Voice of Asia News

نوجوان نسل کی تربیت،تحریر: آغا سید حیدر شاہ

انسان پیدائشی طور پر باقی مخلوقات کی طرح ایک جان دار مخلوق ہے۔ لیکن واحد یہ ایک ایسی مخلوق ہے جسے خالق کائنات نے ایک ایسی صلاحیت اور اہلیت سے نوازا ہے جس کے سبب اسے اختیار حاصل ہے کہ وہ اپنی جدوجہد اور سعی و عمل سے انسان بنتے ہوئے اشرف المخلوقات کی فضیلت حاصل کر سکتا ہے ،باقی تمام جان داروں کی جہت اور فطرت میں زندہ رہنے کیلئے جو خصوصیات پیدا کر دی گئی ہیں وہ ان کے مطابق زندگی کے ایام پورے کرتے ہیں لیکن ان کی زندگی اسی دنیا تک محدود ہے۔ جبکہ انسان کی اصل اور دائمی زندگی اس دنیا سے انتقال کے بعد شروع ہوتی ہے جس کو درخشاں اور تابناک یا تاریک اور خوفناک بنانے کا تمام تر دراو مدار اسی دنیا کے افعال و کردار پر منحصر ہے۔ یہ اختیارات عطا کرنے کے باوجود بھی خالق کائنات نے انسان کو بالکل بے مہار نہیں رہنے دیابلکہ ابتدا سے ہی اس کی راہنمائی اور ہدایت کیلئے انبیائے کرام اور اپنے رسولوںؐ کا سلسلہ جاری رکھا جو مختلف ادوار میں اپنی امتوں کی اصلاح اور قیادت کا فریضہ ادا کرتے رہے تاکہ انسان دنیا میں بہتر اعمال کے ذریعے انتقال کے بعد اپنی ابدی زندگی کے تمام تر انعامات سے فیض یاب ہو سکے۔جب آدمیت نے عہد طفولیت سے نکل کر بلوغت کی حدود میں قدم رکھا اور اس میں نیک و بد پھلے، برے، خالص و مغلظ اور حق و باطل کی پہچان کا شعور اور ان اعمال میں تمیز کی فہم و ادراک کے اوصاف پیدا ہونے لگے اور جب زندگی کے معاملات میں حسن و قبح کا امتیاز اُجاگر ہونے لگا تو خالق کائنات نے محسن انسانیت حضرت محمدؐ خاتم النبین کو انسانوں کی راہنمائی کیلئے ایک ضابطہ حیات بہ شکل قرآن مجید سے نوازتے ہوئے سلسلہ انبیاء ہمیشہ کیلئے ختم کر دیا۔ یہ ضابطہ حیات انسانی زندگی کے تمام پہلوؤں پر محیط ہے، اس میں ابدی حیات تک راہنما اصول ہیں۔ جن پر کاربند رہتے ہوئے انسان اپنی موجودہ زندگی بھی خوشگوار بنا سکتا ہے اور ابدی زندگی کے لیے بھی سازو سامان جمع کر سکتا ہے۔
نوجوان کسی بھی قوم کا مستقبل ہوتے ہیں اگر نوجوان جدید ٹیکنالوجی اور سائنس کے ساتھ ساتھ اخلاقی تعلیم کے زیور سے بھی آراستہ ہوں تو وہ قوم کے روشن مستقبل کی ضمانت ہوتے ہیں۔ اگر نوجوان اخلاقی بحران کا شکار ہوں اور ان کی سوچ تعمیری کے بجائے تحزیبی ہو تو وہ قوم ذلت اور رسوائی کی اتھاہ گہرائیوں میں گر جاتی ہے اور تاریک مستقبل اس کا مقدر بن جاتا ہے۔ صداقت، امانت، دیانت، سادگی، سلیقہ و صفائی اور شرم و حیاء جیسی خوبیاں اعلیٰ اخلاق کا خاصہ سمجھی جاتی ہیں۔ افسوس کہ آج کا نوجوان بد ترین اخلاقی بد حالی کا شکار ہوتا جا رہا ہے۔ جھوٹ، بد دیانتی، وعدہ خلافی، فحش گوئی، قول و فعل میں تضاد اور بدنگاہی جیسی شرمناک اخلاقی برائیاں عروج پر ہیں۔ والدین کی عزت استاد کا احترام بڑوں کا ادب چھوٹوں پر شفقت آج کے نوجوان کے نزدیک فرسودہ رسومات ہیں جبکہ ٹی وی، ڈش اور کیبل نیٹ ورک، موبائل فون، لیپ ٹاپ اور انٹرنیٹ نوجوانوں کے نزدیک تفریح کا سامان ہیں۔ نوجوانوں میں اخلاقی بحران کے بنیادی ذمہ دار والدین ہیں یا پھر اساتذہ اور معاشرے کے دیگر عناصر ہیں۔ انسان کی پہلی درس گاہ ماں کی گود ہے۔