Voice of Asia News

عقل صرف خدا کی دین ،سیف اعوان

عقل،سوچ اور ذہانت بازار سے نہیں خریدی جا سکتی یہ صرف خدا کی دین ہوتی ہے جس کو چاہے زیادہ دے جس کو چاہے کم دے۔ایک ماں کے اگر دوبیٹے ہوتے ہیں لازمی نہیں ان دونوں کی سوچ،عقل اور ذہانت کا پیمانہ بھی ایک جیسا ہی ہو۔جبکہ ان دونوں کو جنم ایک ہی ماں نے دیا ہے اس کے باوجود ان میں مختلف عادات اور کام کرنے کے انداز پائے جاتے ہیں ۔ہمارے علاقے میں نوے کی دہائی میں اپنے وقت کے امیر ترین تصورکیے جانے والے ایک شخص کے دو بیٹے تھے ۔والد کا اچھا خاصا کامیاب کاروبار تھا ۔بڑا بیٹا انتہائی محنتی اور عقلمند تھا جبکہ چھوٹا بیٹابدزبان، عیاش اور فضول خرچ تھا ۔چھوٹے بیٹے کا شوق ہر دو ماہ بعد نئی اور مہنگی گاڑی خریدنا ہے۔ایک دن اچانک ان کا والد انتقال کرجاتا ہے اب بڑا بیٹا کاروبار اپنی عقل اور سوچ کا استعمال کرتے کامیابی سے چلانا شروع کردیتا ہے۔پھر ایک دن اچانک بڑے بھائی کو ہاٹ اٹیک ہوتا ہے اوور وہ جان لیوا ثابت ہوتا ہے۔اب تمام کاروبار کی ذمہ داری عیاش اور فضول خرچ بیٹے کے کندوں پر آجاتی ہے۔پھر دیکھتے دیکھتے اس خوشحال اور امیر ترین فیملی کا تمام کاروبار ٹھپ ہوجاتا ہے اور والد کی تمام اراضی بھی آہستہ آہستہ فروخت کردی جاتی ہے ۔آج وہی عیاش اور فضول خرچ چھوٹا بیٹا ایک ایک سگریٹ لوگ سے مانگ کر پیتا ہے اور کوئی شخص اس کے پاس بیٹھنا پسند نہیں کرتا ۔
پرانے وقتوں کی بات ہے کسی بادشاہ کے دربار میں ایک اجنبی آتا ہے اور بادشاہ سے نوکری کی درخواست کرتا ہے۔بادشاہ اس کی قابلیت دریافت کرتا ہے۔اجنبی بتایا ہے کہ وہ ایک سیاسی آدمی ہے۔عربی میں سیاسی کا مطلب ہے کسی بھی مسئلے کا حل افہام تفہیم سے نکالنے والا شخص اور معاملہ فہم۔بادشاہ کے پاس تو پہلے ہی سیاستدانوں کی لمبی قطار لگی تھی ۔لیکن اتفاق سے بادشاہ کے اصطبل کا رکھوالا کل ہی انتقال کرگیا تھا لہذا بادشاہ نے اس کو اصطبل کا رکھوالا بنادیا ہے۔کچھ دنوں بعد بادشاہ اصطبل میں آتا ہے اور اس شخص سے اپنے سب سے عزیز گھوڑے کے بارے میں دریافت کرتا ہے۔اس نے کہا بادشاہ سلامت یہ گھوڑا نسلی نہیں ہے ۔بادشاہ بہت حیران ہوتا ہے اور فورا حکم دیتا ہے اس شخص کو ہمارے سامنے لایا جائے جس سے یہ گھوڑا خریدا گیا ہے۔لہذا سپاہی دور کہی جنگل سے اس شخص کو تلاش کرکے لے آتے ہیں ۔بادشاہ اس سے پوچھتا ہے کہ تم نے تو کہا تھا یہ نسلی گھوڑا ہے ۔اس شخص نے کہا بادشاہ سلامت یہ گھوڑا ہے تو نسلی لیکن ان کی پیدائش کے وقت اس کی ماں کا انتقال ہو گیا تھا یہ گھوڑا ایک گائے کا دودھ پی کر جواں ہوا ہے اور اس نے اپنا بچپن بھی گائے کی ساتھ ہی گزارا ہے۔بادشاہ نے اس کو جانے دیا اور اصطبل کے رکھوالے کو بلایا بادشاہ نے اس سے دریافت کیا کہ تمہیں کیسے معلوم ہوا یہ گھوڑا نسلی نہیں ہے۔اس نے جواب دیا بادشاہ سلامت یہ گھوڑا جب گھاس کھاتا ہے تو گائیوں کی طرح منہ نیچے کرکے کھاس کھاتا ہے جبکہ اصلی النسل گھوڑا ہمیشہ گھاس منہ میں لے کر سر اٹھالیتا ہے۔بادشاہ اس کی فہم فراصت سے خاصا متاثرہوتا ہے اس کے گھر میں گندم،گھی،بنے دنبے اور پرندوں کا اعلی گھوشت بطور انعام بھجوادیا اور ساتھ اس کو ملکہ کے محل میں تعینات کردیا۔