Voice of Asia News

ویاگرا جیسی ایک اور دوا بھی دماغی بیماریوں سے بچا سکتی ہے، تحقیق

لندن(وائس آف ایشیا بیورو آفس یوکے یورپ) یورپی ماہرین نے دریافت کیا ہے کہ ویاگرا جیسی ایک دوا جو ٹاڈالافل یا سیالس کہلاتی ہے، مختلف دماغی بیماریوں سے حفاظت میں بھی ہماری مدد کرسکتی ہے۔ویاگرا کی طرح ٹاڈالافل/ سیالس بھی خون کا بہائو بہتر بناتی ہے جس سے خصوصی مردانہ مسائل کا علاج ہوتا ہے۔البتہ اسی دوا کی وجہ سے دماغ تک پہنچنے والے خون کی مقدار میں بھی اضافہ ہوتا ہے جس سے دماغ کی صحت بہتر ہوتی ہے اور وہ مختلف بیماریوں سے محفوظ رہتا ہے۔میڈیارپورٹس کے مطابق ٹاڈالافل/ سیالس پر یہ تجربات برطانیہ میں 55 عمر رسیدہ رضاکاروں پر کیے گئے جن کی اوسط عمر تقریبا 69 سال تھی۔ان تجربات کے دوران جن رضاکاروں نے اصل ٹاڈالافل/ سیالس استعمال کی تھی، ان کے دماغوں میں خون کا بہا بہتر ہوا جبکہ جعلی (پلاسیبو)ٹاڈالافل/ سیالس لینے والے رضاکاروں کے ساتھ ایسا نہیں ہوا۔واضح رہے کہ دماغ تک پہنچنے والے خون میں کمی کا براہِ راست تعلق دماغی صحت سے بھی ہے کیونکہ آگے چل کر یہی بات الزائیمر اور ڈیمنشیا جیسی خطرناک بیماریوں کی وجہ بھی بنتی ہے اور یہ امراض بالآخر مریض کیلیے جان لیوا بھی ثابت ہوسکتے ہیں۔نئے تجربات میں ٹاڈالافل/ سیالس کے استعمال سے دماغ تک پہنچنے والے خون کی مقدار میں واضح طور پر بہتری دیکھی گئی تاہم ان افراد دماغی صلاحیتوں میں بہتری کا تجزیہ نہیں کیا گیا۔علاوہ ازیں، یہ مشاہدہ ٹاڈالافل/ سیالس کے صرف ایک بار استعمال سے ہوا تھا لہذا ماہرین کا کہنا تھا کہ اس تحقیق کو مزید آگے بڑھا کر یہ جاننے کی ضرورت ہے کہ اس دوا سے دماغی صلاحیتوں کو بھی کوئی حقیقی فائدہ پہنچتا ہے یا نہیں۔

image_pdfimage_print
شیئرکریں