Voice of Asia News

کراچی میں شہری چارجڈ پارکنگ مافیا :حافظ محمد صالح

پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی میں چارجڈ پارکنگ فیس کے نام پر شہریوں سے لوٹ مار کا بازار گرم ہے۔شہریوں سے زبردستی من مرضی کی پارکنگ فیس وصول کی جانے لگی، مارکیٹ، بازار، شاپنگ مال، مزارات، اسپتال سمیت مختلف مقامات پر پارکنگ مافیا بغیر رسید کے فیس وصول کررہی ہے۔ بلدیہ عظمیٰ کراچی سمیت ضلعی بلدیاتی اداروں کے افسران کی ملی بھگت سے پارکنگ مافیا فیس کے نام پر شہریوں سے لوٹ مار میں مصروف ہے شہر کے اہم تجارتی اور کاروباری علاقوں صدر،ٹاور، ریگل،بولٹن مارکیت، اردو بازار، آئی آئی چندریگر روڈ، طارق روڈ، بہادر آباد، عوامی مرکز، حسن اسکوائر سوک سینٹر اور اس کے اطراف،کے ڈی اے مارکیٹ گلشن اقبال، فاریہ موبائل مال راشد منہاس روڈ، حیدری مارکیٹ،سرینا موبائل مال سخی حسن، واٹر پمپ، عائشہ منزل سمیت شہر بھر میں کے ایم سی اور ضلعی بلدیات کی چارجڈ پارکنگز میں شہریوں سے زبردستی سرکاری فیس سے زائد پارکنگ فیس وصول کی جارہی ہے مصروف تجارتی علاقوں بازاروں اور شاپنگ سینٹرز کے اطراف میں قائم چارجڈ پارکنگز میں موٹر سائیکل پارکنگ فیس 30روپے سے50روپے جبکہ کار کی فیس 100روپے تک وصول کی جارہی ہے۔
غیر سرکار ی تنظیم گلوبل فاؤنڈیشن کے چیئرمین احمد داؤد نے چارجڈ پارکنگ کے نام پر کراچی کے شہریوں سے ہونے والی لوٹ مار کے خلاف عدالت میں درخواست دائر کی ۔درخواست گزار کے مطابق شہر بھر میں پارکنگ مافیا کا قبضہ ہوچکا ہے، ڈسٹرکٹ ساؤتھ میں پارکنگ مافیا اضافی فیس وصول کررہے ہیں جبکہ نہ دینے والوں کو دھمکیاں دی جاتی ہیں ٹریفک پولیس اور ڈی ایم سی کا عملہ کسی بھی قسم کی کاروائی نہیں کرتا۔پارکنگ مافیا کے کارندے ٹریفک پولیس کی ملی بھگت سے شہر کی سڑکوں پر قابض ہیں۔ موٹر سائیکل کی پارکنگ فیس 30 روپے وصول ہورہی ہے جبکہ گاڑی کی پارکنگ فیس 50 روپے سے 100 روپے تک وصول کی جارہی ہے۔شہر قائد میں جاری غیر قانونی چارجڈ پارکنگ مافیا کے خلاف عدالت میں سماعت جسٹس حسن اظہر رضوی کی سربراہی میں دو رکنی بینچ پر مشتمل جسٹس راشدہ اسد نے کی۔ کراچی میں چارجڈ پارکنگ کے خلاف درخواست کی سماعت کے دوران عدالت نے پارکنگ کا ڈیٹا جمع کرنے کے لیے ویجیلنس ٹیمیں تعینات کرنے کا حکم دیتے ہوئے 30 دن میں پارکنگ کا مکمل ڈیٹا اور آمدنی کی تفصیلات پیش کرنے کا حکم دیا ہے۔ عدالت کاکہنا تھا کہ آپ نے شہریوں کو بتایا ہے کہ کن مقامات پر چارجڈ پارکنگ پر ہوتی ہے؟ اب یہ بات عدالت بار بار کہتی ہے کہ کراچی میں معلوم نہیں ہوتا کون پیسے لینے کھڑا ہوگیا ہے، رانگ پارکنگ آپ خود کراتے ہیں یا آپ کا ایجنٹ کراتا ہے اسے کیسے ختم کریں گے؟ کس مقام پر کن اوقات میں کتنی گاڑیاں کھڑی ہوتی ہیں؟ اس وقت ایک محتاط اندازے کے مطابق کراچی میں پارکنگ کی مد میں روزانہ ایک سے ڈیڑھ کروڑ روپے کی آمدنی ہوتی ہے لیکن عدالت میں جو تفصیلات آئی ہیں اس پر عدالت کا کہنا تھا کہ شہر کے 31 مقامات کی آمدنی بہت کم دکھائی گئی ہے، سب سے مصروف طارق روڈ ہے وہاں کیا آمدنی ہے؟ یومیہ 9 ہزار روپے بن رہے ہیں‘ مطلب صرف 464 گاڑیاں پارک ہوتی ہیں؟ بینچ نے کیلکولیٹر منگوا کر خود حساب کتاب کیا۔ عدالت کا کہنا تھا کہ آپ سال کا 32 ہزار کا ٹھیکا دے رہے ہیں اور صرف 464 گاڑیاں پارک ہو رہی ہیں یہ تو شہر کو لوٹنے کا عمل ہے، آپ چیک کرتے ہیں ٹھیکیدار کتنا کما رہا ہے؟ کے ایم سی کے وکیل کا کہنا تھا کہ اب جو نیلامی ہوگی وہ ڈیٹا کی بنیاد پر کریں گے۔ درخواست گزار احمد داؤد نے کہا کہ ڈائریکٹر پارکنگ جنوبی نے عدالت کو گمراہ کرنے کی کوشش کی ہے ۔جس پر عدلات کا ڈی ایم سی جنوبی وکیل سے استفسار کیا کہ پارکنگ فیس اور آکشن سے وصول ہونے والی رقم کہاں خرچ کی جاتی ہے ؟ ایم اے جناح روڈ ، صدر سمیت سب جگہ ڈبل ٹرپل پارکنگ ہوتی ہے۔ آکشن کے کروڑوں روپے کہاں ہیں ؟
عدالت نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ شہریوں کو لوٹا جارہا ہے ٹھیکیداروں کے رحم و کرم پر چھوڑا جا رہا ہے۔ اس سے قبل اکتوبر 2021 میں جسٹس محمد اقبال کلہوڑو نے ریمارکس دیے تھے کہ جگہ جگہ پارکنگ فیس کے نام پر بھتا خوری کی جارہی ہے‘ کس قانون کے تحت پارکنگ فیس وصول کی جا رہی ہے۔ پیسے نہ دینے پر شہریوں سے بدتمیزی کی جاتی ہے۔ پارکنگ فیس کے نام پر عزت ِ نفس مجروح کی جاتی ہے۔ کس نے جگہ جگہ پارکنگ کی اجازت دی؟ سڑکوں کے دونوں طرف گاڑیاں پارک کرنے کی اجازت کس نے دی؟ غیر قانونی پارکنگ کی وجہ سے شہر میں ٹریفک جام رہتا ہے۔ طے شدہ فیس نہیں، کوئی 20 کوئی 30 روپے وصول کرتا ہے۔ کوئی کہتا ہے گاڑی کھڑی کی ہے تو ہمیں خرچا دو، یہ کون سا طریقہ ہے؟ اگر کسی کو آدھے گھنٹے بعد اْسی جگہ گاڑی پارک کرنی ہے تو دوبارہ فیس وصول کی جاتی ہے۔ کوئی تو قانون ہوگا جس کے تحت پارکنگ فیس وصول کی جارہی ہے؟ اس وقت صورت حال یہ ہے کہ اسپتال بھی محفوظ نہیں۔ جناح اور سول اسپتال سمیت دیگر سرکاری اسپتالوں کے باہر پارکنگ مافیا غیر قانونی طور پرفیس وصول کر رہی ہے۔ ان اسپتالوں میں یومیہ ہزاروں کی تعداد میں آنے والے شہری پارکنگ مافیا کو ہزاروں روپے یومیہ غیر قانونی طور پر دینے پر مجبور ہیں۔ بلدیہ عظمیٰ کراچی کی جانب سے نوٹیفکیشن جاری کیا گیا تھا جس کے مطابق گاڑی، رکشا اور ہائی روف کے لیے 30 روپے پارکنگ فیس ہوگی جبکہ موٹر سائیکل کے لیے 10 روپے لیے جائیں گے، ہائی ایس اور کوچز سے 70 روپے اور بسوں، ٹرکوں سے 150 روپے پارکنگ فیس لی جائے گی۔ حیدری مارکیٹ موٹر سائیکل اتوار بازار میں داخلے کے لیے 30 روپے فیس مقرر کی گئی تھی لیکن صورت حال اس کے برعکس ہے جہاں مافیا شہریوں سے موٹرسائیکل کے 20 سے 30 اور گاڑیوں سے50اور 70روپے وصول کررہی ہے اور اگر کوئی فیس نہ دے تو اداروں کے ساتھ مل کر کاروبارکرنے والی یہ منظم مافیا بائیک یا گاڑی اٹھوانے کی دھمکی دیتی ہے اور اس پر عمل بھی کرتے ہیں جس کے بعد 500اور 1000روپے تک وصول کیے جاتے ہیں۔