Voice of Asia News

یوینشن آف الیکٹرونک کرائمزکے حوالے سے قانون سازی: محمد قیصر چوہان

صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے پریوینشن آف الیکٹرونک کرائمز(پیکا)ترمیمی اور الیکشن ترمیمی آرڈیننس پر دستخط کر دیے ہیں۔صدر مملکت کی جانب سے جاری پیکا آرڈیننس میں ’شخص‘کی تعریف شامل کر دی گئی ہے جس کیمطابق ’شخص‘میں کوئی بھی کمپنی، ایسوسی ایشن، ادارہ یا اتھارٹی شامل ہے جبکہ ترمیمی آرڈیننس میں کسی بھی فرد کے تشخص پر حملے پر قید 3 سے بڑھا کر 5 سال کر دی گئی ہے۔آرڈیننس کے مطابق شکایت درج کرانے والا متاثرہ فریق، اس کا نمائندہ یا گارڈین ہوگا، جرم کو قابل دست اندازی قرار دے دیا گیا ہے جو ناقابل ضمانت ہو گا۔ترمیمی آرڈیننس میں کہا گیا ہے کہ ٹرائل کورٹ 6 ماہ کے اندر کیس کا فیصلہ کرے گی اور ہر ماہ کیس کی تفصیلات ہائیکورٹ کو جمع کرائے گی، ہائیکورٹ کو اگر لگے کہ کیس جلد نمٹانے میں رکاوٹیں ہیں تو رکاوٹیں دور کرنے کا کہے گی۔ آرڈیننس کے مطابق وفاقی و صوبائی حکومتیں اور افسران کو رکاوٹیں دور کرنے کا کہا جائے گا، ہر ہائیکورٹ کا چیف جسٹس ایک جج اور افسران کو ان کیسز کے لیے نامزد کرے گا۔اس کے علاوہ الیکشن ایکٹ ترمیمی آرڈیننس کے مطابق تمام اسمبلیوں، سینیٹ اور مقامی حکومتوں کے ارکان الیکشن مہم کے دوران تقریر کر سکیں گے، کوئی بھی پبلک آفس ہولڈر اور منتخب نمائندے حلقے کا دورہ کر سکیں گے۔
پاکستان تحریک انصاف کی حکومت فوجی ڈکٹیٹروں کے نقش قدم پر چل پڑی ہے۔عمران خان حکومت نے ملک کی سیاست ، اداروں ، روایات ، معیشت ، سماج ، غرض ہر شعبے کا بیڑا غرق کر کے رکھ دیا ہے۔ عام طور پر یہ کام فوجی ڈکٹیٹر کرتے ہیں کہ اپنی ضرورت کے لیے بلدیاتی ، سیاسی اور عدالتی قوانین بناتے ہیں، عمران خان کی حکومت نے اپنی ضرورت اور فائدے کے لیے آرڈیننسوں کی بھر مار کر کے دھونس دباؤ اور طاقت کے ذریعے انہیں پارلیمنٹ سے منظور کروانے کا ریکارڈ توڑ دیا ہے۔ سینیٹ میں اکثریت نہ ہونے کے باوجود خلائی مخلوق کی طاقت کے بل پر سینیٹ سے بھی جو بل چاہتے ہیں منظور کرا لیتے ہیں۔قانون کو موم کی ناک بنا دیا گیا ہے۔ جو کام کروانا ہے اس کے لیے قانون ہی بدل ڈالو۔ نہ کوئی جھگڑا نہ اعتراض بلکہ ایساقانون بنایا جاتا ہے کہ اعتراض کرنے والا ہی غدار قرار پائے۔ چنانچہ اب پھر یہ قانون بنایا جا رہا ہے کہ وزراء اور پارلیمنٹیرینز کو انتخابی قوانین تبدیل کر کے انتخابی مہم میں حصہ لینے کی اجازت دلوائی جا رہی ہے۔ ابھی تو وفاقی کابینہ نے اس کی منظوری دی ہے۔ فی الحال اپوزیشن نے اس کی مخالفت کی ہے لیکن اپوزیشن تو حکومت سے تعاون کے لیے ہر کام میں اسی طرح پہلے مخالفت کرتی ہے پھر منافقت اور پھر مفاہمت کر لیتی ہے ہر قانون کسی نہ کسی بہانے منظور ہو جاتا ہے۔
اگر حکمران طبقہ ملک و قوم کے ساتھ مخلص ہے تو پھر آئین پاکستان پر من وعن عمل کیوں نہیں ہوتا؟۔اب سوال ہے کہ فوج اور عدلیہ پر تنقید کیوں نہیں ہو سکتی۔ اس ملک میں پارلیمنٹ ، سیاستدان ، صدر ، وزیر اعظم ، علمائے کرام ، مساجد ، اسلام، عورت، ہر ایک چیز پر تنقید ہی نہیں بلکہ ان کی عزت خراب کی جاتی ہے اور ایسا کرنے والے میڈیا پرہاتھ نچا نچا کر باتیں کرتے ہیں اور ہیرو بنے پھرتے ہیں تو پھر فوج اور عدلیہ کیوں بری الزمہ۔ ان کو ایسے کام نہیں کرنے چاہئیں جن کی وجہ سے ان پر تنقید کی جائے۔ البتہ تنقید کی زبان اور طریقہ مہذبانہ ہونا چاہیے۔ حکومت نے اپنی ضرورت یا اپنے مفاد میں وزرا ء اور پارلیمنٹرینز کے انتخابی مہم میں حصہ لینے کی اجازت کا قانون بنانے کا فیصلہ کیا ہے اس طرح ضمنی انتخابات اور آنے والے بلدیاتی انتخابات پر اثر انداز ہواجائے اور اپنی مرضی کے نتائج حاصل کیے جائیں۔ حالانکہ حکمران ہر دور میں یہی چاہتے ہیں اور یہی کرتے ہیں یہ در اصل الیکشن کمیشن کو بے دست و پا بنانے کی کوشش ہے۔یہ سارے کام جہاں سے ہوتے ہیں وہ اس قسم کی قانون سازی کر کے خود کو محفوظ مورچے میں بند کر لیتے ہیں۔ اس قانون میں بھی ایسی ہی کوشش کی جا رہی ہے۔ مجوزہ آرڈیننس میں عدالتوں کو اداروں کے خلاف نفرت انگیز مہم پر مقدمات کا فیصلہ چھ ماہ میں کرنے کا پابند بنایا جائے گا،بہت خوب۔ پاکستان میں بڑے برے ہولناک واقعات کے مقدمات بیس بیس سال چلتے رہتے ہیں، کوئی فیصلہ نہیں ہوتا۔ اس جانب بھی توجہ دی جائے۔ چونکہ یہ قانون بنایا ہی اس لیے جا رہا ہے کہ جن لوگوں کو حکومت اپنا دشمن سمجھتی ہے وہ محض حکومت کی اپوزیشن ہیں اپنی سیاسی مخالفت کو ملک دشمنی غداری اور سنگین جرم کیوں بنایا جا رہا ہے۔ کیا حکومت اپنی مخالفت کو ملک دشمنی سمجھتی ہے؟۔ پاکستان کی تمام سیاسی، غیر سیاسی فوجی ہر قسم کی حکومتیں اپنی مخالفت کو ملک کی اور ریاست کی مخالفت کیوں قرار دیتی رہی ہیں؟۔ ان کا دشمن غدار ہوتا ہے اوریہی غدار حکومت بدلتے ہی محب وطن بن جاتے ہیں۔
بیس فروری بروزاتوار کو کراچی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے وفاقی وزیر قانون فروغ نسیم نے کہا کہ میڈیا تنقید کرنا چاہتا ہے تو بالکل کرے لیکن جعلی خبر نہیں ہونی چاہیے، پیکا آرڈیننس کے تحت جعلی خبر دینے والے کی ضمانت ہوگی نہ کسی کو استثنا حاصل ہوگا۔ان کا کہنا تھا کہ جعلی خبروں کا قلع قمع کرنے کے لیے قانون بڑا ضرروی ہے، اس لیے اب فیک نیوز پھیلانے والوں کو 3 سال کی جگہ 5 سال سزا ہوگی، یہ جرم قابل ضمانت نہیں ہوگا اور اس میں بغیر وارنٹ گرفتاری ممکن ہوگی،پیکا قانون سب کے لیے ہوگا،معروف شخصیات سے متعلق جھوٹی خبروں کے خلاف شکایت کنندہ کوئی عام شہری بھی ہوسکتا ہے، حکومت پہلی بار جرنلسٹس پروٹیکشن بل لائی ہے۔ وزیرقانون نے کہا کہ اس آرڈیننس کے تحت 6 مہینے کے اندر اس کیس کا ٹرائل مکمل کرنا ہوگا، اگر 6 مہینے کے اندر ٹرائل مکمل نہ ہوا تو ہائی کورٹ متعلقہ جج سے تاخیر سے متعلق سوال کرے گی، اگر جج تسلی بخش جواب نہ دے سکا تو جج کے خلاف قانون کے تحت کارروائی ممکن ہوگی۔فروغ نسیم کے بقول اس آرڈیننس کی مدد سے جھوٹی خبریں پھیلانے والوں کے خلاف ہتک عزت کا کیس کیا جاسکے گا اور کرمنل جرم کے تحت کارروائی بھی کی جاسکے گی۔وزیر قانون نے بتایا کہ پیکا والے قانون کی ڈرافٹنگ میں نے کی ہے جبکہ الیکشن کوڈ آف کنڈکٹ کا ایکٹ بابر اعوان نے بنایا ہے۔انہوں نے کہا کہ میرا آپ سب سے سوال ہے کہ کیا ہم نہیں چاہتے کہ فیک نیوز نہیں ہونی چاہیے؟ خبر معاشرے کی بنیادوں میں سے ایک ہوتی ہے اور اگر کسی معاشرے کی بنیاد جھوٹ پر رکھی جائے گی تو اس کا کیا بنے گا؟۔انہوں نے کہا کہ اس قانون سے میڈیا کو کنٹرول کرنے کا ہرگز مقصد نہیں ہے، آپ تنقید کے لیے بالکل آزاد ہیں لیکن اعتراض صرف یہ ہے کہ فیک نیوز نہیں ہونی چاہیے۔ وزیر قانون نے کہا کہ کچھ صحافی جعلی خبروں کے ذریعے معاشرے میں ہیجانی کیفیت پیدا کرنا چاہتے ہیں، یہ لوگ پاکستان کے دوست نہیں ہیں،ہمارے پڑوسی جھوٹی خبریں پھیلا رہے ہیں، ڈس انفارمیشن لیب کی مثال ہمارے سامنے ہے جس کے پیچھے بھارت تھا۔ان کا کہنا تھاکہ یہ جھوٹی خبریں دینے والے محض وہ لوگ ہیں جن کا کوئی ذاتی ایجنڈا ہوتا ہے یا پھر ایسی خبروں کے ذریعے ہیجان پھیلانے کے پیچھے بھارت ہوتا ہے، اس سب کو روکنا انتہائی ضروری ہے۔ان کا کہنا تھاکہ یہ آرڈیننس بڑا ضروری تھا، وزیراعظم نے مجھ سمیت فواد چودھری ، اٹارنی جنرل اور شیخ رشید سے اس پر مشاورت کے جس کے بعد پیکا کی یہ ترامیم تیار کی ہیں۔فروغ نسیم نے کہا کہ پیمرا جیسا ادارہ اور پیکا کی طرح کے قوانین ہر مہذب معاشرے میں موجود ہیں، کوئی ایسی چیز نہیں کررہے جو غیرقانونی ہے۔پیکا آرڈیننس کے تحت وزیراعظم کے خلاف بھی اپیل کا حق موجود ہونے کے سوال پر انہوں نے کہا کہ پیکا آرڈیننس کے تحت کسی کو بھی کاروائی سے استثنا حاصل نہیں ہوگا، یہ سب پر لاگو ہوگا۔آرڈیننس کے آرٹیکل 19 اور 19 اے سے متصادم ہونے کے سوال پر انہوں نے کہا کہ آئین میں شامل کوئی ایک شک ایسی دکھا دیں جو یہ کہتا ہو کہ فیک نیوز پھیلانا آپ کا آئینی حق ہے، آئین کے مطابق ایساحق کسی کو حاصل نہیں ہے۔وزیرقانون نے یہ بھی کہا کہ آئین کے مطابق ایکٹ آف پارلیمنٹ بنانے کے 2 راستے ہیں، بل پیش کردیں یا آرڈیننس لے آئیں، آرڈیننس لانا اگر غلط تھا تو 18 ویں ترمیم میں اسے حذف کیا جاتا، 73 کے آئین اور 56 کے آئین میں بھی یہ شامل تھا، اس لیے اسے غیرجمہوری نہیں کہا جا سکتا، غیر جمہوری وہ چیز ہوتی ہے جو قانون اور آئین میں نہ ہو، پیپلز پارٹی اور (ن) لیگ کے دور میں بھی آرڈیننس کی بھرمار تھی۔
مسلم لیگ(ن)کی نائب صدر مریم نواز نیپریوینشن آف الیکٹرونک کرائمز(پیکا)ترمیمی آرڈیننس پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ حکومت جو بھی قوانین بنا رہی ہے وہ عمران اینڈ کمپنی کے خلاف استعمال ہونے والے ہیں۔ مریم نواز نے کہا کہ یہ حکومت جو بھی قوانین بنا رہی ہے کہنے کو تو میڈیا اور اپوزیشن کی آواز بند کرنے کے لیے ہیں لیکن یہ قوانین عمران اور ان کے ساتھیوں کے خلاف استعمال ہونے والے ہیں۔امیر جماعت اسلامی سراج الحق کا کہنا تھا کہ پریوینشن آف الیکٹرونک کرائمز(پیکا)ترمیمی آرڈیننس آمرانہ سوچ کا عکاس ہے احتساب سے کوئی بھی بالا تر نہیں حکومت مسلسل صدارتی آرڈنینس پاس کروانے کی بجائے عوام کی عدالت میں جوابدہی کی تیاری کریں، حکمرانوں کے احتساب کا وقت قریب کوئی متنازع آرڈیننس تحفظ فراہم نہیں کر سکتا۔
دوسری جانب صحافتی تنظیموں کی جوائنٹ ایکشن کمیٹی اور ہیومن رائٹس کمیشن پاکستان نے پریوینشن آف الیکٹرونک کرائمز ایکٹ (پیکا) پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے آرڈیننس کو مسترد کردیا۔صحافتی تنظیموں پاکستان براڈ کاسٹرز ایسوسی ایشن (پی بی اے)، آل پاکستان نیوزپیپرز سوسائٹی (اے پی این ایس)، کونسل آف پاکستان نیوزپیپر ایڈیٹرز (سی پی این ای)، پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس (پی ایف یو جے) اور ایسوسی ایشن آف الیکٹرقنک میڈیا ایڈیٹرز اینڈ نیوز ڈائریکٹرز (ایمینڈ) پر مبنی جوائنٹ ایکشن کمیٹی نے الیکٹرونک کرائم ایکٹ کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ایکٹ میں انتہائی عجلت کا مظاہرہ اور اسٹیک ہولڈرز کی جانب سے دی گئی تجاویز کو بھی نظر انداز کیا گیا۔جوائنٹ ایکشن کمیٹی نے کہا کہ صدارتی آرڈیننس کے ذریعے تنقیدی اور تعمیری آوازوں کو دبانے کے لیے کی گئی ترامیم کو یکسر مسترد کرتے ہیں، ایسی کوئی بھی ترامیم ، قانون یا آرڈیننس جس میں آزادی اظہار کو دبانے کی کوشش کی جائے گی اس کے خلاف ہر فورم پر آواز اٹھائی جائے گی۔پی ایف یوجے نے آرڈیننس کو عدالت میں چیلنج کرنے کااعلان بھی کیا۔مزید برآں ہیومن رائٹس کمیشن پاکستان (ایچ آر سی پی) نے مجوزہ پیکا آرڈیننس کو غیر جمہوری قرار دیا اورالیکشن ایکٹ میں ترمیم پر افسوس کا اظہار کیا ہے۔ایچ آر سی پی نے کہا کہ مجوزہ قوانین میں ریاست پرتنقید کرنے والوں کی جیل مدت 2 سے 5 سال کردی گئی اور تنقید کو ناقابل ضمانت فعل قراردیا گیا۔انہوں نے کہا کہ پیکا قانون غیرجمہوری ہے جس کے ذریعے حکومت اور ریاستی اداروں کے ناقدین کو نشانہ بنایا جائے گا۔

image_pdfimage_print
شیئرکریں