Voice of Asia News

اسرائیل کے ناپاک عزائم:محمد قیصر چوہان

’’اسرائیلی پارلیمنٹ کی پیشانی پر تحریر عبارت کے مطابق اسرائیل کی سرحدیں بیت المقدس سے مدینہ منورہ تک ہوں گی ‘‘۔اسرائیل کے قومی ترانے میں صیہونی اسرائیل کے آئندہ ، مستقبل بعید کے عزائم ،ایجنڈے کا بھرپور اور پرجوش بیانیہ ہے۔ حضرت داؤدؑ اور پھر ان کے بعد ان کے بیٹے حضرت سلیمان ؑکا جو اسرائیل تھا،اس کا جغرافیہ یہودی مفکرین ،موجودہ شام ،لبنان ، فلسطین،اُردن ،عراق ،خلیجی ریاستیں‘،سعودیہ کا مدینہ منورہ تک کا علاقہ اور پھر یمن بتاتے ہیں کہ یمن کی ملکہ سبا نے بھی حضرت سلیمان علیہ السلام کے اسرائیل کے سامنے سرنڈر کرکے یمن کو اسرائیلی ایمپائر کا حصہ بنا دیا تھا جبکہ فرات و دجلہ کے مابین علاقے کے ساتھ ساتھ دربائے نیل سے وابستہ مصری علاقہ بھی سلیمان علیہ السلام کے اسرائیل کا جغرافیہ تھا۔ صیہونی گریٹر اسرائیل ان تمام مذکورہ بالا عرب علاقوں کو حاصل کرنا اپنا آج کا مقصد حیات بنائے ہوئے ہے۔ اس کے باوجود عرب ممالک دوڑ دوڑ کر اسرائیلی وجود میں فوائد تلاش کرتے ہیں۔
ویسے تو آج کل دنیا کے تمام اسلامی ممالک میں اسرائیل سے تعلقات اور اس کی خوشنودی کی مہم چل رہی ہے اس سلسلے میں اسرائیلی رہنما ، وزراء اور تجارتی وفود پہلے ہی مختلف ممالک کا دورہ کر چکے ہیں لیکن اب اسرائیلی صدر پہلے سرکاری دورے پر متحدہ عرب امارات پہنچے ہیں۔ کسی بھی اسرائیلی صدر کا یہ امارات کے لیے پہلا دورہ ہے۔ لیکن جو کچھ کئی برس سے رفتہ رفتہ منظر پر آرہا ہے وہ یہی منصوبہ ہے جس کے بارے میں ترک ذرائع ابلاغ نے اطلاع دی ہے کہ جس وقت اسرائیلی صدر آئزک ہرزدگ کولے کر طیارہ امارات جاتے ہوئے سعودی فضائی حدود میں داخل ہوا تو اعلان کیا گیا کہ آج اسرائیل نے تاریخ رقم کر دی ہے۔ اعلان ہوتے ہی اسرائیلی صدر کاک پٹ میں پہنچ گئے اورسر زمین حجاز دکھا کر نقشوں کی مدد سے ریاض پر عنقریب تسلط کا عزم ظاہر کیا۔ یہ سب کچھ ایک ویڈیو کے ذریعے وائرل ہوا اور اسرائیل نے سرکاری طور پر بھی اس ویڈیو کو جاری کر دیا۔ بعض ذرائع ابلاغ میں یہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ یہ اسرائیل کا سعودی عرب پر قبضے کا منصوبہ سامنے آگیا۔ لیکن اسرائیلی پارلیمنٹ کی پیشانی پر تحریر عبارت کے مطابق اسرائیل کی سرحدیں بیت المقدس سے مدینہ منورہ تک ہوں گی۔ اگر اسرائیلی صدر نے ریاض پر قبضے یا کنٹرول کی بات کی ہے تو یہ حیرت انگیز نہیں ہے بلکہ ریاض کے بارے میں تو کہا جا رہا ہے کہ اس پر اسرائیل کا عمل دخل اور معاملات میں اس کا زور بڑھتا جا رہا ہے۔ اسلامی ملکوں کے سفارتی تعلقات ، اسرائیلی وڈیروں کے دورے اور اب صدر کادورہ متحدہ عرب امارات اسی سلسلے کی کڑی ہے۔ اسرائیلی عزائم تو بہت پرانے ہیں اور اسلامی ممالک اور ان کی تنظیمیں ہمیشہ سے اسرائیل کے عزائم سے واقف ہونے کے سبب اس کے خلاف ہوشیار رہتے تھے اور اسرائیل کابائیکاٹ وغیرہ سب کرتے تھے لیکن اسرائیلیوں کی سازشیں جاری رہیں۔ آج کل کے حالات جس تیزی سے اسلامی ملکوں کے لیے خراب ہو رہے ہیں ان کی حالت افسوس ناک ہوتی جا رہی ہے۔ اسلامی ممالک میں ایک سازش کے تحت ایک ایک کر کے امت مسلمہ کے مخالف لوگوں کو اقتدار میں لایا جا رہا ہے۔ سب کو معاش ،معیشت اور ترقی کا گرویدہ کر دیاگیا ہے۔ یہ درست ہے کہ ترقی اور مضبوط معیشت کے بغیرآج کے دور میں ممالک کا زندہ رہنا اور مقابلہ کرنا مشکل ہے لیکن امت مسلمہ کی تو یہ خصوصیت ہے کہ جب تک وہ ایمان کو بنیاد بنا کر اپنی سلطنت کا نظام چلاتی تھی اور ایمان ہی کی بنیاد پر دنیا کے ممالک سے تعلقات رکھتی تھی اس وقت تک امت مسلمہ کا عروج رہا اس کا دبدبہ رہا لیکن جوں ہی امت دنیاوی طاقت کے حصول کی خواستگار ہوئی اس کی ہوا اْکھڑتی چلی گئی۔ اب اسرائیلی صدر نے جو بات کی ہے وہ اسرائیلی پارلیمنٹ پر لکھی ہوئی عبارت کے مطابق کی ہے۔ دنیا میں ہونا کیا ہے اور کس کو کس پر فتح نصیب ہو گی وہ سب تو اسی طرح ہو گا جس طرح اﷲ کے آخری رسول حضرت محمد ؐ نے بیان فرمایا ہے لیکن امت مسلمہ کے حکمرانوں اور اسرائیل کے حکمرانوں میں یہ فرق ہے کہ اسرائیل کے حکمران اور ذمے داران اپنے عزائم کے مطابق کام کر رہے ہیں اور مسلمانوں کی اکثریت ان کے عزائم ہی سے بے خبر ہے اسرائیل اور یہودیوں کا تو یہ حال ہے کہ انہیں اﷲ تعالیٰ کے آخری رسول حضرت محمد ؐکی اس پیشگوئی پر بھی پورا یقین ہے ہے پتھر بھی ان کا پتا بتائے گا لیکن صرف ایک درخت ان کو تحفظ دے گا تو اسرائیلی حکام پورے ملک میں وہ درخت کاشت کر رہے ہیں تاکہ’’ دجال ‘‘کی آمد کے بعد ہونے والے معرکے میں اس وقت وہ درخت انہیں تحفظ دے۔ لیکن مسلمان اس سے بھی نا واقف ہیں کہ دنیا گلوبل ولیج کیوں بن رہی ہے۔ ڈالر کو کون کنٹرول کرتا ہے۔ عالمی معیشت کو اٹھاتا گراتا کون ہے۔ حکمرانوں کی تبدیلی کون کروا رہا ہے۔ اکا دکا ملکوں میں اسرائیل کے ساتھ اسلامی ملکوں کے تعلقات پر احتجاج ہوا ہے لیکن وہ بھی اس زور دار طریقے سے نہیں ہوا جیسا کہ ہونا چاہیے۔ امت مسلمہ کی رہنمائی کا فریضہ انجام دینے والی جماعتوں اور گروہوں کو اب امت کو اس آخری معرکے سے آگاہ کرنا چاہیے اور اس کی تیاری کرانی چاہیے۔

qaiserchohan81@gmail.com

image_pdfimage_print
شیئرکریں