یہی صورت حال لاہور میں بھی ہے‘ وہاں کے شہری بھی پریشان ہیں سرکاری اسپتالوں کے پارکنگ ایریاز کے ٹھیکیدارشہریوں سے پارکنگ کی مد میں 60 روپے فی گاڑی اور 40 روپے فی موٹرسائیکل وصول کر رہے ہیں جبکہ شہری حلقوں کا کہنا ہے کہ ٹھیکیداروں نے پارکنگ فیس میں از خود اضافہ کردیا ہے جنہیں اسپتال انتظامیہ کی مکمل پشت پناہی حاصل ہے۔ پارکنگ فیس میں اضافے کی وجہ سے شہریوں اور ٹھیکیداروں کے درمیان تلخ کلامی اور لڑائی جھگڑوں کا سلسلہ عروج پر پہنچ چکا ہے اور ٹھیکیداران پارکنگ فیس کی وصولی کے لیے غنڈہ گردی پر بھی اْتر آتے ہیں۔ اس وقت صورت حال یہ ہے کہ پارکنگ کے نام پر لوٹنے کا عمل اتنا بڑھ چکا ہے کہ کسی کی اگر اہم مقام یا بازار کے قریب دکان بھی ہے تو وہ خود بھی چھوٹا سا پارکنگ کا نظام چلا رہا ہے، چھوٹی چھوٹی مارکیٹوں میں یہ دھندہ غنڈہ گردی کے ساتھ شروع ہوچکا ہے اور یہ لوگوں سے گاڑیاں کھڑی کرنے کے پیسے لے رہے ہیں۔
رمضان کی آمدسے قبل شہری سحر و افطار سمیت عید کی خریداری کے لیے بھی بازاروں کا رخ کریں گے،اگر موجودہ صورت حال برقرار رہی تو یہ پارکنگ مافیا جو سندھ حکومت‘ ضلعی حکومتیں اور کنٹونمنٹ بورڈ کو بھی حصہ دیتی ہے اسی لیے یہ ادارے ان مافیا سے تعاون بھی کرتے ہیں، اصل میں تو ٹریفک کی بدانتظامی اور پارکنگ کے بدترین نظام اور لوٹنے کے عمل میں ان متعلقہ اداروں کا ہاتھ ہے‘ یہ شہریوں کو لوٹتے بھی ہیں اور عدالت کو بھی گمراہ کرتے ہیں۔ عدالتی کارروائی میں جو باتیں سامنے آئی ہیں ان سے صاف ظاہر ہے کہ شہریوں کے ساتھ پارکنگ کے نام پر نہ صرف بدترین سلوک ہورہا ہے بلکہ ان کی جیب سے نکالی گئی رقم سرکاری خزانے میں بھی جمع نہیں ہوتی۔ عدلیہ کا شہریوں کے لیے اس اہم ایشو پر بار بار سماعت خوش آئند ہے اور امید ہے کہ انہیں پارکنگ مافیا سے نجات مل جائے، اس کے ساتھ عدلیہ سے درخواست کرتے ہیں کہ نہ صرف ٹھیکیداری نظام ختم کیا جائے بلکہ ان مافیا کی سرپرستی کرنے والے ریاستی اداروں کے ذمے داران کو بھی سزا دی جائے اور ایسے اداروں کو پابند کیا جائے کہ مخصوص علاقوں کے علاوہ اسپتال اور تعلیمی اداروں کے اطراف پارکنگ فیس نہ لی جائے اور جن مقامات پر یہ فیس لی جائے وہ معمولی ہو، یعنی موٹر سائیکل سے 10 روپے اور گاڑی سے 20روپے سے زیادہ نہ ہو، پارکنگ کا عملہ مخصوص یونی فارم میں ہو اور سرکار کی دی ہوئی رسیدبھی دے بلکہ اس کو ڈیجیٹل کردیا جائے تو اور اچھا ہے اور اس کے ساتھ اس کا دورانیہ پورا دن ہو اور شہر کے کسی بھی علاقے کی پارکنگ کے لیے رسید یا کوپن استعمال ہو، تاکہ جگہ جگہ پارکنگ کے نام پر ہونے والے غنڈہ ٹیکس کی حوصلہ شکنی ہوسکے۔کرچی میں کھلے عام چارجڈ پارکنگ فیس وصول، پارکنگ ٹھیکداروں کی من مانیوں اور شہریوں کو ہراساں کرنے پر شہریوں نے چیف جسٹس پاکستان اورچیف جسٹس سندھ سے پارکنگ مافیا اور ان کے سرپرست بلدیاتی افسران کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی اپیل کی ہے۔
h.m.sualeh12@gmail.com

image_pdfimage_print
شیئرکریں