Voice of Asia News

جس کی توقیر نہیں وہ اسمبلی کس کام کی ۔۔؟ محمد نوازطاہر

گلوبل پِنڈ کی بیٹھک کچھ عرصے سے نسبتاً بے آباد رہی ، اس کی وجہ محرم الحرام اور ربیع الاول کے مہینے میں بیٹھک میں چونکہ مذہبی گفتگو سے پرہیز کیا جاتا ہے اور ان دونوں محترم مہینوں میں ایک طرح سے غیر اعلانیہ پابندی وتی ہے کیونکہ مذہبی گفتگو کے دوران علم سے زیادہ جذبات اوربرداشت سے زیادہ انتہا پسندی غالب ہوتی ہے اس لئے مناسب نہیں ہوتا کہ ایسی گفتگو جس سے ماحول انتہا پسندی کے باعث مکدر ہونے کا امکان ہو ، مذہبی گفتگو سے گریز ہی بہتر ہے ۔دوئم یہ کہ ہمارے یہاں دین اسلام جو اﷲ کا ( مکمل ) دین ہے ، اس کے بجائے ہم ’’مولوی اسلام دین ‘‘ کے’’ دین اسلام ‘‘ پر بات کرتے ہیں جس میں قرآن و حدیث کے احکامات اور تعلیمات کے بجائے تحریفی الفاظ زیادہ شامل کرلئے جاتے ہیں ، اس میں کم و بیش ہر مسلک ، عقیدہ اور سوچ کے حامل شامل ہیں ، اﷲ تعالیٰ ایسے لوگوں کو ہدائت دے اور اپنی رحمت فرمائے ،آمین ۔ ان جملہ وجوہات کے باعث بیٹھک میں مذہبی گفتگو عا م طور پر نہیں کی جاتی ، سماجی گفتگو ہی کو اولیت و اہمیت دی جاتی ہے ،ا ب سماجی سے زیادہ سیاسی اور غیر اخلاقی سیاسی گفتگو ہونا شروع ہوگئی ہے جس سے بیٹھک خاموش احتجاج کرتے کرتے مجبوراً اس رویے کی عادی ہوگئی ہے اور اپنے درودیوار کو آنکھیں ، کان کھلے مگر زبان بندرکھنے کی تلقین کرتی ہے حالانکہ بیٹھک ہی نہیں اس کے درودیوار کے جذبات بری طرح سے مجروح ہوتے ہیں تقدس مجروح ہونا ، جمہوریت کو خطرہ لاحق ہونا ، جمہوریت کو پنپنے نہ دینا ایسے الفاظ ہیں جن سے سیاست سے بیزار لوگ بھی آگاہ ہواور اکتا چکے ہیں پہلے تو یہ بیزار لوگ اخبارات میں سیاسی الفاظ سے صرفِ نظر کرلیتے تھے مگر جدید الیکٹرانک ، مواصلاتی نظام میں اب آنکھیں تو بند رکھ سکتے ہیں ، ریڈیو ٹی وی کی’’ چیخوں‘‘ کو کانوں سے دور نہیں رکھ سکتے ۔پچھلے پینتیس برس میں تقدس مجروح ہونے کے الفاظ اس قدر تواتر سے سنے ہیں کہ میری حسِ سماعت اور قوتِ سماعت کا استحقاق و تقدس بھی بری طرح سے مجروح ہوا ہے ۔ اور جس کا تقدس سب سے زیادہ مجروح ہوا ہے ، وہ پنجاب اسمبلی ہے جو آبادی کے لحاظ سے ملک کی سب سے بڑی (تین سو اکہتراراکین )اسمبلی ہے جہاں میں نے ایک رکن سے سپیکر تک سب کے رویے سے ایوان کاتقدس مجروح ہوتے سنا اوردیکھا ہے ۔