جس گھر میں تعلیم یافتہ نیک ماں ہوتی ہے وہ گھر ادب کی یونیورسٹی ہوتا ہے۔ دور حاضر میں توحید کا درس دینے والی ماں اپنے کردار سے نا آشنا ہے۔ باپ نے بھی اپنے فرض کی ادائیگی کے بجائے بچوں کو بے رحم معاشرے اور بے لگام میڈیا کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا ہے۔ آج والدین اولاد کیلئے اور اولاد والدین کے ایک اجنبی وجود بن کر رہ گئے ہیں۔ اولاد کے معاملات پر نظر رکھنے کے بجائے چشم پوشی کے طرز عمل سے نوجوان بد ترین اخلاقی بدحالی کا شکار ہو رہے ہیں۔ نوجوانوں کے اخلاقی بحران کی ایک بڑی وجہ ہمارا رائج ہے بے روح نظام تعلیم ہے۔ جو اخلاقیات سے عاری، قومی امنگوں اور نظریات سے متصادم ہے۔ جس کے نتیجہ میں اقبالؒ کے شاہین صفت نوجوان شب تاریک کے چمگادڑ بنتے جا رہے ہیں۔ نوجوانوں میں اخلاقی بحران کی ایک بنیادی وجہ ان اساتذہ کی اکثریت ہے جنہوں نے ٹیوشن، اکیڈمی اور نجی تعلیمی اداروں کے نام پر تعلیم کو کاروبار بنا رکھا ہے۔ اب استاد اور شاگرد کا مقدس رشتہ دکاندار اور گاہک کی صورت اختیار کر چکا ہے۔ ہوس پرستی کے اس رجحان نے نوجوانوں کو اخلاقیات سے دور کر دیا ہے۔ اسی وجہ سے آج شاگرد استاد کا ادب نہیں کرتا۔
نوجوان نسل پاکستان کا مستقبل ہیں۔ گھر سے لے کر سکولوں، کالجوں اور یونیورسٹیوں تک کسی بھی سطح پر اخلاقی تعلیم کا کوئی بندوبست اور کہیں کوئی سنجیدہ کوشش نظر نہیں آتی، بلکہ کالج، یونیورسٹیوں میں تو ا ب منشیات کا فروغ اور اسلحہ کلچر سے گروہ بندیاں پرورش پا رہی ہیں۔ ایسے تربیت یافتہ بچوں سے مستقبل میں پاکستان کا جو معاشرہ تشکیل پائے گا اس سے بہتری کی امیدیں وابستہ کرنا خوش فہمی ہی ہو سکتی ہے۔
تعلیم تو انسان میں برے بھلے کی تمیز کا شعور پیدا کرتی ہے۔ نیکی اور بدی میں نیکی کی ترغیب اور برائی سے نفرت کا موجب بنتی ہے۔ ظالم اور مظلوم میں سے مظلوم کی حمایت کا احساس دلاتی ہے۔ رزق حلال کے حصول کا باعث بنتی ہے۔ غرض یہ کہ تعلیم سے اخلاق حسنہ کی تعمیر ہوتی ہے۔ ان افکار و تصورات سے بے بہرہ انسان رٹا لگا کر محض ڈگریاں حاصل کرنے سے ڈاکٹر، انجینئر، جج، مجسٹریٹ تو بن سکتا ہے اور شاید اقتدار کے ایوانوں تک رسائی بھی حاصل کر لے لیکن اس میں اخلاقی اعتبار سے ایک بہتر انسان بننے کی صلاحیت کے امکانات کم ہی ہوتے ہیں۔ اخلاقیات کی تعلیم و تربیت سے شرشار انسان ترقی کی جتنی بلندیوں تک پہنچ جائے اور جتنا بھی ارفع و اعلیٰ مقام حاصل کرے وہ انہیں اﷲ کا انعام سمجھتا ہے اور ان کامیابیوں کو اس کی رحمت اور کرم کا مرہون منت سمجھتے ہوئے اس کا شکر بجا لاتا ہے۔ تکبر اور بڑائی کو شرک اور گناہ عظیم تصور کرتے ہوئے ہمیشہ اس سے محفوظ رہنے کی کوشش کرتا ہے اور اس کی بجائے عجزہ و انکسار، تحمل، برداشت، رواداری، رحم دلی اور خدمت خلق جیسے اوصاف کو اپنا شعار بناتا ہے جو دین اسلام کا تقاضا ہے۔ ایسے ہی انسان مسلمانوں کی حقیقی تصویر اور نفاذ اسلام کیلئے معاون اور ذریعہ بن سکتے ہیں۔
(نوجوان صحافی کوئٹہ میں وائس آف ایشیا کے نمائندہ خصوصی ہیں اور مختلف موضوعات پر لکھتے ہیں)
hoonroot90@gmail.com

image_pdfimage_print
شیئرکریں
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے