Breaking News
Voice of Asia News

گستاخ فرانس اور مسلم ممالک کے حکمرانوں کی بے حسی : آغا سید حیدر شاہ

انسانیت کے خلاف جرائم کی سیاہ ترین تاریخ رکھنے والے فرانس نے اسلام اور مسلمانوں کے خلاف ایک بار پھر اعلانِ جنگ کررکھا ہے۔ ریاستی سرپرستی میں جاری گستاخانہ خاکوں کا معاملہ عالم اسلام کے لیے کوئی معمولی بات نہیں۔ اس مکروہ فعل سے ایک ارب 80 کروڑ مسلمانوں کے جذبات مجروح ہو رہے ہیں، لیکن فرانس کی متعصب حکومت اس شرانگیزی سے باز آنے کے بجائے اس نفرت اور دشمنی کی اس آگ کو مسلسل ایندھن فراہم کررہی ہے۔ فرانسیسی صدر اور عہدے داروں کی زہریلی زبان مسلسل اشتعال بڑھا رہی ہے۔تاریخ گواہ ہے کہ فرانس نے اپنے استعماری دور میں افریقا میں انسانوں کا کس طرح استیصال کیا اور آج تک کررہا ہے۔ فرانس نے افریقا کے 20 سے زائد ممالک پر 450 سال تک قبضہ کیے رکھا۔ ان ممالک کے قدرتی وسائل لوٹنے اور مقامی باشندوں کو غلام بنا کر دنیا بھر میں فروخت کرنے کے ساتھ جو قتل عام کیے گئے، وہ ناقابل بیان ہیں۔ صرف روانڈا میں 1994ء کے دوران 8 لاکھ افراد کو قتل کیا گیا۔ یہ غلیظ تاریخ رکھنے والے کسی ملک کو کوئی حق نہیں کہ وہ فاشزم کو اسلام اور دہشت گردی کو مسلمانوں سے منسوب کرے۔ ملائیشیا کے سابق وزیر اعظم مہاتر محمد نے بھی فرانس کو اس کا حقیقی چہرہ دکھاتے ہوئے کہا ہے ماضی میں فرانسیسیوں نے لاکھوں مسلمانوں کا قتل عام کیا۔ یوں مسلمانوں کو غصہ کرنے اور لاکھوں فرانسیسیوں کو قتل کرکے بدلہ لینے کا حق ہے، لیکن مسلمانوں نے ایسا نہیں کیا اور کسی کو ایسا کرنا بھی نہیں چاہیے۔ حقیقت یہ ہے کہ فرانس نے آزادی اظہار اور جمہوری حقوق کے تحفظ کے نام پر سرکاری سرپرستی میں توہین اسلام کا جو سلسلہ شروع کر رکھا ہے، وہ ایک جنگی اقدام ہے۔ تاہم افسوس کامقام ہے کہ اسلامی دنیا اور مسلمان ممالک اس کے خلاف زبانی جمع خرچ پر تکیہ کیے ہوئے ہیں۔ مسلمان اپنی حکومتوں سے سوال کررہے ہیں کہ کیا کوئی اقدام اور وہ بھی ایسا جو جنگی ہو، اس کے جواب میں بیان داغ دینا، خط لکھ دینا اور چند ٹیلی فون گھما دینا کافی ہے۔ اب تک کسی اسلامی ملک نے فرانس سے اپنا سفیر بلایا اور نہ ہی تعلقات ختم کرنے کا اعلان کیا۔ اس معاملے میں مسلمان ممالک کی غیرسنجیدگی اور غفلت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ فرانسیسی حکومت نے کسی کے بیان کو سنجیدہ ہی نہیں لیا۔ صرف ترکی نے اپنا سفیر واپس بلایا ہے۔اسلامی ممالک کی حکومتوں کے برخلاف مسلمانوں نے اپنے طور پر فرانسیسی مصنوعات کا بائیکاٹ کیا اور بڑے پیمانے پر اس حوالے سے مہم چلائی۔ فرانسیسی حکومت نے خود کو ’’لاتوں کا بھوت‘‘ ثابت کرتے ہوئے مسلمانوں کے اس اقدام سے ناصرف خطرہ محسوس کیا، بلکہ اسلامی ممالک کی حکومتوں سے مطالبہ کیا کہ وہ یہ مہم چلانے کی اجازت نہ دیں۔ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ اسلامی ممالک اور ان کی حکومتیں جب تک فرانس کے خلاف کوئی راست اقدام نہیں کریں گی، اس کی جانب سے یہ نفرت، اشتعال اور دشمنی کا سلسلہ نہیں رکے گا۔ مسلمانوں کے نزدیک رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم اپنی جان، اولاد اور مال سے زیادہ عزیز ہیں، لیکن ان کے ٹیکسوں پر پلنے اور چلنے والی ریاستیں مسلمانوں کی سب سے محبوب شخصیت کے ناموس کا تحفظ کرنے کو تیار نہیں۔ اس کی وجہ عالمی برادری کے سامنے خود کو امن پسند، روادار اور بقائے باہمی کے جذبے سے سرشار دکھانا ہے، لیکن یہ سب ڈھکوسلا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مغرب اسلامی ممالک کے تمام تر خوش نما، مصالحانہ اور امن پسندانہ بیانات کو خاطر میں لانے کے بجائے اپنے جامے سے مسلسل باہر آرہا ہے۔
پورا عالم اسلام کم ازکم مسلمانان عالم تو ناموس رسالت پر فرانسیسی حملے پر دل گرفتہ ہیں۔ رسولوں پر سب و شتم ان کو جادوگر کہنا ان کو قتل کرنا ان کی توہین کی کوشش کرنا یہ سب کام کفار کے پرانے حربے ہیں اور ایسا ہوتا رہا ہے۔ جب تک انبیاء دُنیامیں آتے رہے اﷲ کا نظام ان کی عصمت اور ان کی حفاظت میں بروئے کار آتا رہا۔ اﷲ کا غضب پوری قوم کو تباہ کرنے کا سبب بھی بنا اور صفحہ ہستی سے بھی مٹا دیا گیا اور بہت سوں کو تا قیامت عبرت کا نمونہ بنایا گیا۔ حضور اقدس ؐکے ختم نبوت اور ناموس رسالت کی حفاظت امت دو ہی طرح کر سکتی ہے۔ دْنیا بھر کے مسلمان سنت رسولؐپر پوری طرح عمل پیرا ہوں اور مسلمان حکمران اپنے اپنے ملکوں میں سنت کے مطابق حکمرانی کریں۔ ہمارے عوام کی اکثریت دلوں میں اپنے نبیؐسے محبت رکھتی ہے۔ ان کی ناموس کے لیے جاں بھی قربان کرنے کو تیار رہتی ہے اور مسلمان اپنے نبیؐکی شان میں گستاخی پر جان لے بھی سکتا ہے۔ لیکن اﷲ نے اپنے انبیاء کو لوگوں کی جانیں لینے اور اپنی جانیں دینے کے لیے مبعوث نہیں فرمایا تھا بلکہ اس دُنیا میں اپنا دین غالب کرنے کے لیے مبعوث فرمایا تھا خواہ وہ مشرکوں یا کفار کو کتنا ہی ناگوار گزرے اور جب یہ ناگوار گزرتا ہے تو وہ اپنا غصہ نکالنے کے لیے خاکے بناتے ہیں۔ آزادی اظہار کا سہارا لیا جاتا ہے لیکن ان کا بس نہیں چلتا کہ اسلام کو جڑ سے اکھاڑ پھینکیں۔ جدید دور کا المیہ یہ ہے کہ دُنیا بھر کے مسلمان حکمران مغرب کے غلام یا مغربی ذہنیت سے مرعوب ہیں۔ اپنے اپنے ملکوں میں مغرب سے درآمد شدہ قوانین مسلط کرتے ہیں۔ اسلام کے فروغ کی تحریکوں کو روکتے ہیں اور اس کے خلاف بات کرتے یا انتشار اور ابہام پھیلانے والوں کی ہمت افزائی کرتے ہیں۔ دُنیا کے ادارے مغرب کے کنٹرول میں ہیں دُنیا کا نظام ان کے کنٹرول میں ہے۔ اگر کہیں کوئی موازنہ کیا جائے تو اندازہ ہوگا کہ آج کے دور میں نام نہاد آزاد، مہذب اور ترقی یافتہ دُنیانے سب سے زیادہ شیطان کی ذہنی غلام، غیر مہذب اور ذہنی طور پر غیر ترقی یافتہ ہونے کا ثبوت دیا ہے۔ جدید دور میں مغربی یہودی، ہنود، بدھ، چینی ریاستوں نے اسلام کے خلاف ریاستی سطح پر بھرپور کارروائیاں کی ہیں۔ میڈیا کو دُنیا بھر میں اسلام کو بدنام کرنے کے لیے استعمال کیا گیا۔ امریکی اور مغربی حکمرانوں نے مہذب غیر جانبدار اور جمہوریت پسند ہونے کا لبادہ اوڑھ کر سب سے زیادہ حملے کیے۔ یہود اور ہنود کے حملوں کی توقع تو امت مسلمہ کو ہمیشہ رہتی تھی۔ لیکن مغرب کے پروپیگنڈے کے نتیجے میں امریکا و یورپ میں مساجد پر حملے، داڑھی والوں پر حملے، حجاب والی خواتین پر حملے اور قتل، برقع کو خوف کی علامت قرار دینا، پابندیاں لگانا، قرآن پاک کی توہین وغیرہ سب سے زیادہ کیے گئے۔ اسرائیل میں ایسا ہوتا ہے اور وہ کرتے رہیں گے۔ انبیاء کی توہین، قتل اور ان کو جھٹلانا ان کی ہزاروں سال کی تاریخ ہے اور ہندوؤں کی جانب سے پورے بھارت میں 25 کروڑ مسلمانوں پر طرح طرح کے عذاب مسلط کیے جاتے ہیں۔ یہ سب لوگ جمہوریت پسند، مہذب اور ترقی یافتہ کہلاتے ہیں۔ حالانکہ یہ ہر اعتبار سے جہالت کے آئینہ دار ہیں۔ سوال یہی پیدا ہوتا ہے کہ امت مسلمہ کیا کرے۔ مسلمان کیا کریں جو کچھ مسلم حکمرانوں کو کرنا تھا وہ تو اس پر رتی بھر عمل نہیں کر رہے۔ یہ ایک طویل عمل ہے جس طرح توہین انبیاء کرنے والے ہزاروں برس کی تاریخ رکھتے ہیں تو تعمیل انبیاء کرنے والے بھی اپنی تاریخ رکھتے ہیں۔ اسلام سلامتی کا مذہب ہے۔ حضورؐنے جتنے وفود بھیجے سب کو سلام پھیلانے کا حکم دیا۔ جنگوں کے دوران لڑنے کے آداب بتائے۔ قیدیوں سے سلوک کا طریقہ سکھایا۔ دعوت کا طریقہ سکھایا۔ اگر مسلمان ناموس رسالت کا حقیقی تحفظ کرنا چاہتے ہیں تو انہیں اپنے نبیؐ کے سکھائے ہوئے طریقوں پر عمل کرنا ہوگا۔ اصل خرابی تو مسلمان ملکوں میں مسلمان حکمرانوں نے پیدا کی ہے یہ لوگ خود اسلام اور اسلامی قوانین کی راہ میں رکاوٹ بنتے ہیں۔ آج کل امت مسلمہ کی قیادت کے دعویدار دو ممالک سعودی عرب اور ترکی ہیں۔ ترکی کسی حد تک یہ کردار ادا کر رہا ہے۔ سعودی حکومت اپنے مسائل اور مجبوریوں کا شکار ہے۔ لیکن پاکستان میں عمران خان نے مدینے کی ریاست قائم کرنے کا اعلان کیا تھا۔ ریاست انہیں مل گئی قیادت پر وہ فائز ہیں لیکن مدینے کی ریاست کی لاج نہیں رکھ سکے۔ نہ کوئی دستہ ایسے ناہنجار کی بیخ کنی کے لیے روانہ کیا نہ بین الاقوامی سطح پر فرانس کا گھیراؤ کیا۔ یہ سب کرنے میں ذہنی مرعوبیت رکاوٹ ہے۔ ہمارے حکمران اس مرعوبیت سے نکلیں تو کچھ کر سکیں گے۔ عمران خان پر تو نواز شریف، اپوزیشن لیڈرز اور پی ڈی ایم سوار ہے۔مسلمانان عالم سنت پر عمل کریں گے اور سنت کے نفاذ کے علمبرداروں کو امامت کے منصب پر سرفراز کریں گے تو اسلام اپنی شان و شوکت پر ایک بار پھر حاصل کر سکتا ہے۔ جب دْنیا میں اسلام غالب قوت ہوگا تو یہ توہین رسالت کرنے والے اپنے بلوں میں دبک کر رہ جائیں گے۔ مسلمانوں کی اصل ذمے داری یہی ہے کہ اﷲ اور اس کے رسولؐکا پیغام عام کریں اس کو نافذ کریں اور دْنیا میں پھیلائیں۔ اگر اس راہ میں کوئی رکاوٹ بنتا ہے تو اسے ہٹا کر مومنین اور صالحین کے ہاتھ میں امامت دے دیں۔ یہ سب کرنے کے لیے دین سے قربت ضروری ہے۔ خود عمل کریں گے تو دوسروں کو اس کی ترغیب دے سکیں گے۔ شان رسالتؐکے تحفظ کا طریقہ پیغام رسالتؐپر عمل میں ہے۔
(نوجوان صحافی کوئٹہ میں وائس آف ایشیا کے نمائندہ خصوصی ہیں اورمختلف موضوعات پر لکھتے ہیں)

hoonroot90@gmail.com

image_pdfimage_print
شیئرکریں
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے