Voice of Asia News

سی پیک اور ایٹمی پروگرام ،دشمن کے نشانے پر:محمد قیصر چوہان

پاکستان کا ایٹمی پروگرام کئی عرصے سے دشمنوں کو کھٹک رہا ہے اسی دوران پاک چین اقتصادی راہداری(سی پیک)منصوبے کا آغاز ہو گیا ،سی پیک منصوبے کوگیم چینجر بھی کہا جاتا ہے کیونکہ یہ منصوبہ پاکستان کو معاشی طور پر مضبوط بنانے میں اہم ترین کردار ادا کر سکتا ہے۔اسی لیے ایٹمی پروگرام اور سی پیک منصوبہ
دشمن طاقتوں کے نشانے پرہے۔پاکستان دشمن طاقتوں نے افغانستان اور ایران کی سرزمین کوپھر سے پاکستان کی سلامتی کے خلاف استعمال کرناشروع کر دیا ہے۔
پاکستان کے سکیورٹی اداروں نے چند دن قبل کراچی سے ایرانی خفیہ ایجنسی کے نیٹ ورک کو پکڑا تھا جو پاکستان مخالف سر گرمیوں میں ملوث تھا۔14 فروری کو پاکستان کے دورے پر آنے والے ایرانی وزیر داخلہ احمد وحیدی نے اسلام آباد میں تعینات ایرانی سفیر سید محمد علی حسینی سمیت ایرانی وفد کے ہمراہ وزیراعظم پاکستان عمران خان ، وزیر داخلہ شیخ رشید اور آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سے ملاقاتیں کی تھیں۔ذرائع کے مطابق اس ملاقات میں پاکستانی حکام نے ایرانی وزیر داخلہ احمد وحیدی کو بلوچستان کے کے علاقوں نوشکی اور پنجگور میں ہونے والے دہشت گردی کے واقعات میں ایرانی سر زمین استعمال ہونے کے بارے میں آگاہ کیا تھا۔پاکستان اور ایران کے وزرائے داخلہ کی ملاقاتوں ومذاکرات کے بعد دونوں ممالک وزارت داخلہ کی جانب سے ایک اعلامیہ بھی جار ہوا تھا جس میں بتایا گیا کہ دونوں ممالک نے اتفاق کیا ہے کہ پاکستان اور ایران کی سر زمین ایک دوسرے کے خلاف دہشت گردانہ کارروائیوں کے لیے استعمال کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔پاکستانی حکام نے طالبان حکومت کو بھی افغان سر زمین دہشت گردانہ کارروائیوں کے لیے استعمال ہونے کے بارے میں شواہد پیش کیے ہیں۔ گزشتہ چند ہفتوں میں افغان وایران سرحد کے قریب پاکستانی علاقوں میں دہشت گردوں کے حملوں میں ایک بار پھر اضافہ ہو گیاہے ۔6 فروری کو افغانستان کی سرزمین سے دہشت گردوں کی فائرنگ کے نتیجے میں پاک فوج کے 5 جوان شہید ہوگئے۔آئی ایس پی آر کے مطابق سرحد پار سے دہشت گردوں نے خیبرپختونخوا کے ضلع کرم میں سیکورٹی فورسز پر حملہ کیا جس کا مناسب انداز میں جواب دیاگیا۔ ترجمان آئی ایس پی آر نے انٹیلی جنس رپورٹس کا حوالہ دے کر بتایا کہ ہمارے فوجیوں کی فائرنگ سے دہشت گردوں کو بھاری جانی نقصان بھی اٹھانا پڑا ہے۔انہوں نے بتایا کہ فائرنگ کے تبادلے میں 34 سالہ لانس نائیک عجب نور، 22 سالہ سپاہی ضیا اﷲ خان، 23 سالہ سپاہی ناہید اقبال، 23 سالہ سپاہی سمیر اﷲ خان اور 27 سالہ سپاہی ساجد علی شہید ہوگئے۔اعلامیے میں کہا گیا تھاکہ دہشت گردوں کی جانب سے پاکستان کے خلاف کارروائیوں کے لیے افغان سرزمین کے استعمال کی شدید مذمت کرتے ہیں اورپاکستان توقع کرتا ہے کہ عبوری افغان حکومت مستقبل میں پاکستان کے خلاف ایسی سرگرمیوں کی اجازت نہیں دے گی،ترجمان آئی ایس پی آر کا کہنا ہے کہ پاک فوج دہشت گردی کی لعنت کے خلاف پاکستان کی سرحدوں کے دفاع کیلئے پرعزم ہے، ہمارے بہادر جوانوں کی ایسی قربانیاں ہمارے عزم کو مزید مضبوط کرتی ہیں۔وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید احمد نے پاک افغان سرحد پارسے ضلع کرم میں سکیورٹی فورسز پر حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ طالبان حکومت اپنے وعدوں کے مطابق سرحد پار سے دہشت گرد کاروائیاں روکے۔ گزشتہ چند دنوں میں کیچ ،نوشکی اورپنج گور میں ہشت گردوں نے سیکیورٹی فورسز پر حملے کیے جس کے نتیجے میں 22 دہشت گرد ہلاک اور سیکیورٹی فورسز کے 15جوان شہید ہوئے تھے۔ جبکہ چمن بائی پاس پر نامعلوم افراد کی فائرنگ سے لیویز کا ایک اہلکار محمد نعیم شہید ہواتھا۔
پوری دنیامیں دجال کے نظام کو نافذ کرنے کے مشن پر گامزن عالمی تنظیم فری میسن نے اپنی کٹھ پتلی امریکا اور نیٹوکے ذریعے ’’نیو ورلڈ آرڈر‘‘ کے نفاذ کو یقینی بنانے کے لیے ’’نام نہاد دہشت گردی‘‘ ختم کرنے کے نام پر مختلف ممالک پر دہشت گردی مسلط کی۔ گیارہ ستمبر 2001 کے بعد امریکا نے اپنے مغربی حلیفوں کے ساتھ مل کر افغانستان پر بلا جواز حملہ کر کے نہ صرف اس ملک کو تباہی سے دو چار کیا بلکہ پاکستان سمیت خطے کے کئی ممالک میں اپنی خفیہ ایجنسیوں اور ایجنٹوں کے ذریعے ریاستی دہشت گردی کو فروغ دیا۔نام نہاد دہشت گردی کے خلاف عالمی جنگ کے نام پر نیٹو افواج کی قیادت کرتے ہوئے امریکا نے بیس سال کے عرصے تک افغانستان اور اس کے گردو نواح میں جو گل کھلائے ان کے اثرات نے پاکستان کو غیر معمولی حد تک نقصان پہنچایا۔اس دوران افغان مہاجرین کی شکل میں لاکھوں افراد نے پاکستان کی سرزمین پر پناہ بھی لیے رکھی ہے اور ملک میں کلاشنکوف و ہیروئن کلچر کو پھیلانے میں بھی کردار ادا کیا ، پاکستان کے حکمرانوں نے امریکا سے ڈالر کے عوض دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ہر اول دستے کا کردار ادا کیا،اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ شر پسند عناصر نے دشمن قوتوں کی مدد سے پاکستان میں دہشت گردی کا بازار گرم کر ڈالا۔دہشت گردی کے ہولناک سلسلے نے ایک لاکھ سے زائد بے گناہ پاکستانیوں کو لقمہ اجل بنا ڈالا۔ دہشت گردی کے اس بھیانک عفریت سے لڑتے ہوئے پولیس، رینجر، ایف سی، افواج پاکستان کے ہزاروں جوان اور افسران شہید ہوئے۔ ماضی میں دہشت گردی کے عالمی چمپئن امریکا اور اسرائیل کی آشیر باد سے بھارت نے اپنی خفیہ ایجنسی ’’را‘‘ کے ذریعے پاک سرزمین پر دہشت گردی کے کئی واقعات کرائے جس سے پاکستان کی معیشت، معاشرت اور داخلی سلامتی کے معاملات کو ناقابل تلافی نقصان پہنچا۔ساؤتھ ایشیا ٹیرر ازم پورٹل کے مطابق پاکستان میں 2017کے بعد دہشت گردی کی لہر میں بتدریج کمی آنا شروع ہوئی تھی اور 2013میں ملک میں دہشت گردی کے تقریباً چار ہزار واقعات ہوئے تھے جو 2020میں کم ہو کر 319رہ گئے تھے، جس کا سہرا پاک فوج کے آپریشن ضربِ عضب اور ردَالفساد کے سر ہے اور ملک بھر میں انٹیلی جنس معلومات کے ذریعے بہت سے دہشت گردی کے منصوبے ناکام بھی بنائے گئے۔دہشت گردی کی اس جنگ میں ہماری بہادر افواج نے اپنی جانوں کا نذرانے پیش کرتے ہوئے جس فتنے کی بیخ کنی کی تھی، وہ اب پھر سے سر اٹھاتا دکھائی دے رہا ہے۔پاکستان ایک بار پھر دہشت گردوں کے نشانے پر آگیا ہے۔ عالمی طاقتوں کا اصل مقصددہشت گردی کی کاررائیوں کے ذریعے پاکستان کو عدم استحکام کا شکار کر کے ایٹمی پروگرام اور سی پیک منصوبے کو ختم کرنا ہے۔
افغان سرحد کے قریب پاکستانی علاقوں میں دہشت گردوں کے حملوں میں ایک بار پھر اضافہ ہوا ہے، بلوچستان میں دہشت گردی کے واقعات کی بڑی وجہ چین کے اس صوبے میں سرمایہ کاری پر ردعمل کو قرار دیا جاتا ہے۔ چین سی پیک پروجیکٹ کے ذریعے اپنے صوبے سنکیانگ کو صوبہ بلوچستان کے راستے بحیرہ عرب سے منسلک کرنا چاہتا ہے۔اس مقصد کے لیے پاکستانی علاقے اور خاص طور پر بلوچستان میں سڑکوں کا نیٹ ورک اور دیگر انفرا اسٹرکچر تعمیر کیا جا رہا ہے۔ اسی تناظر میں پاکستانی سیکیورٹی فورسز اور دوسرے صوبوں سے تعلق رکھنے والے ایسے ورکرز پر حملے عام ہیں ،جو سی پیک پروجیکٹ سے جڑے منصوبوں پر کام کر رہے ہیں۔دنیا کاسب سے بڑاجمہوری ملک کہلانے والا بھارت سب سے بڑی منافق ہے۔ پاکستان میں ہونے والی دہشت گردی میں بھی بھارت کی خفیہ ایجنسی ’’را‘‘ ، تحریک طالبا ن پاکستان ( ٹی ٹی پی)ملوث ہیں۔ان کے علاوہ بی ایل اے اور دیگر مسلح گروپ دہشت گردی کی کارروائیاں کررہے ہیں،ان سب کو عالمی دہشت گردامریکا اور اسرائیل کی سر پرستی حاصل ہے۔افغانستان میں دہشت گردی کے خلاف نام نہاد جنگ ہارنے کے بعد امریکا گزشتہ برس جب وہاں سے واپس گیا ،تو طالبان کی حکومت وجود میں آگئی، طالبان نے واضح الفاظ میں کہا تھا کہ اب افغانستان کی سر زمین کسی بھی ملک کے خلاف استعمال نہیں ہو گی لیکن افغان سرزمین اب بھی پاکستان کے خلاف استعمال ہو رہی ہے ۔
گزشتہ دنوں بلوچستان میں نوشکی اور پنج گور میں دہشت گردوں نے سیکیورٹی فورسز پر حملے کیے جس کے نتیجے میں 20 دہشت گرد ہلاک اور سیکیورٹی فورسز کے 9 جوان شہید ہوئے تھے۔ سیکیورٹی فورسز نے بلوچستان کے علاقوں پنج گور اور نوشکی میں دہشت گردوں کی کیمپوں پر حملے کی کوشش ناکام بناتے ہوئے دہشت گردوں کو مقابلے میں ہلاک کردیا۔تعلقاتِ عامہ (آئی ایس پی آر) کے سربراہ میجر جنرل بابر افتخار کا کہنا تھاکہ نوشکی میں دہشت گردوں نے فرنٹیئر کور (ایف سی) کے کیمپ میں داخل ہونے کی کوشش کی جس کا ’’ فوری جواب ‘‘ دیا گیا۔ دہشت گردوں کے رابطے بھارت اور افغانستان سے ملتے ہیں۔ دہشت گردوں سے جدید اسلحہ بارود برآمد ہوا ہے، ان کے پاس جدید لباس اور مواصلاتی نظام بھی موجود تھا، بلوچستان کے علاقے کیچ میں 25 اور 26 جنوری کی درمیانی شب سیکیورٹی فورسز کی چیک پوسٹ پر دہشت گردوں کے حملے میں 10جوان شہید ہوگئے تھے، فائرنگ کے تبادلے میں ایک دہشت گرد ہلاک جبکہ متعدد زخمی ہوئے، سیکیورٹی فورسز کی جوابی کارروائی میں 3دہشت گرد گرفتار کر لیے گئے تھے۔جبکہ چمن بائی پاس پر نامعلوم افراد کی فائرنگ سے لیویز کا ایک اہلکار محمد نعیم شہید ہو گیاتھا۔اسی طرح لاہور کے مصروف ترین انار کلی بازار میں بم دھماکہ ہوا تھا جس میں چار افراد لوگ ہلا ک اور 29 افراد زخمی ہوئے تھے۔اس بم دھماکے کی ذمہ داری کے بعد نوشکی اور پنجگور میں دہشت گرد حملوں کی ذمے داری بھی بی ایل اے نے قبول کی تھی۔ نوشہرہ کے علاقے جلوزئی میں بھی پولیس گشتی ٹیم پر دہشت گردوں کی فائرنگ سے دو اہلکار شہید اور ایک زخمی ہوا تھا۔ افغانستان میں طالبان کے قبضے کے بعد سے تحریک طالبان پاکستان ( ٹی ٹی پی) نے پاکستانی علاقوں میں حملے کر چکی ہے۔ بی ایل اے بھی پاکستان میں حملے کر چکی ہے۔ بلوچستان پاکستان کا رقبے کے حساب سے سب سے بڑا صوبہ ہے جو داخلی تنازعات کا شکار ہے۔پاکستانی فوج بلوچستان اور سابقہ فاٹا میں شرپسندوں کے خلاف مسلسل آپریشن میں مصروف ہے لیکن یہ گروپ کسی نہ کسی طرح کارروائی کرہی لیتے ہیں۔ سابقہ فاٹا سے تو پاک فوج نے ٹی ٹی پی کا قلع قمع کردیا تھا لیکن افغانستان ان کی پناہ گاہ بنا ہوا ہے۔ بلوچ نیشنل آرمی (بی ایل اے) وغیرہ کو بھی افغانستان میں تحفظ حاصل ہے اور وہ بھارت میں بھی اپنا نیٹ ورک بنائے ہوئے ہیں اور بھارت اس تنظیم کی مدد بھی کرتا ہے۔ اس تنظیم کے پاس ایک مرتبہ پھر طاقت ور حملے کرنے کی صلاحیت تو نہیں ہے لیکن یہ اپنی طاقت کا مظاہرہ کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ دہشت گروں کے خلاف پاکستانی فوج کی کارروائی کو انسداد دہشت گردی کی کامیاب مہم تصور کیا جاتا ہے۔ اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ بھارت کالعدم تنظیموں کو سرحد پار دہشت گردی کے لیے استعمال کر رہا ہے۔وہ کالعدم تنظیموں کو پاکستان کے عسکری اور سول اہداف کو نشانہ بنانے کے لیے سرحد پار دہشت گردی کی طرف دھکیل رہا ہے، گزشتہ ایک عشرے کے دوران بھارت کی ریاستی دہشت گردی کی کارروائیوں کے نتیجے میں ہزاروں پاکستانی جاں بحق یا زخمی ہوئے۔
بھارت نے دہشت گردی کو اپنے تمام پڑوسی ممالک خصوصاً پاکستان اور اپنی مسلمان آبادی کے ساتھ ساتھ مقبوضہ جموں و کشمیر کے شہریوں کے خلاف ایک ہتھیار کے طور پر استعمال کیا ، ہماری سرحدوں کے باہر موجود دہشت گرد تنظیموں کو پاکستان میں چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) پر عملدرآمد روکنے اور حملوں کے لیے اُبھارا اور مالی معاونت کی۔ پاکستان انسٹیٹیوٹ فار کانفلیکٹ اینڈ سیکیورٹی اسٹڈیز کی ایک رپورٹ کے مطابق 2021 میں بلوچستان میں سب سے زیادہ حملے کیے گئے۔ یہاں عسکریت پسندوں کے 104 حملوں میں 177 افراد ہلاک ہوئے۔ دوسرا سب سے زیادہ متاثرہ علاقہ پاکستانی قبائلی ایجنسیوں کا تھا، یہاں 103 حملوں میں 117 افراد ہلاک ہوئے۔کالعدم دو تنظیموں کو بھارت پاکستان میں دہشت گردی کے لیے استعمال کر رہا ہے، کئی سال پہلے سی پیک کے منصوبے پر بلوچستان کی ایک سڑک پر کام کرنے والے سندھ کے مزدوروں کو نشانہ بنایا گیا تھا دہشت گردی کی ان وارداتوں کے ڈانڈے بھارت سے ملتے ہیں۔ایسی اطلاعات بھی منظر عام پر آتی رہی ہیں کہ ان تنظیموں کے افراد کو مقبوضہ کشمیر میں حریت پسندوں کے خلاف کارروائیوں کے لیے بھی استعمال کیا گیا۔ کشمیری رہنما یہ الزام لگاتے رہے ہیں کہ جب بھی مقبوضہ کشمیر میں کشمیری حریت پسندوں کے خلاف کوئی بڑی کارروائی ہوتی ہے ان دونوں تنظیموں سے وابستہ افراد ایسی کارروائیوں پر کھلم کھلا مسرت کا اظہار کرتے ہیں۔ یہ تنظیمیں بھارتی خفیہ تنظیم ’’را‘‘ کے ساتھ مل کر مربوط کارروائیاں کرتی ہیں اور ایسے بھارتی علاقوں میں بھی سرگرم عمل ہیں جہاں مقامی لوگوں نے آزادی کی تحریکیں شروع کر رکھی ہیں، ان دہشت گرد تنظیموں کو ان آزادی پسند گروہوں کے خلاف ’’را‘‘ کی نگرانی میں استعمال کیا جاتا ہے۔کئی دوسر ے ہمسایہ ممالک میں بھی بھارت دہشت گردی کی کارروائیاں اسپانسر کرتا ہے، افغانستان میں بھی داعش ، ٹی ٹی پی اور دوسری دہشت گرد تنظیموں نے اپنے نیٹ ورک بنا رکھے ہیں، جہاں سے بھارت کی سرپرستی میں دہشت گرد پاکستان میں داخل ہوتے اور یہاں کارروائیاں کرتے ہیں ، صوبہ خیبرپختونخوا میں بہت سی کارروائیوں میں یہ دہشت گرد گروہ ملوث پائے گئے، باچا خان یونیورسٹی مردان اور اے پی سی پشاور کے واقعات میں تو یہ بات پایہ ثبوت تک پہنچ چکی ہے کہ افغانستان سے آنے والے دہشت گردوں کو سہولت کار لے کر آئے اور جو مقامی دہشت گرد بھی ان واقعات میں ملوث پائے گئے، انھیں افغانستان سے کنٹرول کیا جا رہا تھا۔