Voice of Asia News

آئیں !ایک شمع جلائیں ، محمد نوازطاہر

نصف صدی میں بہت سے لوگوں کو اپنے بچوں کی بے اعتنائی ، بدتہذیبی ، بدعنوانی ، بد تمیزی ، جرائم اور غفلت پر روتے دیکھا ، ایسی خبریں پڑھی اور شائع بھی کیں ، بچوں کی غیر مناسب خصلتوں سے دلبرداشتہ ولدین کو خودکشی کرنی پڑی ، ابتدا میں میرا خیال تھا کہ شاید خودکشی کرنے والے بہت بزدل تھے ، یہ خیال ایک حد تک درست بھی تھا ، وہ خود کشی سے بچ بھی سکتے تھے اگر سماج ، ریاست ان کی مددگار ہوتی لیکن یہا ں کون مددگار ہے ؟ یہاں تو ریات کی مددفار فورس بھی مجرموں کے ساتھ مل جاتی ہے تو پھر اُن بزدلوں کی خود کشی کو جائز یا درست قرارنہ بھی دیں تو کم از کم ان کی حد تک اس عمل کوبرداشت کرنا درست ہوگا ، اپنے بچے ہوئے ، انہیں اپنی خواہشوں پر نل چلا سکا ، وہ اپنی خوہشوں کے تابع رہے ، اذادی کا احترام کیا لیکن اندر ہی اندر گھٹنا ، تلملانا ،کوسنا ، تکلیف محسوس کرنا ، کڑھنا کم نہ ہوا ، دُکھ بڑھتا گیا ، کبھی چھوٹا بیٹا ، برے کی بے اعتنائی ، لاپروائی ، بدتہذیبی پر پیار کا مرہم لگاتا تو کبھی بڑا یہی عمل دہراتا ، زندگی چاہنے نہ چاہنے کے باوجود کچھ لمحے رُکتی پھر چل پڑتی ، اکثر سوچتا کہ ان کوکیسے سمجھاؤں ؟ پھر خیال آتا کیا تم خوپوری د طرح سمجھ سکے تھے ؟ جواب میں گردن جھک جاتی ۔۔وقت بدلتا ہے ، حالات تربیت میں تبدیلی لاتے ہیں ، ماحول اثر انداز ہوتا ہے ، لیکن باپ اور ماں کا رشتہ اور تقدس ویسا ہی رہتا ہے کوئی ماحول اتنا شدید نہیں ہوتا کہ بیٹے کو ابا کا باپ بنا دے ؟ میرے ابا کو بھی دُکھ ہوتا ہوگا جب میں ان کی خواہش پوری نہ کرسکا ، نہ نامور پہلوان بن سکا ، نہ کبڈی میں نام کمایا ، اعلیٰ افسر بن سکا ، جہاز اڑایا نہ بیمار کا علاج کیا ، نہ ہی کسی جج صاحب کہہ کر پکارا ۔۔۔ میرا باپ بہت سوں کی طرح یہ حسرتیں لئے اس دنیا سے رخصت ہوگیا ، میں اب خود اس منزل کی طرف رواں ہوں ، پیچھے مُڑکر دیکھتا ہوں تو بچوں کی مصروفیات اور خواہشیں مزید دُکھی کردیتی ہیں، پورے بدن سے یہ درد ایسے اٹھتا ہے کہ معلوم ہی نہیں ہو پاتا کہ جسم کے کس حصے سے ہے اور کہاں سے نہیں ہے ، اذیت بڑھتی چلی جاتی ہے جیسے میں ابا کی طرح منزل کی جانب ۔۔
ڈُکھی ہوں ، بہت دُکھی ۔۔۔ کوئی درد بٹانے والا نہیں ہے ، یہ ظالم درد بھی کم نہیں ہوتا۔۔ یہ تو بھلا ہو میڈیا کہ جس نے برِ صغیر کے دو بڑے ملکوں کے مشترکہ ابا کے ساتھ کیا جانے والا سلوک دکھا دیا ، شرم تو بہت آئی اور مسلسل آ رہی ہے لیکن اتنا ضورو ہوا کہ بھئی ! جہان اتنے بڑے ابا کی یہ حالت ہے ؟ تم کس باغ کی مُولی ہو؟ یہ تو سماج نے ریت ہی بنا لی ہے کہ اپنی بات ، اپنا کام ، اپنا مقصد ، بلکہ اپنا اُلُو سیدھا کرتے جاؤ ، بھلے ابا کی لاش سے گذرنا پڑے یا مزار سے ۔۔۔
خود کشی کرنیوا لو! تم مجھ سے اور میرے جیسے دُکھیاروں سے بہتر ہو، اپنی ہی حالت دیکھی ، اپنے سامنے اپنے ابا ،اس کے ابا اور اس کے بھی ابا کے ساتھ بد سلوکی نہیں دیکھی ، میری بھائیوں کی مناففقت اور بے حسی بھی نہیں دیکھی جو ابا کے ساتھ بد تمیزی کرنے والے کی گستاخی کا جواب بھی نہیں دیتے ، کہاں گیا وہ وقت ؟ کیا وہ وقت وقت اور حالات کے پہاڑ تلے دب گیا جب باپ کے سامنے اونچی آواز بولنے والے کی زبابن کھینچ لی جاتی تھی اور سماج بھی کہا تھا درست کیا ، یہی ہونا چاہئے تھا؟ بتد تہذیب ، بدتمزی کو سزا ملنا چاہئے ، اب سماج بھی خاموش ہے ، پورا سماج بے شرمی کی چادر سے پیٹ کو خود کو حالات کی اُڑتی گرد سے بچانے کے لئے کوشاں ہے ؟ یہ سماج ہے یا اس کے حنوط شدہ لاشے اور کھنڈرات ، ۔۔۔
اب مجھے بچوں کے بے اعتنائی پر غصہ نہیں آنا چاہئے ، اپنے بے بسی اور بے شرمی پر آنکھوں کے خشک دریا کی بوندوں کے آثار میں ہی ڈوب کر مر جانا چاہئے ۔۔ ان سے کیا بات کریں جنہیں میں اور آپ اپنا پیٹ کاٹ کر پالتے ہیں تاکہ وہ ابا اور اس کے کے بھائیوں، بہنوں ، بچوں کا مع ترکہ و وراثت محفوط رکھیں ۔۔۔وہ گہری نیند میں ہیں یابے شرمی کی چادر انہیں بھی اڑتی گرد سے بچانے کی کوشش کررہی ہے ، اگر وہ بھی اس گرد سے بچنے کے لیے کوشاں ہیں تو میری مالی قربانی ، جذبات اور امیدوں کا قتل کررہے ہیں ، قابلِ گرفت ، قابلِ مذمت اور قابلِ مرمت بھی ہیں ، لیکن سارے کے سارے کیسے ہوسکتے ہیں ؟ یہ دھرتی ابھی اتنی بنجر نہیں ہوئی ، بس یہی امید ہے ورنہ خود کشی تو جائز ہے ، مجھر پر اور مجھ جیسوں پر ۔۔لیکن ٹھہریے! جنی کی ذمہ داری ہے ، انہیں بھی نظر انداز کرکے آگے مت بڑھیے کوئی سبق انہیں بھی یاد کراتے جائیں ، یہ اپنے حصے کی ایک شمع جلانا ہوگا ، آئیں ایک ،ایک شمع جلائیں ۔۔۔کچھ سوئے ہوئے جگائیں ۔۔

reporter2reporter@gmail.com

image_pdfimage_print
شیئرکریں
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے