Voice of Asia News

آئی ایم ایف کی شرائط سے پاکستانیوں کا جینا مشکل :سید اقبال احمد ہاشمی

سود پر مبنی معاشی نظام ، رشوت، کرپشن کی لعنت نے ایٹمی صلاحیت اور بہترین جغرافیائی حیثیت کے حامل پاکستان کو دنیابھر میں بھکاری بنادیا ہے۔ حکمرانوں کی جانب سے آئی ایم ایف ، ورلڈ بینک سمیت دنیا کے مختلف ملک سے بھیک مانگنے، قرضوں اور امداد کے لیے کشکول پھیلانے سے ملک اور عوام کی رسوائی ہورہی ہے۔آئی ایم ایف نے پاکستان کی معاشی صورتحال میں بہتری کی نشاندہی کرتے ہوئے بعض اقدامات تجویز کئے ہیں جن پر عملدرآمد سے اس کے خیال میں ملک کی معاشی شرح نمو 5فیصد تک پہنچ سکتی ہے۔ اس حوالے سے ڈھانچہ جاتی اصلاحات، خصوصاً جن کا تعلق گورننس اور انسداد منی لانڈرنگ جیسے معاملات سے ہے، میں مزید تاخیر نہ کرنے پر زیادہ زور دیا گیا ہے اور بتایا گیا ہے کہ ایسا نہ کرنے سے معاشی بحالی کی رفتار کم ہونے سمیت بیرونی فنڈنگ اور غیرملکی سرمایہ کاری پر منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ آئی ایم ایف جس نے حال ہی میں ایک ارب ڈالر سے زائد قرضے کی قسط جاری کر دی ہے، کی ایک تفصیلی رپورٹ میں جہاں ملک کی موجودہ اقتصادی صورتحال کا تجزیہ پیش کیا گیا ہے وہاں حکومت کیلئے مستقبل کا معاشی لائحہ عمل بھی تجویز کرتے ہوئے بعض ایسے مطالبات کیے گئے ہیں جو مہنگائی کی چکی میں پسنے والے عوام کیلئے لمحہ فکریہ ہوں گے۔ رپورٹ میں پاکستان سے کہا گیا ہے کہ بجلی اور گیس کے نرخوں میں اضافہ کیا جائے۔ انکم ٹیکس استثنا ختم کیا جائے۔ ذاتی انکم ٹیکس کے حوالے سے آئندہ بجٹ میں ٹیکس دہندگان کیلئے خصوصی ٹیکس پروسیجر متعارف کرایا جائے۔ ٹیکس نیٹ بڑھایا جائے۔ تعمیراتی اور ہاؤسنگ سیکٹر کی ترقی کیلئے اسٹرٹیجی پیپر مرتب کیا جائے۔ انسدادِ منی لانڈرنگ اور دہشت گردوں کے حوالے سے فیٹف کے باقی نکات پر عملدرآمد مکمل کیا جائے تاکہ گرے لسٹ سے نکلا جا سکے۔ گیس کے شعبے میں اصلاحات کی جائیں۔ بجلی کے شعبے میں سبسڈی میں مزید کمی کی جائے۔ غریب لوگوں کو سبسڈی دینی ہے تو احساس پروگرام کے ذریعے دی جائے۔ آئی ایم ایف کی رپورٹ میں پاکستان کے اگلے بجٹ میں 430ارب روپے کے نئے ٹیکس لگائے جانے کی اطلاع دی گئی ہے اور یہ بھی بتایا گیا ہے کہ اگلے سال کا ترقیاتی بجٹ بھی 627ارب روپے سے کم کر کے 554ارب روپے کر دیا جائے گا۔ رواں مالی سال کا کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ بڑھ کر 12ارب 99کروڑ ڈالر متوقع ہے جو جی ڈی پی کے 4فیصد کے مساوی ہو گا۔ ایف بی آر نے انکم ٹیکس چھوٹ ختم کرنے کیلئے اقدامات شروع کر دئیے ہیں۔
آئی ایم ایف کے معاشی تجزیے کے بعض پہلو حکومت کی معاشی ٹیم کیلئے توجہ طلب ہیں جیسا کہ افغانستان کی صورتحال وغیرہ، تاہم اضافی ٹیکسوں کا نفاذ، ٹیکس استثناختم کرنے اور بجلی و گیس کے نرخ بڑھانے، ترقیاتی اخراجات کم کرنے جیسے مطالبات دراصل آئی ایم ایف کے قرضوں کے حصول کے لیے پاکستان سے ’’ڈومور‘‘ کے تقاضے کے مترادف ہیں، آئی ایم ایف نے پاکستان کیلئے 6ارب ڈالر قرضے کا وعدہ کر رکھا ہے۔ نصف قرضہ مل چکا ہے جبکہ نصف ابھی پاکستان کو ملنا باقی ہے۔ اس قرضے کی بہت سی کڑی شرائط حکومت نے پوری کر دی ہیں اور خدشہ ہے کہ باقی رقم کے لیے مزید شرائط منوائی جائیں گی۔ یہ سلسلہ جاری رہا تو پاکستان کی رہی سہی اقتصادی خودمختاری بھی ختم ہو جائے گی۔ پاکستان کی سلامتی کا واحد حل آئی ایم ایف ،ورلڈ بینک سمیت دیگر عالمی سود خور اداروں سے فوری نجات حاصل کرنے، آئین پاکستان پر مکمل عمل درآمد، سماجی، عدالتی، اقتصادی اور معاشرتی انصاف کی فراہمی ، اتحاد امت، آزاد، باوقار خارجہ پالیسی سے قومی وحدت اور قومی اتحاد مضبوط ہوسکتا ہے۔موجودی حالات میں ملک کو بحرانوں سے نکالنے کے لیے قومی سطح پر دیانت داری کے ساتھ بڑے اتفاق رائے کی ضرورت ہے۔

image_pdfimage_print
شیئرکریں