Voice of Asia News

ریاستی نظام چلانے کیلئے ٹیکس کلچرکا فروغ نا گزیر :حافظ محمد صالح

 

وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ ایف بی آر نے ملکی تاریخ کا ریکارڈ ٹیکس جمع کیا ہے، ہمارے پاس جتنے پیسے آئیں گے ، ہم غریبوں پر خرچ کریں گے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے بلاسود قرضوں کے اجراء کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اب ایف بی آرنے ماہ فروری کا طے شدہ 441ارب روپے کا ہدف عبور کرکے 6ہزار ارب روپے کا ریکارڈ ٹیکس جمع کیا تو عوام کو ریلیف دیتے ہوئے یہ وعدہ کیا جا سکا کہ جتنا زیادہ ٹیکس جمع ہوگا عوام کی فلاح و بہبود پر اس کے خرچ کا حجم بڑھتا رہے گا۔ وزیراعظم کے مطابق ایف بی آر کی کارکردگی کے باعث پیٹرول، ڈیزل اور بجلی پر سبسڈی دینا ممکن ہوا جبکہ 45لاکھ خاندانوں کو ایک ہزار ارب کے بلاسود قرضے دیے جائیں گے۔ مذکورہ پروگرام کے تحت شہری علاقوں میں رہنے والوں کو بلاسود قرضے کے طورپر 5لاکھ روپے، دیہی علاقوں میں کھیتی باڑی کے لیے ساڑھے تین لاکھ روپے اور ذاتی گھر بنانے کے خواہش مندوں کو 20لاکھ روپے دیے جائیں گے۔علاوہ ازیں خاندان کے ایک فرد کو فری ٹیکنیکل ایجوکیشن دی جائے گی۔
آج کے جدیددور میں ریاستیں بنیادی طور پر شہریوں کے دیے ہوئے محصولات یا ٹیکسوں سے چلتی ہیں۔ریاستی نظام چلانے کے لیے ٹیکسوں کی وصولی اور ادائیگی کا سبک، دیانتدارانہ اور شفاف ہونا ضروری ہے۔ متعدد ممالک میں پیٹرول، گیس، دھاتوں، مناظر فطرت سمیت قدرتی وسائل بھی ریاستوں کی آمدنی کا ذریعہ بنتے ہیں مگر ان میں بھی عوام سے ان کی استعداد کے مطابق ٹیکس کی وصولی اس عہد کی تجدید کا ذریعہ بنتی ہے کہ ریاست عوام کے قومی وقار و تشخص کے دفاع اور انصاف کی فراہمی سے لے کر ان کی جان مال، عزت آبرو، ذرائع آمدنی، خوراک، تعلیم، صحت سمیت بنیادی انسانی ضروریات کی فراہمی کی پاسداری کرتی رہے گی جبکہ رہنے بسنے والے لوگ ہر قسم کے حالات میں متعلقہ قواعد کی پابندی سمیت ملک و قوم سے محبت کے تقاضے دیانت داری سے پورے کرتے رہیں گے۔ کئی ممالک واضح طور پر نظرآنے والے بے بہا وسائل سے محروم ہونے کے باوجود قدرت کی پیدا کردہ خفتہ صلاحیتوں کو بروئے کار لاکر اپنے مسائل خوش اسلوبی سے حل کر رہے ہیں۔ ترقی یافتہ ملکوں میں لوگ ٹیکس دینا اپنی لازمی ذمہ داری سمجھتے ہیں۔ حکمران، سیاسی رہنما اور عوام سب اپنے اُوپر عائد ہونے والا پورا ٹیکس بروقت ادا کرتے ہیں ۔ پاکستان کو قدرت نے ہر قسم کی نعمتوں سے مالا مال کیا ہے مگر نظام و وسائل پر قابض اشرافیہ کے طرز عمل نے چند خاندانوں کو مالدار اور مملکت کو غریب بنا دیا ہے۔ہمارے ملک میں ٹیکس کلچر اب تک مستحکم نہیں ہو سکا ہے اور ٹیکس لگانے والے یعنی ذمہ داران حکومت اور ارکان پارلیمنٹ تک پورا ٹیکس نہیں دیتے۔ہمارے وہ مقتدر طبقے جنہوں نے عوام پر ٹیکسوں کی بھرمار کرکے ان کی زندگیاں اجیرن کررکھی ہیں‘ خود پورے ٹیکس کی ادائیگی سے بچنے کے تمام ممکنہ حربے استعمال کرتے ہیں۔ جبکہ قطعی ٹیکس نہ دینے والے درجنوں ارکان سینیٹ وقومی اسمبلی اور وفاقی وزراء تو اپنی اس قومی ذمہ داری کو پورا کرنے سے انحراف کرتے ہیں۔
پاکستان معاشی مسائل کی دلدل میں دھنستا جا رہا ہے۔ داخلی اور خارجی قرضوں کا پریشان کن بوجھ، افراط زر، مہنگائی، بے روزگاری اور خط افلاس سے مزید نیچے رہ جانے والون کے بے کسی اور بے بسی ہمارے سماج پر فکر انگیز بوجھ ہے۔. ان تمام معاشی اور سماجی ،معاشرتی پریشانیوں کی بنیادی وجہ ٹیکس جمع کرنے کا فرسودہ نظام ہے۔پاکستان کی معاشی زبوں حالی کی ایک بڑی وجہ یہ بھی ہے کہ ہم ٹیکس نہیں دیتے۔ ترقی یافتہ ممالک میں ٹیکس کی شرح 40سے 50فیصد ہے جب کہ پاکستان میں صرف 9سے 10فیصد لوگ ٹیکس دیتے ہیں۔ افسوس کی بات ہے کہ74برس سے ہم لوگوں کو ٹیکس دینے پر تیار نہیں کر سکے۔ لوگوں کو ٹیکس نیٹ میں لانے اور ٹیکس کلچر کو فروغ دینے کے لیے مختلف حکومتوں کی جانب سے ٹیکس ایمنسٹی اسکیمیں بھی ناکام ہو چکی ہیں۔صرف تنخواہ دار طبقہ سے جبری ٹیکس وصول کیا جاتا ہے۔ تاجر اور سرمایہ دار کوئی بھی پورا ٹیکس دینے کو تیار نہیں۔ چند مخصوص طبقے امیر، پاکستان غریب ہوتا جا رہا ہے۔ لوگوں سے ٹیکس وصول کرنے اور ٹیکس کلچر کو فروغ دینے کے لیے کڑوے اور سخت فیصلے کرنے کی ضرورت ہے لیکن مشکل یہ ہے کہ جمہوری حکومت اپنے ووٹ بینک کے خوف سے اور آمر عوامی رد عمل کے خوف سے یہ فیصلے کرنے سے گھبراتے ہیں۔ پاکستان میں ٹیکسز اور محصولات کی ادائیگی اور وصولی کی صورتحال پریشان کن ہے، عام لوگوں کو تو چھوڑیں، جنھیں اس حوالے سے مثال بننا چاہیے، اْن کی صورتحال زیادہ افسوس ناک ہے، مثال کے طور پر پاکستان میں صرف ٹیکس ڈائریکٹری کا جائزہ لیں تو یہ حقیقت سامنے آتی ہے کہ ارکان پارلیمنٹ اور اشرافیہ کے ارکان نے جو ٹیکس گوشوارے بھرے وہ اْن کے ظاہری اثاثوں اور دولت کی نسبت انتہائی کم تھے، جب سیاسی رہنما خود ٹیکس نہیں دیں گے اور جو دیں گے وہ بھی پورا ٹیکس نہیں دیں گے تو کیا دوسرے لوگوں سے توقع کی جاسکتی ہے کہ وہ ریاست اور حکومت چلانے کے لیے ٹیکسز ادا کریں گے؟۔پاکستان میں عملی طور پر ٹیکس کا نظام بھی بہت زیادہ پیچیدہ ہو چکا ہے۔ ارکانِ پارلیمینٹ کی اکثریت امیر ہے، لیکن کئی ارکان ٹیکس ریٹرن فائل ہی نہیں کرتے۔ دولت مند شہری، بابو کلاس، تاجر، اور زمیندار طبقہ ٹیکس ادا کرنے سے بھاگتا ہے۔ٹرسٹ، وقف اور فلاحی اداروں کی آڑ میں بھی ٹیکس بچایا جاتا ہے۔قبائلی وڈیرے اور گدی نشین بھی ٹیکس نہیں دیتے۔ پاکستان جو ٹیکس جمع کرتا ہے اس کا سب سے زیادہ حصہ قرضوں کے سود کی ادائیگی پر خرچ ہو جاتا ہے۔ حکومت کو باقی ترقیاتی اور غیر ترقیاتی اخراجات کے لیے قرض لینا پڑتا ہے۔ پاکستان میں درمیانے درجے کے لاکھوں کاروباری ادارے اور افراد بھی نہ اپنی حقیقی آمدن ظاہر کرتے ہیں اور نہ ہی پورا ٹیکس ادا کرتے ہیں۔
