Voice of Asia News

اقوام متحدہ بھارتی دہشت گردی کا نوٹس لے:حافظ محمد صالح

بھارت جسے دنیا کا سب سے بڑا جمہوری ملک کہا جاتا ہے وہاں وزیراعظم نریندر مودی کی زیر قیادت انتہا پسند ہندوؤں کی حکمران جماعت بی جے پی نے اقلیتوں، بالخصوص مسلمانوں پر عرصہ حیات تنگ کر رکھا ہے۔ اس کی ایک دل دہلا دینے والی مثال آٹھ فروری ریاست کرناٹک میں سامنے آئی جہاں ایک باحجاب مسلمان طالبہ کے ساتھ شرپسند متعصب ہندو انتہا پرست نوجوانوں کے ہجوم کی بدسلوکی۔ اس واقعے کی ویڈیو ذرائع ابلاغ سے نشر ہوچکی ہے اور دنیا نے بھارت کی جمہوریت اور سیکولرازم کا تماشا دیکھ لیا ہے۔ جنوبی ہند کی ریاست کرناٹک کے شہر اڈچی کے مہاتما گاندھی میموریل کالج اودو پی میں ایک مسلم طالبہ جس کا نام مسکان ہے۔ مسکان عبایہ، حجاب و نقاب میں ملبوس اپنے اسکوٹر پر بیٹھ کر کالج میں اسائنمنٹ جمع کروانے آتی ہے۔ وہ اسکوٹر سے اتر کر ابھی چند قدم ہی چلتی ہے کہ انتہا پسند ہندو لڑکوں کا جتھا اسے گھیر لیتا ہے۔ وہ لڑکے شیطانی اور مکارانہ ہنسی ہنستے ہیں، گندے اشارے کرتے ہیں، ہاتھوں میں پکڑے سرخ کپڑے فضا میں لہراتے ہیں اور زبانوں سے جے شری رام کے نعرے لگاتے ہیں۔ ویڈیو میں دیکھا سکتا ہے کہ اس تنہا لڑکی نے، اس وقت نہ تو یہ سوچا کہ اس شرپسند جتھے کے سامنے (جو چند لڑکے نہیں تھے بلکہ کئی درجنوں کی تعداد پر مشتمل پورا ہجوم تھا) یہ مجھے کوئی نقصان ہی نہ پہنچا دیں بلکہ اس نے اسے اسلام اور کفر کا مقابلہ سمجھتے ہوئے، جرأت و دلیری کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنی دینی حمیت دکھائی اور بلند آواز کے ساتھ جے شری رام کے نعرے کے جواب میں اﷲ اکبر کے نعرے لگا کر ہندو سامراج کے سامنے اس بات کا اعلان کیا کہ ہم مسلمان تو صرف اپنے رب کے غلام ہیں۔ ہمارے لیے اس کے حکم کے علاوہ کوئی قانون نہیں۔ ہمارا جینا مرنا صرف اپنے رب کے لیے ہے۔اگر اس رب کا حکم عورت کے لیے باوقار اور مستور رہنے کا ہے تو میں اعلان کرتی ہوں ہم ایسے ہی رہیں گی۔
شرپسند نوجوانوں کے ہجوم کی دہشت گردی سے بھارتی ریاست کرناٹک کی حکومت بری الذمہ نہیں ہوسکتی۔ جس نے اپنے صوبے کے تعلیمی اداروں میں مسلمان طالبات کے لیے حجاب کے ساتھ داخلے پر پابندی عائد کردی ہے۔ حکومت کے اس اقدام اور طالبہ مسکان کے ساتھ آنے پیش آنے والے اس واقعہ کے خلاف ریاست کے کئی شہروں میں مظاہرے ہوئے اور حالات کشیدہ ہونے پر ریاستی حکومت کو تین روز کے لیے تعلیمی ادارے بند کرنا پڑے۔ اپنی نوعیت کا یہ پہلا واقعہ نہیں۔ انتہا پسند ہندو کرناٹک سمیت کئی ریاستوں میں مسلمان طالبات کو مسلسل ہراساں کر رہے ہیں جس کے خلاف مسلمان سراپا احتجاج ہیں۔ ابھی گزشتہ دنوں میں ہندوتوا کے علمبرداروں کے ایک اجلاس میں مسلمانوں کی نسل کشی کی بات علی الاعلان کی گئی ہے گائے کا ذبیحہ کرنے کے الزام میں بھارت کے مختلف علاقوں میں متعصب ہجوم مسلمانوں کو آگ میں بھی جلاچکا ہے۔ ریاست کرناٹک کی حکومت کی جانب سے تعلیمی اداروں میں مسلمان طالبات کے لیے حجاب کی بندش نے ایک نیا تنازع کھڑا کردیا ہے اور حکمرانوں کی شہہ پر جرائم پیشہ غنڈوں کو مسلمانوں کے خلاف اْکسایا جارہا ہے۔ مسلمان ہونے کی ہر علامت کو ہدف پر رکھا جارہا ہے۔ گزشتہ دنوں ایک علاقے میں ہونے والے میدان میں جمعہ کی نماز کو بالجبر روکنے کے لیے ایک ہجوم نے دھاوا بول دیا تھا۔ گائے کا گوشت مسجد، حجاب، ڈاڑھی سمیت مسلم شناخت کے ساتھ زندگی بسر کرنے کو ناممکن بنادیا گیا ہے۔ اس انتہاپسندی کو بھارت کی حکومت اور اس کی اشرافیہ سرپرستی کررہی ہے۔
بھارت جوعالمی دہشت گرد امریکا اور اسرائیل کا اتحاد بنا ہوا ہے اس نے بنیاد پرستی اور دہشت گردی کے نام پر اسلام اور مسلمانوں کے خلاف جنگ چھیڑ رکھی ہے۔74 برسوں میں بھارتی سماج کی یہ کیفیت تو ہوچکی ہے جہاں مسلمانوں کو مجبور کردیا گیا ہے کہ وہ اپنی تمام اسلامی شناخت سے دستبرداری اختیار کرلیں۔ جس میں ایک شناخت حجاب کی بھی ہے۔ وہ دنیا جو برہنگی جیسی مکروہ اور قبیح روش کو بنیادی انسانی حق قرار دے رہی ہے حجاب جیسے پاکیزہ عمل کو ممنوع اور ناجائز قرار دے کر اس کے خلاف مہم چلا رہی ہے۔ کرناٹک کے ایک شہر میں پیش آنے والا سانحہ کوئی منفرد واقعہ نہیں ہے۔ یہ اس بات کی علامت ہے کہ مسلمانوں کا پیغام دیا جارہا ہے کہ ان کے لیے اس کے سوا کوئی راستہ نہیں ہے کہ وہ اپنے دین سے دستبرداری اختیار کرلیں۔ بھارت کے اہل دانش کو اب اس بات کی فکر کرنی چاہیے کہ انہوں نے اپنی قوم کی کیسی مجرمانہ تربیت کی ہے۔ اس کا کیا انجام ہوگا۔ بہادر اور جرأت مند مسلمان طالبہ مسکان خان کی بے خوفی قابل قدر ہے۔ جس نے صبرو استقامت کے ساتھ مشتعل غنڈوں کے ہجوم کا مقابلہ کیا، حجاب کا تنازع بھارت میں پھیلتا جارہا ہے۔
حیرت کی بات یہ ہے کہ عالمی برادری جو مسلم فوبیا کے زیر اثر ذرا ذرا سی بات پر مسلمانوں کو نشانہ بناتی ہے، بھارتی حکومت کی اس مسلم دشمنی پر ٹس سے مس نہیں ہوئی۔ یہی وجہ ہے کہ بھارت میں ہند و توا سرکار کی زیر سرپرستی مساجد شہید کی جا رہی ہیں۔ مسلمانوں کا جینا اجیرن کر دیا گیا ہے اور شعائر اسلامی کی توہین کی جا رہی ہے مگر اقوامِ متحدہ اور دوسرے عالمی ادارے اس کا نوٹس تک نہیں لے رہے۔ اب وقت آگیا ہے کہ اقوام متحدہ بھارت سمیت دنیا کے دیگر ممالک میں مسلمانوں کے ساتھ ہونے والے انسانیت سوز مظالم کا نوٹس لے ورنہ پوری دنیا کا امن تباہ ہو جائے گا اور اس کا ذمہ دار اقوام متحدہ ہو گا۔

h.m.sualeh12@gmail.com

image_pdfimage_print
شیئرکریں