Voice of Asia News

افغانستان میں بھوک وافلاس کے سائے:حافظ محمد صالح

افغانستان میں عالمی طاقتوں کی بے حسی سے پنپنے والا انسانی بحران شدت اختیار کررہا ہے اور اب افغان منجمد اثاثوں کو نائن الیون متاثرین میں تقسیم کرنے کے امریکی اعلان سے افغانستان کے مستقبل پر غربت و بدامنی کے گہرے سائے منڈ لارہے ہیں۔افغانستان میں انسانی و معاشی بحران اس قدر سنگین ہو چکا ہے کہاقوام متحدہ کے ورلڈ فوڈ پروگرام کے مطابق اس وقت افغانستان میں 2 کروڑ 28 لاکھ افراد یعنی نصف آبادی کو غذائی قلت اور بھوک کا سامنا ہے۔ اس سے قبل اشرف غنی حکومت میں افغانستان میں ایک کروڑ 40 لاکھ افراد کو بھوک و افلاس کا سامنا تھا۔ فوڈ پروگرام کے ایگزیکٹیو ڈائریکٹر ڈیوڈ باسلے کا کہنا ہے کہ افغانستان میں بچے مرسکتے ہیں۔ لوگ بھوک کا شکار ہیں، حالات بدتر ہوتے جارہے ہیں۔ 10 لاکھ بچے بھوک کی وجہ سے مرسکتے ہیں۔اس وقت ادویات اور خوراک کی اتنی شدید قلت ہے کہ بدترین انسانی و معاشی بحران سے ہر گزرتے دن کے ساتھ حالات اس قدر مشکل سے مشکل تر ہوتے جارہے ہیں کہ گزر بسر کے لیے والدین اپنے لخت جگر جبکہ نوجوان اپنے گردے تک فروخت کرنے پر مجبور ہیں۔برطانوی اخبار کی ایک خبر کے مطابق کئی غریب والدین نے اپنے نوزائیدہ بچے فروخت کردئے ہیں تاکہ وہ اپنے دیگر بچوں کی خوراک کا انتظام کرسکیں۔ برطانوی اخبار کے مطابق طالبان حکومت کے بعد سے افغانستان میں حالات زندگی ابتر ہوتے جارہے ہیں اور اگر صورتحال پر قابو نہ پایا گیا تو حالات یمن سے بھی بدتر ہوسکتے ہیں اور وہاں کی صورتحال دنیا کے بدترین انسانی بحران میں تبدیل ہوسکتی ہے۔ برطانوی اخبار کا کہنا ہے کہ غریب شہریوں میں سے ایک جوڑے نے اپنے نوزائیدہ بچی کو 400 برطانوی پاونڈ یعنی 96 ہزار پاکستانی روپے میں فروخت کیا جس کے نتیجے میں وہ اپنے خاندان کیلئے چند ماہ کے راشن کا انتظام کرسکیں گے۔ یہ نوزائیدہ بچی چلنے پھرنے تک اپنے والدین کیساتھ ہی رہے گی اور اس کے بعد اسے خریدنے والا اپنے ساتھ لے جائے گا۔ برطانوی اخبار نے برطانوی نشریاتی ادارے کی رپورٹس کے حوالے سے بتایا کہ بچی کو خریدنے والے شخص نے اس کے والدین کو بتایا کہ وہ بچی کی پرورش کریں گے اور اس کے بعد اس کی شادی اپنے لڑکے سے کروادیں گے۔ بچی کے والد نے بتایا کہ وہ کچرا چنتا ہے اور اس وقت اس کی کوئی کمائی نہیں ہے، اس نے بتایا کہ ہم بھوک کا شکار ہیں، ہمارے گھر میں آٹا اور گھی سمیت کھانے کیلئے کچھ بھی نہیں ہے۔اس نے بتایا کہ میری بچی کو نہیں معلوم کہ اس کا مستقبل کیا ہوگا، مجھے یہ بھی نہیں معلوم کہ بڑا ہو کر وہ کیسا محسوس کرے گی، لیکن مجبوراً مجھے یہ اقدام کرنا پڑا۔ افغانستان کو ’ایک گردے والی قوم‘بھی کہا جاتاہے کیونکہ غریب افغان ا پنے گردے فروخت کرنے پر مجبورہیں۔افغان پبلک ہیلتھ قوانین کے مطابق گردے کی پیوند کاری اسی وقت ہوسکتی ہے جب ڈونر مریض کا رشتہ دار ہو، اعضا کی غیر قانونی تجارت قابل سزا جرم ہے ۔میڈیا رپورٹس کے مطابق تصدیق شدہ اعدادوشمار بتاتے ہیں کہ گزشتہ پانچ سالوں میں صرف افغانستان کے صوبے ہرات میں ایک ہزار سے زیادہ گردوں کا کاروبار ہوا۔خشک سالی، غربت اور بے روزگاری سے تنگ اپنے گردے بیچنے والے سیکڑوں افراد کا تعلق ایرانی سرحد کے قریب ہرات صوبے کے ضلع انجیل کے ایک چھوٹے سے گاؤں سے ہے۔حالیہ میڈیارپورٹس کے مطابق ہرات کے دو ہسپتال ’ایرانی ڈاکٹروں کی مدد سے پیوند کاری کرتے ہیں‘۔ گردوں کا غیر قانونی کاروبار اتنا منافع بخش ہے کہ دس سال کی عمر کے بچوں اور نوجونوں سمیت متعدد خواتین بھی اپنے اہم اعضا فروخت کرنے پر مجبورہیں 2001میں امریکی حملے کے نتیجے میں طالبان کی معزولی کے بعد سے سینکڑوں اربوں ڈالر کی بیرونی امداد کے باوجود افغانستان کے بیشتر علاقوں میں غربت کم نہیں ہوئی لیکن حکمران ایک پرتعیش زندگی گزارتے رہے ۔
یا درہے کہ جنوری 2021 ء سے ستمبر 2021 ء تک 6 لاکھ 65 ہزار افراد بے گھر ہو ئے جبکہ پہلے سے بے گھر ہونے والے 29 لاکھ افغانی ان کے علاوہ ہیں۔ اقوامِ متحدہ نے یہ خدشہ ظاہر کیاتھا کہ اگر بینکوں کے متعلق ہنگامی بنیادوں پر تحقیقات اور مجوزہ اقدامات نہ اٹھائے گئے تویہ نظام چند ماہ کے اندر تباہ ہوجائے گا اور پھر ایسا ہی ہوا کیونکہ گزشتہ برس صوبہ بلخ، سرے پل، جوزجان اور فریان میں گھمسان کی لڑائی کے دوران لاکھوں عوام کو جانیں بچانے کیلئے اپنے گھر بار چھوڑکر راہ فرار اختیار کرنا پڑی اس لڑائی میں طالبان تو فتح یاب ہوکر پر برسراقتدار آگئے لیکن کیمپوں میں مقیم پناہ گزینوں کی مشکلات پہلے سے زیاد ہ ہی بڑھتی چلی گئیں،یہاں ستم ظریفی یہ بھی ہے کہ بھارت اور سابقغنی انتظامیہ نے افغانستان میں امریکہ کو دہشت گردی کیخلاف جنگ میں الجھا کر اس کی کمزوری کاخوب فائدہ اٹھایا جس کا اندازہ اس امر سے بخوبی لگایا جاسکتا ہے کہ افغانستان میں تعمیر نو کے پروگرامزکے لئے مختلف مراحل میں تقریباً 150 ارب ڈالر کی منظوری دی گئی لیکن ان منصوبوں کا جب جائزہ لیا گیا تو انکشاف ہوا کہ کل بجٹ کے 30 فیصد یعنی 63 بلین کے اخراجات میں سے 20 بلین ڈالرزکرپشن کیلئے ناجائز استعمال پر خرچ کئے گئے صرف جنوری 2018 ء سے دسمبر 2019 ء تک تقریباً1.8 ارب ڈالرز فراڈمیں ضائع ہوئے۔ عالمی طاقتوں کوخطے میں من پسند مفادات حاصل کرنے کیلئے جن کٹھن راستوں سے گزرنا پڑا اس کا انہیں گمان بھی نہ تھا۔ 2001 ء سے نیٹو افواج کے انخلاء تک امریکہ کو جہاں20 ارب ڈالر کے لگ بھگ نقصان سے دوچار ہونا پڑا وہیں اس کے ہزاروں فوجی بھی مارے گئے۔
اسلامی جمہوریہ افغانستان ایشیا کا ایک ملک ہے۔ اس کے جنوب اور مشرق میں پاکستان، مغرب میں ایران، شمال مشرق میں چین، شمال میں ترکمانستان، ازبکستان اور تاجکستان ہیں۔ اردگرد کے تمام ممالک سے افغانستان کے تاریخی، مذہبی اور ثقافتی تعلق بہت گہرا ہے۔یہ ملک بالترتیب ایرانیوں، یونانیوں، عربوں، ترکوں، منگولوں، برطانیوں، روسیوں اور امریکاکے قبضے میں رہا ہے۔ مگر اس کے لوگ بیرونی قبضہ کے خلاف ہمیشہ مزاحمت کرتے رہے ہیں۔ ایک ملک کے طور پر اٹھارویں صدی کے وسط میں احمد شاہ ابدالی کے دور میں یہ اُبھرا اگرچہ بعد میں درانی کی سلطنت کے کافی حصے اردگرد کے ممالک کے حصے بن گئے۔1919ء میں شاہ امان اﷲ خان کی قیادت میں انگریزوں سے افغانستان کی آزادی حاصل کی۔ جس کے بعد افغانستان صحیح معنوں میں ایک ملک بن گیا۔ مگر انگریزوں کے دور میں اس کے بیشتر علاقے حقیقت میں آزاد ہی تھے اور برطانیہ کبھی اس پر مکمل قبضہ نہیں رکھ سکا۔ آج افغانستان امریکی قبضہ میں ہے اور بظاہر ایک آزاد ملک اور حکومت کے طور پر تسلیم کیا جاتا ہے۔ افغانستان پچھلے چالیس سال سے مسلسل جنگ کی سی حالت میں ہے جس نے اس کو تباہ کر دیا ہے اور اس کی کئی نسلوں کو بے گھر کر دیا ہے۔ یہ تباہی کبھی غیروں کے ہاتھوں ہوئی اور کبھی خانہ جنگی سے یہ صورت حال پیدا ہوئی۔ اگرچہ افغانستان کے پاس تیل یا دوسرے وسائل کی کمی ہے مگر اس کی جغرافیائی حیثیت ایسی ہے کہ وہ وسطی ایشیاء، جنوبی ایشیاء اور مشرق وسطیٰ کے درمیان ہے اور تینوں خطوں سے ہمیشہ اس کے نسلی، مذہبی اور ثقافتی تعلق رہا ہے اور جنگی لحاظ سے اور علاقے میں اپنا دباؤ رکھنے کے لیے ہمیشہ اہم رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ استعماری طاقتوں نے ہمیشہ اس پر اپنا قبضہ یا اثر رکھنے کی کوشش کی ہے۔ افغانستان کا زیادہ رقبہ پتھریلا پہاڑی علاقہ ہے اس وجہ سے کسی بھی بیرونی طاقت کا یہاں قبضہ رکھنا مشکل ہے اور لوگ زیادہ تر قبائلی ہیں اس لیے کبھی بیرونی طاقتوں کو تسلیم نہیں کرتے، نتیجہ یہ کہ اس ملک کو کبھی بھی لمبے عرصے کے لیے امن نصیب نہیں ہو سکا۔
افغانستان کے پہاڑوں میں صرف جذبہ ایمانی کی مزاحمت نے افغانستان کو تین سپر پاور کا قبرستان بنایا ہے۔ افغانستان میں امریکی شکست کا سب سے بڑا سبق یہ ہے کہ اگر ایک چھوٹا ساگر وہ بھی اﷲ کی طاقت پر بھروسا کرے اور باطل کی دھوکا دینے والی قوت کے خوف سے آزاد ہوجائے اور مزاحمت کا فیصلہ کرلے تو اسے فتح اور کامیابی نصیب ہوتی ہے۔ نصف صدی کی مختصر مدت میں یہ دوسرا بڑا انقلاب ہے۔ اس انقلاب کا پہلا مرحلہ وہ تھا کہ جب افغانستان پر سابقہ سپرپاور سوویت یونین اس دعوے کے ساتھ حملہ آور ہوئی تھی کہ جہاں سوویت روس کے قدم ایک بار پہنچ جاتے ہیں تو واپس نہیں جاتے۔ اس وقت ہمیں سوویت روس کے ٹینکوں اور فوج سے ڈرایا جاتا تھا لیکن آزاد منش افغانوں نے اﷲ کے بھروسے پر مزاحمت کا فیصلہ کیا اور روس صرف دس برس میں پسپائی پر مجبور ہوگیا۔ روس کے آخری فوجی کو دریائے آموپار کرتے ہوئے پیچھے مڑ کر دیکھنے کی ہمت بھی نہیں ہوئی۔ افغانستان سے کمیونسٹ روس کے فوج کی پسپائی نے اس وقت کی دنیا کا نقشہ تبدیل کردیا۔ مشرقی یورپ جسے ؤہنی دیواروں کا قیدی قرار دیا جاتا تھا آزاد ہوگیا۔ دیوار برلن ٹوٹ گئی، یہاں تک سوویت یونین بھی تحلیل ہوگئی۔ آج کمیونسٹ ایمپائر کا کوئی وجود بھی نہیں ہے وہ طاقت جس کے قدم سرمایہ دار امریکا کے مقابلے میں ہر جگہ پیش قدمی کررہے تھے۔ اس وقت عالمی ذرائع ابلاغ اور ان کے اہل دانش نے اسے مغربی سرمایہ دارانہ جمہوریت کی فتح قرار دیا تھا اور اسی تکبر میں امریکا نے نیوورلڈ آرڈر کے نام سے یک قطبی سامراجی نظام کے قیام کا اعلان کیا اور پوری دنیا سربہ سجود ہوگئی۔ امریکا نے فرعونی اور نمرودی تکبر کے ساتھ پوری دنیاکو اپنا غلام بنانے کا اعلان کیا اور دنیا کی کسی بھی علاقائی یا عالمی طاقت کی جرات نہیں ہوئی کہ وہ امریکا کو چیلنج کرے۔ فکری سطح پر بھی کوئی گروہ ایسا نہیں تھا جو انسانیت کے خلاف امریکا کے جرائم کو بیان کرے اور دنیا کو آگاہ کرے کہ ہر قسم کے فساد، بگاڑ اور تباہی کا سبب اﷲ کے باغی جاہلی مغربی تہذیب کا غلبہ ہے جس نے انسانیت کو دکھوں اور مصائب کے علاوہ کچھ نہیں دیا۔ جس وقت کمیونسٹ سوویت یونین کا انہدام ہوا اور آدھی دنیا پر غالب کمیونزم کا خاتمہ ہوا تو اس کے وارث آج تک اس کی علمی توجیہہ نہیں کرسکے تھے۔ یہی منظرنامہ اس وقت ہے۔ امریکا اور اس کے زیر اثر طاقتیں یہ بتانے میں ناکام ہیں کہ دنیا کے سب سے کمزور گروہ کے مقابلے پر دنیا کی طاقتور ترین فوج کو شکست کیوں ہوئی جبکہ وہ 40 سے زیادہ ممالک کی فوج کو ساتھ لے کر افغانستان پر حملہ آور ہوئی تھی۔ یہ جنگ 20 سال تک جاری رہی اس جنگ کو امریکی تاریخ کی طویل ترین اور مہنگی ترین جنگ قرار دیا جاتا ہے لیکن وہ اپنے اہداف حاصل نہیں کرسکی۔اس طویل ترین جنگوں نے افغانستان کی ریاست کا ڈھانچہ جو پہلے ہی کمزور تھامستقل شکست و ریخت کا شکار کردیا۔
’’افغان امن عمل ‘‘میں طالبان کو مذاکرات کی میز پر پاکستان ہی لے کر آیاتھالیکن بیرونی قوتیں اپنے مقاصد کے حصول کیلئے اسے مسلسل التواء کا شکار کرتی رہیں۔ مغرب کی سازشوں کے باعث طالبان کا رویہ بھی اب مثبت نظر نہیں آرہاکیونکہ افغانستان میں قیام امن کیلئے پاکستان کے کردار کو خوش دلی سے تسلیم کرتے ہوئے کالعدم ٹی ٹی پی کی کارروائیوں کی روک تھام کیلئے کوئی مؤثر اقدامات نہیں کئے جا رہے لیکن اس کے باوجود تحریک انصاف کی حکومت انسانی و معاشی بحران پر قابو پانے اور اقوام عالم میں نئی افغان حکومت کوتسلیم کرانے کیلئے بھرپور کردار ادا کر رہی ہے تاکہ خطے میں امن کی ضمانت مل سکے۔ ناروے میں طالبان اور یورپی لیڈران کے درمیان ہونے والے حالیہ مذاکرات میں بھی سیاسی،معاشی اور سلامتی کی صورتحال پر تمام دھڑوں کو مل کر کام کرنے پر زور دیاگیا ہے لیکن یہ اسی وقت ثمرآور ثابت ہو ں گے جب افغان قیادت خود کو دنیا کیلئے قابل قبول بنانے کیلئے کوشاں نظر آئے گی۔نریندر مودی کو پاکستان اور خطے کے دیگر ممالک کی سلامتی اور ترقی و خوشحالی ایک آنکھ بھی نہیں بھاتی لہٰذا ’’را‘‘،’’این ڈی ایس ‘‘اور دیگر ملک دشمن ایجنسیوں کے ذریعے امن کو تباہ و برباد کرنے اب بھی کوئی موقع ہاتھ نہیں جانے دیا جائے گا کیونکہ بھارت جو گزشتہ 2دہائیوں سے افغانستان میں اپنا اثرورسوخ بڑھانے کی خاطرامریکی آشیر باد پر خطے میں تخریب کاری کو پروان چڑھارہا ہے طالبان اور افغان فورسز کے درمیان جھڑپوں میں اس نے ہمیشہ ڈبل گیم کھیلنے کا ڈ رامہ رچایا ، ایک طرف طالبان سے مذاکرات جبکہ دوسری جانب ان کیخلاف سابق غنی انتظامیہ کو اسلحہ کی فراہمی اس کے مذموم مقاصد کا پرچہ چاک کرتی ہے لہٰذااب ’’ امن عمل ‘‘میں رکاوٹیں ڈالنے کی سازشوں میں اگر کوئی ملک ملوث ہو سکتا ہے تو وہ صرف مودی ہی ہے جو اپنے توسیع پسندانہ مقاصد ناکام ہوتے دیکھ کر سخت اضطراب کا شکار ہے ۔ سوویت یونین کیخلاف امریکہ نے جب گوریلا جنگ شروع کی تھی تو بڑی تعداد میں افغان مہاجرین نے پاکستان کا رخ کیاجس سے جہاں کلاشنکوف کلچر کو فروغ ملا وہیں معیشت پر اضافی بوجھ بھی پڑالیکن ستم طریفی یہ کہ عظیم قربانیوں کو نظر انداز کرتے ہوئے سلامتی اور خودمختاری کے معاملے میں پاکستان کاساتھ دینے کے بجائے’’ڈومور‘‘کے تقاضے کرتے ہوئے بھارت اور دیگر ملک دشمن عناصر کولاجسٹک سپورٹ فراہم کی گئی ۔ ایل او سی پر جارحیت اور بلوچستان اور فاٹا میں دہشت گردی کے واقعات میں ملوث ہونے کے مقاصدپاکستان کو کشمیریوں کی استصواب رائے کے بنیادی حق کی حمایت سے دستبردار کرانا اور سی پیک منصوبے کو روکنا ہے۔بلوچستان اور ہنگوکی دہشت گردی میں بھی ’’را‘‘کے ملوث ہونے کا امکان مسترد نہیں کیا جا سکتا۔
افغانستان کا انفراسٹرکچرٹوٹ پھوٹ کا شکار ہے،پڑھے لکھے اور ہنر مند لوگ ملک چھوڑ کر جاچکے ہیں،باہر سے کوئی آنے کو تیار نہیں،ملک کی ابتر اقتصادی صورتحال طالبان کیلئے سب سے بڑا چیلنج بن چکی ہے،نئی افغان قیادت نے معاشی نظام کو چلانے کے لیے بیرونی امدادیعنی کہ امریکہ اور دوسرے یورپی ممالک کے تعاون پر نظریں مرکوزکر رکھی ہیں،مسلم ممالک بھی کسی غیر معمولی دلچسپی کا مظاہرہ نہیں کررہے کہ سب اپنے اپنے مسائل میں گھرے ہوئے ہیں ایسے میں طالبان کی عبوری حکومت کو تسلیم کرنے کے متنازعہ اور مشکل عوامل کو فی الحال صرف نظر کرتے ہوئے انسانی اور معاشی تباہی پرفوری بین الاقوامی ردعمل تشکیل دینا ناگزیر ہو چکا ہے۔ مسلسل2دہائیوں کے جنگ زدہ سنگین حالات، بھوک و افلاس اورنئے جنم لیتے ہوئے انسانی ومعاشی بحران کے باوجود منجمد اثاثوں کو بحال نہ کرنا ایک المیے سے کم نہیں ہے۔
اسی تناظر میں افغان امداد کی بحالی کیلئے قطر میں ہونے والے نئے مذاکرات میں خلیجی ممالک کی جانب سے افغان طالبان کو اپنے حق میں عالمی رائے عامہ قائم کرنے کیلئے خواتین کی بابت رویے میں نرمی برتنے کا صائب مشورہ دیا گیا ہے۔ خلیجی ممالک کے سفیروں نے طالبان حکومت کے وزیر خارجہ پر زور دیا ہے کہ خواتین کو ملازمت کرنے اور اسکول جانے کی اجازت دی جائے۔ اس بارے میں طالبان حکومت کو ضرور غور کرنا چاہئے کیونکہ عالمی قبولیت حاصل کرنے اورمحفوظ افغان مستقبل کیلئے خواتین کے حقوق پر بھی کام ضروری ہے۔ مذاکرات کے بعد جاری بیان میں عالمی طاقتوں پر بھی زوردیتے ہوئے کہا گیا کہ ’ہنگامی انسانی ضروریات‘ کو پورا کرنے میں افغانستان کی مدد کی جائے ،خشک سالی کے باعث معاشی بحران کے ساتھ ساتھ بھوک افلاس بڑے پیمانے پر پھیل رہا ہے، جس سے دائمی بے روزگاری جنم لے گی۔بیان میں اس بات کو بھی اجاگر کیاگیا کہ افغانستان کے معاملات میں ’مداخلت نہیں‘ ہونی چاہیے، جبکہ طالبان تمام معاشرتی عناصر کو زیر غور لاتے ہوئے بنیادی آزادی اور خواتین کی تعلیم سمیت تمام شہریوں کے حقوق کا احترام یقینی بنائیں۔واضح رہے کہ گزشتہ دنوں امریکی صدر جو بائیڈن نے بینکوں میں موجود 7 ارب ڈالر افغانستان کی امداد اور 11 ستمبر 2001 کے حملوں کے متاثرین کو معاوضہ دینے کے لیے فنڈ میں تقسیم کرنے کا غیر منصفانہ اعلان کیا تھا جس پر عالمی سطح پر بھی تنقید کی گئی۔اعلان کے بعد افغان وزیر خارجہ نے قطر میں خلیج تعاون کونسل کے سفیروں کے علاوہ یورپی سفیر سے بھی ملاقات کی اور یہی معاملہ اْٹھایا۔ افغان بحران پر فوری قابوپانے کیلئے ٹھوس اور مؤثر اقدامات کرنا ہوں گے تاکہ 90کی دہائی کی صورتحال دوبارہ جنم نہ لے سکے۔ برسوں کے تنازعات اور غیر ملکی امداد کی بندش سے انسانی بحران اور معاشی تباہی کے نتائج ہولناک دکھائی دے رہے ہیں لہٰذا موجودہ نازک حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے ضرورت اس امر کی ہے کہ کسی دوسروں کی غلطیوں کی سزا بھوک و افلاس سے نبردآزما افغان عوام کو نہ دی جائے اس کیلئے عالمی سطح پر دنیا کوہرممکن مدد کرکے ترقی و خوشحالی میں اپنا اہم کردار ادا کرنا ہو گا۔
h.m.sualeh12@gmail.com

image_pdfimage_print
شیئرکریں