ملک میں گزشتہ کئی دہائیوں سے جاری معاشی پالیسیوں کے نتیجے میں معاشی، تجارتی اور صنعتی سرگرمیاں چند بڑے شہروں میں مرتکز ہو رہی ہیں۔ نتیجہ یہ ہے کہ آبادی کا ایک کثیر سیلاب ہر سال بڑے شہروں کا رخ کرتا ہے۔ بڑے شہروں کا انفرا اسٹرکچر پہلے ہی ناکافی ہے۔مسلسل انتقال آبادی نے شہروں کے انفرا اسٹرکچر کو مزید ناکافی بنا دیا ہے۔ شہروں میں محروم طبقات کی بستیاں پھیل رہی ہیں۔ بڑھتی آبادی نے پراپرٹی کے کاروبار کو پَر لگا دیے ہیں۔ حسن اتفاق کہ یہ شعبہ ٹیکس کی جھک جھک سے بے نیاز ہے۔ حکومتی ڈویلپمنٹ ادارے سرخ فیتے اور کرپشن کی زد میں ہیں۔ سو، شہروں کے آس پاس پرائیویٹ رہائشی آبادیوں کے بے ترتیب جنگل اگ رہے ہیں۔ لاہور میں راوی کنارے ایک نیا شہر بسایا جارہا ہے ، دوسری جانب پراپرٹی سر مایہ کاروں کا سرمایہ دو تین سالوں میں ڈبل ہو رہا ہے جب کہ متوسط اور غریب طبقات کے لیے ہاؤسنگ ہر گزرتے سال دسترس سے باہر ہو رہی ہے۔ اس اعتبار سے وفاقی اور صوبائی بجٹ میں علاقائی تفاوت دور کرنے پر توجہ مفقود رہی۔آبادی کے بڑھتے دباؤ اور توقعات کی موجودگی میں ان محدود وسائل اور پیچیدہ مسائل کے ساتھ بجٹ بنانا آسان نہیں۔ ٹیکس کلچر فروغ دینے اور معیشت میں ٹیکنالوجی کے سہارے بہتر ویلیو ایڈڈ سے قومی پیداوار میں سالانہ چھ سات فی صد اضافے سے چند سالوں میں معیشت ایک مستحکم بنیادوں پر کھڑی ہو سکتی ہے لیکن فی الحال یوں لگ رہا ہے کہ بنیادی مسائل کا بھاری پتھر آسانی سے راستے سے ہٹنے والا نہیں۔ معیشت میں ایک بار پھر وسط اور طویل مدت پلاننگ کی ضرورت ہے۔
کوشش کی جانی چاہیے کہ سی پیک کی صورت میں آنے والی سرمایہ کاری، موجود وسائل کے لیے مناسب ترجیحات اور کفایتی استعمال کے ساتھ ساتھ بہتر گورننس کو اپنا کر معیشت کو ایک بار پھر سے پاؤں پر کھڑا کیا جا سکے، پاکستان کی معیشت گزشتہ کئی سالوں کے دوران مختلف النوع مسائل کا شکار رہی ہے۔ ان میں نمایاں ترین معیشت کی مایوس کن بڑھوتری ،مسلسل مالیاتی اور بجٹ خسارہ، زرمبادلہ کے انتہائی کم ذخائر، ٹیکس نیٹ میں عدم اضافہ، حکومت کا اندرونی و بیرونی قرضوں پر بڑھتا انحصار اور برآمدات میں جمود جیسے بنیادی مسائل تھے۔یہ مسائل نہ تو راتوں رات کسی ایک حکومت کے دور میں پیدا ہوئے اور نہ ہی راتوں رات کسی ایک حکومت کے دور میں حل ہو ں گے۔ ان میں سے بیشتر مسائل معیشت کے بنیادی ڈھانچے سے تعلق رکھتے ہیں جن کی اصلاح کے لیے دور رس اور تسلسل پر مبنی پالیسی اور عملی اقدامات کی ضرورت ہے۔ ایک اور اہم نکتہ یہ بھی ہے کہ اٹھارویں ترمیم کے بعد اب زیادہ تر شعبے صوبوں کو منتقل ہو چکے ہیں جن سے عام آدمی کو صبح شام واسطہ پڑتا ہے۔ان شعبوں کی کارکردگی اور صوبائی حکومتوں کی گورننس کا بالواسطہ اثر قومی پیداوار اور شرح نمو پر پڑتا ہے۔ ان شعبوں میں زراعت، تعلیم، صحت، امن و امان اور ٹرانسپورٹ جیسے شعبے شامل ہیں۔
ملکی ٹیکسوں کے نظام میں فوری اور انقلابی تبدیلیوں کی ضرورت ہے تا کہ اسے حقیقت پسندانہ اور حالات کے مطابق بنایا جائے۔ ٹیکسوں کا دائرہ کار بڑھانے کی ضرورت ہے تا کہ ٹیکس بیس میں اضافہ کیا جا سکے۔ زندگی کے وہ شعبے جو ٹیکس کے دائرہ کار سے باہر ہیں۔ مثلاًزراعت اور پیشہ ورانہ فیلڈز جیسے ڈاکٹرز، انجینئرز اور وکلا وغیرہ اْنہیں بھی ٹیکس نیٹ میں لایا جائے۔موجودی حالات میں سب سے زیادہ ٹیکس تنخواہ پر گزارہ کرنے والا طبقہ دیتا ہے۔بے شمار بالواسطہ ٹیکسوں کے ذریعے ملک کا غریب ترین شہری بھی خطیر رقم بطور ٹیکس ادا کرتا ہے۔ ملکی معیشت کا پہیہ چلانے کے لیے ٹیکسوں کی وصولی کا شفاف نظام قائم کرنا بہت ضروری ہے مگر یہاں صورتحال یہ ہے کہ جس جس کے پاس جتنا زیادہ پیسہ ہے وہ اتنا بڑا ٹیکس چور ہے اور اسی وجہ سے ملک بے شمار مسائل کا شکار ہے ، دوسری اہم وجہ کرپٹ عناصر ہیں جنھوں نے اس ملک کو لوٹ کر نہ صرف کھایا ہے بلکہ ملک کی جڑوں کو بھی کمزور کردیا ہے اور ان عناصر کو پکڑنے کے لیے ضروری ہے کہ احتساب کا شفاف نظام بنایا جائے اور ہر شخص پوری ایمانداری کے ساتھ اس سلسلے میں کام کرے ، ذاتی وابستگیوں سے بالاتر ہوکر ، چور اور کرپٹ عناصر کو اگر سزا ملے گی تب ہی دوسرے لوگ بھی عبرت حاصل کریں گے اور ملک ترقی کی راہ پر گامزن ہوگا۔ نئے چھوٹے ، بڑے منصوبے شروع کیے جائیں ، نئے کارخانے اور فیکٹریاں لگائی جائیں تاکہ روزگار کے مواقعے میں اضافہ ہو۔اب وقت آگیا ہے کہ پاکستان میں ایسا نظام وضع کیا جائے کہ جس سے بدعنوانی میں کمی ہو اور لوگ رضاکارانہ طور پر ٹیکس ادا کریں۔ ہمیں یاد رکھنا چاہیے کہ ٹیکس کلچر کی وجہ سے دنیا کے کئی ممالک نے ترقی کی ہے۔
یہ امر خوش آیند ہے کہ ایف بی آر نے ریکارڈ ٹیکس اکٹھا کیا ہے۔ لیکن ہمیں اپنے حکومتی و انتظامی ڈھانچے سمیت ہر سطح پر مزید محنت کرنا ہوگی، ٹیکس کلچر کا دائرہ اشرافیہ تک پہنچانا اور دولت کے بہاوؤکا رُخ امیروں سے غریبوں کی طرف کرنا ہوگا۔ یہ بات ملحوظ رکھنے کی ہے کہ حقیقی ٹیکس وہی ہے جو براہِ راست ہو۔ یوٹیلیٹی اشیاء کے نرخ بڑھا کر حاصل کردہ ٹیکس گھوم کر صرف غریب کے کاندھے پر آتا ہے۔ اس ضمن میں ترقی یافتہ ملکوں کے ان قوانین و اطوار سے استفادہ کیا جانا چاہیے جس میں طاقتور طبقات کے لیے ٹیکس سے بچنا بڑی حد تک محال ہے۔

h.m.sualeh12@gmail.com

image_pdfimage_print
شیئرکریں