ایسے موبائل فون استعمال کیے جا رہے تھے، جن کی سمیں افغانستان سے جاری کی گئی تھیں۔ یہ سارے وہ گروہ ہیں جو کسی نہ کسی طرح افغانستان پہنچ کر اپنے آپ کو منظم کر چکے ہیں اور بھارت کی سرپرستی میں کام کرتے ہیں۔ ان کے بارے میں پاکستانی حکام وقتاً فوقتاً پہلے بھی افغان حکومت کو مطلع کرتے رہے ہیں۔پاکستان نے دہشت گردی کے مسئلے پر زیرو ٹالرنس کی پالیسی اختیار کر رکھی ہے، دہشت گردوں کے سہولت کاروں کو بلاامتیاز عبرتناک سزا ملنی چاہیے کیونکہ ٹی ٹی پی ہو یا بی ایل اے ، پاکستان میں موجود اپنے سہولت کاروں ، مخبروں اور کیرئیرز کے بغیر یہاں دہشت گردی کی کارروائی نہیں کرسکتے، لہٰذا اگر سہولت کاروں کا سراغ ملے تو ان سے کوئی رو رعایت نہیں ہونی چاہیے اقب وقت آگیا ہے کہ پاکستان میں مقیم افغان مہاجرین کے حوالے سے پاکستان کو حتمی فیصلہ کرلینا چاہیے۔ بھارت تو ایک کھلا دشمن ہے لیکن افغانستان بھائی چارے کی آڑ میں پاکستان کی جڑیں کاٹنے میں مصروف ہیں اورافغانستان کو ہمارے ملک میں مخبروں اور سہولت کاروں کی کوئی کمی نہیں ہے۔ اسی طرح بی ایل اے اور دیگر دہشت گرد گروپ بھارت میں محفوظ ٹھکانے استعمال کرتے ہیں۔انھیں بھی پاکستان میں ہمدرد، مخبر اور سہولت کار وافر تعداد میں میسر ہیں۔ پاکستان کو اپنی شمال مغربی سرحد کو ہر صورت میں محفوظ بنانا چاہیے۔
پولیس و فوجی افسروں اور جوانوں سے لیکر عوام الناس کو بم دھماکوں اور خودکش حملوں کا نشانہ بنانے والے عناصر کسی صورت نظر انداز کیے جانے کے قابل نہیں، یہ پاکستان دشمن ہیں جنہیں پوری قوت سے کچلنا ناگزیر ہو چکا ہے۔ گزشتہ کم و بیش چھ ماہ سے ملک میں دہشت گردی کی کارروائیوں میں آنے والی تیزی اور حالیہ دنوں میں بڑھتی ہوئی تعداد میں قیمتی جانوں کا نقصان، اس سے پہلے کہ دشمن کے حوصلے مزید بلند کرنے کا باعث بنے اِس سرکشی کو کچلنا ملکی امن و استحقام کیلئے ناگزیر ہے۔یہ حقیقت ہے کہ دہشت گردی سے جتنا نقصان پاکستان کو ہوا اتنا کسی اور ملک کو نہ ہوا ہے، یہ ہماری بہادر مسلح افواج کے نیشنل ایکشن پلان کے تحت آپریشن ضربِ عضب اور ردالفساد ہی تھے جن کے باعث دہشت گردوں کی کمر ٹوٹی، جن کی باقیات اب ملک دشمن بیرونی عناصر کی مدد و ایما پر بزدلانہ کارروائیاں کر رہی ہیں، جن کا قلع قمع کرنے کے لیے نیشنل ایکشن پلان کو مزید فعال، مربوط اورتیز کرنا لازم ہے۔
qaiserchohan81@gmail.com

image_pdfimage_print
شیئرکریں