Voice of Asia News

کرپشن کا سبب بننے والی وزارتوں کوتعریفی اسناد:حافظ محمد صالح

 

وزیراعظم عمران خان کے معاون خصوصی برائے اسٹیبلشمنٹ ارباب شہزاد نے مختلف وزارتوں کی کارکردگی کے اعتبار سے درجہ بندی کی ہے جس کی بنیاد پروزیراعظم عمران خان کی طرف سے ایک تقریب میں بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کرنیوالی 10وفاقی وزارتوں میں تعریفی اسناد تقسیم کیں۔جن وزارتوں کو تعریفی اسناد سے نوازاگیا ان میں وزارت مواصلات کے مراد سعید پہلے، وزارت منصوبہ بندی کے اسد عمر دوسرے، تخفیف غربت اور سماجی تحفظ ڈویژن کی ثانیہ نشتر تیسرے، وزارت تعلیم اور پیشہ ورانہ تربیت کے شفقت محمود چوتھے، انسانی حقوق کی شیریں مزاری پانچویں، صنعت و پیداوار کے خسرو بختیار چھٹے، قومی سلامتی کے معید یوسف ساتویں، تجارت کے عبدالرزاق داؤد آٹھویں، داخلہ کے شیخ رشید نویں، نیشنل فوڈ سیکیورٹی کے وزیر، فخر امام دسویں نمبر پر رہے۔ تعریفی اسناد نہ ملنے پروزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے اپنی ہی حکومت سے شدید احتجاج کیا ہے۔ ارباب شہزاد کے نام ایک احتجاجی مراسلے میں ان کا کہنا ہے کہ مجھے بتایا گیا تھا کہ وزارتوں کی اوسط کارکردگی 62فیصد ہے جبکہ مختلف اہداف کے حوالے سے وزارت خارجہ کی کارکردگی 77سے 99فیصد رہی ہے۔ اس کے باوجود تعریفی اسناد کی فہرست میں اسے شامل نہیں کیا گیا۔ وزیر خارجہ نے اپنے تحفظات پر معاون خصوصی سے تحریری جواب مانگ لیا ہے۔
ٹرانسپیر نسی انٹرنیشنل نے اپنی حالیہ رپورٹ میں پاکستان میں جن وزارتوں میں کرپشن بڑھنے کے بارے میں بتایا تھا وزیر اعظم عمران خان نے انہی وزارتوں کو بہترین قرار دے کر تعریفی اسناد سے نوازا۔ٹرانسپیر نسی انٹرنیشنل کی حالیہ رپورٹ میں وزارت مواصلات میں بڑا سیکنڈل سامنے آیا تھا،اسد عمر کی وزارت میں کورونا فنڈ زکے معامات میں گھپلے سامنے آئے تھے۔احساس پروگرام میں بھی بڑے پیمانے پر کرپشن کے الزامات سامنے آئے تھے۔رزاق داؤد پر دیامر بھاشا ڈیم کے حوالے سے کنٹریکٹ کے معاملے میں گڑبڑ کا الزام سامنے آچکا ہے۔اس بارے میں آڈیٹر جنرل کا مؤقف بھی سامنے آچکا ہے۔خسروبختیار کی وزارت کا چینی اسکینڈل میں نام مبیہ طور پر شامل رہا ہے۔اسی لیے ان وزارتوں کو تعریفی اسناد دینا حیران کن ہے۔وزیر اعظم عمران خاں نے اقتدار سنبھالنے کے فوری بعد یہ اعلان کیا تھا کہ وہ اپنی کابینہ کے ارکان کو جوابدہ بنائیں گے اور ان کی کارکردگی کا ماہانہ یا شاید سہ ماہی جائزہ لیا جائے گا۔ اس اعلان کو ساڑھے تین برس مکمل ہونے کے بعد ان کے اعلان کی یہ صورت سامنے آئی ہے۔
وزیر اعظم عمران خان کی چوالیس رکنی کابینہ میں وزیر خارجہ شاہ محمود، وزیر اطلاعات فواد چودھری، وزیر خزانہ شوکت ترین، حماد اظہر، پرویز خٹک، شبلی فراز، فروغ نسیم، مونس الٰہی، امین الحق، علی محمد خان سمیت 34 ارکان تسلی بخش کارکردگی کا مظاہرہ نہ کر سکے کہ انہیں توصیفی سند کا حق دار بھی نہیں سمجھا گیا وفاقی کابینہ کا تفصیلی تجزیہ کیا جائے تو اس وقت جناب عمران خاں کی کابینہ 28 وفاقی وزراء، چار وزرائے مملکت، چار مشیر اور آٹھ معاونین خصوصی پر مشتمل ہے، ان میں سے ایک معاون خصوصی شہزاد ارباب کو یہ ذمہ داری سونپی گئی تھی کہ وہ وزراء کی کارکردگی کا جائزہ لے کر ان کی درجہ بندی کریں، چنانچہ اس ضمن میں انہوں نے جو رپورٹ تیار کی وزیر اعظم نے اس کی روشنی میں اپنی کابینہ کے ارکان کو توصیفی اسناد سے نوازا اور ان کے محکموں کے ملازمین کے لیے اضافی الاؤنس کی ادائیگی کا اعلان بھی کیا وزیراعظم نے اس موقع پر اپنی گفتگو میں دیگر بہت سی باتوں کے علاوہ یہ بھی کہا کہ جزا و سزا کے بغیر کوئی نظام کامیاب نہیں ہو سکتا۔ وزیر اعظم کا یہ ارشاد ایسا نہیں کہ جس سے اختلاف کیا جا سکے تاہم سوال یہ ہے کہ انہوں نے اپنے دس وزراء کو اسناد سے نواز کر کیا جزا و سزا کے حقیقی تصور کا حق ادا کر دیا ہے ؟ جواب اثبات میں ممکن نہیں کیونکہ اولاً تو پانچ برس کے لیے منتخب ہونے والی حکومت اگر ساڑھے تین سال بعد پہلی بار اپنے وزراء کی کارکردگی کا جائزہ قوم کے سامنے لائے گی تو یہ گویا اس امر کا اعلان ہے کہ حکمران جزا و سزا کو بامقصد اور نتیجہ خیز بنانے میں سنجیدہ نہیں اگر وہ سنجیدہ ہوتے تو جیسا کہ وزیر اعظم نے خود اعلان کیا تھا یہ جائزہ ماہانہ یا زیادہ سے زیادہ سہ ماہی بنیادوں پر لینے کا اہتمام کیا جاتا مگر وزیر اعظم کا یہ اعلان بھی بہت سے دیگر اعلانات کی طرح عملی شکل اختیار نہیں کر سکا اب ساڑھے تین برس بعد پہلی بار منظر عام پر آنے والے اس تجزیہ کی دوسری قسط معلوم نہیں قوم کے سامنے آبھی سکے گی یا نہیں۔ ایسے میں اس اقدام کے مفید مطلب ہونے کی توقع عبث ہے۔ پھر یہ بھی کہ وزرائے کرام کی کارکردگی جانچنے کا پیمانہ یا طریق کار اور معیار کیا تھا، اس کام کے ذمہ دار وزیر اعظم کے معاون خصوصی شہزاد ارباب خود ایک سابق اور تجربہ کار بیورو کریٹ ہیں، انہیں یہ بات اچھی طرح معلوم ہونا چاہئے کہ معیاری تحقیق و تجزیہ کے لیے اولین اہمیت اس پیمانہ کو حاصل ہے جس پر کسی تجزیہ کی بنیاد رکھی جاتی ہے۔ اس کا ایک طریقہ یہ بھی ہو سکتا تھا کہ مختلف وزارتوں کی کارکردگی سے متعلق عوام کی رائے کو تجزیہ و تحقیق کی اساس ٹھہرایا جاتا مگر یہ طریقہ شاید اس لیے بھی اختیار کرنا مناسب نہ سمجھا گیا ہو کہ اس طرح عوام کے حکومتی کارکردگی سے متعلق منفی جذبات زیادہ شدت سے نمایاں ہو کر سامنے آتے اس وقت جن وزارتوں کو تو صیفی اسناد سے نوازا گیا ہے ان میں وزارت تخفیف غربت بھی شامل ہے ملک میں گزشتہ ساڑھے تین برس کے دوران غربت اور غریب اور امیر کے مابین خلیج میں جس قدر تیزی سے اضافہ ہوا ہے وہ کسی عام عقل و فہم کے فرد سے بھی پوشیدہ نہیں مگر اس کے باوجود اس وزارت کی کارکردگی کو کس جواز پر اعلیٰ اور قابل ستائش قرار دیا گیا ،یہ عقل سے عاری بات ہے۔
اسی طرح بہترین قرار پانے والی دس وزارتوں میں سیاسی پیش گوئیوں کی شہرت رکھنے والے شیخ رشید احمد صاحب کی وزارت داخلہ بھی شامل ہے، کیا شیخ رشید احمد یا وزیر اعظم عمران خاں خود دل پر ہاتھ رکھ کر یہ دعویٰ کر سکتے ہیں کہ ملک میں امن و امان کی صورت حال مثالی تو دور کی بات ہے ، قابل اطمینان بھی ہے؟ یہی حال دس اعلیٰ وزارتوں میں شامل وزارت فوڈ سیکیورٹی اور وزارت صنعت و پیداوار کا بھی ہے کہ ملک میں گندم، گنے، کپاس اور دیگر اجناس کی شاندار فصل اور پیداوار کے باوجود آٹے، چینی و دیگر اشیائے خوراک کی قلت اور بے پناہ مہنگائی نے عام آدمی کا جینا دوبھر کر رکھا ہے دوسری جانب کسانوں کو کھاد کی فراہمی میں جس بد نظمی اور بلیک مارکیٹنگ کا دور دورہ ہے اس کے بعد بھی کیا وزارت صنعت کی کارکردگی اس قابل ہے کہ اسے سراہا جائے اور اس کے وزیر کو تعریفی سند عطا کی جائے۔ اسی طرح تعریف و توصیف کی مستحق قرار دی جانے والی ایک ایک وزارت کا جائزہ لیتے جائیں۔ شاید ہی کسی وزارت کی کارکردگی پر اطمینان کا اظہار کیا جا سکے مگر یہاں انہیں توصیفی اسناد سے نواز دیا گیا ہے۔ شاید یہی سبب ہے کہ خود کابینہ کے اندر سے ان اسناد کی عطائیگی پر عدم اطمینان کا اظہار سامنے اآرہا ہے اور ایک وزیر صاحب سے تو یہ بیان بھی منسوب کیا گیا ہے کہ جو ذمہ داریاں ادا نہیں کرتے وہ ایوارڈ کے حق دار ٹھہرے ہیں۔‘‘ کیا اس کے بعد یہ سارا عمل مشکوک قرار نہیں پائے گا؟ وزیر اعظم عمران خاں نے انتخابی مہم کے دوران اور پھر اقتدار سنبھالنے کے بعد سب سے بڑا دعویٰ ’’تبدیلی‘‘ لانے کا کیا تھا مگر اب ان کا یہ فرمان سامنے آیا ہے کہ ’’میرے خیالات تو انقلابی تھے مگر فوری تبدیلی نہیں لا سکا ہمارے نظام میں فوری تبدیلی برداشت کرنے کی صلاحیت نہیں، وزراء اچھا کام نہ کریں تو میں کیا کر سکتا ہوں، مراعات دے کر وزارتوں اور بیورو کریسی میں مثبت تبدیلیاں لائیں گے۔‘‘ اس سے بڑھ کر ناکامی کا اعتراف اور بے بسی کا اظہار اور کیا ہو سکتا ہے مگر تکلیف دہ امر یہ ہے کہ جناب عمران خان واضح الفاظ میں اپنی ناکامیوں کا اعتراف کرنے کے باوجود اس کی ذمہ داری آج بھی دوسروں پر ڈالے چلے جا رہے ہیں۔ فرماتے ہیں کہ ’’وزراء اچھا کام نہ کریں تو میں کیا کر سکتا ہوں؟‘‘ سوال یہ ہے کہ ان نکمے اور ناکارہ وزیروں کا انتخاب کس نے کیا تھا اور آج بھی اگر یہ کسی اہلیت یا صلاحیت کا مظاہرہ کرنے سے قاصر ہیں تو ان کو کابینہ سے نکال باہر کرنے میں کیا امر مانع ہے؟ ہمارے معاشرے میں تمام تر خامیوں اور خرابیوں کے باوجود اس قدر بھی قحط الرجال کی کیفیت نہیں کہ اچھے اور باصلاحیت لوگ تلاش نہ کرسکیں ۔ یہ بات کیا حکومت سنبھالنے سے قبل آپ پر اہل درد نے واضح نہیں کر دی تھی کہ جس ٹیم اور جن ساتھیوں کے ساتھ آپ ’’تبدیلی‘‘ برپا کرنے کے دعوے کر رہے ہیں ان تلوں سے تیل برآمد ہونا ممکن نہیں مگر آپ کا اظرار تھا کہ آپ یہ انہونی کر دکھائیں گے۔ آج بھی آپ اپنی ذمہ داری قبول کرنے کی بجائے تمام بوجھ دوسروں پر ڈالنے پر بضد ہیں کہ ’’میرے خیالات تو انقلابی تھے مگر ہمارے نظام میں فوری تبدیلی برداشت کرنے کی صلاحیت نہیں‘‘۔ جناب وزیر اعظم۔ کیا یہ نظام جسے تبدیل کرنے کے لیے آپ گزشتہ 22سے جدوجہد فرما رہے تھے۔
انسانی فطرت یہی ہے کہ تعریف سے اسے خو ش ملتی ہے اور اس کی کارکردگی میں بہتری کا باعث بنتی ہے جبکہ اس کے بر عکس عمل یعنی سبکی اسے یا تو مایوس کرتی ہے یا پھراس میں ایسا جوش و جذبہ پیدا کرتی ہے کہ وہ اپنی تمام تر صلاحیتیں بروئے کار لاکر اس مقام کو حاصل کرلے جہاں اسے بھی سراہا جائے۔ سوال البتہ یہ ہے کہ بیسیوں دیگر وزارتوں کی کارکردگی کیوں نہ بہتر ہوئی ،جس پر اپوزیشن بھی طعن کر رہی ہے اور وزیراعظم کا محض یہ کہہ دینا بھی انکے منصب کے شایاں نہیں کہ’’وزیر اگر اچھا کام نہیں کریں گے تو میں کیا کرسکتا ہوں؟‘‘موجودہ حالات میں سب کو اپنی ذمہ داریوں کو کماحقہ ادا کرنا ہو گا ، کارکردگی بہتر ہوگی یا ابتر ،حکومت کے کھاتے میں ہی جائے گی ،جس کا حکومت جتنا جلدی ادراک کر لے اتنا ہی اچھا ہو گا ورنہ الیکشن میں کوئی جواز کام نہ آئے گا۔
h.m.sualeh12@gmail.com

image_pdfimage_print
شیئرکریں