Voice of Asia News

کراچی کو کرمنلز سے نجات دلائی جائے:حافظ محمد صالح

سمندر کنارے آباد پاکستان کے سب سے بڑے شہرکراچی میں ہر گزرتے دن کے ساتھ جرائم میں بے پناہ اضافہ ہوا ہے، اسٹریٹ کرائمز کی وارداتیں بڑھتی جارہی ہیں، شاپنگ سینٹرز اور گلی محلوں میں خواتین سے پرس و زیورات اور شہریوں سے موبائل فون اور موٹر سائیکل چھیننے کی وارداتیں روزانہ ہورہی ہیں، اے ٹی ایم بوتھ سے نکلنے والے افراد کو نشانہ بنایا جارہا ہے اور اس دوران مزاحمت پر جانیں بھی ضائع ہورہی ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ اس وقت عملاً کراچی میں ڈاکو راج ہے، اور بھاری بجٹ رکھنے والی پولیس و رینجرز بے بس نظر آتے ہیں۔ اسٹریٹ کرائمز کے باعث لوگوں کے احساس عدم تحفظ میں اضافہ ہورہا ہے۔کرائمز کی وارداتوں میں سرکاری اسلحہ بھی استعمال ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔جبکہ کچھ واقعات میں خود پولیس اہلکار ملوث پائے گئے ہیں۔ماضی میں بھی کراچی ایک منظم سازش کے تحت دہشت گردی کا شکار رہا ہے اور اب جبکہ اسٹریٹ کرائمز اور جرائم میں اضافے کی خبریں روزانہ شائع اور نشر ہورہی ہیں تو لوگوں کے ذہن میں یہ سوال پیدا ہورہا ہے کہ کیا کراچی ایک بار پھر منظم جرائم کی آماجگاہ بننے جارہا ہے؟۔ یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ ماضی میں اس شہر کی روشنیاں اگر کسی نے چھینی ہیں تو اس کی ذمہ دار سیاسی و مذہبی جماعتیں، ان کے عسکری ونگ اور حکمران طبقہ بھی ہے۔ شہر میں بڑھتی ہوئی اسٹریٹ کرائم کی وارداتیں سندھ حکومت، محکمہ پولیس کیلئے لمحہ فکریہ اور ان کی کارکردگی پر سوالیہ نشان ہیں۔
کراچی میں ڈکیتیوں کے ساتھ ساتھ اغوا برائے تاوان کی شکل میں سنگین جرائم میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ پچھلے چند ماہ میں سامنے آنے والی رپورٹوں سے پتہ چلتا ہے کہ اغواء برائے تاوان جیسے بھیانک جرم میں تعلیم یافتہ افراد، سرکاری اہلکار اور خود محکمہ پولیس کے سینئر اہلکار بھی ملوث ہیں اور ان میں ایس ایچ او، ڈی ایس پی اور دیگر اہلکار شامل ہیں تو پھر پولیس کے اعلیٰ حکام اور صوبائی حکومت کو سوچنا چاہئے کہ یہ کیا ہورہا ہے اس میں پھر بھی اہلکار اور افسران کا تقرر ان کی صلاحیت اور ان کے خلاف شکایات پر کارروائی نہ کرنے کے نتیجے میں خرابیاں بڑھ سکتی ہیں۔ پونے تین ماہ پہلے دسمبر کے وسط میں سندھ رینجرز اور پولیس کے اینٹی وائلنٹ کرائم سیل کی مشترکہ کارروائی کے دوران اغوا برائے تاوان کے آٹھ ملزمان پر مشتمل ایک گروہ کی واٹس ایپ کی مدد سے گرفتاری عمل میں آئی تھی جس کے بعد سندھ رینجرز قلندر ونگ کے کمانڈر نے پریس کانفرنس میں بتایا تھا اغوا برائے تاوان کی بڑھتی ہوئی وارداتوں کا معمہ حل کرلیا گیا ہے اور اس کاروبار کے تانے بانے سرکاری محکموں تک پہنچتے ہیں۔ یہ امر اطمینان بخش ہے کہ تازہ ترین اطلاعات کے مطابق اس سنگین جرم کا ازسرنو قلع قمع کرنے کیلئے قانون نافذ کرنے والے اداروں کی مشترکہ کاوشیں جاری ہیں۔ ملزمان کے ٹھکانوں کا پتہ لگانے کیلئے کراچی پولیس نے شہر کا سروے شروع کررکھا ہے اور تیس پینتیس علاقوں کے جائزے سے پتہ چلا ہے کہ مغویوں کو عموماً مضافاتی بستیوں میں رکھا جاتا ہے جن میں گلشن معمار، سائٹ، سپر ہائی وے صنعتی ایریا، سرجانی ٹاؤن، منگھو پیر ، سچل، سہراب گوٹھ اور گڈاپ کے علاقے خاص طور پر اہم ہیں۔ اُمید ہے کہ یہ معلومات اغوا برائے تاوان نیز لوٹ مار اور ڈکیتیوں کی بڑھتی ہوئی وارداتوں سے شہریوں کو نجات دلانے میں نتیجہ خیز ثابت ہوں گی اور کراچی کا امن ازسرنو بحال ہوسکے گا۔گرینڈ آپریشن کے ذریعے گھر گھر تلاشی کا عمل شروع کر کے کراچی کو کرمنلز سے نجات دلائی جا سکتی ہے۔
h.m.sualeh12@gmail.com

image_pdfimage_print
شیئرکریں