Voice of Asia News

’’ ناکام خان ‘‘ :محمد قیصر چوہان

پاکستان تحریک انصاف کے لیے 2011سے لے کر 2018 تک ایسا ماحول ترتیب دیا گیا تھا جس سے یوں لگتا تھا کہ تمام مسائل کے حل کی کنجی عمران خان کے پاس ہے۔ عمران خان نے بھی اپنی تقاریر سے ایسا تاثر دیا تھا جیسے ان کے پاس ایسی ٹیم موجود ہے جو ایک دم ملک کی تقدیر بدل کر رکھ دے گی۔ پاکستان کا وہ کون سا شعبہ تھا جس کی اصلاح کے لیے عمران خان نے اپنی صلاحیتوں کے اظہار کا برملا دعویٰ نہیں کیا تھا۔ عمران خان اپنی گفتگو ، تقاریر اور انٹرویوز میں تبدیلی، مضبوط بلدیاتی نظام ،ملک میں سستے انصاف کی فراہمی، مثالی قانون سازی، کڑا احتساب، آئی ایم ایف سے مستقل چھٹکارے ، کسی کے سامنے ہاتھ نہ پھیلانے، بجلی و گیس کی لوڈ شیڈنگ سے نجات دلانے، تعلیم، صحت، سماجی بہبود، تعمیر و ترقی کے شعبوں میں اصلاحات سمیت مہنگائی اور بدعنوانی کے خاتمے، زراعت، صنعت و تجارت ہاؤسنگ، بیروزگاری، توانائی کے بحران سے نمٹنے اور نوجوانوں کیلئے ایک جامع پروگرام سمیت غریب عوام کو خوشحال بنانے کا دعویٰ کیا کرتے تھے۔دکھوں کے مارے عوام نے بھی عمران خان کو مسیحا سمجھ لیا۔مہنگائی، کرپشن کے خاتمے، ،سرکاری اداروں کی اصلاح اور بے روزگاری جیسے سنگین مسائل کے حل کے لیے تحریک انصاف ہی اُمید کی واحد کرن دکھائی دینے لگی۔ تحریک انصاف کے اسٹیج سے بار بار اس بات کا دعویٰ کیا جاتا تھا کہ ان کے پاس ماہرین کی ایک ایسی ٹیم موجود ہے جو چٹکی بجاتے ہی ملک کو اس گرداب سے نکال لے گی۔ پھر انہی دعوؤں کی بنیاد پر عوام نے 2018 کے انتخابات میں عمران خان کو ووٹ دیکر اقتدار دلایا۔لیکن سوا تین سال کا عرصہ گزرنے کے بعد بھی ’ ’ مہنگائی کا جن‘‘کسی طرح قابو میں نہیں آرہا،ایک کروڑ نوکریوں کا دعویٰ کرنے والوں نے دو کروڑ لوگ بے روزگار کر دیے ہیں، غربت ختم کرنے کا دعویٰ کرنے والوں نے ملک میں غربت کا گراف بڑھا دیا ہے، اداروں میں اصلاحات کا آغاز تو کیا ہونا تھا،وہ بدانتظامی کا گڑھ بن گئے، آج ہر شخص بے بسی کی عملی تصویر بناہوا ہے۔تبدیلی سرکار نے اپنی اقدامات کی بدولت پورا پاکستان ہی مفلوج کر دیا ہے۔ آج ساڑھے تین سال بعد پاکستان تحریک انصاف نے ملک کا یہ منظرنامہ بنایا ہے کہ بلدیاتی ادارے تباہ، احتساب ایک مذاق اور سستا انصاف ایک خواب بن چکا ہے مہنگائی، بے روزگاری، غربت میں اضافے اور لاقانونیت کے باعث ملک میں بسنے والے بائیس کروڑ لوگوں کا ذہنی سکون لحد میں اتر چکا ہے،ملک میں بسنے والے کسی شخص کے چہرے پر خوشی نہیں ہے ، پریشانیاں سائے کی طرح مسلسل لگی ہوئی ہیں، بے روز گاری اور غربت بڑھنے سے خود کشیوں میں اضافہ ہو گیا ہے۔دجال کے نظام حکومت کو پوری دنیامیں پروان چڑھانے میں مصروف عمل تنظیم ’’فری میسن ‘‘ کا ایجنڈا ہے کہ پاکستان میں بھی وہی حالات پیدا ہوں جو مصر اور لبنان میں پیدا ہو چکے ہیں، روپے کی قدر و قیمت میں ہوشربا کمی،ڈالر کی قیمت میں بے پناہ اضافہ،پیٹرول کی قیمتوں کے سامنے بے بسی،ذرائع روزگار میں کمی،بجلی اور گیس کی قیمتوں میں اضافہ،یہ سارے حالات مل کر پاکستان کو ایسی بند گلی میں دھکیل رہے ہیں جن سے نکلنا نا ممکن تو نہیں لیکن بہت مشکل ضرور ہو گیا ہے۔ مہنگائی کا یہ بوجھ عوام کب تک برداشت کریں گے،ان مسائل سے نبردآزما ہونے کے لیے وزیراعظم عمران خان کے پاس کوئی ٹیم موجود نہیں۔ معاشی ٹیم کے نام پرجو ’’ بابو‘‘ اکٹھے کیے گئے ہیں انہیں پاکستان سے کوئی دلچسپی نہیں۔ جب عوام مہنگائی سے تنگ آکر گھر سے باہر نکلیں گے، تو یہ ’’ بابو‘‘ اپنا بریف کیس اُٹھا کر امریکہ اور برطانیہ واپس چلے جائیں گے۔ بادی النظر میں ایسا لگتا ہے کہ ’’فری میسن ‘‘ کی اصل توجہ پاکستان کے ایٹمی پروگرام پر ہے۔امریکہ ، بھارت، اسرائیل کے گٹھ جوڑ سے پاکستان میں عدم استحکام پیدا کرکے پا کستان کے ایٹمی پروگرام پر سوالیہ نشان ثبت کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔جس طرح ایران کے گرد گھیرا تنگ کر کے اسے بے بس کر دیا گیا ہے اسی طرح پاکستان کو اندرونی عدم استحکام کا شکار کر کے یہاں کا نظام مفلوج کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
qaiserchohan81@gmail.com

image_pdfimage_print
شیئرکریں