Voice of Asia News

پاکستان میں کرپشن کا کینسر تیزی سے پھیلنے لگا :حافظ محمد صالح

کرپشن کا لفظ وسیع مفہوم رکھتا ہے۔ اْردو میں اس کے معنی بد عملی، بدعنوانی، بد اخلاقی، بگاڑ اور بدکاری استعمال ہوتے ہیں۔ کرپشن کا لفظ ہر زبان، ہر ملک اور ہر معاشرے میں گھناؤنے اور منفی کاموں کے لیے بولا جاتا ہے اور ناپسندیدگی کے ساتھ اس کا اظہار کیا جاتا ہے، کیونکہ یہ کسی صورت بھی اچھا عمل نہیں ہے۔دنیا کے کسی بھی ملک میں بد عنوانی حکومت کو معاشی گرداب کا شکار کردیتی ہے اور اُس کے عوام کو بنیادی وسائل اور خدمات کی فراہمی کی صلاحیت کم کردیتی ہے اور ایسے میں ملک میں سرمایہ کاری خاص کر غیر ملکی سرمایہ کاری کا عمل قدرِ محدود ہو جاتا ہے، کیونکہ اقوام متحدہ کے آفس برائے ڈرگز اینڈ کرائم کے مطابق ’’کسی بدعنوان ملک میں سرمایہ کاری بد عنوانی سے پاک ملک میں سرمایہ کاری کی نسبت 20 فیصد زائد مہنگی پڑتی ہے۔ ‘‘
دنیا بھر میں کرپشن کی صورتحال پر نظر رکھنے والی ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کی طرف سے سال 2021 کے لیے گلوبل کرپشن انڈکس (سی پی آئی) جاری کردیا گیا ہے ، جس کے مطابق پاکستان ایک سو اسی ممالک میں ایک سو چالیس ویں نمبر پر ہے، جبکہ سال 2019 میں پاکستان 120 ویں نمبر پر تھا، سال 2020میں پاکستان سی پی آئی رینکنگ میں 124ویں نمبر پر تھا۔ رپورٹ میں سی پی آئی اسکور میں 16درجے کی نمایاں تنزلی کی وجہ قانون کی حکمرانی اور ریاستی گرفت کی عدم موجودگی بتائی گئی ہے۔ ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کی گلوبل کرپشن رپورٹ تحریک انصاف حکومت کے لیے سب سے بڑا دھچکا ہے ، کیونکہ اس پارٹی نے بدعنوانی کے خلاف جنگ کا اعلان کر کے ہی سیاست میں حصہ لیا اور عمران خان نے دعویٰ کیا تھا کہ وہ کرپشن کو جڑ سے اکھاڑ پھینکیں گے۔پاکستان میں وزیر اعظم عمران خان اور ان کی حکومت کے وزراء اکثر و بیشتر دعویٰ کرتے رہتے ہیں کہ وہ ملک سے بدعنوانی کے خاتمے کی سر توڑ کوششیں کر رہے ہیں لیکن پاکستان کی سی پی آئی درجہ بندی گزشتہ تین سالوں میں مسلسل نیچے گئی ہے۔ٹرانسپرنسی انٹرنیشنل نے جاری کردہ اپنی سالانہ رپورٹ میں متعدد ممالک میں کی جانے والی بدعنوانیوں کی نشاندہی اور اْن کی درجہ بندی کی تھی، تاہم پاکستان کے حوالے سے جو رپورٹ جاری کی گئی، اْس کے مطابق پاکستان میں ہر سال کرپشن میں اضافہ ہو رہا ہے۔ رپورٹ کے مطابق پاکستان کی صورت حال انتہائی مایوس کن ہے مقام افسوس ہے کہ ہم ہر شعبے میں تنزلی کا شکار ہو رہے ہیں۔ڈنمارک، فن لینڈ اور نیوزی لینڈ بھی اسی زمین کا حصہ ہیں جنہیں180ممالک کی فہرست میں 88اسکور کیساتھ کرپشن سے پاک بہترین ملک قرار دیا گیا ہے۔ 85اسکور رکھنے والے سنگاپور اور سویڈن، 40اسکور والے بھارت اور 28اسکور والے پاکستان میں کرپشن کے کمی یا زیادتی کی وجوہ ان ممالک کے نظام قانون اور اس کے نفاذ کے طور طریقوں میں تلاش کی جاسکتی ہیں۔وطن عزیز میں کرپشن کے حوالے سے اہم حکومتی بیانیہ وزیراطلاعات چوہدری فواد کی اس دلیل کے ساتھ آیا کہ ٹرانسپیرنسی رپورٹ میں پاکستان کا اسکور قانون کی حکمرانی نہ ہونے کی وجہ سے گرا۔ اچھا ہوتا کہ مالی کرپشن کی اس حقیقت کو بھی تسلیم کرلیا جاتا جس کاایک ثبوت25 جنوری بروز منگل سابق میونسپل کمشنر کورنگی (کراچی) کے گھر پر نیب راولپنڈی کے چھاپے میں کئی ملین کی ٹی ٹی کی رسیدوں،ملکی و غیرملکی کرنسی کے انباروں اور سونے کی اینٹوں پر مشتمل مبینہ خزانے کی برآمدگی کی صورت میں سامنے آیا۔ کوئٹہ کے ایک گھر سے برآمد ہونے والے اربوں روپے کے خزانے، کراچی کے ایک لان سے اربوں روپے کے دفینے کی برآمدگی سمیت کئی واقعات کچھ برس قبل ہی کی بات ہیں۔
حصولِ پاکستان کا مقصد ہی کرپشن سے پاک معاشرہ تھا۔ بانی پاکستان قائداعظم محمد علی جناح نے تو 11 اگست 1947 کی تقریر میں بڑے واشگاف الفاظ میں کہا تھا کہ ’’ہمارا سب سے بڑا مسئلہ رشوت اور کرپشن ہے، اسمبلی کو اس زہر کے خاتمے کے لیے موثر اقدامات کرنے ہیں۔‘‘ لیکن قائد کے فرمان کے برعکس قیام پاکستان کے بعد ہی ملک میں کرپشن کا باقاعدہ آغاز جھوٹے کلیموں کی صورت میں ہوا، جب بھارت سے ہجرت کرکے آنے والے افراد نے ہندؤوں اور سکھوں کی چھوڑی ہوئی جائیدادوں کے حصول کے لیے جھوٹے کلیم داخل کیے۔ ہمارے وزیراعظم عمران خان صدر ایوب خان کے دور حکومت کو مثالی دور قرار دیتے ہوئے، اس کے کارناموں کا ذکر تواتر کے ساتھ اپنی تقاریر میں کرتے ہیں ، لیکن حقیقت اس کے برعکس ہے اس دور میں بھی کرپشن اپنے عروج پر رہی ہے ، سرکاری زمینوں کی اونے پونے داموں الاٹمنٹ نے کرپشن کی بنیاد رکھی۔ پاکستان پیپلز پارٹی اور پاکستان مسلم لیگ ن کی حکومتیں دو دو بار کرپشن کے الزامات کے تحت برطرف کی گئیں ، صدر غلام اسحق اور صدر فاروق لغاری نے آئین کی شق اٹھاؤن ٹو بی کا استعمال کرکے جمہوری حکومتوں کو مدت پوری نہ کرنے دی۔ پاکستان میں نصف سے زائد عرصہ غیر سول حکومتیں قائم رہیں ، افسوس ان کے ادوار میں بھی کرپشن پر قابو نہ پایا جاسکا۔ملک میں کرپشن کا آغاز پرچی سسٹم سے شروع ہوا، پہلے پہل کوئی بھی بااختیار بندہ کسی اپنے دوست رشتے دار کو پرچی لکھ کر دیتا اور اسی پرچی کے اوپر اس کا کام ہو جایا کرتا تھا، اس کے بعد کا دور ٹیلی فون کا آیا جب پرچی کو چھوڑ کر دور جدید کی ایجاد ٹیلی فون کا سہارا لیا جاتا اور اقربا پروری کرتے ہوئے کوئی آفیسر یا با اختیار آدمی اپنے زیر اثر کام کرنے والے سے اپنے عزیز واقارب کے کام کروا لیے کرتے تھے، یہی اقرباء پروری بڑھتے بڑھتے نوٹوں کی صورت اختیار کر گئی جس میں سائل کا کام اسی صورت میں ہوتا جب وہ اپنے کام کے لیے کام کرنیوالے کو مٹھائی کے پیسے دیا کرتے۔ ہم بحیثیت قوم لالچ میں ایسی ڈگر پر چل نکلے کہ اب مہنگائی اور اپنی ایک نا ختم ہونے والی پیٹ کی آگ کو بجھانے کے لیے نوٹوں کا سہارا ہی لیتے دکھائی دیتے ہیں۔اور اس مٹھائی کے نام پر ناجائز کمائی سے کسی قسم کی شرم محسوس نہیں کرتے۔ بلکہ کھلے عام مٹھائی طلب کرتے ہیں اور پھر اس کو جمع کرتے کرتے پورے دن کے آخر پر اسی ڈیپارٹمنٹ میں موجود دوسرے کام کرنیوالوں میں برابر برابر تقسیم بھی کرتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں، اس معاشرے کو کوئی فکر نہیں کہ اس قسم کی تمام حرکات پر ملک کی عزت و وقار کو کیا فرق پڑ رہا ہے، وہ تو اپنے ذہن میں یہی سوچتے دکھائی دیتے ہیں کہ آج کی دیہاڑی لگی کہ نہیں۔چھوٹے عہدوں پر کام کرنیوالے افراد کے حصے میں تو اتنا ہی مٹھائی کا حصہ آتا ہے جتنا وہ ایک روز میں ہی کھائی پی جاتے ہیں اور پھر اگلی صبح ایک نئے جوش و جذبے سے جاگتے ہیں اور اپنے نئے دن کی دیہاڑی کے چکر میں گھر سے نکل پڑتے ہیں لیکن بڑے بڑے سیاست دان اور بیورو کریٹس کی دیہاڑیاں بھی بڑی بڑی ہوتی ہیں جو لمبے لمبے ہاتھ مارتے ہوئے ملک کی جڑوں کو کھوکھلا کرتے جا رہے ہیں اور کوئی بھی ان کو پوچھنے والا نہیں۔ اس ساری کرپشن کی کہانی کو جتنا بھی سوچتے اور لکھتے جاؤ، یہ ختم ہونے والا نہیں کیونکہ اس کرپشن کی کتاب کے کسی بھی ورق کو پلٹو اس میں کرپشن اور لوٹ مار کی ایک سے ایک نئی غضب کہانی چھپی ہے۔
ہمارے یہاں ایف بی آر ، نیب، اینٹی کرپشن ، پبلک اکاؤنٹس کمیٹیاں ، آئی بی ، ایف آئی اے اور نجانے کون کون سے ادارے اور کون سی ایجنسیاں موجود ہیں لیکن ان کی مثال خربوزوں کے کھیت کے گیدڑ رکھوالے والی ہے۔ کسی بھی ملک و قوم کی تباہی میں کرپشن کا بنیادی کردار ہوتا ہے۔ جب ذاتی مفادات ملک و قوم سے مقدم ہو جاتے ہیں تو تباہی یقینی ہوتی ہے۔ اسی لیے کرپشن کو ’’ام الخبائث‘‘ بھی کہا جا سکتا ہے۔ کرپشن ، بد عنوانی پاکستان کا مسئلہ ہی نہیں ہے، بلکہ یہ بین الاقوامی مسئلہ ہے۔ کیونکہ برائیاں اس کی کوکھ سے جنم لیتی ہیں۔ کرپشن اعلیٰ اقدار کی دشمن ہے، جو معاشرے کو دیمک کی طرح چاٹ کر اندر سے کھوکھلا کر دیتی ہے۔ چاہے یہ کسی بھی صورت میں ہو، جس قوم میں جتنی زیادہ کرپشن ہو وہ قوم اتنی ہی جلدی بربادی کے گڑھے میں جا گرتی ہے، اگر کسی قوم کے رگ و پے میں کرپشن سرایت کرجائے تو وہ اپنی شناخت و ساخت اور مقام و مرتبے سے یوں ہاتھ دھو بیٹھتی ہے، جیسے کوئی بلند مقام کبھی اس قوم کو ملا ہی نہیں تھا۔
ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کی رپورٹ کے مندرجات میں بیان کردہ دعوؤں پر اعتراضات کے باوجود اس حقیقت میں کوئی شبہ نہیں ہے کہ پاکستان کا ریاستی و سیاسی نظام اتنا بدعنوان ہوچکا ہے کہ علاج کسی کو نظر نہیں آتا۔ یہ کتنا بڑا المیہ ہے کہ جو حکومت بدعنوانی کے خاتمے اور طاقتور طبقے کے شفاف احتساب کا نعرہ لگا کر برسراقتدار اآئی تھی وہ احتساب کے بارے میں ایک قدم بھی آگے نہیں بڑھا سکی۔ ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کی رپورٹ کے اجرا سے ایک روز قبل ہی وزیراعظم عمران خان کے مشیر احتساب شہزاد اکبر مستعفی ہونے پر مجبور ہوگئے ہیں۔ انہوں نے خود استعفا دیا ہے یا وزیراعظم نے ان سے استعفا لیا ہے۔ اس کے بارے میں سیاسی حلقوں میں قیاس آرائیاں جاری ہیں لیکن یہ حقیقت ہے کہ وزیراعظم کے خصوصی مشیر برائے احتساب اپنے مشن میں کامیاب نہیں ہوسکے ہیں۔ کرپشن کے خاتمے اور شفاف احتساب میں ناکامی کا منظرنامہ عبرت کا مقام ہے۔ اس ناکامی کا سبب یہ ہے کہ انہوں نے بھی اپنے پیش رو حکمرانوں کی طرح بلاامتیاز احتساب کرنے سے گریز کیا ہے۔ اور اِسے سیاسی نعرے بازی کا حصہ بنائے رکھا۔ جس طرح ٹرانسپیرنسی عالمی ادارے یورپ اور امریکا کے ان ممالک کی حقیقت بیان نہیں کرتے جو اپنے بینکوں میں بدعنوانی سے حاصل کی ہوئی دولت جمع کرتے ہیں۔ دنیا بھر میں تیسری دنیا کے حکمرانوں کو بدعنوان بنانے میں عالمی سرمایہ داروں کا سب سے بڑا کردار ہے۔ انہیں حلال و حرام اور جائز و ناجائز سے کوئی دلچسپی نہیں ہے بلکہ اس طرح حکومتوں پر دباؤ ڈال کر اپنے مفاد میں فیصلے کرائے جاتے ہیں۔ اس بات سے ہر شخص واقف ہے کہ بدعنوانی اور حرام مال کا زہر کس حد تک قوم کے جسم میں سرایت کرچکا ہے۔ پاکستان کے سماج اور طاقت و اختیار کے ایوانوں میں اتنی ہی بدعنوانی بڑھتی رہی اور اس عمل میں سیاست داں، بیوروکریٹ، جرنیل، جج، کارپوریٹ کلچر سے تعلق رکھنے والے، ذرائع ابلاغ سے متعلق سب ہی اپنے پیٹوں میں مال حرام بھرتے جارہے ہیں جس نے خطرناک سیاسی بحران کی شکل اختیار کرلی ہے۔ ایک طرف حکمراں طبقے کی پرتعیش زندگی ہے دوسری طرف اب ایک عام غریب آدمی کے لیے ماہانہ راشن پورا کرنا ناممکن ہوگیا ہے۔ اسی کرپٹ اور بدعنوان ٹولے کی وجہ سے جو زندگی کے ہر شعبے میں گھس چکا ہے اس نے قومی خود مختاری، آزادی و سلامتی کو خطرے میں ڈال دیا ہے۔ امریکا، یورپ اور عالمی مالیاتی اداروں کے سامنے حکمرانوں کی بے بسی اس کی شہادت دے رہی ہے۔ اب مسئلہ چند افراد اور گروہوں کی کرپشن اور بدعنوانی کا نہیں رہ گیا ہے۔ کرپشن اور بدعنوانی نے ہر سطح پر مجرموں اور مافیاؤں کو طاقتور بنادیا ہے۔ ان تین برسوں میں توانائی مافیا، شوگر مافیا، آئل مافیا، گیس مافیا جیسے طبقات کی لوٹ مار سامنے آئی ہے۔ اس نے قوم کو آتش فشاں کے دہانے پر کھڑا کردیا ہے۔74 برسوں میں ہر شعبے میں سرایت کرجانے والے کرپشن کی ہلاکت خیزی سے بچاؤ کے لیے پورے سسٹم کی اوورہالنگ کی ضرورت ہے جو راتوں رات ممکن نہیں۔ اس کے لئے وسیع مشاورت اور جامع منصوبہ بندی سے ایک طویل مدتی لائحہ عمل کا متفقہ میثاق ضروری ہے جس کے لئے تمام سیاسی و سماجی مکاتب فکر کے صاحبان دانش کو مل کر کام کرنا اور سازگار فضا بنانا ہوگی۔ کرپشن کا خاتمہ ملکی سلامتی اور استحکام کے تقاضوں کا بھی حصہ ہے۔ اس کے لیے دلجمعی سے سنجیدہ کاوشیں ناگزیر ہیں۔

image_pdfimage_print
شیئرکریں