Voice of Asia News

’’تبدیلی سرکار ‘‘ نے عوام پر بجلی گرا دی:سید اقبال احمد ہاشمی

’’تبدیلی سرکار ‘‘کی سفاکیت عروج پر پہنچ گئی۔عالمی سود خور ادارے آئی ایم ایف کے حکم پر عمران خان کی حکومت نے تاریخ ساز مہنگائی کی چکی میں پستی عوام پربجلی گرا دی ۔نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی(نیپرا) کے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق بجلی فی یونٹ کی قیمت میں3روپے 10پیسے فی یونٹ اضافہ کردیا،اضافہ ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ کی مد میں کیا گیا،اضافے کا اطلاق فرور ی کے بلز پر ہو گا۔انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ(آئی ایم ایف) نے بجلی کے شعبے میں گردشی قرضے کم کرنے کیلئے پاکستان تحریک انصاف کی حکومت کو بجلی مزید مہنگی کر نے کا حکم دیا تھا۔ آئی ایم ایف کی جانب سے حکومت پر مسلسل دباؤ ڈالا جارہا ہے کہ وہ توانائی کے شعبے میں بہتری لانے کے لیے گردشی قرضوں میں کمی لائے، اس لیے گردشی قرضوں میں کمی کے لیے بجلی کے نرخوں میں مرحلہ وار اضافہ کیا جا رہا ہے۔ بجلی کے نرخوں میں اضافے کے ذریعے آئی ایم ایف، عالمی بینک اور ایشیائی ترقیاتی بینک سے لیے گئے قرضوں کی واپسی کی جائے گی۔ پاکستان کے اقتصادی پالیسی سازوں کے پاس بھی کوئی ایسا منصوبہ نہیں ہے جس سے گردشی قرضوں میں کمی لائی جاسکے۔ چند روز قبل نیپرا نے دسمبر کی ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ کی مد میں بجلی کی قیمتوں میں اضافے کے لیے سی پی پی اے کی جانب سے دائر درخواست پر سماعت کی تھی اور اپنا فیصلہ محفوظ کر لیا تھا۔حکومت نے مہنگائی میں پسے عوام پر بجلی بم گراتے ہوئے بجلی کی قیمت میں 3 روپے10پیسے فی یونٹ اضافہ کردیا ہے۔ اضافہ شدہ قیمت فروری کے بلوں میں عوام سے وصول کی جائے گی۔ فیصلے کا اطلاق50یونٹ تک بجلی استعمال کرنے والے صارفین اور کے الیکٹرک کے صارفین پر نہیں ہو گا۔ فیصلے سے صارفین پر30ارب روپے سے زاید کا اضافی بوجھ پڑے گا جب کہ نیپرا کے فیصلے میں رکن سندھ رفیق شیخ نے اپنا اختلافی نوٹ بھی لکھاہے۔ رفیق شیخ نے اپنے اختلافی نوٹ میں لکھا ہے کہ دسمبر میں ایل این جی کی عدم دستیابی سے تقریباً2 ارب روپے کااضافی بوجھ پڑا ہے ، بہتر منصوبہ بندی کے ذریعے ایل این جی کی فراہمی کو یقینی بنایا جاسکتا تھا تاکہ اضافی بوجھ نہ پڑتا۔ رفیق شیخ نے لکھا کہ ایل این جی کی جو بدانتظامی ہے جس کے باعث ایل این جی نہیں آئی ہے ، اس بدانتظامی کا بوجھ عوام پر نہیں ڈالا جاسکتا۔ رفیق شیخ نے یہ بھی لکھا ہے کہ جو نیپراکی توثیق کے بغیر چلنے والے پلانٹس ہیں ان سے بجلی کی خریداری پر انہیں شدید تحفظات ہیں۔
سود پر مبنی معاشی نظام ، رشوت، کرپشن کی لعنت نے ایٹمی صلاحیت اور بہترین جغرافیائی حیثیت کے حامل پاکستان کو دنیابھر میں بھکاری بنادیا ہے۔ حکمرانوں کی جانب سے آئی ایم ایف ، ورلڈ بینک سمیت دنیا کے مختلف ملک سے بھیک مانگنے، قرضوں اور امداد کے لیے کشکول پھیلانے سے ملک اور عوام کی رسوائی ہورہی ہے۔آئی ایم ایف نے پاکستان کی معاشی صورتحال میں بہتری کی نشاندہی کرتے ہوئے بعض اقدامات تجویز کئے ہیں جن پر عملدرآمد سے اس کے خیال میں ملک کی معاشی شرح نمو 5فیصد تک پہنچ سکتی ہے۔ اس حوالے سے ڈھانچہ جاتی اصلاحات، خصوصاً جن کا تعلق گورننس اور انسداد منی لانڈرنگ جیسے معاملات سے ہے، میں مزید تاخیر نہ کرنے پر زیادہ زور دیا گیا ہے اور بتایا گیا ہے کہ ایسا نہ کرنے سے معاشی بحالی کی رفتار کم ہونے سمیت بیرونی فنڈنگ اور غیرملکی سرمایہ کاری پر منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ آئی ایم ایف جس نے حال ہی میں ایک ارب ڈالر سے زائد قرضے کی قسط جاری کر دی ہے، کی ایک تفصیلی رپورٹ میں جہاں ملک کی موجودہ اقتصادی صورتحال کا تجزیہ پیش کیا گیا ہے وہاں حکومت کیلئے مستقبل کا معاشی لائحہ عمل بھی تجویز کرتے ہوئے بعض ایسے مطالبات کیے گئے ہیں جو مہنگائی کی چکی میں پسنے والے عوام کیلئے لمحہ فکریہ ہوں گے۔ رپورٹ میں پاکستان سے کہا گیا ہے کہ بجلی ، گیس اور پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کیا جائے۔ انکم ٹیکس استثنا ختم کیا جائے۔ ذاتی انکم ٹیکس کے حوالے سے آئندہ بجٹ میں ٹیکس دہندگان کیلئے خصوصی ٹیکس پروسیجر متعارف کرایا جائے۔ ٹیکس نیٹ بڑھایا جائے۔ تعمیراتی اور ہاؤسنگ سیکٹر کی ترقی کیلئے اسٹرٹیجی پیپر مرتب کیا جائے۔ انسدادِ منی لانڈرنگ اور دہشت گردوں کے حوالے سے فیٹف کے باقی نکات پر عملدرآمد مکمل کیا جائے تاکہ گرے لسٹ سے نکلا جا سکے۔ گیس کے شعبے میں اصلاحات کی جائیں۔ بجلی کے شعبے میں سبسڈی میں مزید کمی کی جائے۔ غریب لوگوں کو سبسڈی دینی ہے تو احساس پروگرام کے ذریعے دی جائے۔ آئی ایم ایف کی رپورٹ میں پاکستان کے اگلے بجٹ میں 430ارب روپے کے نئے ٹیکس لگائے جانے کی اطلاع دی گئی ہے اور یہ بھی بتایا گیا ہے کہ اگلے سال کا ترقیاتی بجٹ بھی 627ارب روپے سے کم کر کے 554ارب روپے کر دیا جائے گا۔ رواں مالی سال کا کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ بڑھ کر 12ارب 99کروڑ ڈالر متوقع ہے جو جی ڈی پی کے 4فیصد کے مساوی ہو گا۔ ایف بی آر نے انکم ٹیکس چھوٹ ختم کرنے کیلئے اقدامات شروع کر دئیے ہیں۔
