Voice of Asia News

بھارت اقلیتوں کیلئے جہنم بن گیا :محمد قیصر چوہان

پاکستانی حکومت نے اقوام متحدہ اور بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیموں سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ بھارت میں اقلیتوں بالخصوص مسلمانوں کے ساتھ انسانی حقوق کی سنگین اور منظم خلاف ورزیوں کا فوری نوٹس لیکر بھارت کا احتساب کریں۔پاکستان کے ترجمان دفتر خارجہ نے 2020 کے ہولناک دہلی فسادات کی دوسری برسی اور 1991 میں مقبوضہ جموں وکشمیر کے کنان اور پوش پورہ گاؤں میں کشمیری خواتین کی اجتماعی عصمت دری کی 31 ویں برسی کے موقعے پر جاری ایک بیان میں عالمی برادری پر زور دیا تھاکہ وہ بھارت کو مقبوضہ جموں و کشمیر میں اپنی ریاستی سرپرستی میں ہونے والی دہشت گردی کو روکنے، مقبوضہ وادی میں غیر انسانی فوجی محاصرہ ختم کرنے اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق کشمیریوں کو ان کے حق خود ارادیت کا حق استعمال کرنے پر مجبورکرے۔
دنیا کا سب سے بڑا جمہوری ملک ہونے کے دعویدار ہندوستان میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیاں عروج پر پہنچ گئی ہیں۔ بھارت میں سات دہائیوں بعد بھی زندگی کے ہر شعبے میں مسلمانوں سمیت دیگر اقلیتوں کو ان کے بنیادی انسانی حقوق سے محروم کر کے ان پر عرصہ حیات تنگ کیا جارہا ہے، اقلیتوں کو مذہبی فرائض کی ادائیگی سے روکا جا رہا ہے ۔بھارتی حکمرانوں کی سر پرستی میں کام کرنے والی آر ایس ایس، وی ایچ پی (ویشوا ہندو پریشد) ، بی جے پی (بھارتیہ جنتا پارٹی)، بجرنگ دَل اور ڈی جے ایس (دھرم جاگرن سمیتی) جیسی درجنوں انتہا پسند تنظیموں کی کوشش ہے کہ مسلمانوں،عیسائیوں ،بدھ مت اور سکھوں کو تعلیم ،روزگار ،تجارت سمیت ہر شعبے میں پسماندہ رکھا جائے تاکہ یہ ہندوستان چھوڑنے پر مجبور ہو جائیں۔بھارت میں مسیحی برادری بھی ایک بڑی اقلیت ہے جو ہندوؤں کے رحم و کرم پر ہے۔ان کی عبادت گاہوں کو مسمار کرنا، جلانا ، مذہبی کتابوں کی بے حرمتی اور انہیں زبردستی ہندو دھرم میں شامل کرنا جیسے واقعات عام ہیں اور خوف و ہراس پر مشتمل تحریری مواد مسیحی آبادیوں میں تقسیم کرکے انہیں ہراساں کیاجاتا ہے۔ہندوؤں کا خیال ہے کہ’’ اکھنڈ بھارت‘‘کا قیام اس وقت تک ممکن نہیں جب تک مسلمانوں، عیسائیوں ، سکھوں، دلتوں اور دیگر اقلیتوں کو ختم نہ کر دیا جائے۔مقبوضہ جموں و کشمیر میں کشمیریوں کی نسل کشی، اجتماعی قبریں، زیر حراست تشدد، کیمیکل ہتھیاروں کا استعمال، بچوں اور خواتین پر تشدد، جبری گمشدگیاں، پیلیٹ گنز کا استعمال، اجتماعی سزائیں، کالے قوانین، فالس فلیگ آپریشنز ، کشمیریوں کے خلاف جعلی مقدمات،کشمیریوں پر تشدداور جعلی پولیس مقابلے وہ بھارتی جرائم ہیں جن کا ذکر دنیا بھر کی رپورٹس میں ملتا ہے۔انسانی حقوق کی پامالی میں متشدد ہندو تنظیمیں اور بھارت سرکار تو براہ راست ملوث ہیں ، تاہم اس میں بھارتی میڈیا بھی ملوث ہے جو حقائق سے انحراف کر کے گمراہ کن اطلاعات فراہم کر تا ہے۔