Voice of Asia News

شیر علی رضوی کو خدمت خلق سے عشق ہے: سید اقبال احمد ہاشمی

دین اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات ہے جس نے زندگی کے ہر شعبہ میں ہماری رہنمائی فرمائی ہے اسلام ہمیں اخوت اور بھائی چارے کا درس دیتا ہے۔ چونکہ انسان فطری طور پر معاشرتی زندگی گزارتا ہے معاشرے کے ایک اہم رکن ہونے کی حیثیت سے بہت سی ذمہ داریاں قبول کرتا ہے دین اسلام نے ان ذمہ داریوں کو احسن طریقے سے انجام دینے کیلئے بہت سے اصول و ضوابط مقرر کئے ہیں تاکہ ایک ایسا پر امن فلاحی اسلامی معاشرہ وجود میں آئے جس میں ہر کسی کے حقوق کی ضمانت مہیا کی گئی ہے۔ خلق خدا کو فائدہ پہچانا، ان کے کام آنا انسان کی حقیقی عظمت ہے۔ درحقیقت وہی انسان عظمت پاتا ہے جو دوسروں کے کام آتا ہے کیونکہ ہم ہر روز یہ مشاہدہ کرتے ہیں کہ دنیا میں جو شخص بھی آیا وہ اپنی عمر پوری کر کے اس جہان سے چلا گیا۔ لیکن وہ لوگ جو انسانوں میں سب سے بہترین شخص جو دوسروں کے لیے اچھا ہو اور دوسروں کو فائدہ پہنچائے۔
ایک اچھے معاشرہ کی تشکیل کا بنیادی نقطہ آغاز ایک دوسرے کے کام آنا ہے۔ دنیا کے ہر مذہب اور ہر نبی نے انسانیت کی بلا امتیاز خدمت کی تلقین کی ہے جبکہ دین اسلام تو سراسر انسانیت کی فلاح کا مذہب ہے۔ مسلمان کا سب سے بڑا وصف اخوت، ہمدردی، ایثار، قربانی اور محبت ہے۔ ہر مسلمان میں یہ جذبہ کار فرما ہونا چاہیے کہ اس سے جتنی ہو سکے دُکھی انسانیت کی خدمت ضرور کرے۔ ہر دل کی خواہش ہونی چاہیے کہ میں کسی کے کام آسکوں تاکہ یتیم، بے سہارا، نادار اور غریب لوگوں کی دعائیں لوں۔ چیئرمین ہیومن رائٹس گروپ آف پاکستان شیر علی رضوی (ایڈووکیٹ سپریم کورٹ) کا نام بھی ان شخصیات میں شامل ہے جو دُکھی انسانیت کی خدمت میں دن رات مصروف ہیں۔ درد دل رکھنے والا، محب وطن اور فرشتہ صفت یہ انسان جس طرح دُکھی انسانیت کی خدمت میں اپنا تن من دھن نچھاور کر رہے ہیں۔ انہوں نے بے لوث ہو کر اپنے ہم وطنوں کے دکھ کو دل سے محسوس کیا اور پھر پوری تند ہی کے ساتھ ان کے دکھوں میں شریک ہوئے۔ان کی شاندار سماجی و فلاحی خدمات کے اعتراف میں کئی تنظیمیں ان کو ایوارڈزسے نواز چکی ہیں۔ شیر علی رضوی(ایڈووکیٹ سپریم کورٹ)ہیومن رائٹس گروپ آف پاکستان کے بانی و چیئرمین ہیں،اس تنظیم کے دیگر بانی اراکین میں راقم سید اقبال احمد ہاشمی،عرفان ایڈووکیٹ بھی شامل ہیں۔ شیر علی رضوی صاحب اس تنظیم سے پہلے ہیومن رائٹس سوسائٹی آف پاکستان کے صدر بھی رہے ۔یہ تنظیم پاکستان کے معروف قانون دان ایس ایم ظفرنے بنائی تھی۔ شیر علی رضوی صاحب گرین پیس انٹرنیشنل کے چیئرمین بھی رہ چکے ہیں جبکہ وہ ٹرائل لائیرز آف امریکہ کے ممبر کی حیثیت سے بھی اپنے فرائض سر انجام دے چکے ہیں۔
پاکستان میں تھر کا صحرا غربت و افلاس، بھوک اور پیاس کا استعارہ سمجھا جاتا ہے جسے گزشتہ برسوں کے دوران قحط کے آسیب نے اپنے پنجوں میں جکڑ رکھا ہے ۔یہاں کے باسی بنیادی ضروریاتِ زندگی سے بھی محروم ہیں۔شیر علی رضوی صاحب کی جانب سے مٹھی تھرپارکر میں جدیدطبی سہولیات کی فراہمی جومقامی افراد کے لیے کسی نعمت سے کم نہیں ہیں۔ انہوں نے یتیم بچوں کی کفالت کا اہتمام سمیت سولر پاور بھی لگائے ۔ تھر کے علاقے میں میٹھے پانی کی کمی ہے کئی کئی سال بارش نہیں ہوتی جس سے زیر زمین پانی کم ہے اگر ہے بھی تو کڑوا پانی ہے ،ہیومن رائٹس گروپ آف پاکستان کے بانی و چیئرمین شیر علی رضوی (ایڈووکیٹ سپریم کورٹ)نے تھر میں میٹھے پانی کے کئی کے کنوایں کھودوائے ہیں،سندھ حکومت کے ساتھ مل کر تھر میں پینے کے صاف پانی کے پلانٹ بھی لگائے جس سے لوگ مستفیض ہو رہے ہیں۔ ہیومن رائٹس گروپ آف پاکستان کی طرف سے عیدالفطر اور عیدالضحٰی کے موقع پر غریب مستحق مرد و خواتین کو کپڑے، راشن، نقدی اور گوشت کی صورت میں مدد فراہم کر کے اُن کی خوشیوں کو دوبالا کرتی ہے۔
شیر علی رضوی صاحب کو خدمت خلق سے عشق ہے۔وہ ہر کام میں اﷲ تعالیٰ کی مدد مانگتے ہیں اور کام پورا کرنے کے لیے ’’انشاء اﷲ‘‘ ضرور کہتے ہیں۔ ان کی نظر باریک بین ہے۔ اسلام اور اس کی اقدار کو دل کی گہرائیوں سے چاہتے ہیں۔ ان کا دل اﷲ تعالیٰ کا خوف محسوس کرتا نظر آتا ہے۔اﷲ تعالی کے آخری نبی حضرت محمدؐ کی محبت ان کے دل میں رچی بسی ہے۔ پاکستان کو اس وقت شیر علی رضوی جیسے بے لوث، ہمدرد اور مخیر اصحاب کی ضرورت ہے جو دل کھول کر دُکھی انسانیت کی خدمت کر کے پاکستان کو ایک فلاحی ریاست کی عملی شکل دے سکتے ہیں۔

image_pdfimage_print
شیئرکریں