آئی ایم ایف کے معاشی تجزیے کے بعض پہلو حکومت کی معاشی ٹیم کیلئے توجہ طلب ہیں جیسا کہ افغانستان کی صورتحال وغیرہ، تاہم اضافی ٹیکسوں کا نفاذ، ٹیکس استثناختم کرنے اورپیٹرول ، بجلی و گیس کے نرخ بڑھانے، ترقیاتی اخراجات کم کرنے جیسے مطالبات دراصل آئی ایم ایف کے قرضوں کے حصول کے لیے پاکستان سے ’’ڈومور‘‘ کے تقاضے کے مترادف ہیں، آئی ایم ایف نے پاکستان کیلئے 6ارب ڈالر قرضے کا وعدہ کر رکھا ہے۔ نصف قرضہ مل چکا ہے جبکہ نصف ابھی پاکستان کو ملنا باقی ہے۔ اس قرضے کی بہت سی کڑی شرائط حکومت نے پوری کر دی ہیں اور خدشہ ہے کہ باقی رقم کے لیے مزید شرائط منوائی جائیں گی۔ یہ سلسلہ جاری رہا تو پاکستان کی رہی سہی اقتصادی خودمختاری بھی ختم ہو جائے گی۔بجلی اور پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ اور بڑھتی ہوئی مہنگائی کی وجہ سے پاکستان میں عام آدمی کے لیے گزر بسر کرنا مشکل ہو گیا ہے۔ملک میں مہنگائی میں اضافے کی ایک اور اہم وجہ یہ بھی ہے کہ اقتصادی پالیسیوں میں ملک کے طاقتور طبقے کو فائدہ پہنچایا جاتا ہے اور اس کے اثرات براہ راست غریب عوام پر پڑتے ہیں ،ملک میں اقتصادی پالیسیاں ایسی بنائی جا رہی ہیں کہ اس میں عوام کو کوئی ریلیف نہیں دیا جارہا ،ملک کے طاقتور طبقے اپنے مفادات کو ان پالیسیوں پر ترجیح دیتے ہیں۔یہ طبقے قومی دولت لوٹتے ، قرضے لیتے اور بعد میں پارلیمان میں اپنے ان قرضوں کو معاف کروا لیتے ہیں اور اس کا بوجھ عوام پر ڈال دیا جاتا ہے۔بڑھتی ہوئی مہنگائی سے ہر شخص پریشان ہے، اسی طرح روپے کی قدر میں تیزی سے ہوتی کمی اور ڈالر کی قیمت بڑھنے سے ملک میں حالیہ عرصے کے دوران اشیاء کی قیمتوں میں بے انتہا اضافہ دیکھا گیا۔حکومتی وزرامہنگائی کے حوالے سے اپنی پریس کانفرنسوں میں دلائل بھی دیتے رہتے ہیں ، لیکن عام لوگ کیا کریں، کہاں جائیں؟ کس دروازے پر دستک دیں۔حکومت نے چینی پر کمیشن بٹھایا، بہت دعوے ہوئے، کسی ایک کا بھی محاسبہ نہیں ہوا اور چینی کی قیمت بڑھتی ہی چلی گئی۔گندم اسکینڈل پر کمیٹی بنی، رپورٹ آئی،کسی کا محاسبہ نہیں ہوا اور آٹا عوام کی پہنچ سے دور ہوتا چلا گیا۔ ایل این جی پہ کمیٹی بنی۔پتہ نہیں اس کا کیا بنا لیکن بجلی کی قیمت بڑھتی ہی چلی جا رہی ہے۔ اب تو اتنے بھاری بل آرہے ہیں کہ اچھی خاصی آمدنی رکھنے والوں کے لیے بھی ان کی ادائیگی مشکل ہے۔ادویات کی قیمتوں میں اضافے پر کمیٹی بنی، کوئی فرق نہ پڑا۔ اس دوران بے روزگاری کا سیلاب بھی بے قابو ہو چکا ہے۔ خود حکومت کی ایک تازہ رپورٹ نے اس کی تصدیق کر دی ہے۔عالمی اداروں کے اعداد و شمار کے مطابق روزگار کے قابل 70 لاکھ افراد بے روزگار ہیں، آپ انھیں ستر لاکھ کا خاندان سمجھیں۔ ان بے روزگاروں میں 12 فی صد وہ نوجوان ہیں جن کی عمریں بیس اور چوبیس سال کے درمیان ہیں۔عالمی بینک کے مطابق اس وقت 40 فیصد پاکستانی، اس کے معیار کے مطابق غربت کی لکیر سے نیچے چلے گئے ہیں یعنی ان کی تعداد آٹھ کروڑ سے زائد ہے، گزشتہ حکومت کے دنوں میں یہ شرح 25 فیصد کے لگ بھگ تھی۔غربت میں اضافے کی ایک وجہ سماجی بے ایمانی اورعوام کا غیر ذمے دارانہ رویہ بھی ہے۔ ایک طبقہ بے ایمانی اور غیر منصفانہ طریقے سے دولت کے حصول کے لیے سرگرم ہے،معاشرہ بے راہ روی کا شکار ہو چکا ہے،اس بے یقینی کی کیفیت نے معاشرے میں منفی سوچ کو بڑھاوا دیا ہے،قوم اپنے حقوق سے آگاہ ہی نہیں ہے،کام کرنے والے لوگ اپنی کارکردگی کا مظاہرہ نہیں کر رہے۔اہم ترین مسئلہ یہ بھی ہے کہ حکومتی سطح پر مسائل کے حل پر مکمل طور پر غور ہی نہیں کیا جاتا اور ایک نئی پالیسی کا اعلا ن کر دیا جاتا ہے، بھاری ٹیکس لگا کر عوام کو غربت کی لکیر سے نیچے رہنے پر مجبور کر دیا جاتا ہے،مزدور طبقہ اور عام آدمی کو بنیادی ضروریات سے محروم رکھا جاتا ہے، خصوصی طور پر صحت و علاج، انصاف کی فراہمی، مہنگائی، ملازمت، قرضوں کی فراہمی اور تعلیم جیسی بنیادی سہولیات پر بھی عدم دلچسپی کا اظہار کیا جاتا ہے۔غریب کا تو برا حال ہے ہی امیر بھی مہنگائی کے اثرات سے محفوظ نہیں پیٹرول کی بڑھتی ہوئی قیمتوں نے گاڑی مالکان کو بھی متاثر کیا ہے۔ خاص طور پر درمیانی طبقہ جوملک کی ترقی میں ریڑھ کی ہڈی کا کردار ادا کرتا ہے، بری طرح پریشان ہے۔ بچوں کے تعلیمی اخراجات،گھریلو ضروریات، علاج معالجے کے اخراجات کا خرچ ایک تنخواہ میں کہاں سے پورا کریں۔آج کے دور میں دو دو نوکریاں کرکے بھی لوگوں کا گزارہ مشکل ہوگیا ہے۔
پاکستان میں روزانہ کی بنیاد پر مہنگائی میں اضافہ ہونے سے نچلے اور متوسط طبقے کے پاس اب گذر بسر کا سامان نہیں رہا ہے، یہ سب مہنگائی میں روزانہ کی بنیاد پر ہونے والے اضافے کے باعث مشکلات کا شکار ہیں ۔ اس حقیقت سے بھی انکار ممکن نہیں کہ پاکستانی روپیہ امریکی ڈالرکی محکومیت کا شکار ہے،اس معاشی افراتفری میں اشیا کی قیمتوں کا کنٹرول میں رہنا ممکن نظر نہیں آرہا ہے۔ بے شمار ٹیکس بھی قیمتوں میں اضافے کا موجب بن رہے ہیں ، ذخیرہ اندوزی، ناجائز بلیک مارکیٹنگ اور رسد میں رکاوٹ بھی مہنگائی کا باعث ہوتی ہے۔بے دریغ لیے گئے غیر ملکی قرضہ جات بھی معیشتیں کمزورکرتے ہیں ، حکومتی اخراجات اور معاشی خسارہ پورا کرنے کے لیے بے تحاشا نوٹ چھاپنے سے بھی افراط زر پھیلتا ہے۔ مہنگائی اور بے روزگاری نے عوام کی رات کی نیند اور دن کا چین غارت کر دیا ہے۔ کوئی دن جاتا ہو گا جب حکومت کی طرف سے کسی نہ کسی ضروری چیزکی قیمت میں اضافے کا اعلان نہ ہوتا ہو جو عوام کی تکلیف میں مزید اضافہ کا سبب نہ بنتا ہو۔ آٹا، چاول، دال، گھی، تیل، گوشت، سبزی غرض روز مرہ استعمال کی کوئی شے بھی اب عوام کی دسترس میں نہ رہی ہے۔غریب لوگوں کی ایک تعداد غربت سے تنگ آکر خودکشیاں کرنے پر مجبور ہو چکی ہے۔ آج جتنے پیسے گھر میں آتے ہیں اس حساب سے سوچنا پڑتا ہے، جس حساب سے مہنگائی ہو رہی ہے، اس سے تو ایسا لگتا ہے کہ آنے والے دنوں میں دال چاول کھانا بھی بہت مشکل بن جائے گا۔ غریب طبقہ تو اس سے پریشان ہے ہی، متوسط طبقہ بھی بری طرح متاثر ہے اور حد تو یہ ہے کہ اب کھاتے پیتے گھرانوں میں بھی مہنگائی کی باز گشت سنائی دے رہی ہے۔مہنگائی کنٹرول کرنے کے لیے نہ صرف حکومت بے بس نظر آرہی ہے بلکہ اس کے ماتحت پرائس کنٹرول کمیٹی کے ممبران میں اتنی اہلیت ہی نہیں کہ وہ حکومت کوکوئی مشورہ دے سکیں کہ بڑھتی ہوئی قیمتوں کوکیسے کنٹرول کیا جاسکتا ہے۔مہنگائی کے اثرات نے جہاں صنعتوں پر منفی اثرات ڈالے ہیں، وہیں لاقانونیت میں بھی اضافہ ہوا ہے۔جمہوریت کا حسن تو یہ ہے کہ وسائل کی تقسیم اوپر سے نیچے تک ہوتی ہے مگر پاکستان میں ایسا کچھ ہوتا دکھائی نہیں دیتا۔ غیر منصفانہ تقسیم کے باعث معاشرے میں غربت، بے چینی، مایوسی، افراتفری پھیلی ہے اور بے روزگاری کے باعث چوری، قتل، دھوکا دہی، ریپ کیسز اور دیگر جرائم میں بھی اضافہ ہوا ہے۔دولت کی غیر مساوی تقسیم بھی مہنگائی کو بڑھاوا دیتی ہے کیونکہ دولت مند افراد کم وسائل کے حامل لوگوں کو لوٹنے لگ جاتے ہیں جو مہنگائی کا باعث بنتے ہیں۔ ملک میں جہاں مزدور اور محنت کش طبقہ شدید مشکلات کا شکار ہے ، وہیں اعلیٰ تعلیم یافتہ نوجوان اور پروفیشنل افراد بھی بے روزگار ہیں یعنی روزگار کے مواقعے نہ ہونے کے برابر رہ گئے ہیں ،یہ ملکی معیشت کے لیے ناقابل تلافی نقصان کا سبب بن رہا ہے۔حالات روز بروز سنگین ہوتے جارہے ہیں۔
تاریخ ساز مہنگائی کے علاوہ کورونا وائرس نے بھی ملک میں موجود عدم مساوات میں اضافہ کیا ہے جس کے باعث لاکھوں غیر محفوظ افراد پر روزگار سے محرومی کا خطرہ منڈلا رہا ہے۔مہنگائی کی شرح ملکی تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ چکی ہے ،ملک میں بڑھتی ہوئی مہنگائی کے سبب جہاں بے روزگاری میں اضافہ ہو رہا ہے وہیں سماجی اور نفسیاتی مسائل اور جرائم کی شرح بھی تیزی سے بڑھ رہی ہے۔ روزمرہ استعمال کی اشیاء جن میں آٹا، دالیں، چینی وغیرہ شامل ہیں لوگوں کی دسترس سے باہر ہوتی جارہی ہیں۔ بجلی اور گیس کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے باعث نہ صرف ملکی معیشت بری طرح متاثر ہورہی ہے بلکہ عام شہریوں کے ساتھ ساتھ اب تو تاجر اور صنعت کار برادری بھی صدائے احتجاج بلند کرتی نظر آتی ہے۔افراط زر کرنسی کی قدر میں کمی کی وجہ سے سامان اور خدمات کی قیمتوں میں اضافہ ہو گیا ہے۔ افراط زر کی پریشانی اس وقت پیدا ہوتی ہے جب ہمیں غیر متوقع مہنگائی کا سامنا کرنا پڑتا ہے جو لوگوں کی آمدنی سے مناسبت نہیں رکھتا ہے۔ معیشت کو آسانی سے چلانے کے لیے مرکزی بینک افراط زر کو محدود کرنے اور افراط سے بچنے کی کوشش کرتے ہیں۔ افراط زر وہ شرح ہے جس پر اشیاء اور خدمات کی قیمتوں کی عمومی سطح میں اضافہ ہورہا ہے اور اس کے نتیجے میں، کرنسی کی قوت خرید کم ہورہی ہے۔ اگر سامان کی قیمتوں کے ساتھ ساتھ آمدنی میں اضافہ نہیں ہوتا ہے تو، ہر ایک کی قوت خرید مؤثر طریقے سے کم ہو جاتی ہے۔ملکی حالات دیکھ کر تویوں لگتا ہے کہ ایک مافیا ہے جس نے نظام حکومت پر اپنے پنجے گاڑ دیے ہیں۔باہر کے ممالک سے درآمد کیے گئے لوگ جن کو یہاں کے حالات سے ذرا بھی واقفیت نہیں وہ غربت کی ماری اس قوم کی تقدیر کا فیصلہ کرتے ہیں اور عوام کے منتخب نمائندے ان کے فیصلوں کے سامنے ہاتھ باندھ کر سر تسلیم خم کرتے ہیں۔ نتیجہ عوام کو بھگتنا پڑتا ہے۔اسلام آباد کے ایوان اقتدار کی غلام گردشوں میں کچھ افراد کے نام اُونچی سرگوشیوں میں لیے جا رہے ہیں جو بادی النظر میں بظاہر کسی غیر ملکی ایجنڈے کے تحت پاکستان کو غیر مستحکم کرنے کے مشن پر ہیں۔ہمارے اسٹیٹ بینک کے گورنر جو آئی ایم ایف کے ملازم ہونے کے ناطے مصر میں تعینات تھے وہاں کی معیشت کا بیڑہ غرق کرنے کے بعد پاکستان کی تقدیر سنوارنے چلے آئے اورپھر تباہی کا عمل شروع ہو گیا۔یہ بات ہر کسی کے علم میں ہے کہ زرتلافی یا سبسڈی کا خاتمہ، ڈالر کی قیمت میں اضافہ انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ (آئی ایم ایف )کا حکم ہے۔ 5 سال میں 6 ارب ڈالر کے قرض کے لیے ’’تبدیلی سرکار‘‘نے پورے پاکستان کوعالمی سود خور ادارے کے پاس گروی رکھ دیا ہے۔اسٹیٹ بینک آف پاکستان کو خود مختار بنا کر آئی ایم ایف کے تابع کر دیا گیا ہے۔
پاکستان ایسا ملک جو غذائی سطح پر خود کفیل تھا اسے بھی ’’فوڈ سیکورٹی‘‘ کا مسئلہ درپیش ہے۔ ہمارا ملک جو کہ ایک زرعی ملک کہلاتا ہے،جس کا دارومدار زراعت پر ہے، لیکن اس ملک کی زرعی پیداوار اتنی بھی نہیں ہے کہ عوام کی غذائی ضروریات پوری ہوسکیں، دوسری جانب ہماری زرعی پیداوار کا ایک بڑا حصہ افغانستان اسمگل ہوجاتا ہے جس کی وجہ سے ملک میں اشیائے خورونوش کی قلت ملک میں پیدا ہوجاتی ہے اور مہنگائی بڑھتی ہے۔ہمارے پاس دنیا کا بہترین نہری نظام اور زرخیز ترین زمین ہے، لیکن مقام افسوس ہے کہ کوئی بھی حکومت ایک کامیاب زرعی پالیسی بنانے میں ناکام رہی ہے ، کیونکہ حکومت سرے سے زراعت کی ترقی پر کوئی توجہ نہیں دے رہی ہے۔یوریا کھاد بحران کی وجہ سے کسان پریشان ہیں۔بڑھتی ہوئی مہنگائی اور اس کے ختم نہ ہونے کے آثار نے ہر شخص کو مشکل میں ڈال رکھا ہے خاتون خانہ ہے تو وہ پریشان ہے کھانے پینے، پہننے اوڑھنے، علاج معالجے اور دیگر ضروریات زندگی سے لے کر باورچی خانے اور تعلیمی اخراجات حد سے بڑھ گئے ہیں۔ مزدور کی مزدوری گھریلو ضروریات پوری کرنے سے قاصر ہے۔
