Voice of Asia News

کراچی میں اسٹریٹ کرائمزبڑھنے سے شہری عدم تحفظ کا شکار :حافظ محمد صالح

 
ریاست کی بنیادی ذمے داریوں میں سے ایک اپنے عوام کو امن وامان کے ساتھ زندگی گزارنے کا ماحول فراہم کرنا ہوتا ہے۔ جس ریاست کے باشندے پرامن ماحول میں اپنے معمولات زندگی گزار رہے ہوں اسے پرامن ریاست کہا جاسکتا ہے۔ پھر بھی اکا دکا یا چند وارداتیں ہوجائیں تو ان کے ذمے داروں کو قرار واقعی سزا دی جائے لیکن دنیا کے دسویں بڑے شہرجبکہ پاکستان کے سب سے بڑے اور صنعتی شہر کراچی میں امن و امان کی صورتحال انتہائی خراب ہے۔ اس شہر میں پولیس، رینجرز، سی ٹی ڈی سمیت کئی سیکورٹی ایجنسیاں کار فرما نظر آتی ہیں اور کچھ نظر نہیں آتیں، لیکن ان سب کے وجود کا سب کو علم ہے لیکن اس کے باوجود شہریوں کو امن نصیب نہیں ہو سکا۔کراچی میں مجموعی طور پر 64 ہزار سے زائد اہلکار ڈیوٹی پر موجود ہیں اور قانون نافذ کرنے کے لیے متعین ہیں۔لیکن قانون کے نفاذ اور اس کی بالادستی میں عوام کو تحفظ دینے میں مکمل ناکام ہیں۔ 44 ہزار سے زائد پولیس اہلکار ہیں لیکن امن وامان کے قیام میں ناکام، 20 ہزار رینجرز اہلکار ہیں لیکن امن وامان نہیں ہے۔ملک کے سب سے بڑے اقتصادی شہر میں روزانہ کی بنیاد پر رہزنی اور گھروں میں گھس کر ڈکیتی کی وارداتوں میں ہوشربا اضافہ ہوا ہے۔ رینجرز اور پولیس بھاری بجٹ ہونے کے باوجود شہر میں امن و امان قائم کرنے میں ناکام ہیں۔
سی پی ایل سی کی 13 ماہ کی رپورٹ کے مطابق 2021ء میں اسلحے کے زور پر کل 4,453 موٹر سائیکلیں چھینی گئیں، جبکہ رواں سال جنوری میں مزید 419 موٹر سائیکلیں چھین لی گئیں۔ اسی طرح گزشتہ سال شہر کے مختلف علاقوں سے 46,388 موٹر سائیکلیں چوری ہوئیں، جبکہ گزشتہ ماہ میں 3,908 موٹر سائیکلیں چوری کی گئیں۔ سی پی ایل سی کے اعداد و شمار سے یہ بھی پتا چلتا ہے کہ جنوری 2021ء سے دسمبر 2021ء تک شہر میں 25,188 موبائل فون چھینے گئے، جبکہ رواں سال جنوری 2022ء میں مزید 2,499 موبائل فون چھین لیے گئے۔ اس کے علاوہ گھروں میں ڈکیتی، چوری، بھتا خوری، اغوا برائے تاوان اور بینک ڈکیتی کی وارداتیں بھی بڑھ گئی ہیں۔ اور پولیس ہی کے مطابق اسٹریٹ کرائمز کی 90 فی صد وارداتیں تھانے میں رپورٹ نہیں ہوتیں، صرف وہ وارداتیں رپورٹ ہوتی ہیں جن میں قانونی تقاضے لازمی ہوتے ہیں، یا کوئی شخص مارا جائے یا زخمی ہوجائے تو رپورٹ درج کرانا ضروری ہوجاتا ہے۔ شہر کے ہر گلی کوچے اور اب تو باؤنڈری وال سوسائٹیز سے گاڑیوں سے ساؤنڈ سسٹم، بیک ویو مرر اور بیٹری کی چوری کی درجنوں وارداتیں روزانہ کی بنیاد پر ہورہی ہیں۔ اس وقت کراچی کا کوئی حصہ، گلی محلہ، سڑک یا چوراہا لٹیروں سے محفوظ نہیں ہے۔ آپ کسی سنسان سڑک پر دومنٹ سے زیادہ چلنے کا سوچ بھی نہیں سکتے، لیکن پرہجوم جگہیں بھی محفوظ نہیں ہیں۔ لگ یہ رہا ہے کہ آدھا شہر لٹیرا ہے اور آدھا شکار ہورہا ہے۔ اس ضمن میں سب سے خطرناک بات یہ ہے کہ یہ لوٹ مار گلی، محلوں کی سطح پر پھیل گئی ہے، اور دیکھنے میں آرہا ہے کہ بے روزگار نوجوان اس طرح کی لوٹ مار میں شریک ہیں اور وہ جرائم پیشہ افراد کے ساتھ اُٹھنے بیٹھنے کی وجہ سے رہزنی کی طرف راغب ہورہے ہیں۔
سمندر کنارے آباد پاکستان کے سب سے بڑے شہر میں اسٹریٹ کرائمزمیں بے پناہ اضافہ ہو گیا ہے۔تازہ ترین واقعہ سما ٹی وی کے پروڈیوسر کے دن دہاڑے قتل کا ہے جنہوں نے جنوری میں اسٹریٹ کرائمز کے خلاف آواز اٹھائی اور فروری میں خود شہید کردیے گئے۔ پولیس کے مطابق نارتھ ناظم آباد کے ڈی اے چورنگی کے قریب مسلح ملزمان ایک شہری کے ساتھ لوٹ مارکررہے تھے کہ اطہر متین نے آن کی موٹر سائیکل کو اپنی گاڑی سے ٹکر ماری جس سے ملزمان گر پڑے، بعد میں ایک ملزم نے ان پر گولی چلادی جو جان لیوا ثابت ہوئی۔ اطہر متین 2005ء سے صحافت سے منسلک تھے۔ انہوں نے ’’سما‘‘ سے قبل ’’آج‘‘ ٹی وی اور ’’اے آر وائی نیوز‘‘ کے ساتھ بھی کام کیا تھا۔ اس وقت وہ سما میں سینئر پروڈیوسر اور کراچی پریس کلب کے رکن تھے۔اس سے قبل سرجانی ٹاؤن میں ڈکیتی کے دوران لڑکی سے زیادتی کا واقعہ بھی چند دن پہلے کی ہی بات ہے۔یہاں برسبیلِ تذکرہ یہ کہنا بھی غلط نہ ہوگا کہ کراچی میں بدامنی اور جرائم کی بڑی وجہ پولیس کی سیاسی بنیادوں پر بھرتی اور رشوت کے عوض تھانوں میں تعیناتی بھی ہے۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ پورے ملک کی طرح کراچی میں بھی مہنگائی اور بے روزگاری سے متاثرہ افراد کی تعداد میں روز بروز اضافہ ہوتا جارہا ہے۔کورونا اور لاک ڈاؤن نے معاشی صورتِ حال کو اور خراب کردیا ہے۔ اس صورتِ حال میں سوال یہ بنتا ہے کہ ہمارے سیکورٹی ادارے کیا کرر ہے ہیں؟ پولیس کیا کررہی ہے؟ اطہر متین کے واقعے میں بھی لوگ سڑک پر ڈاکوؤں کو پتھر مارتے رہے اور ملزمان بیس منٹ تک دندناتے رہے اورآسانی سے بھاگ گئے لیکن پولیس اور رینجرز میں سے کوئی انہیں پکڑ نہ پایا۔
اسی طرح وہ واقعہ بھی ابھی تازہ ہے جس میں نوجوان کو ڈکیتی میں مزاحمت پر قتل کردیا گیا تھا، یہ واقعہ اس کے ولیمے سے ایک دن پہلے کا تھا، جس کے بعد اُسے اگلے دن ہنی مون پر جانا تھا مگر اس کی نوبت ہی نہ آئی اور وہ کراچی کے ان درجنوں نوجوانوں کی طرح چلا گیا جن کا جرم شہر کراچی میں رہنا ہے۔ کراچی میں ہر گزرتے دن کے ساتھ جرائم میں بے پناہ اضافہ ہوا ہے، سڑکوں پر جرائم کی وارداتیں بڑھتی جارہی ہیں، شاپنگ سینٹرز اور گلی محلے میں خواتین سے پرس و زیورات اور شہریوں سے موبائل فون اور موٹر سائیکل چھیننے کی وارداتیں روزانہ ہورہی ہیں۔ اے ٹی ایم بوتھ سے نکلنے والے افراد کو نشانہ بنایا جارہا ہے، اور اس دوران مزاحمت پر جانیں بھی ضائع ہورہی ہیں۔ کراچی میں گزشتہ چھے ہفتوں میں 20 لوگ ڈاکوؤں سے مزاحمت کرتے ہوئے اپنی جان سے ہاتھ دھوبیٹھے۔ کراچی، میں سی سی ٹی وی کیمرے لگے ہونے کے باوجود جرائم کی تعداد میں کمی نہیں آرہی ہے۔ 12 جنوری کو تو ایسا المناک واقعہ ہوا جس نے ہر شہری کو لرزا کر رکھ دیا۔ کراچی کے علاقے کشمیر روڈ پر ماں اور بہن کو بچاتے ہوئے نوجوان ڈکیت کی فائرنگ سے قتل ہوگیا۔ سی سی ٹی وی کی مدد سے پولیس نے تفتیش کی تو معلوم ہوا کہ ڈاکو پولیس کا اہلکار ہے۔ رہزنی اور ڈکیتی کے ساتھ موٹر سائیکل اور کاروں کی چوری اور چھیننے کی وارداتوں میں بھی اضافہ دیکھنے میں آرہا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ چوری اور رہزنی کی تمام وارداتیں پولیس کے ریکارڈ میں نہیں آتیں۔ جرائم کی شرح میں اضافے کی وجہ سے اسٹریٹ کرائمز کی اصطلاح وضع ہوگئی ہے، جس کی وجہ سے شہری اپنے آپ کو غیر محفوظ سمجھتے ہیں۔ پولیس اور قانون نافذ کرنے والے ادارے شہریوں کی حفاظت کے فریضے میں ناکام ہیں۔گزشتہ سال کے دوران قتل اور لوٹ مار کے ساڑھے 6 ہزار سے زائد واقعات ہوئے، اسی طرح وارداتوں میں 70افراد ہلاک اور 380 سے زائد زخمی ہوئے تھے۔ پولیس افسران کے پاس اس کی کئی توجیحات ہوتی ہیں لیکن نتیجہ وہی ہے کہ عوام گھروں میں بھی محفوظ نہیں۔
کسی بھی معاشرے میں پولیس عوام کے جان و مال کے تحفظ کی ذمہ دار ہوتی ہے لیکن پاکستانی معاشرے میں ’’پولیس دہشت کی علامت ‘‘ ہے۔کمزوروں،مظلوموں کے ساتھ نارواسلوک، غیر اخلاقی برتاؤ جبکہ وڈیروں،جاگیرداروں،سرمایہ داروں، سیاستدونوں، قبضہ گروپوں سمیت بااثرافرادکوپروٹوکول دینا اور ان کے مفادات کو تحفظ فراہم کرنا، اساتذہ ،ڈاکٹرز ،نرسوں پر ڈنڈے برسانا ، خواتین پرگولیوں چلانا، مساجد کے تقدس کی پامالی کرنا،جوتوں سمیت مساجد،مدارس میں داخل ہوکر علماء کو گرفتار کرکے تشدد کا نشانہ بنانا،جعلی مقابلوں میں ماؤں سے ان کے بیٹوں،سہاگنوں سے ان کے سہاگ کو چھیننا اور طلبا ء و طالبات پر تشدد کرنا ’’پولیس‘‘اپنا فرض سمجھتی ہے۔ پولیس کے محکمہ میں موجود کالی بھیڑوں نے پولیس کو بے حس، ظالم، جابر، حاکم اور نانصافی کی علامت بنا دیا ہے پولیس جیسے ملک کے اہم سیکورٹی ادارے میں جرائم پیشہ افراد نہ صرف اپنے محکمے بلکہ ایمانداری و جانفشانی سے کام کرنے والے اہلکاروں کی بدنامی کا بھی باعث بن رہے ہیں ہر آنے والی حکومت نے پولیس کو درست سمت میں گامزن کرنے کے بلند و بانگ وعدے اور دعوے بھی کئے لیکن وہ سب ہوائی باتیں ثابت ہوئیں۔پولیس کی جانب سے کراچی کے عوام کو تحفظ نہ ملنے کے بہت سے اسباب ہیں جن میں سے ایک سبب یہ ہے کہ پولیس اہلکار خود تو جرائم میں ملوث ہوتے ہیں۔ کئی ایس ایچ اوز عوام کو تنگ کرنے کی شکایات کے درست ثابت ہونے پر معطل یا ٹرانسفر ہوئے ہیں۔ یہاں تک کہ ایس پی اور ڈی ایس پی کی سطح کے افسر بھی جرائم میں ملوث پائے گئے چھوٹی سطح کے پولیس والے جو دراصل پولیس کا چہرہ ہیں سب سے زیادہ خرابی کا باعث ہیں پورے شہر میں لوٹ مار میں یہی لوگ ملوث ہوتے ہیں۔ اندھیرے میں ناکے لگاکر اچانک ٹارچ کی روشنی مارکر کسی بھی موٹر سائیکل، سوزوکی یا پک اپ والے کو پکڑ لیتے ہیں۔ ہیلمٹ نہ پہننے پر پکڑتے ہیں۔ طرح طرح کے حربے اختیار کرتے ہیں چند روپے لے کر کسی تفتیش کے بغیر چور چکار کو بھی جانے دیتے ہیں شہر میں جگہ جگہ تجاوزات، غیر قانونی تعمیرات، جوئے کے اڈے، بدکاری کے اڈے، شرا ب چرس فروشی منشیات کا کاروبار یہ سب پولیس کی سرپرستی میں ہوتا ہے۔ ایک اور مسئلہ یہ بھی ہے کہ پولیس والوں کی بہت بڑی تعداد ارکان صوبائی، قومی اسمبلی کی حفاظت پر مامور ہے۔ ان کی گاڑیاں ارکان اسمبلی کے آگے اور پیچھے ہوتی ہیں ایک ایک گاڑی پر چار چار اہلکار تعینات ہوتے ہیں سرکاری گاڑیوں کے علاوہ پولیس کا کیمپ وزراء، ارکان اسمبلی اور بھٹو اور زرداری خاندان کے تحفظ کے لیے ان کے گھروں پر لگتا ہے اس میں بھی درجنوں اہلکار تعینات ہوتے ہیں کئی علاقوں میں تو سڑکیں بند کرنے کے لیے باقاعدہ ناکے لگے ہوتے ہیں پولیس اہلکاروں کی ایک فوج یہ کام بھی کررہی ہوتی ہے۔ اس کے علاوہ ٹھیلوں سے بھتے وصول کرکے اعلیٰ افسران تک پہنچانا بھی پولیس اہلکاروں کی ذمہ داری ہے۔ بہت سے اہلکار سپاہی وغیرہ افسران کے گھروں میں تعینات ہیں۔ اعلیٰ افسران، وزراء اور ارکان اسمبلی وی آئی پی کی پرائیویٹ گاڑیوں میں بھی اہلکار تعینات ہوتے ہیں پھر ججوں کی سیکورٹی، عدالتوں میں ڈیوٹی، جیلوں میں ڈیوٹی اندر اور باہر سیاسی رہنماؤں کی حفاظت اور جاسوسی یہ سب کام بھی پولیس کو کرنے ہیں، رینجرز کے بارے میں حکومت خود بتاسکتی ہے کہ انہیں کیوں بلایا ہے اور ان کی موجودگی سے کیا فوائد ہیں۔ تقریباً چھتیس برس قبل جامعات اور تعلیمی اداروں میں امن و امان کے لیے رینجرز کو طلب کیا گیا تھا اس کے بعد سے تعلیمی اداروں میں رینجرز کے خوبصورت دفاتر اور صفائی ستھرائی والے ہیڈ کوارٹرز قائم ہوچکے ہیں۔شہر بھر میں یہی صورتحال ہے ان رینجرز کے لیے بھی کئی پولیس والے ڈیوٹی پر ہیں اس کے بعد عوام کی حفاظت کا مرحلہ کیسے عبور ہوگا ان چھتیس برسوں میں جامعات اور تعلیمی اداروں میں رینجرز کی آمد سے قبل کے مقابلے میں زیادہ قتل و غارت ہوچکا ہے، جانی اور تعلیمی نقصان ہوچکا ہے لیکن امن نہیں ہوا ۔
اسٹریٹ کرائمز میں اب سیکورٹی اداروں کے اہلکاروں کے ملوث ہونے کی خبریں بھی تسلسل کے ساتھ آرہی ہیں کہ یہ لوگ کراچی میں دیگر جرائم کے ساتھ اغوا برائے تاوان کی وارداتوں میں ملوث ہیں۔ اصل بات یہی ہے کہ رہزنی میں اضافہ حکومت، پولیس اور قانون نافذ کرنے والے دیگر اداروں کی واضح نااہلی اور ناکامی ہے۔ کراچی میں پولیس کی جانب سے رہزنی کے خلاف خصوصی مہم کا اعلان تو ہوتا رہتا ہے، رینجرز پر بھی شہر کے بڑے وسائل ایک عرصے سے خرچ ہورہے ہیں، تاہم صورتِ حال میں کوئی واضح بہتری نظر نہیں آرہی ہے۔ کراچی پریس کلب کے ایک اجلاس میں صدر فاضل جمیلی، سیکرٹری محمد رضوان بھٹی اور دیگر عہدیداروں نے یہ بھی بتایا ہے کہ چوری اور ڈکیتی کی بڑھتی ہوئی وارداتوں میں صحافی بھی بڑی تعداد میں نشانہ بن رہے ہیں اور وہ آئے روز اپنے موبائل اور کیمرے سمیت دیگر پروفیشنل آلات سے محروم ہورہے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ اس وقت شہر کراچی میں جرائم پیشہ عناصر اور گروہ بڑے پیمانے پر چھینا جھپٹی اور رہزنی کی وارداتوں میں بلا خوف و خطر ملوث ہیں، اور شہریوں کا کوئی پرسانِ حال نہیں ہے۔ کاروباری طبقہ بھی پریشان ہے۔ اس صورتِ حال کے باعث عوام میں شدید بے چینی و اضطراب اور خوف وہراس پھیل رہا ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ اس صورتِ حال کا وزیراعظم اور صوبائی حکومت نہ صرف نوٹس نہ لیں بلکہ شہر کراچی کے لوگوں کو حقیقی معنوں میں ہر قسم کا تحفظ فراہم کریں۔
انصاف کی بالادستی، قانون کی حکمرانی، ظلم کی بیخ کنی اورانسانوں کی بستیاں قانون، ضابطے اور قاعدے کے تابع ہوں تو پرُ امن اور مثالی معاشرہ وجود میں آتا ہے۔ انصاف کی بالادستی، قانون کی حکمرانی، ظلم کی بیخ کنی اور مظلوم کی داد رسی سے مثالی معاشرے کے قیام کی راہ ہموار ہوتی ہے۔ استحصال، محرومی ، ناانصافی مل کر جرم کو جنم دیتے ہیں جو آگے چل کر سنگین جرائم میں بدل کر مجرم پید اکرتے ہیں، اسلام اور انسانیت کے سنہرے اصول برابری ، عدل ، ایثار ، صلہ رحمی اور انسان دوستی کا سبق دیتے ہیں۔ بنیادی انسانی شخصی وقار کے اس شہرہ آفاق سبق کو اگر معاشرے سے منہا کردیا جائے تو سفاکیت و بربریت ، ظلم وزیادتی ، قتل وغارت جیسے خوفناک جرائم تاریکیاں بڑھانے کا موجب بنتے ہیں۔ مثالی معاشرے کی عملی تصویر جاہ و منصب سے بے نیاز ہوکر شہریوں کو انسان ہونے کے معیار پر عزت او ر وقار ، حقوق کی فراہمی ، مال ، جان ، عزت وآبر و کے محفوظ ہونے کے تصور سے ہی حقیقت میں ڈھلتی ہے۔ حکومت کا پہلا کام عوaام الناس کے جان و مال کا تحفظ ہوتاہے۔ حکمران مدینہ ریاست کی روشنی تو دکھلاتے ہیں مگر ان روشن روایات سے سبق نہیں سیکھتے جس نے مدینہ کی ریاست کو عدل وانصاف میں سب سے ممتاز کیا تھا امیر المومنین حضرت عمر ؓفاروق کا یہ فرمانا ’’کہ اگر فرات کے کنارے کتا بھی بھوک سے مر گیا تو مجھ سے سوال ہو گا‘‘ خوف الٰہی و خوف آخرت کا واضح ثبوت ہے اور
جس اسلامی ریاست میں حکومت خود ہی پولیس کے ہاتھوں عوام کا قتل عام ہوتا دیکھ کر تماشائی بنی رہے اور روک تھام کیلئے کوئی اقدامات نہ کرے تو ایسی ریاست کا خود کو ’’اسلامی جمہوریہ‘‘ کہلوانا بھی ایک سوالیہ نشان ہو گا۔

h.m.sualeh12@gmail.com

a

image_pdfimage_print
شیئرکریں