Voice of Asia News

دہشت گردی کا عفریت پھرسر اُٹھانے لگا :حافظ محمد صالح

دہشت گردی کی نئی لہر نے پاکستان میں بسنے والے ہر ذی شعور کو اس حقیقت سے روشناس کروا دیا ہے کہ دہشت گردی کا عفریت بار بار سر اُٹھانے کی صلاحیت رکھتا ہے بلاشبہ فوج اور پولیس سمیت دیگر قانون نافذ کر نے والے ادارے تندہی سے اس عفریت کا سر کچلنے کے لیے کمر بستہ ہیں مگردہشت گردی کے حالیہ چند واقعات نے وطن عزیز میں موجود ہر ذی نفس کی زندگی کو خطرے کا احساس دلا جاتا ہے اور اداروں کی کامیابیاں گہنا جاتی ہیں۔بلوچستان کے علاقے کیچ میں 25 اور 26 جنوری کی درمیانی شب سیکیورٹی فورسز کی چیک پوسٹ پر دہشت گردوں کے حملے میں 10جوان شہید ہوگئے، فائرنگ کے تبادلے میں ایک دہشت گرد ہلاک جبکہ متعدد زخمی ہوئے، سیکیورٹی فورسز کی جوابی کارروائی میں 3دہشت گرد گرفتار کر لیے گئے۔دریں اثناء ایک اور اطلاع کے مطابق چمن بائی پاس پر نامعلوم افراد کی فائرنگ سے لیویز کا ایک اہلکار محمد نعیم شہید ہو گیا۔ پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کی جانب سے اس عزم کا اظہار کیا گیا ہے کہ دہشت گردوں کو انجام تک پہنچانے کے لیے آپریشن جاری رہے گا اور مسلح افواج ملک سے دہشت گردی کے خاتمہ اور ملکی سرحدوں کو محفوظ بنانے کے لیے کوئی بھی قیمت چکانے کو تیار ہیں۔مادر وطن کے لیے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرنیوالے جوانوں کو قوم سلام پیش کرتی ہے، جنھوں نے ہمارے کل کے لیے اپنا آج قربان کر دیا ، ہم بحیثیت قوم بیتی دہشت گردی کے خلاف ایک طویل جنگ لڑ رہے ہیں ، جس میں ستر ہزار سے زائد جانوں کا نذرانہ شامل ہے، اتنی قربانیوں اور مشقت کے بعد پاکستان کا جو پرُ امن چہرہ اُبھر کر سامنے آیا ہے، اس کے ایک بار پھر بدنما ہونے کے خطرات پیدا ہوتے جا رہے ہیں۔
وفاقی وزیر داخلہ نے تصدیق کی کہ ملک میں دہشت گرد تنظیموں کے سلیپرز سیلز پھر سرگرم ہوئے ہیں، جن سے نمٹنے کے لیے قانون نافذ کرنے والے ادارے اپنی ذمہ داریاں نبھا رہے ہیں۔ افغان طالبان سے متعلق شیخ رشید نے کہا کہ طالبان حکومت مثبت کردار ادا کر رہی ہے، افغان طالبان ٹی ٹی پی کو سمجھا رہے ہیں کہ پاکستان میں کارروائیوں سے باز رہیں مگر ٹی ٹی پی والے کہیں نہ کہیں دہشت گردی کی کارروائیاں کرتے ہیں۔ کالعدم تحریک طالبان کی جانب سے سیز فائر کی خلاف ورزی کے بعد مذاکرات کا دروازہ تقریباً بند ہو چکا ہے۔ بلوچستان اور خیبر پختونخوا میں دہشت گرد دوبارہ سرگرم ہوئے ہیں۔ ٹی ٹی پی کی مذاکرات کی شرائط پوری ہونا ممکن نہیں تھیں۔ طالبان سے ہمیں کوئی شکوہ نہیں لیکن کبھی کبھی ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ٹی ٹی پی پر افغان طالبان کا بھی زور نہیں چلتا۔ وفاقی وزیر داخلہ نے کہا کہ آئندہ دو ماہ میں ملک میں دہشت گردی کے واقعات میں اضافے کا خدشہ ہے تاہم دہشت گردی کی اس تازہ لہر پر قابو پا لیا جائے گا۔جبکہ مشیر قومی سلامتی معید یوسف کا کہنا تھا کہ افغان سرزمین اب بھی پاکستان کے خلاف استعمال ہو رہی ہے، افغانستان میں دہشت گردوں کے منظم نیٹ ورک کام کر رہے ہیں۔جیسا کہ وزیر داخلہ نے تسلیم کیا ہے کہ گزشتہ کچھ عرصہ سے ملک میں دہشت گردی کی ایک نئی لہر دیکھنے میں آئی ہے بلوچستان کے حالیہ واقعات سے قبل بھی اسلام آباد، پشاور، کوئٹہ اور لاہور میں تسلسل سے دہشت گردی کی کارروائیاں کی گئی ہیں جن میں مسلح افواج کے علاوہ عام لوگوں کو بھی خاصا جانی و مالی نقصان برداشت کرنا پڑا ہے۔ توقع یہ کی جا رہی تھی کہ افغانستان سے امریکہ کی ذلت آمیز شکست، اس کی افواج کے انخلاء ، امریکی کٹھ پتلی حکومت کے خاتمہ اور وہاں طالبان کے اقتدار سنبھالنے کے بعد پاکستان کو دہشت گردی سے نجات مل جائے گی۔ طالبان کے اقتدار سنبھالنے کے بعد کچھ عرصہ تک حالات قدرے بہتر بھی رہے۔ طالبان نے اعلان کیا تھا کہ وہ اپنی سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال کرنے کی اجازت کسی کو نہیں دیں گے، طالبان حکومت کے تعاون سے حکومت پاکستان نے ٹی ٹی پی سے جنگ بندی کا معاہدہ بھی کیا جس کے مثبت نتائج سامنے آئے مگر بدقسمتی سے فریقین اس معاہدہ میں توسیع پر متفق نہ ہو سکے، مبصرین کے ایک گروہ کی رائے ہے کہ دہشت گردی کی یہ تازہ لہر جنگ بندی میں اس عدم توسیع کا نتیجہ ہے تاہم اس ضمن میں یہ پہلو بھی نظر انداز نہیں کیا جانا چاہئے کہ بلوچستان میں کافی عرصہ سے جاری تخریبی سرگرمیوں کے پس پشت قوم پرستی کے نام پر منظم کئے گئے گروہ سرگرم رہے ہیں جن کی پاکستان کے ازلی دشمن بھارت کی جانب سے پشت پناہی کسی سے پوشیدہ نہیں، خصوصاً ان حالات میں کہ لاہور کے تاریخی انارکلی بازار میں چند روز قبل ہونے والی دہشت گردی کی واردات کی ذمہ داری ٹی ٹی پی نے نہیں بلکہ بلوچ نیشنل آرمی نامی تنظیم نے قبول کی تھی۔ اس لیے حکومت اور قومی سلامتی کے اداروں کو اس جانب خصوصی توجہ مرکوز کرتے ہوئے ایسی قوم پرست تنظیموں کی سرکوبی اور ان کو بھارت سے ملنے والی ہر طرح کی امداد و سرپرستی روکنے کا اہتمام کرنا چاہئے دوسری جانب افغان طالبان کے تعاون سے ٹی ٹی پی کے انتہا پسند عناصر کے بھی افغانستان سے پاکستان داخلہ اور یہاں تخریب کاری کی روک تھام کے لیے ٹھوس اقدامات لازمی ہیں۔