یہ بات درست ہے کہ پاکستان کا سب سے بڑا مسئلہ سابق حکومتوں کی جانب سے سخت ملک دشمن شرائط پر لیے گئے قرضے ہیں لیکن اس سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ موجودہ حکومت سابقہ حکومتوں کے جرائم سے بری الذمہ ہے۔ سابق حکومتوں پر تنقید بجا، لیکن عمران خان بھی ان کے جرائم میں شریک ہے، بدعنوانوں کا احتساب ہوسکا، نہ امریکا، یورپ اور عالمی مالیاتی اداروں کی غلامی سے آزادی کی کوئی اُمید پیدا ہوسکی ہے۔ پاکستان کی حکمران اشرافیہ نے حقیقی معنوں میں ایک مضبوط معیشت کو ایسے بحران میں مبتلا کردیا ہے جس نے قومی سلامتی کو بھی خطرے میں ڈال دیا ہے۔دولت کی غیر مساوی تقسیم بھی مہنگائی کو بڑھاوا دیتی ہے کیونکہ دولت مند افراد کم وسائل کے حامل لوگوں کو لوٹنے لگ جاتے ہیں جو مہنگائی کا باعث بنتے ہیں۔لوگوں کے ذرایع آمدن پہلے ہی کورونا وائرس کے منفی اثرات کے باعث آدھے سے بھی کم ہو چکے ہیں۔ سب سے زیادہ متاثر نچلا طبقہ ہے جو کرائے کے گھروں میں رہائش پذیر ہے گزشتہ دس سالوں سے مکانوں اور دکانوں کے بڑھتے ہوئے کرائے بھی مہنگائی میں مسلسل اضافہ کر رہے ہیں جن کو کسی بھی حکومت نے کنٹرول کرنے کی کبھی نہ تو کوشش کی نہ ہی اس ضمن میں کبھی کوئی قانون سازی عمل میں آئی۔حکومت کا فرض ہوتا ہے کہ اپنے عوام کو ضروریات زندگی کی اشیا سستے داموں مہیا کرے لیکن ایسا نہیں ہورہا ہے، کھانے پینے کی اشیا سے لے کر الیکٹرونکس و الیکٹریکل مصنوعات تک مہنگی ہوگئی ہیں۔عام آدمی کو یہ بتانا پڑے گا کہ جہاں مہنگائی کو قابو نہ کر سکنے کی ذمے دار حکو مت ہے، وہیں مصنوعی مہنگائی پیداکرنے والے عناصر بھی موجود ہیں اور اتنے ہی ذمے دار ہیں جتنی حکومت ہے۔عام آدمی کے مسائل کا حل صرف حکومت کے پاس ہی ہے، آج کے دور میں دو دو نوکریاں کرکے بھی لوگوں کا گزارہ مشکل ہوگیا ہے، پاکستانی کرنسی کی قدر میں گراوٹ بھی مہنگائی کا سبب بنتی ہے، اس لیے ایسے معاشی اقدامات اٹھانے کی اشد ضرورت ہے جن سے روپے کی ساکھ مضبوط ہو سکے۔ حکومت جب تک ذاتی مفادات کے برعکس اقتصادی استحکام کو ترجیح نہیں دیتی معاشی عدم استحکام ختم نہیں ہو سکتا۔
2011 سے لے کر 2018 تک پاکستان تحریک انصاف کے لیے ایک ایسا ماحول ترتیب دیا گیا تھا جس سے یوں لگتا تھا کہ تمام مسائل کے حل کی کنجی عمران خان کے پاس ہے۔ عمران خان نے بھی اپنی تقاریر سے ایسا تاثر دیا تھا جیسے ان کے پاس ایسی ٹیم موجود ہے جو ایک دم ملک کی تقدیر بدل کر رکھ دے گی۔پاکستان کا وہ کون سا شعبہ تھا جس کی اصلاح کے لیے عمران خان نے اپنی صلاحیتوں کے اظہار کا برملا دعویٰ نہیں کیا تھا۔