پر ٹی ٹی پی سے تین ماہ کے جنگ بندی کے معاہدہ کے بعد اس کی تجدید نہ کرنے کی وجوہ بھی سمجھ سے بالاتر ہیں جب کہ اطلاعات یہی ہیں کہ ٹی ٹی پی کی جانب سے معاہدہ کی خلاف ورزی کی کوئی شکایت سامنے نہیں آئی البتہ حکومت پاکستان نے ان سے جو وعدے کئے تھے ہماری طرف سے وہ پورے نہیں کئے گئے اور جن لوگوں کی رہائی پر آمادگی ظاہر کی گئی تھی وہ بھی عمل میں نہیں لائی گئی۔ ملک میں تعمیر و ترقی اور خوش حالی کے لیے امن بہرحال اولین ترجیح ہونی چاہئے کہ اس کی عدم موجودگی میں نہ تو صنعتی و تجارتی اور سیاحتی سرگرمیاں فروغ پا سکتی ہیں اور نہ ہی دیگر شعبے ترقی کی شاہراہ پر گامزن ہو سکتے ہیں اس لیے ہمیں گزشتہ بیس برس جاری رکھی گئی نام نہاد دہشت گردی کے خلاف جنگ کے تجربات کو پیش نظر رکھتے ہوئے اس جنگ کے دوران ہونے والے ہزاروں لوگوں کے جانی اور کھربوں ڈالر کے مالی نقصان سے سبق سیکھنا چاہئے، اپنے شہریوں کے جان و مال اور عزت و آبرو کے تحفظ کے لیے جامع منصوبہ بندی کر کے مربوط حکمت عملی کے ذریعے آگے بڑھنا چاہئے۔

image_pdfimage_print
شیئرکریں