Voice of Asia News

’’ملک و قوم سے مخلص وزیر اعظم کے اقدامات‘ ‘ :حافظ محمد صالح

وزیراعظم عمران خان نے ایک نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ میں عوام کو مہنگائی کی دلدل سے نکالنے کی تیاری کررہا ہوں۔ اس وقت ہمارا ہدف یہ ہے کہ عوام کے لیے ذرائع آمدن بڑھائے جائیں، عوام کی آمدنی بڑھائی جائے اور نوکریاں پیدا کی جائیں۔ وزیراعظم کے خیال کے مطابق آئندہ چار سے چھے ماہ تک اثرات آنا شروع ہوجائیں گے۔ اگر عالمی سطح پر تیل کی قیمتیں اوپر نہ گئیں تو پھر عوام کو 4 سے 6 ماہ بعد ریلیف ملے گا۔ وزیر خزانہ شوکت ترین نے بھی دعویٰ کیا ہے کہ 6 سے 8 ماہ بعد مہنگائی کا زور ٹوٹ جائے گا۔ وزیراعظم کے مشیر خصوصی ڈاکٹر شہباز گل کا بھی یہی دعویٰ ہے کہ وزیراعظم عوام کے لیے فکر مند ہیں اور انہیں مہنگائی پر دکھ ہوتا ہے۔ساڑھے تین سال کے عرصے میں’’ملک و قوم سے مخلص وزیر اعظم عمران خان ‘ ‘ کے اقدامات سے عوام کو رتی برابر بھی ریلیف نہیں مل سکا۔عمران خان کی حکومت مہنگائی کی آگ میں جلتی ہوئی عوام کو بجلی کا جھٹکا دے کر پٹرول چھڑک دیا۔بجلی اور پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں بڑھنے سے مہنگائی کا نیاطوفان آگیا۔ ملک میں 28 اشیائے ضروریہ مزید مہنگی ہو گئیں اور سالانہ بنیادوں پر مہنگائی کی شرح میں اضافہ 18.09 فیصد تک پہنچ گیا۔ عالمی سود خور ادارے آئی ایم ایف کے حکم پرعمران خان کی حکومت نے چند روز قبل تاریخ ساز مہنگائی کی چکی میں پستی عوام پربجلی گراتے ہوئے بجلی کی قیمت میں فی یونٹ 3روپے 10پیسے اضافہ کیا تھا اور اب پٹرول کی قیمت میں12.03روپے فی لٹر، ہائی اسپیڈ ڈیزل میں 9.53روپے فی لٹر، لائٹ ڈیزل آئل میں 9.43روپے فی لٹر جبکہ مٹی کے تیل کی قیمت میں10.08روپے فی لٹر اضافہ کر دیا ہے۔اس وقت بجلی اور پٹرول کی قیمتیں ملکی تاریخ میں بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہیں۔وفاقی ادارہ شماریات کی رپورٹ کے مطابق مہنگائی سے کم آمدنی رکھنے والا پسماندہ طبقہ سب سے زیادہ متاثر ہوا، اور ایسے غریب لوگوں کے لیے مہنگائی کی شرح 19.40فیصد رہی ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ سالانہ بنیادوں پر 17 ہزار 732روپے ماہانہ تک آمدنی رکھنے والے طبقے کے لیے مہنگائی کی شرح میں19.40 فیصد، 17 ہزار 733روپے سے 22ہزار 888روپے ماہانہ تک آمدنی رکھنے والے طبقے کے لیے16.98 فیصد، 22ہزار 889روپے سے 29ہزار 517 روپے ماہانہ آمدنی رکھنے والوں کے لیے 16.41 فیصد، 29ہزار 518روپے سے 44ہزار 175 روپے ماہانہ تک آمدنی رکھنے والے طبقے کے لیے 16.52 فیصد، جبکہ 44ہزار 176روپے ماہانہ سے زاید آمدنی رکھنے والے طبقے کے لیے مہنگائی کی شرح 18.43فیصد رہی ہے۔
حکومت اور اس کے معاشی منتظمین کے مطابق پچھلے بیرونی قرضے کی قسط کی ادائیگی اور زرمبادلہ کے ذخائر کے عدم توازن کا مسئلہ حل ہوجائے اس کے بعد ایسے اقدامات کریں گے جن سے عوام کو اقتصادی ریلیف ملے گا لیکن موجودہ حکومت کے پاس اس کے سوا کوئی طریقہ نہیں ہے کہ چند بنیادی اشیا پر زرتلافی ادا کرکے قیمتوں میں استحکام برقرار رکھا جائے جس میں بجلی کے نرخوں پر زرتلافی، یوٹیلیٹی اسٹور پر رعایت، گندم کی سرکاری قیمت خریداری کا تعین جیسے اقدامات شامل ہیں، لیکن حکومت بیش تر امور پر آئی ایم ایف کے احکامات پر ٹیکس چھوٹ کے خاتمے، بجلی، گیس اور پٹرول جیسی اشیا کی قیمت بڑھانے پر مجبور ہے۔ پٹرول کی قیمت میں اضافہ کرنے کی مجبوری بھی حکومت نے یہ بتائی ہے کہ عالمی منڈی میں پٹرول کی قیمت میں اضافہ ہوگیا ہے اس لیے ہم قیمت بڑھانے پر مجبور ہیں۔ پاکستان کی تاریخ میں موجودہ دور میں پٹرول کی قیمت میں سب سے زیادہ اضافہ ہوا ہے۔ اور صرف 9 ماہ میں 51 روپے فی لٹر کا اضافہ ہوا ہے۔
پوری دنیا میں پاکستان ہی ایسا ایٹمی ملک ہے جس کے روز مرہ معاملات چلانے کے لیے قرض ،بھیک اور امداد مانگی جاتی ہے اور یہ سلسلہ کئی عشروں سے جاری ہے۔ گزشتہ ساڑھے تین برس میں اس میں بے تحاشا اضافہ ہوا ہے اور اس میں مزید اضافہ کیا جا رہا ہے۔موجودہ حکمران بھی ماضی کے حکمرانوں کی طرح اپنی مدت پوری کرکے چلے جائیں گے لیکن قرضے تو اپنی جگہ برقرار رہیں گے۔ ان قرضوں کی سود سمیت واپسی کے لیے پاکستانی عوام پر بے تحاشہ ٹیکسوں کا بوجھ ڈال کا ان کی زندگی اجیرن کی جائے گی۔آئی ایم ایف سے قرض مانگنے جائیں گے تو ہمیں ان کی شرائط ماننا ہوں گی۔ پاکستان کے معاشی حالات کی تباہی کا سب سے بڑا سبب ’’امریکی وار آن ٹیرر‘‘ بھی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آئی ایم ایف کہہ رہا ہے کہ فیٹف کی شرائط پر عمل کرو۔ وہ حکومت کو کوئی ایسا قدم اٹھانے کی اجازت دینے کے لیے تیار نہیں ہے جس سے پاکستان کی معیشت مستحکم ہو، اسلامیان پاکستان کو سہولت ملے، ان کے لیے آسانیاں میسر آئیں۔ یہ بات کوئی راز نہیں ہے۔ موجودہ حکومت اور اس کے ارکان ہوں یا حزب اختلاف کی جماعتوں کے قائدین سب ماضی کی حکومتوں میں شریک رہے ہیں۔ وزیراعظم عمران خان کے سوا ان کی کابینہ میں اکثر لوگ سابقہ حکومتوں میں رہے ہیں۔ عمران خان کے بارے میں بھی کسی نے یہ بات چھپانے کی کوشش نہیں کی کہ انہیں پاکستان کی اصل مقتدر قیادت نے تربیت دے کر میدان سیاست میں اتارا ہے اور انہیں مقبول لیڈر بنایا ہے۔ اس لیے موجودہ اقتصادی بحران 74 برسوں سے جاری طرز حکمرانی کا تسلسل ہے جس نے تباہ کن معاشی پالیسیاں تشکیل دیں۔
h.m.sualeh12@gmail.com

image_pdfimage_print
شیئرکریں