عمران خان اپنی گفتگو ، تقاریر اور انٹرویوز میں تبدیلی، مضبوط بلدیاتی نظام ،ملک میں سستے انصاف کی فراہمی، مثالی قانون سازی، کڑا احتساب، آئی ایم ایف سے مستقل چھٹکارے ، کسی کے سامنے ہاتھ نہ پھیلانے، بجلی و گیس کی لوڈ شیڈنگ سے نجات دلانے، تعلیم، صحت، سماجی بہبود، تعمیر و ترقی کے شعبوں میں اصلاحات سمیت مہنگائی اور بدعنوانی کے خاتمے، زراعت، صنعت و تجارت ہاؤسنگ، بیروزگاری، توانائی کے بحران سے نمٹنے اور نوجوانوں کیلئے ایک جامع پروگرام سمیت غریب عوام کو خوشحال بنانے کا دعویٰ کیا کرتے تھے۔دکھوں کے مارے عوام نے بھی عمران خان کو مسیحا سمجھ لیا۔مہنگائی، کرپشن کے خاتمے، ،سرکاری اداروں کی اصلاح اور بے روزگاری جیسے سنگین مسائل کے حل کے لیے تحریک انصاف ہی اُمید کی واحد کرن دکھائی دینے لگی۔ تحریک انصاف کے اسٹیج سے بار بار اس بات کا دعویٰ کیا جاتا تھا کہ ان کے پاس ماہرین کی ایک ایسی ٹیم موجود ہے جو چٹکی بجاتے ہی ملک کو اس گرداب سے نکال لے گی۔ پھر انہی دعوؤں کی بنیاد پر عوام نے 2018 کے انتخابات میں عمران خان کو ووٹ دیکر اقتدار دلایا۔لیکن ساڑھے تین سال کا عرصہ گزرنے کے بعد بھی ’ ’ مہنگائی کا جن‘‘کسی طرح قابو میں نہیں آرہا،ایک کروڑ نوکریوں کا دعویٰ کرنے والوں نے دو کروڑ لوگ بے روزگار کر دیے ہیں، غربت ختم کرنے کا دعویٰ کرنے والوں نے ملک میں غربت کا گراف بڑھا دیا ہے، اداروں میں اصلاحات کا آغاز تو کیا ہونا تھا،وہ بدانتظامی کا گڑھ بن گئے، آج ہر شخص بے بسی کی عملی تصویر بناہوا ہے۔تبدیلی سرکار نے اپنی اقدامات کی بدولت پورا پاکستان ہی مفلوج کر دیا ہے۔ آج سواتین سال بعد پاکستان تحریک انصاف نے ملک کا یہ منظرنامہ بنایا ہے کہ بلدیاتی ادارے تباہ، احتساب ایک مذاق
اور سستا انصاف ایک خواب بن چکا ہے۔مہنگائی، بے روزگاری، غربت میں اضافے اور لاقانونیت کے باعث ملک میں بسنے والے بائیس کروڑ لوگوں کا ذہنی سکون لحد میں اتر چکا ہے،ملک میں بسنے والے کسی شخص کے چہرے پر خوشی نہیں ہے ، پریشانیاں سائے کی طرح مسلسل لگی ہوئی ہیں، بے روز گاری اور غربت بڑھنے سے خود کشیوں میں اضافہ ہو گیا ہے ۔ روپے کی قدر و قیمت میں ہوشربا کمی،ڈالر کی قیمت میں بے پناہ اضافہ،پیٹرول کی قیمتوں کے سامنے بے بسی،ذرائع روزگار میں کمی،بجلی اور گیس کی قیمتوں میں اضافہ،یہ سارے حالات مل کر پاکستان کو ایسی بند گلی میں دھکیل رہے ہیں جن سے نکلنا نا ممکن تو نہیں لیکن بہت مشکل ضرور ہو جائے گا۔ پاکستان کی سلامتی کا واحد حل آئی ایم ایف ،ورلڈ بینک سمیت دیگر عالمی سود خور اداروں سے فوری نجات حاصل کرنے، آئین پاکستان پر مکمل عمل درآمد، سماجی، عدالتی، اقتصادی اور معاشرتی انصاف کی فراہمی ، اتحاد امت، آزاد، باوقار خارجہ پالیسی سے قومی وحدت اور قومی اتحاد مضبوط ہوسکتا ہے۔موجودی حالات میں ملک کو بحرانوں سے نکالنے کے لیے قومی سطح پر دیانت داری کے ساتھ بڑے اتفاق رائے کی ضرورت ہے۔

image_pdfimage_print
شیئرکریں