کچھ عرصے بعد بادشاہ نے اپنے مصاحب سے اپنی بیوی کے بارے میں رائے مانگی۔اس نے کہا اس کے طور اطوار تو ملکہ جیسے ہیں لیکن یہ کسی بادشاہ کی بیٹی نہیں ہے۔یہ سن کے بادشاہ کے پیروں تلے زمین نکل گئی۔بادشاہ نے اپنے حواس کچھ درست کیے ۔بادشاہ نے فورا اپنی ساس کو بلایا اور اس کے سامنے یہ معاملہ رکھا ۔بادشاہ کی ساس نے کہا جب ہمارے گھر بیٹی پیدا ہوئی تھی تو آپ کے والد نے ہم سے ہماری بیٹی کا آپ کیلئے رشتہ مانگ لیا لیکن ہماری بیٹی پیدائش کے دو ماہ بعد ہی انتقال کرگئی لہذا ہم نے آپ کے والد سے اچھے تعلقات قائم رکھنے کیلئے اس بچی کو گود لے لیا ۔اس کی پرورش کرکے تمہارے ساتھ شادی کردی۔بادشاہ نے اپنے مصاحب سے پوچھا تمہیں کیسے پتہ چلا یہ بادشاہ کی بیٹی نہیں ہے اور نہ ہی شہزادی ہے۔تو مصاحب نے جواب دیا اس کا اپنے خادموں کے ساتھ سلوک ٹھیک نہیں ہے جبکہ کوئی بادشاہ کی بیٹی یاشہزادی اس طرح اپنے خادموں کے ساتھ پیش نہیں آتی۔بادشاہ اس کی فراصت سے بہت متاثر ہوا اور اس کو بہت بھیڑ بکریا ں اور اناج بطور انعام دیا۔بادشاہ نے اب اس کو اپنے دربار میں تعینات کردیا۔کچھ عرصے بعد بادشاہ نے اس سے اپنے بارے میں دریافت کیا ۔مصاحب نے کہا اگر جان کی امان پاؤں تو عرض کرو؟بادشاہ نے اس کو جان کی امان دی تو مصاحب نے کہا آپ ہیں تو بادشاہ لیکن نہ آپ بادشاہ کے بچے ہو اور نہ آپ کا چال چلن بادشاہوں جیسا ہے۔بادشاہ یہ الفاظ سن کے آگ بگولا ہو گیا ۔بادشاہ فورا غصے سے چلایا اور چیختا چلاتا اپنی والدہ کے پاس چلا گیا ۔بادشاہ کی والدہ نے کہا ہاں تم کسی بادشاہ کے بیٹے نہیں ہو بلکہ ایک چرواہے کی بچے ہو ۔بادشاہ نے مصاحب سے دریافت کیا تمہیں کیسے پتہ چلا میں بادشاہ کا بیٹا نہیں ہوں؟مصاحب نے کہا بادشاہ جب بھی کسی کو انعام و کرام دیتے ہیں تو ہیرے ،موتی اور جواہرات دیتے ہیں لیکن آپ ہر کسی کو اناج،بھیڑ بکریاں بطور انعام دیتے ہیں یہ اسلوب بادشاہ کا نہیں بلکہ کسی چرواہے کے بیٹے کا ہی ہوسکتا ہے۔کہتے ہیں عادات،اخلاق اور طرز عمل ہی خون اور نسل کی پہچان ہوتا ہے۔اورعقل ،سوچ اور ذہانت خدا کی دین ہوتے ہیں اور یہ تینوں چیزیں رکھنے والوں کیلئے لازمی نہیں کہ ان کا تعلق کسی اعلیٰ نسل سے بھی ہوں ۔
اس وقت کابینہ میں شاید ایک بھی ایسا مشیر یا وزیر نہیں جو عقل،سوچ یا ذہانت رکھنے والا ہوں اورعمران خان کیلئے مصاحب ثابت ہوسکے۔کبھی یہی وزیر اور مشیرمہنگائی کا ذمہ دار اپوزیشن کو ٹھہراتے اور کبھی بیوروکریٹس کو۔اگر ایک بدزبان ،عیاش اور فضول خرچ امیرترین فیملی کو کوڑی کوڑی کا محتاج کرسکتا ہے توکوئی مصاحب اس ملک اور عوام کو مزید مہنگائی اوربحران سے بچانے کی صلاحیت بھی رکھتا ہے ۔اب وقت آگیا ہے کہ طاقتور دیوتا فرد واحد کو بچانے کی بجائے ملک کو بحران سے بچانے کے متعلق سوچیں ۔دیوتاؤں کی پوجا ہمیشہ ان کے بچاری ہی کرتے ہیں اگر پجاری بھی نہ رہے تو دیوتاؤں کے دربار بھی خالی ہو جائیں ۔
(بلاگر ایک صحافی ہیں ،سیاسی اور سماجی ایشوز پر بلاگ بھی لکھتے ہیں)
saifawan60@gmail.com

image_pdfimage_print
شیئرکریں
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے