Voice of Asia News

امریکی سائنس دانوں نے وائرس قاتل ماسک تیار کرلیا

واشنگٹن(وائس آف ایشیا) ماہرین کا خیال ہے کہ ماسک سانس کے ذریعے خارج ہونے والے وائرسز اور وائرل جراثیم کو روکنے میں کافی حد تک موثر ثابت ہوئے ہیں۔میڈیارپورٹس کے مطابق امریکا کی نارتھ ویسٹرن یونیورسٹی کے محققین کا کہنا ہے کہ کپڑے سے تیار کردہ ماسک میں انہوں نے جراثیم کش کیمیکلز کا اضافہ کرکے انہیں ایسا بنا دیا کہ ان کے ذریعے منہ کو ڈھانپنے سے دوسرے شخص کی طرف سے سانس خارج کرتے وقت نکلنے والے جراثیم کو تلف کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔اس طرح یہ ماسک حقیقی معنوں میںجراثیم سے بچائو میں معاون ثابت ہوسکتا ہے۔پروفیسر ہایو ہوانگ کی زیرنگرانی کی گئی اس تحقیق میںکہا گیا ہے کہ ماسک پہن کر بھی بات کرنے والے شخص کے منہ سے وائرس کا اخراج ہوتا ہے مگر اینٹی وائرل کیمیکلز کے استعمال سے ان کا تدارک ممکن ہے۔ماہرین کا کہناتھا کہ وہ جراثیم کش ماسک کی تیاری کے لیے فاسفورس ایسڈاور کاپر نمک مرکبات کا استعمال کرتے ہیں۔ ان مرکبات کے استعمال کا کوئی سائیڈ افیکٹ بھی نہیں اور ماسک پہننے والے کے لیے یہ ایک محفوظ ماسک ہے جو ماسک کی جالی سے باہر نکلنے والے وائرسز کو کچل دیتا ہے۔
image_pdfimage_print
شیئرکریں
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے