Voice of Asia News

جموں و کشمیرمیں لاک ڈاؤن ، غدار وزیر اعظم اورگلگت بلتستان،تحریر :زاہد شفیق طیب

 

بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی نے ریاست جموں و کشمیرمیں پانچ اگست 2019 کو آئین کے آرٹیکل 35 اے (370) کو لوک سبھا کی منظوری کے بعد ترمیم کرتے ہوئے ریاست کی خصوصی حیثیت کے خاتمے کا اعلان کرکے مکمل لاک ڈاؤن کرتے ہوئے کشمیریوں پر 10 لاکھ بھارتی فوج کی شکل میں موت کا پہرہ لگا دیا،بھارتی حکومت کے اس اقدام سے ریاست جموں و کشمیر دنیا کی سب سے بڑی جیل میں تبدیل ہوگئی ، 85 ہزار مربع میل پر مشتمل ریاست جموں و کشمیر میں امن کے ٹھیکیدار عالمی سامراج کے گماشتوں نے اپنے ایجنٹوں کے ذریعے ریاست کی تقسیم در تقسیم کا عمل جاری رکھا ، 4 ہزار مربع میل پر نیم خود مختار آزاد کشمیر حکومت 28 ہزار مربع میل پر مشتمل،گلگت بلتستان13 ہزار، لداخ،اقصائے چن جو 1960 سے چین کے زیر تسلط ہے ، 40 ہزار مربع میل پر بھارت کا جبری قبضہ برقرار، ریاست جموں و کشمیر کے عوام کے حالات ہمیشہ ان کے مخالف رہے لیکن دن بدن دلدل کی مانند یہ گھمبیر ہوتے گئے ، موجودہ صورتحال بھی قیامت صغری سے کم نہیں، گلگت بلتستان میں انتخابی دنگل صوبہ بنا کرتحریک آزادی کی پیٹھ میں چھرا گھونپنے کی گھناونی سازش، شہدا کے خون کیلئے زہرقاتل ، آزاد کشمیر کے نو منتخب وزیراعظم راجہ فاروق حیدر کیخلاف نوازشریف کی بیانئے کی تائید میں غداری کا مقدمہ ،لاکھوں کشمیریوں کا اسٹیٹس کیا ہو گا، لداخ اقصائے چن میں چین کی بھارت سے جھڑپیں، ریاست جموں و کشمیر میں 14 ماہ کے لاک ڈاون کے نتیجے میں اطلاعات کے مطابق 529شمریوں کو گھروں میں گھس کر تلاشی کے بہانے گرفتار کرنے کے بعد جعلی مقابلو ن میں شہید کردیا گیا۔ 46 نوجوانوں کو ٹارچر سیلوں میں بھارتی سیکیورٹی فورسز نے گولیاں ماریں ، وحشیانہ تشدد سے 612 کشمیری شدید زخمی ہوئے، بیلٹ گنوں سے 477 کی آنکھوں کی بینائی ضائع ہوگئی۔ 1629کشمیریوں کو چھاپوں کے دوران گرفتار کرکے بھارت کی مختلف جیلوں میں منتقل کردیاگیا۔
آر ایس ایس کے غنڈوں نے بھارتی فوج کیساتھ ملکر 131 کشمیری خواتین کو اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنایا، علاج معالجے کی سہولت نہ ملنے کے باعث جموں وادی ،لداخ میں کرونا وائرس کا شکار 935 کشمیری لقمہ اجل بن گئے۔جبکہ 58670کشمیری کرونا سے متاثر ہوئے ،بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کو گجرات میں ہندو مسلم فسادات کا ذمہ دار قرار دیکر امریکہ نے ویزا دینے سے انکار کردیا تھا۔ واضح رہے کہ ان فسادات میں 28 ہزار مسلمانوں کو دن دیہاڑے قتل کیا گیا۔ عالمی سطح پر بھی یہ آوازیں بلند ہوئیں کہ مودی کو عالمی دہشتگرد قرار دیا جائے لیکن ملٹی نیشنل کمپنیوں کے مفادات کی محافظ بڑی طاقتوں نے نہ صرف خاموشی اختیار کرلی بلکہ مودی کو دوبارہ وزیراعظم بنانے کیلئے بھاری سرمایہ کاری کی، مقبوضہ کشمیرمیں ہندووں کی آبادکاری کا عمل تیزی سے جاری ہے 21 لاکھ 99ہزار درخواستوں پر 18 لاکھ 52 ہزار افراد کوجموں و کشمیر کا اسٹیٹ سبجیکٹ دیا گیا ، بھارتی سرکار نے 350 پاکستانی خواتین کو ریاستی شہریت دینے سے انکار کرتے ہوئے ریاست میں 15 سال سے رپائش پذیر افراد کو بھی ڈومیسائل دینے پر رضامندی ظاہر کردی ، 1990 میں کشمیر چھوڑنے والے پنڈتوں کو بھی بیوی بچوں سمیت واپس آنے پر شہریت ملے گی۔ہماچل پردیش ، پنجاب، نئی دہلی کی خواتین کو ریاست کی نیشنلٹی کیلئے خصوصی پیکج دیا جائے گا۔ذرائع کے حوالے سے بتایا گیا کہ بھارتی حکومت نے ریاست جموں و کشمیر میں 1 لاکھ گورکھ فوجیوں کو آباد کرنے کا منصوبہ بنایا ہے 35 ہزار فوجی وار انکے اہلخانہ کو کشمیری ڈومیسائل جاری کیے گئے ہیں جبکہ بھارتی حکومت نے کشمیری مسلمانوں کو اسٹیٹ سبجیکٹ ریاست باشندہ سر ٹیفکیٹ دینے سے انکار کردیاہے۔ تحریک آزادی کشمیر کو کچلنے کیلئے بھارتی حکومت جہاں ریاست میں لاک ڈاون کے نام پر اغوا،ماروائے عدالت قتل ، خواتین کی آبردرزت، لوٹ مار کشمیری املاک کو دن دیہاڑے نذر آتش کرکے اسرائیلی ماڈل کی طرزپر کام کرکے نہتے کشمیریوں پر ظلم و جبرکی نئی داستانیں رقم کررہی ہے وہاں آزاد کشمیر میں لائن آف کنٹرول پر عالمی امن کی دھجیاں اڑاتے ہوئے جنگ بندی لائن کی ایک ہزار 595 خلاف ورزیاں کرچکی ہے جس کے نتیجے میں 14 بے گناہ کشمیری شہید اور 150 زخمی ہوچکے ہیں ، آزاد کشمیر قانوں ساز اسمبلی کے 13 انتخابی حلقے لائن آف کنٹرول پر موجود ہیں جو ہروقت حالت جنگ میں رہتے ہیں۔ بھارتی فوج کی فائرنگ سے کئی بار معصوم بے گناہ بچے سکول جاتے ہو ئے شہری آفس جاتے ہوئے ، گھروں میں کھانا پکاتی عورتیں شہید ہوگئیں۔
پی آرسی ہولڈر شخص سے شادی کرنے والی عورت کو بھی کشمیری شہریت ملے گی ، بھارتی حکومت نے یہ نعرہ عام کردیا ہے کہ جموں و کشمیر میں شادی کرواور مستقل شہریت حاصل کرو۔ ریاست میں تمام مساجد و مدارس کو شہید کرکے مودی سرکار نے 50 ہزار مندروں کی تعمیر کا حکم دیتے ہوئے فنڈز مختص کرنے کا اعلان کیا ہے جس کے ردعمل میں بانڈی پورہ جیل میں حریت لیڈر عبدالمجیدانقلابی نے بھوک ہڑتال کردی ،مقبوضہ کشمیر میں مودی سرکار کے مظالم بے نقاب کرنے پر بھارتی حکومت نے ایمنسٹی انٹرنیشنل کے بھارت میں اثاثے منجمد کرکے دفاتر فوری طور پر بند کردئیے ہیں۔ ڈائریکٹر رجت گھوسلہ کے مطابق خفیہ ایجنسیاں آئے روزز ان کے سٹاف کو ہراساں کررہی تھیں انہیں جان سے مارنے کی دھمکیاں دیتی جن پر ایمنسٹی انٹرنیشنل نے بطور احتجاج بھارت میں اپنا ریسرچ ورک معطل کردیاہے۔
14 اگست 1947 سے 2020 تک 179 ممالک آزاد و خودمختار ہوکر دنیا کے نقشے پر ابھرے لیکن فلسطین ، ریاست جموں و کشمیر 2 بدقسمت ریاستیں ہیں جہاں عالمی امن کے علمبرداروں کی پشت پناہی پر وہاں کی حکومتیں انسانی حقوق کی پامالی کیلئے دہشت گردی کا ننگا ناچ نچارہی ہیں لیکن کوئی بھی ان کی آواز سننے کیلئے تیار نہیں، اُلٹا آزادی کی تحریکوں کو دہشت گردی قرار دیکر ان کی حو صلہ افزائی شرمناک ہی نہیں قابل مذمت ہے۔
ریاست کے ماضی پر پر نظر دوڑائیں تومعلوم ہوگا کہ 685 سال میں کشمیر میں مسلمانوں کی حکومت کے قیام سے لیکر آج تک وہ ایک آزاد خود مختار ملک کی حیثیت سے قائم رہا ، 166 سال 1586 سے 1752 تک مغلوں ، 1752 سے 1819 تک 67 سال افغان، 1819 سے 1846 تک سکھوں کا قبضہ رہا، مجموعی طور پر ریاست جموں و کشمیر 246 سال ایک خود مختار ملک کی طرح تھی۔ 9 مارچ 1846 سے 16 مارچ 1846 پراہ راست انگریزوں جبکہ 101 سال 1846 سے 1948 تک ڈوگرون کے پاس رہا ، لداخ، گلگت بلتستان استور کو ملا کر ریاست کا تیسرا صوبہ بنایا گیا ۔ 1947 تک ریاستی اسمبلی میں گلگت بلتستان کی نمائندگی موجود تھی۔28 اپریل 1949 کو حکومت آزاد کشمیر اور حکومت پاکستان کے مابین ایک معاہدے کے تحت گلگت بلتستان کے انتظامی امور عارضی طور پرحکومت پاکستان کی تحویل میں دئیے گئے تھے معاہدے پر حکومت پاکستان کی طرف سے مرکزی وزیربے محکمہ (انچارج وزارت امور کشمیر) نواب مشتاق احمد گورمانی آزاد کشمیر حکومت کی طرف سے صدر سردار محمد ابراہیم خان حکمران مسلم کانفرنس کے سربراہ چودھری غلام عباس نے دستخط کیے۔ معاہدے کے تحت تننازع کشمیر کے سلسلہ میں عالمی سظح پر کشمیریوں کی نمائندگی کا حق بھی پاکستان کو دیا گیاتھا۔
لداخ اقصائے چن جس پر 1960 سے چین کا تسلط ہے چینی وزیراعظم چو این لائی نے مقبوضہ کشمیر کے سابق وزیراعلی شیخ محمد عبداﷲ سے ایک ملاقات کے دوران کہا تھا کہ ہندوستان خود ایک توسیع پسند ذہنیت رکھتا ہے لیکن الٹا الزام چین پر تھوپتاہے چین اتنا وسیع ملک ہے کہ اس کے پاس اس قدر علاقہ ہے کہ مزید زمین ڈھونڈنے کی ضرورت ہے نہ فرضت ۔ پنڈت جواہر لال نہرو ہندوستان کی توسیع پسند انہ عزائم کا خاکہ کھینچ چکے ہیں اب ہندوستان ان خاکوں مین رنگ بھرنے کیلئے کوشاں ہے اور اپنے اردگرد کے علاقوں تک ہی نہیں جاوا سماٹرا تک اپنے سامراجی محور کے علاقے خیال کرتے ہوئے اپنی ظاہری روشن خیالی کے خلاف قدیم ہندو رواج کی تجدید و توسیع کے خواب دیکھتے ہیں، چین تو آپ کا اس قدر پڑوسی ہے کہ آپ اپنے مکان کی چھت سے اس کے پہاڑوں کی چوٹیوں گن سکتے ہیں اور چین کے کشمیریوں سے ماضی میں گہرے تعلقات رہے ہیں۔واضح رہے کہ ریاست جموں و کشمیر کی مغرب اور جنوب میں پاکستان، جنوب میں بھارت، مشرق اور شمال میں عوامی جمہوریہ چین اور شمال مغرب میں افغانستان واقع ہے ریاست کی شمالی سرحد کو روس کی جنوبی سرحد سے چین کے علاقے سنکیانگ اور افغانستان کے علاوہ واخان کی تقریبا20 کلومیٹر چوڑی پٹیاں جدا کرتی ہیں،ریاست جموں و کشمیر کے ساتھ سب سے لمبی سرحد چین کی دوسرے نمبرپر پاکستان اور تیسرے نمبر پر بھارت کی ہے۔ریاست جموں و کشمیر کا تیسرا صوبہ گلگت بلتستان ، قدیم زمانے میں اس کا نام گرت یعنی پہاڑوں میں گھرا ہوا ، بگڑتے بگڑتے گلگت بن گیا ، ایک روایت کے مطابق گلگت کا اصل نام گل گد تھا جو ترکی کی زبان کے الفاظ ہیں جن کے معنی آتا جاتا،یہ ایسا پڑاؤتھا جہاں بہت زیادہ آمدورفت رہتی تھی، تجارتی قافلے یہیں پڑاؤکرتے ، یہی نام بدل کر گلگت ہوگیا۔ اصل نام گلیت ،شینا ادب میں گلگت کیسے آج بھی گلیت استعمال ہوتا ہے۔بلتستان جس کیایک حصے کو بلور کلان، دوسرے کو بلور خورد کہا جاتا تھا پانچویں صدی سے یہی نام رائج تھا۔326 قبل از مسیح میں معروف چینی سیاح فاہین نے سنکیانگ سے اسکردو کا سفر کیا تو اس علاقے کا نام پلول تھا ، اسلامی دور میں اس کو بلتستان کا نام دیا گیا۔ گلگت بلتستان بلند ترین چوٹیوں کی تعداد 150 ہیں جو 23000 سے لیکر 28000تک بلندہیں جموں و کشمیر میں گلیشئیر کی تعداد 86 قطبین کو چھوڑ کر سیاچین گلیشئیر دنیا کا دوسرا بڑا گلیشئیر ہے لمبائی 60 میل رقبہ 450 مربع میل، اوراس کا راستہ بلتستان کی وادی خپلوسے ہوجا کرجاتاہے۔ 1995 میں ریاست جموں و کشمیر کی کل آبادی کا تخمینہ1 کروڑ 34 لاکھ لگایا گیا جس کے مطابق ہندوستانی مقبوضہ کشمیر 80 لاکھ، آزاد کشمیر و گلگت بلتستان 35 لاکھ مہاجرین جموں و کشیر مقیم، پاکستان 15 لاکھ، برطانیہ میں رہائش پذیر کشمیری 3 لاکھ ، امریکہ عرب مملک افریقہ میں 11 لاکھ کشمیری موجود ہیں کشمیریوں کی کل آبادی 1 کروڑ 34 لاکھ بنتی ہے۔دریائے گلگت کے کنارے ایک خوبصورت سیرگاہ خیار باغ ہے جہاں-48 1947 کے شہدا کی یادگاریں ہیں جبکہ فاتح گلگت بلتستان کرنل مرزاحسن خان جرال کی آخری آرام گاہ بھی یہیں موجود ہے ۔جن کے خاندان کو گلگت بلتستان سے زبردستی بدر کرکے ان کی املاک کو مسمار کردیا گیا۔ مقبوضہ کشمیر مین لاک ڈاؤن کے دوران 60 سے زائد بھارتی فوجیوں نے خودکشی کی۔ سیکیورٹی فورسز نے 175 آپریشنز مین 180 حریت لیڈروں کو قتل کیا ۔جبکہ جھڑپوں میں 19 پولیس اہلکاروں سمیت 55 فوجی بھی جہنم واصل ہوئے۔ ریاست جموں کشمیر کے 3 ہزار سکھوں نے بری طرح نظرانداز کرنے پر مودی حکومت کے خلاف زبردست مظاہرے کیے ، سکھ لیڈر بلدیو سنگھ رانا کا کہتا تھا ریاست میں باہر سے آنے والوں کو ہر سطح پر تعلیم سمیت تمام مراعات دی جا رہی ہیں ریاست میں صدیوں سے رہنے والے سکھوں سے سوتیلی ماں جیسا سلوک کیا جاتا ہے۔بھارت حکومت نے خصوصی حیثیت کے خاتمے کا اعلان کرنے کے ساتھ متحدہ ریاست جموں وکشمیر کے1928 کے ایکٹ کو بھی تبدیل کر دیا جس کے تحت حق خودارادیت کیلئے کشمیریوں کو اقلیت میں تبدیل کرنے کیلئے کوئی بھی بھارت شہری مقبوضہ کشمیر میں جائیداد خرید سکے گا۔1928 کے قانون کے تحت کوئی غیر کشمیری ریاست کے کسی بھی حصہ میں پراپرٹی نہیں خرید سکتا تھا۔

image_pdfimage_print
شیئرکریں
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے