Voice of Asia News

عورت کوعزت دی جائے: سید اقبال احمد ہاشمی

اﷲ تعالیٰ نے جب یہ کائنات بنائی تو اس میں رنگ بھرنے کے لیے عورت کا وجود پیدا کیا۔ عورت کو اﷲ پاک نے بہت عزت دی ہے۔ہر رشتہ میں عزت ہے،اگر وہ ماں ہے تو اس کے قدموں تلے جنت ہے ۔اگر وہ بیٹی ہے تو وہ رحمت ہے۔اگر وہ بہن ہے تو محبت اور احساس کا پیکر ہے۔اگر وہ بیوی ہے تو وہ مرد کا لباس ہے۔سبحان اﷲ جس رشتے کو دیکھیں تو قربان جائیں اپنے خالق کائنات پر،جس نے عورت کو بے پناہ عزت دی،اعلی مقام دیا،اس سے بڑھ کر عورت کی کیا قدرو منزلت ہو گی کہ جنت اس کے قدموں میں رکھ دی۔دین اسلام نے عورت کو ذلت و رسوائی کی پستیوں سے نکال کر عزت و احترام کا وہ بلند مقام بخشا جو اس کی اصل اور فطرت کے عین مطابق ہے۔لیکن بد قسمتی سے اسلام کے نام پر حاصل کئے جانے والے ملک پاکستان کے مختلف شہروں، قصبوں اور دیہات میں جوان خواتین، چھوٹی معصوم بچیوں اور بچوں کے ساتھ جنسی زیادتیوں، انھیں ظالمانہ انداز میں قتل کرنے اور انھیں اغوا کرکے فروخت کرنے کے واقعات تسلسل سے ہو رہے ہیں۔ پاکستانی معاشرے میں گھریلو معاملات ہوں یا پیشہ ورانہ زندگی، کہیں انہیں جنس کی بنیاد پر امتیاز کا سامنا ہوتا ہے تو کہیں ان کی اچھی شکل و صورت وبال جان بن جاتی ہے، کئی اداروں میں خواتین کی ترقی کو ان کی خوب صورتی اور جسمانی خدوخال سے جوڑا جاتا ہے۔خواتین سے بدسلوکی، تعلیم، صحت جیسے بنیادی حقوق سے محرومی صرف دیہی خواتین کا مسئلہ ہی نہیں ہے بلکہ اس کا شکار اعلیٰ تعلیم یافتہ گھرانوں کی خواتین بھی ہوتی ہیں، تو کھیتوں میں کام کرنے والی پس ماندہ طبقے کی خواتین بھی، کہیں بنت حوا کو ملازمت کی فراہمی اور ترقی دینے کے لیے عزت کا سودا کرنے پر زبانی، جسمانی یا ذہنی تشدد کا سامنا کرنا پڑتا ہے تو دوسری جانب نجی اور سرکاری درس گاہوں میں’ ’روحانی باپ‘ ‘ کہلائے جانے والے شیطان صفت استاد چند نمبروں، اچھے گریڈ کا لالچ دے کر طالبات کو ہراساں اور ان کی عصمت تار تار کرتے ہیں۔پاکستانی معاشرے میں بے شمار خواتین نہ ہی گھر میں محفوظ ہیں، نہ ہی باہر، گھر میں انہیں اپنے سگے رشتے داروں کی جسمانی و ذہنی بدسلوکی کا نشانہ بننا پڑتا ہے تو گھر سے باہر قدم نکالتے ہی یہ معاشرہ انہیں مال غنیمت سمجھ کر کبھی گندی نظروں سے، کبھی بیہودہ جملوں سے یہ باور کرانے کی کوشش کرتا ہے کہ یہ معاشرہ مردوں کا ہے، اور ہماری مردانگی بس آوازیں کسنے، غلیظ نظروں سے جسم کے اندر جھانکنے، پبلک ٹرانسپورٹ میں خواتین کی نشستوں پر حق جتانے تک محدود ہے۔ سب سے حیرت انگیز بات تو یہ ہے کہ دوسرے کی ماں، بہن ، بیٹی کو ہراساں کرنے والا یہی مرد غیرت کے نام پر آگ بگولہ ہوجا تا ہے، اپنے سگے خون کو ہی بہادینے میں پس و پیش نہیں کرتا۔دیہی اور قبائلی علاقوں میں تو خواتین کو جانوروں سے بدتر سمجھا جاتا ہے۔ غیرت کے نام پر قتل، خودسوزی یا خودکشی، تیزاب پھینکنے اور جلا دینے کے واقعات کی تعداد رپورٹ کی گئی تعداد سے کہیں زیادہ ہے، کیوں کہ زیادہ تر لوگ بدنامی کے خوف سے ان واقعات کی رپورٹ درج نہیں کرواتے۔ قبائلی علاقوں میں مذہب اور مردانگی کے نام پر قانون کی دھجیاں اڑائی جاتی ہیں اور ان معاملات میں ملوث افراد کو محض اس لیے چھوٹ مل جاتی ہے کیوں کہ ان کی پشت پناہی قبائل اور جرگے کرتے ہیں جہاں عورت کو بالکل ہی کمتر اور حقیر سمجھا جاتا ہے۔ عورتوں پر ہونے والے تشدد اور بے حرمتی کے واقعات کسی ایک مخصوص خطے یا علاقے تک محدود نہیں، پاکستان میں خواتین ، بچیوں اور بچوں کے ساتھ ہونے والی بد سلوکی اس بات کی غمازی کرتی ہے کے پاکستان کا معاشرہ اخلاقی اقدار کا قبرستان بن چکا ہے۔
خواتین کے حقوق کے حوالے سے ملک کا ایک بااثر طبقہ ایسے نظریات کا کھلم کھلا اظہار کرتا رہتا ہے جس اس طبقے کے نظریات سے متاثر ہونے والے نوجوان جنونیت کا شکار ہوکر خواتین کے خلاف ایسی حرکات کرجاتے ہیں جن کا انہیں احساس اور شعور نہیں رکھتے کہ وہ کسی کی عزت سے کھیل رہے اور یہ ناقابل معافی جرم ہے۔پاکستان میں فرسودہ پولیس سسٹم اور عدالتی نظام، سکولوں، کالجوں اور یونیورسٹیوں میں پڑھایا جانے والا فرسودہ نصاب اور معاشرے میں پھیلی نظریاتی کنفیوژن نے نوجوان نسل کو بے سمت اور محض جبلی خواہشات کے تابع بنا دیا ہے۔ پولیس کا نظام تفتیش کو درست کرنا بہت ضروری ہے۔ ناقص تفتیش کرنے والے پولیس تفتیشی کو بھی احتساب کے دائرے میں لانے کیلئے قانون سازی ضروری ہے۔ اسی طرح ایک عدالت فوری طور پر ضمانت لے لیتی ہے جبکہ دوسری عدالت ضمانت منسوخ کردیتی ہے۔اس حوالے سے بھی کوئی ضابطہ بننا چاہیے اگر ملک کے حکمرانوں، پالیسی سازوں، بیورو کریسی، سیاسی قیادت اور اہل علم نے ہوش کے ناخن نہ لیے تو پورا ملک ایک ایسے جنگل میں تبدیل ہو جائے گا جہاں طاقت ور اپنے سے کمزور کو چیر پھاڑ دے گا۔لہٰذا پاکستان کے معاشرے کو تباہی سے بچانے اور خواتین کی عزت محفوظ بنانے کیلئے نئی قانوں سازی کی جائے اور ایسی سزا کاتعین کیا جائے جو جرم کرنے والے کوعبرت کا نشان بنادے ،کیونکہ جو قوم خواتین کو عزت نہیں دیتی وہ ایک مضبوط قوم نہیں بن سکتی ۔

image_pdfimage_print
شیئرکریں