موجودہ صورتحال میں پاکستان کے کسی بھی شہر کو سیکیورٹی کے نقطہ نظر سے الگ کر کے نہیں دیکھا جا سکتا کیونکہ ہر جگہ صورتحال تشویشناک ہے۔ پاکستان میں جب بھی کرکٹ کے فروغ کے دن آتے ہیں اس سے قبل بھی اس طرح کے واقعات شروع ہوجاتے ہیں جس کے پس پردہ بھارت کے کردار کا امکان ظاہر کیا جاتا رہا ہے۔ سری لنکا کی ٹیم کے کھلاڑیوں پر لاہور میں حملے میں بھارت کے ملوث ہونے کے تو شواہد بھی موجود ہیں۔ہر گزرتے دن کے ساتھ افغانستان میں بدامنی کے سائے مزید گہرے ہوتے جا رہے ہیں، جس کے اثرات اب پاکستان پر صاف نظر آنے لگے ہیں۔ حالیہ دنوں میں دہشت گردی کے بڑھتے واقعات نے ایک بار پھر عالمی سطح پر پرانے پاکستان کے تصور کو اجاگر کرنے کی کوشش کی ہے جہاں دھماکے اور دہشت گردی روز کا معمول تھا۔ چینی ورکرز پر حملہ، لاہور کے مشہور بازار انارکلی میں دھماکا اور بلوچستان میں ہونے والی کارروائیوں نے خطرے کی گھنٹی بجا دی ہے۔ذرائع کے مطابق گزشتہ چند ماہ میں دو سو سے زائد مختلف کارروائیاں پاکستان میں ہو چکی ہیں۔ ان کاررائیوں میں امریکی اسلحہ کا استعمال حیران کن ہے جس پر سقوط کابل کے موقع پر افغان طالبان نے قبضہ کر لیا تھا ۔ بعض تجزیہ کاروں کے مطابق ٹی ٹی پی اور افغان طالبان کے درمیان کسی نہ کسی سطح پر تعاون موجود ہے، یہ عناصر اس حق میں یہ دلیل دیتے ہیں کہ افغان طالبان حکومت میں آنے کے بعد افغانستان میں موجود ٹی ٹی پی کے عناصر کو غیر مسلح کرنے کے بجائے مذاکرات پر اصرار کر رہے ہیں، شاید ان ہی کی ترغیب پر پاکستان نے ٹی ٹی پی سے مذاکرات اور معاملات کی سعی کی جس میں کامیابی نہ ہوسکی ۔ ماضی کی طرح اب بھی افغانستان میں بڑھتی بدامنی اور طالبان کے بڑھتے اثر و رسوخ کا براہ راست نہیں تو بالواسطہ تعلق ان کارروائیوں سے ضرور ہے۔افغانستان کا مسئلہ جتنا ہماری خارجہ پالیسی کا مسئلہ ہے اتنا ہی ہماری داخلہ پالیسی کا مسئلہ بھی ہے، مگر ایسا لگتا ہے کہ خارجہ محاذ پر موثر پالیسی اپنانے والا پاکستان ماضی کی طرح داخلہ محاذ کو نظر انداز کر رہا ہے جس کا بھاری خمیازہ بھگتنا پڑ سکتا ہے۔ افغان طالبان کی قیادت نے داعش اور القاعدہ کے خلاف واضح موقف اپنایا ہوا ہے مگر اس کے باوجود ان دہشت گرد جماعتوں کو محدود کرنا ان کے بس سے باہر نظر آتا ہے۔اس صورتحال میں طالبان کی اس بات پر اعتماد کر لینا کہ افغانستان کی سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال نہ ہوگی ناکافی ہے کیونکہ تاریخ نے ہمیں کچھ اور ہی رخ دکھایا ہے۔ حالیہ واقعات نے ٹی ٹی پی سے متعلق افغان طالبان کی پالیسی سے متعلق شکوک و شبہات پیدا کر دیے ہیں۔پاکستان کے لیے مزید پریشانی کی بات نہ صرف داعش اور القاعدہ کا پھیلتا نیٹ ورک ہے بلکہ افغان طالبان کا ٹی ٹی پی سے متعلق موقف ہے۔ میڈیا کی جانب سے پوچھے گئے متعدد سوالات کا جواب طالبان کے ترجمان نے صرف ایک ہی دیا تھا کہ افغانستان کی سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال نہیں ہونے دیں گے۔ تشویش کی بات یہ ہے کہ افغان طالبان کی قیادت کھل کر داعش اور القاعدہ کے خلاف بیان دے رہی ہے مگر تحریک طالبان پاکستان سے متعلق مذمتی بیان دینے سے گریز کر رہی ہے۔
بھارتی خفیہ ایجنسی ’’را‘‘ کی بڑھتی ہوئی پاکستان مخالف سرگرمیوں اور دہشت گردوں کی مالی معاونت نے حساس اداروں کو مزید چوکنا کر دیا ہے۔ بلوچستان میں علیحدگی پسندوں کی مدد کے ساتھ ساتھ کراچی میں ہونے والی دہشت گردی کی کارروائیوں میں ’’را‘ کے ملوث ہونے کے ثبوت بھی پاکستانی اداروں نے حاصل کیے ہیں۔’’را‘‘ اور افغان انٹیلی جنس ایجنسی این ڈی ایس بلوچستان میں علیحدگی پسند جماعتوں بی ایل اے، بلوچ ریپبلکن ا?رمی اور بی ایل ایف کی نہ صرف مالی مدد کر رہی ہیں، بلکہ کابل، نمروز اور قندھار میں قائم ٹریننگ کیمپوں سے دہشت گردوں کو خصوصی تربیت بھی دی جا رہی ہے۔افغانستان میں موجود ’’را‘‘ کے حکام ان دہشت گردوں کو افغانستان سے بھارت، متحدہ عرب امارات اور یورپی ممالک بھجوانے کے لیے جعلی دستاویزات بنوانے میں بھی پیش پیش ہیں۔ ’’را‘‘ کے ایک ونگ نے تمام عالمی فورمز پر بلوچستان میں علیحدگی پسندی کی تحریک کو ہوا دینے کا بیڑہ بھی اٹھا رکھا ہے۔بین الاقوامی این جی اوز کے ذریعے سے انسانی حقوق کا سنگین مسئلہ بنا کر پیش کیا جا رہا ہے۔ پاکستانی حساس اداروں نے کراچی میں دہشت گردی میں ملوث افراد کی افغان سرحد پر بھارتی افسران سے ملاقاتوں کے شواہد بھی حاصل کیے ہیں۔ اسی طرح سوات سے نکل کر افغانستان میں پناہ لینے والے طالبان کے بھی ’’را‘‘ اور افغان انٹیلی جنس ایجنسی سے ملاقاتوں کے ناقابل تردید ثبوت حاصل کیے گئے ہیں۔ بھارت کی جانب سے کراچی، بلوچستان اور خیبر پختونخوا کے قبائلی علاقوں میں دہشت گردی کی کارروائیاں کرنے والوں کو کئی ملین ڈالرز کی ادائیگیاں کی گئی ہیں۔
پاکستانی قوم کی طاقت مساوات کے جمہوری اساس پر استوار ہو تو کسی کو یہ کہنے کی مجال بھی نہیں ہوگی کہ ملکی قیادتوں کے مابین رقابتوں نے مساوات اور قانون کی حکمرانی کو مذاق بنا رکھا ہے۔ اب ہر شخص کو معلوم ہے کہ دہشتگرد صرف ریاست، پارلیمنٹ عدلیہ انتظامیہ اور انفرااسٹرکچر کی تباہی کے درپے نہیں بلکہ ان پر ہر باشعور پاکستانی سے انتقام لینے کا جنون سوار ہے۔ ہارا دشمن گہری مذہبی ، نظریاتی ، سیاسی ، مسلکی، فرقہ وارانہ اور فکری جڑیں رکھتا ہے۔وطن عزیز کے دفاع کو ناقابل تسخیر بنانے کے لیے دہشت گردی کے عفریت کا سر کچلنا لازم ہے۔ حالیہ تمام واقعات اور عناصر کی سرگرمیوں کا باریک بینی سے جائزہ لینے کے بعد ایسی پالیسی مرتب کرنے کی ضرورت ہے کہ ان واقعات کی روک تھام اور دہشت گردی کی، اس تازہ لہر کا ابتداء ہی میں قلع قمع کیا جا سکے ان عناصر کو ابتداء ہی میں بھرپور جواب دینا بہت ضروری ہے۔ دہشت گردوں کے سلیپر سیلز اور ان تنظیموں کے نیٹ ورک کے خلاف جتنا جلد ممکن ہو سکے عملی اقدامات کرکے ان کا خاتمہ کیا جائے۔

image_pdfimage_print
شیئرکریں