بھارتی میڈیا اقلیتوں پر ہونے والے مظالم اور ان کے بنیادی حقوق کی پامالی کو ہمیشہ فسادات کا نام دیتا ہے ۔حالانکہ فسادات کا مطلب فریقین کا ایک جیسی طاقت کا حامل ہونا اور ایک جیسے ہتھیاروں سے مسلح ہونا ہے ، جبکہ مسلمان اور دیگر اقلیتیں تو بالکل نہتی اور بے بس ہیں۔آر ایس ایس (راشٹریہ سویم سیوک سنگھ) کو بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کی بھرپور ریاستی سرپرستی حاصل ہے۔کیونکہ نریندر مودی خو د بھی آر ایس ایس کا سرگرم کا رکن رہاہے۔اس وقت پورے بھارت میں آر ایس ایس کے ایک لاکھ سے زائد دفاتر موجود ہیں۔اس میں بہت سے سابق فوجی اہلکار اور افسران بھی شامل ہیں۔ آر ایس ایس کا بنیادی منشور یہ ہے کہ بھارت سے مسلمانوں سمیت دیگر اقلیتیں نکل جائیں۔ آر ایس ایس کے غنڈے براہ راست اقلیتی آبادیوں پر حملے کرتے ہیں۔ اور ’’گاؤکشی ‘‘ کے نام پر لوگوں کو قتل کر دیا جاتا ہے۔ آر ایس ایس نے بھارت کو ہندو ریاست بنانے کے لیے فرقہ وارانہ خطوط پر کام کرنے کی راہ دکھائی تھی۔
بھارت میں جب سے بی جے پی اقتدار میں آئی ہے تب سے بھارتی معاشرے میں نفرت اور مذہبی منافرت پھیلائی جارہی ہے۔ بھارت میں مسلمانوں اور اقلیتوں کو آئے روز جبر و ستم یا تعصب کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔گزشتہ برسوں کی طرح اس برس بھی اونچی ذات کے ہندوؤں کی جانب سے نچلی ذات کے ہندوؤں، مسیحوں اور مسلمانوں کے خلاف تعصب اور بدسلوکی کے متعدد واقعات سامنے آئے ہیں۔ مسلمان بھارت میں سب سے بڑی اقلیت ہیں جو تقسیم ہند سے قبل ہندوستان میں سیکڑوں برس حکمران بھی رہے۔تاہم تقسیم ہند کے بعد سے بھارت میں مسلمانوں کو تعصب کا سامنا رہا اور بھارت کے بانی رہنماؤں میں سب سے معروف موہن داس کرم چند گاندھی کو ہی 1948 میں ہندو مسلم اتحاد کی حمایت کرنے پر ایک ہندو انتہا پسند نتھورام گوڈسے نے قتل کردیا تھا۔ہندو مسلم اتحاد کی حمایت کرنے پر ہندو انتہا پسندوں کی اکثریت مہاتما گاندھی کو ’’غدار‘‘ قرار دیتی ہے حالانکہ وہ خود ایک کٹر ہندو تھے، اب تو نوبت یہاں تک پہنچ چکی ہے کہ بھارتیہ جنتا پارٹی کے اقتدار میں آنے کے بعد سے گاندھی کے قاتل گوڈسے کو ہیرو قراردیا جارہا ہے۔بھارت میں بیس کروڑ سے زائدمسلمانوں سمیت اقلیتوں پر زندگی اجیرن کردی گئی ہے۔
یونیورسل ڈیکلیئریشن آف ہیومن رائٹس کی ایک رپورٹ کے مطابق بھارت انسانی حقوق کی سب سے بڑی خلاف ورزیاں کرنے والی ریاست کے طور پر سامنے آیا ہے ۔ہیومن رائٹس سوسائٹی آف پاکستان کے سابق صدر ،گرین پیس انٹرنیشنل کے سابق چیئرمین ،ٹرائل لائیرز آف امریکہ کے سابق ممبراور ہیومن رائٹس گروپ آف پاکستان کے بانی و چیئرمین شیر علی رضوی ایڈووکیٹ سپریم کورٹ جن کا شمار انسانی حقوق کے صف اول کے ماہرین میں ہوتا ہے کہ مطابق ہندوستان کے غیر قانونی طور پر زیر قبضہ مقبوضہ جموں و کشمیر میں نسل کشی سے لے کر مذہبی اقلیتوں کو انتقامی کارروائیوں کا نشانہ بنانے تک ہندوستان ایک نسل پرست ریاست بن چکا ہے جہاں انسانی حقوق اور مساوات ناپید اقدار ہیں۔ہیومن رائٹس گروپ آف پاکستان کے بانی و چیئرمین شیر علی رضوی ایڈووکیٹ سپریم کورٹ کے مطابق انسانی حقوق کی پامالی میں متشدد ہندو تنظیمیں اور بھارت سرکار توبراہ راست ملوث ہیں ہی تاہم اس میں بھارتی میڈیا بھی ملوث ہے جو حقائق سے انحراف کر کے گمراہ کن اطلاعات فراہم کر تا ہے۔ بھارتی میڈیا اقلیتوں پر ہونے والے مظالم اور ان کے بنیادی حقوق کی پامالی کوہمیشہ فسادات کا نام دیتا ہے۔ حالانکہ فسادات کا مطلب فریقین کا ایک جیسی طاقت کا حامل ہونا اور ایک جیسے ہتھیاروں سے مسلح ہونا ہے ،جبکہ مسلمان اوردیگر اقلتیں توبالکل نہتی اور بے بس ہیں۔آرایس ایس اور دیگر ہندوتنظیمیں ان پر حملے کر تی ہیں ، راہ چلتے لوگوں کو قتل کیاجاتا ہے ، ان سے انتہائی بنیادی حق یعنی زندہ رہنے کا حق ہی چھین لیا جاتا ہے اور میڈیا کی طرف سے اسے فسادات کانام دیاجاتا ہے۔ موجودہ صورتحال میں بلا شبہ بھارت ’’اقلیتوں کے لیے جہنم ‘‘ بن چکا ہے لہٰذا اقوام متحدہ بھارت کو دہشت گرد ملک قرار دے۔
اس وقت مقبوضہ جموں و کشمیر سمیت مختلف بھارتی ریاستوں آسام ، تریپورہ ، ہماچل پردیش، میزورام ، منی پور، میگھالیہ، ناگالینڈ ، بہار، جھاڑ کھنڈ ، چھتیس گڑھ، مغربی بنگال، اڑیسہ ، مدھیا پردیش، مہاراشٹر اور آندھرا پردیش میں درجنوں علیحدگی پسند تنظیمیں کام کر رہی ہیں۔ یہ تنظیمیں در اصل بھارتی حکمرانوں کی جانب سے بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے رد عمل میں سامنے آئی ہیں۔مسلمانوں کے علاوہ سکھ برادری جو کہ مدتوں سے اپنے خلاف جاری کارروائیوں پہ سراپا احتجاج ہے اورظلم و نا انصافیوں کے خلاف آواز بلند کئے خالصتان تحریک چلا رہے ہیں۔ بظاہر ان کی منزل بھی قریب نظر آتی ہے۔ اس کے علاوہ دیگر مذاہب کے لوگوں کے ساتھ بھی ہندوؤں کے دوہرے معیار اور متعصبانہ رویوں نے دنیا کے سامنے ہمیشہ اسکا چہرہ بے نقاب کر دیا ہے۔ لیکن مجال ہے اس پر کسی عالمی ادارے نے کوئی آواز بلند کی ہو۔ بلکہ ہمیشہ گونگے اور بہرے بنے رہے۔بھارت کی بہت سی پسماندہ ریاستوں کی ناگفتہ بہ حالت کا اندازہ اس سے لگائیے کہ وہاں بنیادی انسانی سہولتیں بھی میسر نہیں، اسکول و کالجز اور دیگر عوامی و فلاحی اداروں کا وجود نہ ہونے کے برابر ہے، پسماندگی و غربت کا دور دورہ ہے ا ور ہر جانب سیکیورٹی اداروں کا راج ہے۔بلاشبہ جمہوریت کے سب سے بڑ ے دعویدار اور خطے کی بڑی فوجی طاقت بھارت میں انسانی حقوق کی صورتحال انتہائی مخدوش ہے اور عالمی اداروں کی طرف سے بھارت کو اقلیتوں سمیت بہت سے طبقات کے لیے خطرناک ملک قرار دیا جاچکا ہے۔ماہرین نے امریکہ اور یورپی یونین پر زور دیا کہ وہ مقبوضہ وادی میں بھارتی اقلیتوں اور کشمیریوں کے انسانی حقوق کے تحفظ کیلئے قدم بڑھائیں۔بھارت عالمی مبصرین کو بھی وادی میں داخلے سے روکے ہوئے ہے۔ اس پر امریکہ اور مغربی ممالک کی خاموشی بھی معنی خیز ہے۔ امریکی اور مغربی ممالک میں جہاں جانوروں کا بھی خیال کیا جاتا ہے اور ان کے بھی حقوق ہیں، وہی ممالک بھارت میں اقلیتوں سمیت مقبوضہ جموں وکشمیر میں نہتے عوام پر مظالم کو دیکھ کر آنکھیں بند کیے ہوئے ہیں۔ کشمیری عوام کا واحد مطالبہ بھارتی جبر و استبداد سے آزادی ہے اور ان کا یہ حق ہے کہ بزور طاقت نہیں چھینا جاسکتا۔ انسانی حقوق کا عالمی دن منانا جدید ممالک کے لیے ایک رسم بن چکا ہے اور اس کا حقیقت اور عملی زندگی سے کوئی واسطہ نہیں رہا۔ جبھی تو مسلمان دنیا کے مختلف حصوں میں ظلم و ستم کا شکار ہیں اور کوئی ان کی مدد کرنے کو تیار نہیں۔دنیا میں امن کے ٹھیکیدار ممالک کو چاہیے تھا کہ وہ دنیا میں جہاں جہاں ظلم کی داستانیں رقم ہورہی ہیں اور جہاں جہاں انسانی حقوق غصب کیے جارہے ہیں، وہاں حقوق دلانے کے لیے کسی پلیٹ فارم پر نہ سہی، انفرادی طور پر ہی آواز اٹھاتے تاکہ یہ ثابت ہوتا کہ مہذب ممالک واقعتا انسانی حقوق کی پامالی کو ایک جرم گردانتے ہیں اور اس کے خلاف ایکشن لینے کو تیار ہیں۔ تاہم بھارت نے ثابت کردیا کہ اس کا سیکولرازم سے دور کا واسطہ نہیں۔
مودی کے بطور وزیر اعظم پہلے دور میں ہندوستان میں پرتشدد سیاست کا محض ٹریلر چلا تھا۔ 2014 سے لے کر اب تک اور ان کی پہلی اور اب دوسری مدت کے دوران، تشدد ایک ایسا معمول بن گیا ہے کہ اب اس کی اطلاع بمشکل ہی ملتی ہے۔ صرف مسلمان ہی ہندو توا کی دہشت گردی کا شکار نہیں ہیں، دائیں بازو کے ہندو قوم پرستوں کے مسیحیوں کے خلاف بھی حملے تیزی سے بڑھتے جا رہے ہیں اور جوابدہی کے فقدان کی وجہ سے انتہا پسندوں کی حوصلہ افزائی ہو رہی ہے۔ بھارت حکومت کی ظالمانہ کارروائیوں سے نہ صرف مسلمان بلکہ بھارتی کسان بھی متاثر ہوئے ہے اور پچھلے کئی سالوں سے پنجاب، ہریانہ، بنگال اور جنوبی اور مغربی بھارت میں کسانوں نے احتجاجی تحریکیں چلائی ہیں اور اب بھی کسان مطمئن نہیں ہیں۔فارن پالیسی میگزین کے مطابق انڈیا میں کوئی بھی اقلیت محفوظ نہیں ہے چاہے وہ مسلمان ہو، سکھ ہو، عیسائی ہو، یا جین ہو اور اقلیتوں کے علاوہ نچلے درجے کے ہندوؤں پر بھی مظالم کے پہاڑ ڈھائے گئے ہیں، جس کی واضح مثال بھارت سرکار کی طرف سے لائے گئے شہریت کے دو بل این سی آر اور سی اے اے ہیں۔مغربی طاقتیں اکثر انسانی حقوق کی علمبردار ہونے کا دعویٰ کرتی ہیں لیکن بدقسمتی ہے کہ وہ اپنے ذاتی مفادات کی وجہ سے بھارت کو انسانی حقوق کے خراب ریکارڈ کے لیے جوابدہ ٹھہرانے میں ناکام رہی ہیں۔ بھارت میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں اس وقت تک جاری رہیں گی جب تک کہ بڑی طاقتیں اپنے مالی مفادات سے باہر نکل کر آر ایس ایس کی قیادت میں بھارت کو انسانیت کے خلاف جرائم کرنے سے روک نہیں دیتیں۔

qaiserchohan81@gmail.com

image_pdfimage_print
شیئرکریں