Voice of Asia News

بے حس حکمران اشرافیہ: حافظ محمد صالح

مہنگائی اور بیروزگاری بلاشبہ اِس وقت پاکستان کے سب سے بڑے مسائل ہیں۔نچلی اور متوسط سطح کے تنخواہ دار طبقے کی آمدنی بھی اتنی کم ہے کہ روزمرہ استعمال کی بنیادی اشیا کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے مقابلے میں اِس کی قوتِ خرید روز بروز گھٹتی جارہی ہے۔ اوپر سے بیروزگاری کے عفریت نے ان پڑھ تو کیا، پڑھے لکھے نوجوانوں کا گلہ بھی دبوچ رکھا ہے۔ ایک اندازے کے مطابق ملک میں 60 ملین سے زیادہ افراد غربت کی لکیر سے نیچے رہتے ہیں ،جب کہ کورونا اورمعاشی سست روی کی وجہ سے ایک کروڑ اسی لاکھ لوگ مزید غربت کا شکار ہوئے ہیں۔ادویات کی قیمتوں میں بھی مسلسل اضافہ ہورہا ہے۔ ادویات کے خام مال پر 17.5 فیصد ٹیکس کے بعد متعدد دوائیں مہنگی ہوگئی ہیں، مہنگی ہونے والی دواؤں میں بلڈ پریشر، کولیسٹرول اور معدے کی تیزابیت کی دوائیں شامل ہیں۔جسم کے درد کو فوری دور کرنے والے انجکشن بھی مہنگے ہوگئے ہیں۔ ملک کے ہر چھوٹے بڑے اسپتالوں اور میڈیکل اسٹورز کے سامنے ایسے افراد دیکھے جاسکتے ہیں، جو مہنگی دوائیاں نہیں خرید سکتے اور ہاتھ میں پرچہ لیے کسی مسیحا کے منتظر رہتے ہیں۔کئی افراد ایسے بھی ہیں، جو بیمار بچوں کو لے کر ہاتھ میں ڈاکٹر کی دوائیوں یا ٹیسٹ کا نسخہ لیے گھومتے ہیں اور کسی مسیحا کا انتظار کرتے ہیں۔ ممکن ہے کہ ان میں نوسرباز اور فراڈیے بھی شامل ہوں لیکن ایسے افراد بھی ہوں گے جو واقعی دوا خریدنے اور میڈیکل ٹیسٹ کرانے کی سکت نہیں رکھتے۔ ملک کی ایک بڑی آبادی غریب ہے، کورونا کی وجہ سے غربت میں مزید اضافہ ہوا ہے۔غریب لوگ پہلے ہی علاج معالجے پر اپنی کمائی کا ایک بڑا حصہ خرچ کر رہے ہیں کیونکہ اچھی خوراک کی عدم دستیابی کی وجہ سے وہ بیماریوں کا زیادہ شکار ہوتے ہیں۔ اب زندگی بچانے والی ادویات کی قیمتوں میں اضافے کی وجہ سے غریب علاقوں میں شرح اموات بڑھیں گی۔کیونکہ مزید ٹیکس ادویات کی قیمتوں پر لگے گا اور سارا بوجھ عوام کو برداشت کرنا پڑے گا۔
وزیراعظم عمران خان کا سیاسی بیانیہ تو یہی ہے کہ پاکستان دنیا کا سستا ترین ملک ہے مگر اس حقیقت کو وہ بھی تسلیم کرتے ہیں کہ مہنگائی لوگوں کی برداشت سے باہر ہورہی ہے اور آبادی میں اضافے کے ساتھ بیروزگار ی بھی کنٹرول سے باہر ہے۔
پاکستان کے ادارہ برائے شماریات کے مطابق گزشتہ ایک سال میں آٹے کی قیمت میں اْنیس فیصد، کوکنگ آئل کی قیمت میں 38 فیصد جب کہ گیس سلنڈر کی قیمت میں پچاس فیصد اضافہ ہواہے۔ پاکستان میں مہنگائی کی حالیہ لہر نے ہر طبقے کو متاثر کیا ہے مگر متوسط طبقہ اور کم آمدن والے خاندان سب سے زیادہ متاثر ہوئے ہیں۔ غریب آدمی تو اس مہنگائی کی دلدل میں پھنسا جا رہا ہے اور بالآخر ذہنی دباؤ کی وجہ سے خود کشی کرنے پر مجبور ہے۔ یہ کہا جا رہا ہے کہ گزشتہ دو سال میں خودکشی کی شرح تین سے بڑھ کر آٹھ فیصد تک پہنچ گئی ہے۔ حکومت کہتی ہے کہ مہنگائی پوری دنیا میں ہورہی ہے لیکن حکومت کو پاکستان میں مہنگائی کے ایشو پر بات کرنی چاہیے کیونکہ پاکستان کا موازنہ یورپ،امریکا،لاطینی امریکا کے ارجنٹائن، پیرو،یورا گوئے اور پیراگوئے ، جنوبی کوریا، تائیوان ، چین اور جاپان کے ساتھ نہیں کیا جاسکتاہے،پاکستان کے حکمرانوں کو اپنی معیشت کی بات کرنی چاہیے اور عوام کو بتانا چاہیے کہ مہنگائی اور افراط زر کو قابو میں رکھنے کے لیے ، انھوں نے کون کون سے قوانین بنائے اور مختلف اشیاء اور دیگر آئٹمز کی قیمتیں کم کرنے کے لیے کونسے ٹیکسز میں کمی کی ہے اور مستقبل میں ان کے پاس کیا منصوبے موجود ہیں۔
تلخ حقیقت یہ ہے کہ جس معاشرے کی حکمران اشرافیہ میں پستی و گراوٹ کا احساس ہی باقی نہ رہے، وہ عوام کی بھلائی کے لیے کوئی منصوبہ یا پالیسی نہیں بنا سکتی۔ پارلیمان کا کردار بھی خاموش تماشائی کی طرح ہے۔ اوپری سطح پر کک بیکس، اقربا پروری،دوست نوازی کو اگر نظرانداز کرکے شاہراہوں اور گلی محلوں پر نظر دوڑائیں تو ملک میں چوری، ڈکیتی، اغوا اور قتل کی خبریں معمول بنتی جارہی ہیں۔ پولیس کی تربیت و ذہانت کا معیار انتہائی پست ہوچکا ہے۔عوام کو سروسز فراہم کرنے والے سرکاری اداروں کے افسروں اور اہلکاروں کی کارکردگی بھی سب کے سامنے ہے، یہ سب اس لیے کہ سیاسی، کاروباری اور ریاستی نوکرشاہی پر مشتمل رولنگ کلاس ذہنی افلاس اور نظریات کی خود فریبی کا شکار ہوچکی ہے۔ رولنگ کلاس کی کم فہمی، مبہم نظریات اور نااہلی نے پورے معاشرے کو ایک ایسے جنگل میں تبدیل کردیا ہے جس کا ہر باسی دوسرے کی گردن پر سوار ہوکر آگے بڑھنا چاہتا ہے۔کیا یہ ندامت کا باعث نہیں ہے کہ پاکستان زرعی ملک ہونے کے باوجود زرعی اجناس کا ایک بڑا درآمدی ملک بن گیا ہے۔ ادرک، پیاز، ٹماٹر، مختلف پھل، عمارتی لکڑی، چینی، گندم بھی درآمد کرنی پڑ جاتی ہے۔ آٹے کی قیمت 40 روپے سے بڑھ کر 85 روپے فی کلو گرام تک پہنچ چکی ہے۔ حکومت کو لوگوں کو نااُمیدی اور ذہنی فرسٹریشن سے نکالنے کے لیے معاشی اصلاحات کا رخ مڈل کلاس اور غریب طبقات کی طرف موڑنا ہوگا۔ عمران خان کی حکومت آئی ایم ایف اور دوسرے عالمی مالیاتی اداروں سے قرضوں کے حصول کے لیے ان کی ایسی شرائط پر عمل کررہی ہے جن کے نتیجے میں مہنگائی کم ہونے کی بجائے روز بروز بڑھتی جارہی ہے۔ عام آدمی کو اس سے غرض نہیں کہ معاشی ترقی کی شرح کتنے فیصد ہوگئی۔ وہ بازار میں جب کچھ خریدنے کے لیے جاتا ہے اور اس سے پہلے سے زیادہ دام مانگے جاتے ہیں تو اس کی ہمت وہیں جواب دے جاتی ہے۔ اس لیے حکمران اشرافیہ کو بے حسی چھوڑ کرایسے اقدامات کرنے چاہئیں جن کے اچھے نتائج زمین پر نظر بھی آئیں۔ مہنگائی اور بیروزگاری پر ایسے اقدامات سے ہی قابو پایا جا سکتا ہے۔
h.m.sualeh12@gmail.com

image_pdfimage_print
شیئرکریں