Voice of Asia News

بھارتی فوجیوں نے اگست 2019سے 261 کشمیریوں کو شہید کیا

سرینگر(وائس آف ایشیا ) غیر قانونی طور پر بھارت کے زیر قبضہ جموں و کشمیر میں بھارتی فوجیوں نے محاصرے اورتلاشی کی کارروائیاں جاری رکھتے ہوئے پیر کوپٹن ، کریری ، آستان پورہ اور جنوبی اور شمالی کشمیر کے دیگر کئی علاقوں کا محاصرہ کیا۔کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق فوجیوں نے ان کارروائیوں کے دوران گھریلو سامان کی توڑ پھوڑ کے علاوہ مردوں کو ہراساں کیا اور خواتین کے ساتھ بدتمیزی کی۔مقبوضہ جموںوکشمیر میں 5 اگست 2019 کے بعد محاصرے اورتلاشی کی کارروائیاں معمول بن چکی ہیں جب بھارت نے اپنے آئین کی دفعہ 370 کو منسوخ کرکے جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کردی تھی۔ اس وقت سے آج تک بھارتی فوجیوں نے محاصروں اورتلاشی کی 8ہزار24کارروائیوں کے دوران6 خواتین اور 13 بچوں سمیت 261 کشمیریوں کو شہید کیا ہے۔پرامن مظاہرین پربھارتی فوجیوں کی فائرنگ سے کم از کم 1500 افراد شدید زخمی ہوئے ہیں جبکہ 15ہزارسے زائد افراد کو گرفتار کیاگیا ہے۔کل جماعتی حریت کانفرنس کے ترجمان نے سرینگر میں جاری ایک بیان میں کہا ہے کہ بھارت نے مقبوضہ جموںوکشمیر پر اپنا ناجائزقبضہ برقرار رکھنے کے لئے کشمیریوںکو تمام بنیادی حقوق سے محروم کردیا ہے۔ ترجمان نے کہا کہ بھارت حق خودارادیت کا مطالبہ کرنے پر بے گناہ کشمیریوں کو قتل ، گرفتار اورنظربند اور ان کی املاک کو تباہ کررہاہے۔کشمیر میڈیا سروس کی طرف سے پیر کو جاری کی گئی ایک تجزیاتی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بھارت نے متنازعہ علاقے کے حوالے سے تمام بین الاقوامی قواعد و ضوابط کی خلاف ورزی کرتے ہوئے متعدد ایسے اقدامات کئے جن کے تحت غیر کشمیریوںکو مقبوضہ جموںوکشمیر میں آباد ہونے اور زمین خریدنے کی اجازت دی گئی تاکہ علاقے میں آبادی کا تناسب تبدیل کیا جاسکے۔رپورٹ میںلندن انسٹی ٹیوٹ آف ساتھ ایشیا کے ریسرچ فیلومیری ہنٹر کے ایک حالیہ مضمون کا حوالہ دیا گیا ہے جس نے بھارت کی طرف سے مقبوضہ جموںوکشمیر میں آبادی کا تناسب تبدیل کرنے کا موازنہ مقبوضہ فلسطین میں اسرائیلی آبادکاری سے کیا ہے۔ اپنے مضمون میں انہوں نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی شہریوں کی آبادکاری چوتھے جنیوا کنونشن کی دفعہ 49 کی خلاف ورزی ہے۔آرٹیکل 49 میں کہا گیا ہے کہقابض طاقت اپنی شہری آبادی کو اپنے زیر قبضہ علاقے کی طرف ملک بدر یا منتقل نہیں کرسکتی۔ اس میں انفرادی یا اجتماعی طورپر جبری منتقلی اور مقبوضہ علاقے سے لوگوں کی علاقہ بدری پر بھی پابندی ہے۔جموں وکشمیر یوتھ سوشل فورم نے سرینگر میں ایک پارٹی اجلاس میں کشمیری عوام کو درپیش مشکلات کو ختم کرنے کے لئے تنازعہ کشمیر کے حل کی ضرورت پر زور دیا۔اجلاس کی صدارت پارٹی چیئرمین عمر عادل ڈار نے کی۔کانگریس کے سینئر رہنما ٹھاکر بلبیر سنگھ نے جموں میں ایک بیان میں کشمیریوں کو نشانہ بنانے پر مودی کی زیرقیادت فسطائی بھارتی حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے نئے اراضی قوانین کو منسوخ کرنے کا مطالبہ کیا۔برطانوی نژاد تاجر محمد رفاقت جو گریٹر مانچسٹر کے علاقے میں چلنے والی 100 کے قریب نجی کاروں کے مالک ہیں اپنی گاڑیوںکو Kashmiri Lives Matter کے پوسٹروں سے لپیٹ کر مسئلہ کشمیر کو اجاگر کررہے ہیں۔

image_pdfimage_print
شیئرکریں
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے