Voice of Asia News

عالمی ادارہ صحت کے زیر نگرانی 9 کورونا ویکسین ز پر کام جاری

جنیوا(وائس آف ایشیا)عالمی ادارہ صحت کے زیر نگرانی 9 کورونا ویکسین ز پر کام جاری ہے اور رواں برس کے آخر میں ویکسین آنے کی امید ظاہر کی گئی ہے ویکسین بننے پرآئندہ سال 2 ارب خوراکیں دنیا میں تقسیم کی جائیں گی جس کیلئے منصوبہ بندی کر لی گئی ہے. عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کی جانب سے کورونا ویکسین کی تقسیم کا پلان تیار کر لیا گیا ہے جس میں 60سے زائد امیرممالک شامل ہیں لیکن امریکہ اور چین کو شامل نہیں کیا گیا اس پروگرام میں مجموعی طور پر 156 ممالک شریک ہیں مائیکرو سافٹ ویئر کے بانی بل گیٹس نے دعویٰ کیا ہے کہ کورونا ویکسین جلد بنی تو آئندہ سال کے آخر تک امیر ممالک معمولات زندگی کی طرف لوٹا آئیں گے ان کا کہنا ہے کہ دنیا بھر میں کورونا کے پھیلاﺅ کو روکنے میں تین سال لگ سکتے ہیں. بل گیٹس نے کورونا وبا سے نمٹنے کیلئے دنیا کو650 ملین ڈالر کی امداد دی ہے جو کہ کسی بھی انفرادی شخص کی جانب سے دی گئی سب سے زیادہ امداد ہے اس رقم کو ویکسین بنانے اور غریب ممالک تک پہنچانے میں استعمال کیا جائے گا ان کا کہنا ہے کہ ایک بار ویکسین تیار ہوگئی تو پھر ہمیں اس کی بلا تفریق فراہمی کو یقینی بنانا ہوگا اور صرف امیروں کو تقسیم کرنے سے وبا ختم نہیں ہوگی.  واضح رہے کہ ستمبر میں ہونے والے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں بھی کورونا وائرس اور ویکسین زیر بحث رہے اس سلسلہ میں چین کے صدر شی جن پنگ نے کہا تھا کہ کورونا وائرس پر سیاست کی کوشش کو مسترد کردینا چاہیے انہوں نے اعلان کیا تھا کہ چین پوری دنیا کو کورونا وائرس کی ویکسین فراہم کرے گا. اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے ویڈیو لنک کے ذریعے خطاب کرتے ہوئے چینی صدر کا کہنا تھا کہ ہمیں تہذیبوں کے ٹکراﺅ کے جال میں بھی نہیں پھنسنا چاہیے بلکہ کورونا وائرس کے خلاف اتحاد و یکجہتی کو فروغ دینا چاہیے.صدر شی جن پنگ نے اپنے ویڈیو لنک خطاب میں کہاتھا کہ وبا کے خلاف عالمی ادارہ صحت کو قائدانہ کرداراداکرنے کا موقع دیاجانا چاہیے‘ چینی صدر کا کہنا تھا کہ چین میں متعدد کورونا ویکسین ٹرائل کے تیسرے مرحلے میں ہیں صدر شی جن پنگ کا کہنا تھا کہ ترقی پذیر ممالک کو کورونا ویکسین کی فراہمی پہلی ترجیح ہوگی. امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جنرل اسمبلی سے اپنے خطاب میں کہا تھا کہ دنیا میں کورونا وائرس پھیلانے پرچین کا احتساب ہونا چاہیے امریکی صدرکا کہنا تھا کہ کورونا بحران کی ابتدا میں چین نے اندرونی پروازوں پر پابندی عائد کی لیکن بیرونی پروازوں پرپابندی عائد نہ کر کے وائرس کو پھیلنے کا موقع دیا.صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے خطاب میں الزام عائد کیا کہ عالمی ادارہ صحت کو چین کنٹرول کرتا ہے انہوں نے کہا کہ ڈبلیوایچ او اورچین نے کورونا کے انسان سے انسان میں منتقل نہ ہونے کے متعلق غلط بیانی کی امریکی صدر ٹرمپ کا اپنے خطاب میں کہنا تھا کہ کورونا کے باعث پوری دنیا کی معیشت کو نقصان پہنچاہے.

image_pdfimage_print
شیئرکریں
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے