Voice of Asia News

کراچی کرمنلز کے ہاتھوں یرغمال: سید اقبال احمد ہاشمی

سمندر کنارے آباد ملک کے سب سے بڑے شہر کراچی میں اسٹریٹ کرائم اور گھروں میں گھس کر ڈکیتی کی وارداتوں میں ہوشربا اضافہ ہو گیاہے۔ملک کے معاشی حب میں اس وقت ڈاکو راج ہے۔ عام شہری گھر کی دہلیز اورسڑکوں پر لٹ رہا ہے، اس دوران اگر وہ مزاحمت کرے تو ڈاکواُسے موت کے گھاٹ اتار دیتے ہیں۔ ان حالات میں متاثرین پکار پکار کر کہہ رہے ہیں: میں کس کے ہاتھ پہ اپنا لہو تلاش کروں
کراچی میں ہر گزرتے دن کے ساتھ جرائم میں بے پناہ اضافہ ہوا ہے، اسٹریٹ کرائمز کی وارداتیں بڑھتی جارہی ہیں، شاپنگ سینٹرز اور گلی محلوں میں خواتین سے پرس و زیورات اور شہریوں سے موبائل فون اور موٹر سائیکل چھیننے کی وارداتیں روزانہ ہورہی ہیں، اے ٹی ایم بوتھ سے نکلنے والے افراد کو نشانہ بنایا جارہا ہے اور اس دوران مزاحمت پر جانیں بھی ضائع ہورہی ہیں۔حقیقت یہ ہے کہ اس وقت عملاً کراچی میں ڈاکو راج ہے، اور بھاری بجٹ رکھنے والی پولیس و رینجرز بے بس نظر آتے ہیں۔
چند دن پہلے سما ٹی وی کے پروڈیوسر کے دن دہاڑے قتل کا ہے۔ پولیس کے مطابق یہ واقعہ نارتھ ناظم آباد کے ڈی اے چورنگی کے قریب پیش آیا جہاں مسلح ملزمان ایک شہری سے لوٹ مار کررہے تھے کہ اطہر متین نے ملزمان کی موٹر سائیکل کو اپنی گاڑی سے ٹکر ماری جس سے ملزمان گر پڑے، بعد میں ایک ملزم نے ان پر گولی چلادی جو جان لیوا ثابت ہوئی۔ اطہر متین نے 2005ء سے صحافت سے منسلک تھے۔ انھوں نے ’’سما‘‘ سے قبل ’’آج‘‘ ٹی وی اور ’’اے آر وائی‘‘ نیوز کے ساتھ بھی کام کیا تھا۔ اس وقت وہ سما میں سینئر پروڈیوسر اور کراچی پریس کلب کے ممبر تھے۔سرجانی ٹاؤن میں ڈکیتی کے دوران لڑکی سے زیادتی کا واقعہ بھی چند دن پہلے کی ہی بات ہے۔ اسی طرح ایک نوجوان کا واقعہ بھی ابھی تازہ ہے جس میں اسے ڈکیتی میں مزاحمت پر قتل کردیا گیا تھا۔ یہ واقعہ اْس کے ولیمے سے ایک دن پہلے کا تھا جس کے بعد اْسے اگلے دن ہنی مون پر جانا تھا، مگر اس کی نوبت ہی نہ آئی اور وہ کراچی کے درجنوں اْن نوجوانوں کی طرح چلا گیا جن کا جرم شہر کراچی میں رہنا ہے۔
کراچی شہر ملک کے محصولات کا 70 فیصد فراہم کرتا ہے اور سندھ حکومت کو 90 فیصد کما کر دیتا ہے لیکن یہ شہر ہمیشہ حکمرانوں کی عدم توجہی کا شکار رہا ہے۔ یہ کہنا زیادہ درست ہوگا کہ کراچی ہمیشہ حکمرانوں کی سفاکی کا شکار رہا ہے، یہ شہر حکمرانوں کی ضرورت تو پوری کرتا ہے مگر کوئی اس کی ضروریات کا خیال نہیں رکھتا۔کراچی جو کبھی روشنیوں کا شہر کہلاتا تھا مگر پھر عالمی تناظر، دباؤ اور ضرورت کے تحت یہ شہر مقتل گاہ بن گیا۔ یہاں روزانہ درجنوں افراد قتل کردیئے جاتے تھے، پھر ایک وقت آیا کہ قتل کرنے والے ہاتھ خاموش ہوگئے اور یہ نوید سنائی گئی کہ شہر میں امن قائم ہوگیا ہے، لاشیں گرنا بند ہوئیں تو کچھ عرصے بعد اس شہر کو اسٹریٹ کرائم کے بھوت نے اپنے پنجوں میں جکڑلیا۔ اسٹریٹ کرائمز کی 90 فیصد وارداتیں تھانے میں رپورٹ نہیں ہوتیں۔ صرف وہ وارداتیں رپورٹ ہوتی ہیں جن میں قانونی تقاضے لازمی ہوں، یا کوئی شخص مارا جائے یا زخمی ہوجائے تو ضروری ہوجاتا ہے۔ شہر کے ہر گلی کوچے اور اب تو باؤنڈری وال سوسائٹیز میں سے گاڑیوں سے ساؤنڈ سسٹم، بیک ویو مرر، بیٹری کی چوری کی درجنوں وارداتیں روزانہ کی بنیاد پر ہورہی ہیں۔ اس وقت کراچی کا کوئی حصہ، گلی، محلہ، سڑک یا چوراہا لٹیروں سے محفوظ نہیں ہے۔ آپ کسی سنسان سڑک پر دومنٹ سے زیادہ چلنے کا سوچ بھی نہیں سکتے، لیکن رش والی جگہیں بھی محفوظ نہیں ہیں۔ لگ یہ رہا ہے کہ آدھا شہر لٹیرا ہے اور آدھا شکار ہورہا ہے۔ اس ضمن میں سب سے خطرناک بات یہ ہے کہ یہ لوٹ مار گلی، محلوں کی سطح پر پھیل گئی ہے، اور دیکھنے میں آرہا ہے کہ بے روزگار نوجوان اس طرح کی لوٹ مار میں شریک ہیں اور وہ جرائم پیشہ افراد کے ساتھ اْٹھنے بیٹھنے کی وجہ سے رہزنی کی طرف راغب ہورہے ہیں۔ یہاں برسبیل تذکرہ یہ کہنا بھی غلط نہ ہوگا کہ کراچی میں بدامنی اور جرائم کی بڑی وجہ پولیس کی سیاسی بنیادوں پر بھرتی اور رشوت کے عوض تھانوں میں تعیناتی بھی ہے۔
اسٹریٹ کرائمز کے باعث لوگوں کے احساس عدم تحفظ میں اضافہ ہورہا ہے۔کرائمز کی وارداتوں میں سرکاری اسلحہ بھی استعمال ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔جبکہ کچھ واقعات میں خود پولیس اہلکار ملوث پائے گئے ہیں۔ماضی میں بھی کراچی ایک منظم سازش کے تحت دہشت گردی کا شکار رہا ہے اور اب جبکہ اسٹریٹ کرائمز اور جرائم میں اضافے کی خبریں روزانہ شائع اور نشر ہورہی ہیں تو لوگوں کے ذہن میں یہ سوال پیدا ہورہا ہے کہ کیا کراچی ایک بار پھر منظم جرائم کی آماجگاہ بننے جارہا ہے؟۔ یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ ماضی میں اس شہر کی روشنیاں اگر کسی نے چھینی ہیں تو اس کی ذمہ دار سیاسی و مذہبی جماعتیں، ان کے عسکری ونگ اور حکمران طبقہ بھی ہے ۔موجودہ حالات میں شہر میں بڑھتی ہوئی اسٹریٹ کرائم کی وارداتیں سندھ حکومت، محکمہ پولیس کیلئے لمحہ فکریہ اور ان کی کارکردگی پر سوالیہ نشان ہیں۔

image_pdfimage_print
شیئرکریں