Voice of Asia News

استحصال اور بے حیائی :حافظ محمد صالح

قرآن مجید کی حقانیت کی دلیل ہے کہ ظالم استحصالی اور طاقتور لوگ اپنے اقتدار کو طول دینے کے لیے امیر کو امیر تر اور غریب کو غریب تر کردیتے ہیں اور متوسط درجہ کے لوگوں کو غربت تک پہنچادیتے ہیں۔ یہ ایک طبقاتی تقسیم ہے۔ امراء اور اہل اقتدار کے مفاد ایک ہوجاتے ہیں۔ قوم کے خزانے ایک دوسرے میں تقسیم کردینا، سیاسی رشوت دینامعمول کی بات ہے۔ باطل مفادات کے تحت ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کرتے ہیں چونکہ ان کی بقاء ایک دوسرے کے ساتھ تعاون میں ہوتی ہے۔ دوسری طرف غریب طبقہ کی سوچ صرف دو وقت کی روٹی تک ہی محدود کردی گئی ہے۔ایک طبقے کو اتنا کمزور کردیا اور ان کا اتنا استحصال کردیا کہ وہ اٹھ نہ سکیں، ان میں آواز اٹھانے کی جرات نہ رہی، ان کی سوچ ہی چھوٹی چھوٹی ضروریات و خواہشات کی تکمیل تک رہ گئی۔ تین وقت کا کھانا ہی مل جائے ،بچی کی شادی ہوجائے، اولاد کو پڑھالوں، کہیں ملازمت لگوادوں،چنانچہ انہی ضروریات کی تکمیل کے لیے وہ جاگیردار کے پاس جائے گا مثلاً وہ اسے دو چار سال تک چکر لگواکر اس کے بیٹے کو کہیں بھرتی کروا دے گا تاکہ یہ شخص اس کا احسان مند ہوجائے۔ وہ اس کے حقے بھی جلائے، اس کا ڈیرہ بھی صاف کرے، ڈیرے کی رکھوالی بھی کرے، اس کے لیے چٹائیاں بھی بچھائے۔ یہ سب کچھ اس لئے کیا جاتا ہے تاکہ ان کا شعور ہی مرجائے۔ ملکی سطح پر کیا ہورہا ہے ان معاملات میں کبھی وہ دلچسپی ہی نہ لے اور اس کو اپنے حق کی خبر تک نہ رہے۔ آج یہی صورت حال ہے۔ دیہاتوں میں چلے جائیں ان کے پاس سوچ ہی نہیں ہے کہ ہمارے ساتھ کیا ہورہا ہے، ان کے سوچنے کی سکت چھین لی گئی، وہ تبدیلی کا سوچ بھی نہیں سکتے۔ اگر وہ سوچتے ہیں تو ان کے اندر حق کی آواز اس معاشرے کے وڈیرے کے خوف سے نہیں اٹھ سکتی۔ اس لیے کہ وڈیرے ان کی جانور چوری کروائیں گے، پھر منتیں سماجتیں کرواکر چھڑوا بھی دیں گے۔ وہی ان کے خلاف جھوٹے مقدمے کروائیں گے، پھر اپنی سفارش سے بری بھی کروائیں گے تاکہ غریب اس کا احسان مند اور شکر گزار رہے۔ ان حالات میں غریب نے عمر بھرشکریہ ہی ادا کرنا ہے کہ میں جیل چلا گیا تھا تو مجھے فلاں نے چھڑوادیا۔ اس کو سمجھ ہی نہیں آئے گی کہ اسے اس مقدمہ میں پھنسایا کس نے تھا۔ اس لیے کہ اس وڈیرہ شاہی، استحصال اور جاگیردارانہ نظام نے ان کی سوچ، آزادی اور قومی سطح پر انقلاب کی سوچ ختم کردی، بالکل تباہ حال کردیا۔
اسلام اور پاکستان دشمن قوتیں اس معاشرہ کو بے حیائی کا معاشرہ بنانا چاہتی ہیں کیونکہ اگر بے حیائی اور بدکاری بڑھتی چلی جائے تو غیرت مرجاتی ہے اور لوگ اٹھنے کے قابل نہیں رہتے۔آج میڈیا کے ذریعے حکمران اور دیگر طاغوتی طاقتیں فحاشی و عریانی کو فروغ دے رہی ہیں۔ یہ سب کچھ وہ کیوں کرتے ہیں؟ کیا ان کو خبر نہیں کہ ان کے گھروں میں ان کے بچے اور بچیاں بھی دیکھتے ہیں، بے حیائی پھیل رہی ہے۔ یہ سب جاننے کے باوجود وہ اس لیے کرتے ہیں کہ انہیں علم ہے کہ جس معاشرے میں بے حیائی آجائے گی وہ معاشرہ بزدل اور بے غیرت ہوجائے گا۔ ذہنی عیاشی انسان کو بزدل کرتی ہے، خیالات میں عیاشی آجائے گی، لوگ فحاشی پرست ہوجائیں گے، جوں جوں یہ چیزیں بڑھتی چلی جائیں گی، قوم بے غیرت اور بزدل ہوگی اور انقلاب کے امکانات کم ہوتے چلے جائیں گے، حکمرانوں کے گریبان میں ہاتھ ڈالنے والا کوئی نہیں ہوگا۔

image_pdfimage_print
شیئرکریں