Voice of Asia News

کشمیریوں سے نمائشی یکجہتی کا اظہار آخر کب تک ۔۔۔؟:سید اقبال احمد ہاشمی

مقبوضہ جموں و کشمیر کے مظلوم اور مجبور عوام کی لازوال قربانیوں کے اعتراف اور حق خودارادیت کی بے مثال جدوجہد سے ہم آہنگی کے اظہار کے لیے اہل پاکستان پانچ فروری کو ’’یوم یکجہتی کشمیر‘‘ مناتے ہیں۔یہ دن پانچ فروری 1990 کوسابق امیر جماعت اسلامی پاکستان قاضی حسین احمد (مرحوم )کی تجویز پر منایا گیا تھا۔ یہ مرحوم کے خلوص کا ثمر ہے کہ آج یوم یکجہتی کشمیر قومی بلکہ بین الاقوامی حیثیت اختیار کر چکا ہے، دنیا میں جہاں کہیں بھی مسلمان اور پاکستانی موجود ہیں سرکاری و نجی سطح پر وہ رنگ و نسل، لسانی و علاقائی، سیاسی و طبقاتی اور فرقہ و مسلک کی وابستگیوں سے بالاتر ہو کر اپنے کشمیری بھائیوں سے اظہار یکجہتی کے لیے آواز بلند کرتے ہیں تمام مکاتب فکر کے علماو طلبا، اہل دانش و صحافت، تاجر، مزدور، سیاسی و سماجی کارکنان، خواتین و حضرات، بچے بوڑھے اور جوان ریلیوں، جلسوں، جلوسوں، مذاکروں اور مباحثوں وغیرہ کے ذریعے کشمیری عوام کے حق خودارادیت اور بھارتی ظلم و جبر سے آزادی کے حق میں نعرہ زن ہوتے ہیں۔ اس کا ایک پس منظر یہ بھی ہے کہ خود بانی پاکستان نے کشمیر کو پاکستان کی شہ رگ قرار دیا تھا اور ظاہر ہے شہہ رگ دشمن کے قبضہ میں ہوتے ہوئے کسی بھی جسم کا زندہ رہنا مشکل ہی نہیں محال ہو جاتا ہے۔ کشمیر کی اسی اہمیت کے پیش نظر قیام پاکستان کے فوری بعد نہایت مشکل حالات میں جب کہ خود نومولود مملکت کی سلامتی و استحکام کو شدید خطرات لاحق تھے، بانی پاکستان نے حالات کی نزاکت اور خطرات کی شدت کی پرواہ کئے بغیر مسلح افواج کے اس وقت کے کمانڈر انچیف جنرل ڈگلس گریسی کو مملکت خداداد کی شہ رگ دشمن کے پنجہ استبداد سے آزاد کرانے کا حکم دیا اگر اس وقت قائد کی ہدایات پر عمل کیا جاتا تو یہ مسئلہ تب ہی حل ہو گیا ہوتا جس کا واضح ثبوت قائد کی خواہش کے احترام میں قبائلی مجاہدین کی طرف سے کشمیر میں کی جانے والی پیش قدمی ہے جس کے نتیجے میں خطے کا ایک حصہ آج آزاد کشمیر کی صورت میں موجود ہے،مجاہدین جس رفتار سے آگے بڑھ رہے تھے، قریب تھا کہ وہ پورے جموں و کشمیر کو آزاد کروا لیتے مگر بھارت معاملہ اقوام متحدہ میں لے گیا، جہاں جنرل اسمبلی اور سلامتی کونسل دونوں نے اپنی الگ الگ منظور کردہ قراردادوں میں کشمیری عوام کے حق خود ارادیت کو تسلیم کرتے ہوئے کشمیر میں استصواب رائے اور سیز فائر کا فیصلہ دیا۔ تب سے اب تک بھارتی حکمران کشمیری عوام سے کئے ہوئے حق رائے دہی کے وعدے کو مختلف حیلوں بہانوں سے ٹالتے چلے آئے اور اقوام متحدہ نے بھی استصواب رائے کے لیے کوئی ٹھوس اقدام نہیں کیا دوسری جانب کشمیری عوام نے ہر طرح کے ظلم اور جبر کے باوجود بھارت کے تسلط کو کسی بھی صورت قبول کرنے سے انکار کر دیا اور جدوجہد آزادی میں بے مثال قربانیوں کی درخشاں مثالیں قائم کیں، بھارت میں جنتا پارٹی اور وزیر اعظم نریندرا مودی کی فاششٹ حکومت نے پانچ اگست 2019ء کو اپنے تمام وعدوں سے انحراف کرتے ہوئے بھارتی آئین کی دفعہ 370 اور 35۔ اے کو منسوخ کر کے کشمیر کو بھارت کا حصہ بنانے کا اعلان کر دیا اور اپنے مقبوضہ جموں و کشمیر کے علاقے میں پہلے سے دنیا بھرمیں شہری آبادی کے مقابل سب سے زیادہ تناسب میں موجود فوج کی نفری میں مزید اضافہ کر کے چوبیس گھنٹے کا کرفیو نافذ کر دیا۔ پانچ اگست 2019 کے بعد سے آج تک مقبوضہ جموں و کشمیر میں دنیا کی تاریخ کا طویل ترین لاک ڈاؤن مسلط ہے، مظلوم کشمیری عوام فوجی سنگینیوں کے سائے تلے بے بسی اور بے کسی کی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں، بھارتی فوج کشمیر میں بنیادی انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیاں کر رہی ہے مگر دنیا بھر کے انسانی حقوق کے ادارے اور اقوام متحدہ خاموش تماشائی کا کردار ادا کر رہے ہیں۔
بھارتی فوج اب تک لاکھوں کشمیریوں کو شہیدکر چکی ہے، دولاکھ سے زائدکشمیری عقوبت خانوں میں بند ہیں ،بھارتی فوجیوں کی ہزاروں سے زائد خواتین کی اجتماعی بے حرمتی کے واقعات منظر عام پر آچکے ، جبکہ لاکھوں بچے باپ کے سایہ سے محروم کر دیئے گئے ہیں بھارتی فوج ظلم کی انتہا کرتے ہوئے دو لاکھ سے زائد مکانات مسمار کر چکی ہے مگر اس قدر ظلم، تشدد اور جبر کے باوجود کشمیریوں کے جذبہ حریت کو سرد نہیں کیا جا سکا وہ آج بھی آزادی کی خاطر ہر طرح کی قربانیاں دیتے چلے آرہے ہیں اور بھارتی حکمرانوں اور فوج کے سامنے خالی ہاتھ سینہ سپر ہیں۔ مگر ان کے حوصلے پست نہیں کئے جا سکے۔ حریت قیادت قید و بند کی صعوبتیں برداشت کر رہی ہے مگر اصولی موقف سے ایک قدم پیچھے ہٹنے پر تیار نہیں۔مقبوضہ جموں و کشمیر میں بھارت فوج ظلم و بربریت کی داستانیں رقم کر رہی ہے،کشمیری جانیں دے رہے ہیں، ان کی عصمتیں لوٹی جا رہی ہیں اور اقوام عالم بے حسی کی تصویر بنی ہوئی ہے جبکہ پاکستان کے حکمران مقبوضہ جموں و کشمیر کی آزادی کے لیے کوئی ٹھوس اقدام کرنے کی بجائے محض تقاریرکررہے ہیں۔ان حالات میں سوال تو بنتا ہے کہ پاکستان کے حکمران کشمیریوں سے نمائشی یکجہتی کا اظہار آخر کب تک کرتے رہیں گے ۔۔۔؟

image_pdfimage_print
شیئرکریں