Voice of Asia News

کھاد بحران سے کسان پریشانرپورٹ:محمد قیصر چوہان

کسان کسی بھی قوم کے وہ محسن ہوتے ہیں جو اْس کے لیے خوراک کی فراہمی کو یقینی بناتے ہیں۔ جھلسا دینے والی گرمی ہو یا جما دینے والی ٹھنڈک، یہ ہر طرح کے موسم کی شدت کو برداشت کرتے ہوئے ہماری غذائی اجناس کی ضرورت کو پورا کرتے ہیں۔ اِن کی محنت سے فائدہ اٹھانے والے لوگ تو معاشی ترقی کے بامِ عروج پر پہنچ جاتے ہیں لیکن بیچارے کسان اکثر و بیشتر معاشی ترقی کے سفر میں پیچھے رہ جاتے ہیں۔ بدقسمتی سے ہمارے ملک میں بھی یہی چلن ہے۔ آئے روز نِت نئی مشکلات کسانوں کی منتظر رہتی ہیں۔ اِن دِنوں پاکستان کے کسانوں اور کاشت کاروں کو کھاد کے حصول میں شدید مشکلات درپیش ہیں۔ چینی، آٹے اور گندم بحران کے بعد اب ملک میں کھاد کا بحران پیدا ہو چکا ہے اور کھاد فروخت کرنے والے ڈیلر اِس وقت مافیا بنے بیٹھے ہیں۔ حکمرانوں کی غفلت اور نا اہلی کی بدولت پاکستان کا زرعی شعبہ تباہی کی جانب گامزن ہے۔وطن عزیز کے مختلف شہروں میں یوریا کھاد کی قلت سے کاشت کار پریشان ہیں اور یوریا کھاد کی ذخیرہ اندوزی اور بلیک مارکیٹنگ کے خلاف سراپا احتجاج ہیں۔ پنجاب اور سندھ کھاد کے ذخیرہ اندوزوں کے لیے محفوظ جنت بن چکا ہ ہے۔کسانوں کو گندم کی فصل کی فکر ہے کیونکہ حالیہ بارشوں کے بعد کسانوں کے پاس ایک سے دو ہفتے کا مزید وقت ہے جس میں وہ گندم کی فصل کو یوریا کھاد دے سکتے ہیں۔زرعی ماہرین کے مطابق کسانوں کو اس وقت ضرورت کے مطابق سستی یوریا کھاد میسر ہو جاتی تو رواں برس پاکستان گندم میں خود کفیل ہو سکا تھا تاہم ایسا ہوا نہیں،اس لیے اب گندم کی فصل پر خود کفالت کے حوالے سے سوالیہ نشان موجود ہے ،یوریا کھاد ذخیرہ کرنے والے لوگ قومی مجرم ہیں۔یوریا کھاد کی سرکاری قیمت 1770 ہے جبکہ مارکیٹ میں 3000 سے لے کر 3800سو روپے تک فی تھیلا بلیک میں فروخت کیا جا رہا ہے اسی طرح ڈی اے پی کھاد کی سرکاری قیمت 8100 روپے ہے لیکن مارکیٹ میں 9500 روپے سے لے کر دس ہزار روپے تک فی تھیلا بلیک میں فروخت کیا جارہا ہے۔ وزیر اعظم عمران خان کے حکم پرمختلف شہروں کی انتظامیہ نے ذخیرہ اندوزوں کیخلاف کاروائیوں کرتے ہوئے ذخیرہ اندوزوں کو2.79 کروڑ کے جرمانے، 347 مقدمات، 244 گرفتاریاں اور 480 گودام سیل کیے گئے۔ ملتان میں مخدوم رشید کے علاقے میں اسسٹنٹ کمشنر صدر نے کارروائی کرتے ہوئے جعلی کھاد تیار کرنے والی فیکٹری پکڑ لی، فیکٹری سے جعلی کھاد کی 125 بوریاں برآمد کر لی گئی اور مالک کو گرفتار کرلیا گیا۔پنجاب حکومت نے مختلف کارروائیوں میں 2.76 لاکھ ٹن کھاد قبضے میں لی ہے۔ فرٹیلائرز انڈسٹری نے رئیل ٹائم پورٹل کے ذریعے تازہ ترین کھاد کی فراہمی کے اعداد وشمار پیش کئے گئے۔ان اعدادوشمار کے مطابق پچھلے سال کی نسبت پنجاب میں یوریا کی سپلائی 4فیصد کم ہے۔ سندھ میں اس سال طلب کے لحاظ سے یوریا سپلائی 52 فیصد سے زائد ہے۔ پاکستان میں یوریا بنانے والی صنعت کا کہنا ہے کہ انھوں نے تو یوریا ملکی ضرورت کے عین مطابق بنائی تھی یعنی پاکستان میں اس وقت چھ عشاریہ سات ملین ٹن یوریا بنانے کی صلاحیت موجود ہے جبکہ ملک میں اس کی مانگ چھ ملین ٹن سے کچھ زیادہ بتائی گئی تھی۔تو پاکستان میں صنعت ضرورت کے مطابق کھاد پیدا کر رہی ہے تو ملک میں یوریا کی سپلائی کم اور قیمت زیادہ کیسے ہو گئی؟بحران کی یہ صورتحال شدت اختیار کر رہی ہے کیونکہ کسان کو گندم کے بعد گنے اور مکئی کی فصلوں کے لیے یوریا کی ضرورت ہو گی اور اس میں زیادہ وقت باقی نہیں رہا۔ کسانوں کو ڈر ہے کہ ربی کے بعد خریف کی فصلیں بھی یوریا کے بحران سے متاثر ہو سکتی ہیں۔جن وجوہات کے بعدیوریا کھاد کابحران پیدا ہوا اگر ان کا سدباب نہیں کیا گیا تو یہ ایک رجحان بن جائے گا اور آنے والے برسوں میں بھی ہماری تمام بڑی فصلوں کو خطرہ ہو گا۔گر ایسا ہوا تو پاکستان کو خوراک کی کمی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ سسٹم میں سے ایک بڑی مقدار میں کھاد نکل کر اگر ذخیرہ کی گئی ہے تو یہ ذخیرہ اندوزوں کے لیے ایک بہت بڑے منافع کا سبب بنے گی۔یہ غیر قانونی منافع خوری ایک سسٹم کی شکل اختیار کر سکتی تھی جس کی وجہ سے آنے والے برسوں میں بھی کسانوں کو اس کا نقصان ہو گا۔صوبہ بلوچستان میں بالائی علاقے کے کسانوں کو خاص طور پر مشکلات کا سامنا ہے جہاں صوبے میں زیادہ گندم کاشت ہوتی ہے۔ ملک کی مجموعی پیداوار میں اس کا حصہ شاید اتنا زیادہ نہیں ہوتا لیکن بلوچستان اس لیے اہم مقام ہے کہ اس کے راستے گندم ملک سے باہر سمگل ہوتی ہے۔حال ہی میں صوبائی حکومت نے بلوچستان میں ایران اور افغانستان کے ساتھ واقع سرحدی علاقوں کے دس کلومیڑ کے اندر کھاد کی ترسیل پر پابندی عائد کر دی ہے۔اس کے ساتھ بلوچستان کی صوبائی حکومت نے دیگر تین صوبوں کی جانب سے بلوچستان کے داخلی راستوں پر چیک پوسٹس قائم کرنے کی تجویز دی ہے تاکہ وہاں سے داخل ہونے والی مال بردار گاڑیوں کی چیکنگ کی جا سکے۔ یہ اقدامات کھاد کی مبینہ سمگلنگ کو روکنے کے لیے کیے گئے ہیں۔ ذرائع کے مطابق وفاقی حکومت کا مسئلہ یہ تھا کہ یوریا کے بحران کو حل کرنے کے لیے وہ کھاد بڑی مقدار میں باہر سے درآمد بھی نہیں کر سکتی تھی کیونکہ عالمی منڈی میں اس کی قیمت پاکستان میں ملنے والی یوریا کے مقابلے میں کئی گنا زیادہ تھی۔ باہر سے ملنے والے یوریا کے بیگ کی قیمت دس ہزار پاکستانی روپے سے زیادہ تھی۔ پاکستان میں اگر خریف کی فصلوں کو بھی ایسے ہی بحران کا سامنا کرنا پڑا تو ماہرین کے مطابق پاکستان کی زرعی اجناس کی برآمدات میں بھی کمی آئے گی۔
وفاقی وزیر برائے صنعت و پیداوار مخدوم خسرو بختیار کا کہنا تھا کہ کھاد کی بین الصوبائی ترسیل کے اعدادوشمار سے ظاہر ہوتا ہے کی سندھ میں اس کی ذخیرہ اندوزی کی گئی ہے، حکومت سندھ یوریا ذخیرہ اندوزوں کے خلاف کارروائی کرنے میں ناکام رہی،سندھ حکومت کی نا اہلی کی وجہ سے یوریا کی بلیک مارکیٹنگ ہوئی۔پاکستان کسان اتحاد کے صدر خالد کھوکھرکے مطابق صوبہ پنجاب کے جنوبی علاقوں میں حالات زیادہ خراب تھے جہاں یوریا کسانوں کو نہیں مل رہی۔ ان کے خیال میں حالیہ بحران کی تین بڑی وجوہات ہیں جن سے حکومت کو قبل از وقت خبردار کیا گیا تھا تاہم ان پر بروقت دھیان نہیں دیا گیا۔ایک تو ملک میں کارخانوں کو گزشتہ چند ماہ کے دوران گیس کی فراہمی نہ ہونے کی وجہ کھاد کی پیداوار میں دو لاکھ ٹن کے فقدان کا سامنا کرنا پڑا۔ دوسرا عالمی منڈی میں یوریا کی قیمتیں بہت زیادہ بڑھ گئیں جس کی وجہ سے یوریا سمگل ہوئی۔اس کے بعد یوریا کی کمی کی بڑی وجہ ذخیرہ اندوزی ہے جس کو روکنا حکومت کی ذمہ داری تھی۔ ان کے تخمینے کے مطابق اس کی وجہ سے ملک میں چار لاکھ ٹن یوریا کی کمی کا سامنا ہے۔ اب جو تھوڑی بہت یوریا کسانوں کو مل رہی ہے یہ وہی ہے جو روزانہ کی بنیاد پر بن رہی ہے اور روزانہ کی بنیاد پر استعمال ہو رہی ہے۔
سندھ آبادگار بورڈ کے نائب صدر محمود نواز شاہ کے مطابق ملک میں ضرورت سے زیادہ یوریا بنائی گئی لیکن اس کی سپلائی میں حالیہ کمی کی وجہ صوبائی اور وفاقی دونوں سطح پر حکومتی نگرانی کا فقدان ہے۔ان کا کہنا تھا کہ کھاد تیار کرنے والی کمپنیوں نے تو کھاد ڈیلرز کو فراہم کر دی جنھوں نے اسے آگے کسان تک پہنچانا تھا لیکن اگر وہ کسان تک نہیں پہنچی تو اس کا مطلب ہے وہ ڈیلرز کی سطح پر غائب ہوئی اور ڈیلرز کو کنٹرول کرنا صنعت کی ذمہ داری نہیں تھی۔یہ بھی ایک بہانہ ہی ہے کہ یوریا افغانستان سمگل ہو گئی۔ ایسا کیسے ہو سکتا ہے کہ اتنی بڑی مقدار میں کھاد سمگل ہو اور حکومت کو اس کا پتہ نہ چلے اور وہ اسے روک نہ سکے۔محمود نواز شاہ کے مطابق یہ حکومت کا کام تھا کہ وہ اس بات کی نگرانی کرے کہ اگر صنعت کی طرف سے کھاد ڈیلر کو پہنچائی گئی تو وہاں سے وہ کدھر گئی۔سندھ آبادگار بورڈ کے نائب صدر محمود نواز شاہ سمجھتے ہیں کہ اس بحران سے نہ صرف گندم کی فصل میں پاکستان کو کئی ملین ٹن کی گندم کی کمی کا سامنا ہو گا بلکہ خریف کی فصلوں میں بھی نقصان کا خدشہ ہے۔س طرح پاکستان میں خوراک کی کمی کا بحران بھی پیدا ہو سکتا تھا جس کو پورا کرنے کے لیے حکومت کو زیادہ خوراک درآمد کرنا پڑے گی۔
پاکستان میں ربیع کی فصل کی کاشت مکمل ہو چکی ہے لیکن کھاد کی عدم دستیابی یا کمی کے باعث کاشت کار شدید پریشانی میں مبتلا ہیں کہ فصلوں کو بروقت کھاد نے دینے کی وجہ سے اْنہیں نقصان پہنچ رہا ہے۔ پاکستان ایک زرعی ملک ہے لیکن تاحال زرعی اصلاحات سے محروم ہے۔ تحریک انصاف کی حکومت کا نعرہ ملک میں کسان کی ترقی اور زراعت کا فروغ ہے لیکن وہ تاحال اِس نعرے کو عملی شکل دینے میں ناکام نظر آتی ہے۔ حکومت کو چاہئے کہ اپنی ضلعی پرائس کنٹرول کمیٹیوں کو فعال کرے، جو اصل قیمت پر کھاد کی فروخت کو یقینی بنائیں۔ پاکستان کو زرعی اجناس کی ضروریات کے حوالے سے خودکفیل ملک بنانے کیلئے ضروری ہے کہ یہاں کے کسان کی مشکلات کم کی جائیں۔کسان خوشحال ہوگا تو پاکستان خوشحال ہوگا۔

qaiserchohan81@gmail.com

image_pdfimage_print
شیئرکریں