رواں ماہ نومبر کے دوسرے ہفتے میں پنجاب اسمبلی کا اجلاس تین روز ہوا ، تینوں دن جو ہوا ، اسمبلی کے اپنے قواعدِ انضباطِ کے مطابق ایوان کا استحقاق و تقدس مجروح ہی نہیں ہوا بلکہ حشر نشر ہوگیا، میں نے پینتیس سالہ پارلیمانی رپورتنگ کی تاریخ میں ایوان میں اتنی بجائی گئی سیٹیاں نہیں سنیں ، جو ان تین دنوں میں سنیں ۔مردوزن نے جس قدر سیٹیاں بجائی لگتا ہی نہیں تھا کہ میں اسمبلی میں ہوں، یوں لگتا تھا گلوبل پِنڈ کی بیٹھک چالیس سال پہلے میلہ چراغاں کے موقع پر’’انھیاں والے موڑ‘‘ (جی ٹی روڈ باغبان پورہ جہاں تانگوں کے زمانے میں سب سے زیادہ کوچوان ، ان کے جانور شور کرتے اور حادثات بھی ہوتے تھے) پر منتقل ہوگئی ہے ۔پنجاب اسمبلی کے قواعدِ انضباطِ کار کے تحت ایوان میں، پوسٹر ، اشتہارات اور بینرز لہرائے جاسکتے ہیں نہ ہی سیٹیاں بجانے کی اجازت ہے،پچھلے دنوں موبائل فون سے ایوان کے اندر ریکارڈنگ اور عکسبندی پر بھی پابندی لگائی گئی تھی جس پر عملدرآمد ایوان کے درودیوار پر ڈراؤنے خواب کی طرح نقش ہے ۔
دو دن کی ہلڑ بازی کے بعد تیسرے روز اجلاس شروع ہوتے ہی جب سابق سپیکر رانا محمد اقبال ( جنہیں پنجاب اسمبلی کے طویل ترین سپیکر ہونے کا اعزاز بھی حاصل ہے )نے پوائنٹ آف آرڈر پر بات کرتے ہوئے ابتدا ہی ایوان کا تقدس مجروح ہونے کے معاملے سے کی تو اور بڑے دردِ دل سے کی اور کہا کہ اس ایوان کا تقدس مجروح ہوا تو پریس گیلری میں میرے جیسے شائد کسی اور ساتھی کا بھی خیال تھا کہ سینئر پارلیمینٹیرین پچھلے دو روز کی ہلڑ بازی کا حوالہ دیکر مستقبل میں اس سے باز رہنے کی تلقین کریں گے مگر یہ گمان خیالِ غلط ثابت ہوا ، انہوں اراکین کی ہلڑ بازی کے برعکس پنجاب میں گندم کی امدادی قیمت کے حوالے سے ایوان کی اجتماعی رائے کا حکومت کی طرف سے احترام نہ کیے جانے کا معاملہ اٹھایا اور کہا کہ ایوان کی اجتماعی رائے کا احترام نہ کئے جانے سے اس ایوان کا تقدس مجروح ہوا ہے۔ اس بیان اور اس کے بعد اٹھائے جانے والے نکات سے دو روز پہلے والی سی صورتحال پیدا کردی گئی اور ایسی شدت سے کی گئی کہ اجلاس جاری رکھنا سپیکر کے بس میں نہ رہا اور اجلاس غیر معینہ مدت کے لئے ملتوی کردیا گیا حالانکہ امکان تھا کہ یہ اجلاس بیس نومبر تک جاری رہے گا۔اس سے دو روز پہلے پنجاب اسمبلی نے اپنی خصوصی کمیٹی کی اس عبوری رپورٹ کی بیک زبان منظوری دی تھی جس میں گندم کی امدادی قیت دوہزار روپے من تجویز کی گئی تھی اور ساتھ ہی سپیکر نے متعلقہ اداروں کو فوری طور پر اس پر عملدرآمد کرکئے ایک ہفتے کے اندر اسمبلی کو رپورٹ پیش کرنیکی ہدایت کی تھی ۔ اگرچہ قانون و پارلیمانی امور کے وزیر نے وضاحت بھی پیش کی کہ اسمبلی کے فیصلے سے کئی ذمہ داروں کو آگاہ نہیں کیا گیا اور وزیراعلیٰ نے عندیہ دیا ہ کہ وہ سپیکر سے مشاورت کرکے اسمبلی کے فیصلہ اور خواہش و منشاء کے مطابق گندم کی امدادی قیمت مقرر کریں گے لیکن اس وضاحت کو قبول کرنے کے بجائے شوروغل ہی اپنایا گیا جس میں حکومتی اراکین بھی پیچھے نہ رہے تو سپیکر کے پاس اس کے سوا چارہ بھی نہیں تھا جو انہوں کیا ، یہ الگ بات کہ پریس گیلری میں یہ چہ میگوئیاں بی تھیں کہ گندم کی امدادی قیمت کے معاملے میں سپیکر کی رائے وفاقی حکومت کی سوچ اور رائے سے مختلف ہونے کی بنا پر خود سپیکر نے ایسا ماحول فراہم کرنے میں سہولت کاری کی اور اپنی اتحادی حکومت کے ساتھ سیاسی پوائنٹ سکورنگ کی ۔یہ ایوان عوام کے ووٹوں سے منتخب ہوکر آنے اور نامزد ہونے والے اراکین سے سجتا ہے ، اس پر عوام ہی کے ٹیکسوں سے اخراجات اٹھتے ہیں ، عوام کی خدمت اور خوشحالی کے نعرے لگا کر یہاں آنے والوں کو تنخواہ الاؤنس اور ساری مراعات بھی عوام کے نچو ڑے ہوئے خون ہی سے ادا کی جاتی ہیں ، ان باشعور، غیور عوام کے پیسوں پر جو ہلڑ بازی کی گئی کیا اس سے عوام کے حقِ ووٹ اور مینڈیٹ کا تقدس مجروح نہیں ہوا ؟ اجلاس ختم ہونے بلکہ میلہ اجڑنے کے بعد اراکین اسمبلی ، سرکاری افسرو و اہلکار گھروں کو چلے گئے سیکیورٹی پر مامور اہلکاروں کو بھی طویل تھکان سے خلاصی مل گئی ، اس روز ٹی وی سکرین اور اگلے دن کے اخبارات میں عوام کے حقوق اور ووٹ کا تقدس مجروح ہونے کے بارے میں کوئی ایک لفظ تک شائع نہیں ہوا تھا ۔ یہ معاملہ بعد میں گلوبل پِنڈ کی بیٹھک میں زیر بحث آیا جہاں اور رویے پر ردِ عمل ایسا تھا جیسا سنہ انیس سو پینسٹھ کی پاک بھارت جنگ کے موقع پر بھاارتی ٹینکوں ، گولے بارود کے سامنے تھا ، بیٹھک کے شرکاء کے ردِ عمل سے لگ رہا تھا جیسی یہ سبھی ابھی اٹھیں گے اور اراکین اسمبلی کو جا کر گرینان سے پکڑیں گے ، جھنجھوڑیں گے اور پوچھیں گے کہ ہمارے ووٹ کو یہ عزت دی ؟ ان سے قومی خزانے کے ضیاع کاحساب لیں گے،اور مطالبہ کریں گے کہ ان کے ووٹ کو عزت دو ۔۔۔۔ گلوبل پِنڈ کی بیٹھک میں چونکہ جمہوریت کا راج اور اجتماعی و کثرتِ رائے کا احترام ہے ، طے پایا کہ اشتعال اور متشدد کے بجائے صبرو تحمل برداشت سے جمہوری رویہ ہی اختیار کیا جائے ، جمہوریت میں اشتعال نہیں شعور کو اہمیت دی جاتی ہے، جو ہوا ، اسے برداشت کیا جائے ، وقت کا انتظار کیا جائے ، عوام میں آگاہی مہم چلائی جائے ، شعور بیدار کیا جائے اور جمہور کو اس امر پر قائل کیا جائے کہ اراکینِ اسمبلی سے اپنے ووٹ کی عزت کروائی جائے ،انہیں جائے کہ ہمارے ووٹ کو عزت دو ، جو عزت نہ دے اس کے ساتھ وہی سلوک کیا جائے جس کا وہ حقدار ہے اوراپنے استحقاق اور ووٹ کے تقدس کو مجروح کرنے کا حساب بے باک کیا جائے ، اور پھر وقت گذرتے کون سا پتا چلتا ہے ، الیکشن میں اپنا عقلمندانہ کردار ادا کیا جائے ۔یہی بہترین حل ہے ۔ یہی جمہویت ہے اور یہی جمہوری انتقام ہے ۔

reporter2reporter@gmail.com

a

image_pdfimage_print
شیئرکریں
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے